حدیث نمبر: 5883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”سورج اور چاند کو کسی کی موت زندگی سے گہن نہیں لگتا ، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اس لئے جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھو تو نماز کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔“
حدیث نمبر: 5884
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عِصْمَةَ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَتْ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ ، حَتَّى جُعِلَتْ الصَّلَاةُ خَمْسًا ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مَرَّةً ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتداء نمازیں پچاس تھیں، غسل جنابت سات مرتبہ کرنے کا حکم تھا اور کپڑے پر پیشاب لگ جانے کی صورت میں اسے سات مرتبہ دھونے کا حکم تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل درخواست پر نمازوں کی تعداد پانچ رہ گئی ، غسل جنابت بھی ایک مرتبہ رہ گیا اور پیشاب زدہ کپڑے کو دھونا بھی ایک مرتبہ قرار دے دیا گیا۔
حدیث نمبر: 5885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمّد ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ، وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ ، فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ الرَّمَاءَ " ، وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ ، وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ ؟ قَالَ : " لَا بَأْسَ ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلے ، ایک درہم کو دو کے بدلے اور ایک صاع کو دو صاع کے بدلے مت بیچو ، کیونکہ مجھے تمہارے سود میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے“ ، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے ، اگر کوئی آدمی ایک گھوڑا کئی گھوڑوں کے بدلے یا ایک شریف الاصل اونٹ دوسرے اونٹ کے بدلے بیچے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔“
حدیث نمبر: 5886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ جِذْعُ نَخْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، يُسْنِدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ إِلَيْهِ إِذَا كَانَ يَوْمُ جُمُعَةٍ ، أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ يُرِيدُ أَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ ، فَقَالُوا : أَلَا نَجْعَلُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْئًا كَقَدْرِ قِيَامِكَ ؟ قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا " ، فَصَنَعُوا لَهُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ ، قَالَ : فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَخَارَ الْجِذْعُ كَمَا تَخُورُ الْبَقَرَةُ جَزَعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَالْتَزَمَهُ وَمَسَحَهُ ، حَتَّى سَكَنَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میں کھجور کا ایک تنا تھا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن یا کسی اہم واقعے پر لوگوں سے خطاب فرماتے ہوئے ٹیک لگا لیا کرتے تھے، ایک دن کچھ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے قد کے مطابق آپ کے لئے کوئی چیز نہ بنا دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے“ ، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تین سیڑھیوں کا منبر بنا دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہو گئے، یہ دیکھ کروہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے گائے روتی ہے اور اس کا یہ رونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق کے غم میں تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگایا اور اس پر ہاتھ پھیرا یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گیا۔
حدیث نمبر: 5887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَلَبِسَهُ ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ ، وَإِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا " ، فَنَبَذَهُ ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں ، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حدیث نمبر: 5888
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمْرَتِهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ ، فَقَدْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ ، وَايْمُ اللَّهِ ، إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا ، لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہو ، حالانکہ اللہ کی قسم ! وہ امارت کا حق دار تھا اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔“
حدیث نمبر: 5889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ , أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالسُّوقِ ، وَمَعَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ إِلَى جَنْبِهِ ، فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يَتْبَعُهَا بُكَاءٌ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ تَرَكَ أَهْلُ هَذَا الْمَيِّتِ الْبُكَاءَ ، لَكَانَ خَيْرًا لَمَيِّتِهِمْ ، فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ : تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : نَعَمْ أَقُولُهُ ، قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَمَاتَ مَيِّتٌ مِنْ أَهْلِ مَرْوَانَ ، فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : قُمْ يَا عَبْدَ الْمَلِكِ فَانْهَهُنَّ أَنْ يَبْكِينَ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : دَعْهُنَّ ، فَإِنَّهُ مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ ، وَالْفُؤَادَ مُصَابٌ ، وَإِنَّ الْعَهْدَ حَدِيثٌ " ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : يَأْثُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے ، کہ ان کی ایک جانب سلمہ بن ازرق بھی بیٹھے تھے ، اتنے میں وہاں سے ایک جنازہ گزرا جس کے پیچھے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر یہ لوگ رونا دھوناچھوڑ دیں تو ان ہی کے مردے کے حق میں بہتر ہو، سلمہ بن ازرق کہنے لگے : ابوعبدالرحمن ! یہ آپ کہہ رہے ہیں ؟ فرمایا : ہاں ! یہ میں ہی کہہ رہا ہوں ، کیونکہ ایک مرتبہ مروان کے اہل خانہ میں سے کوئی مر گیا، عورتیں اکٹھی ہو کر اس پر رونے لگیں، مروان کہنے لگا کہ عبدالملک ! جاؤ ، ان عورتوں کو رونے سے منع کرو، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے ، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے خود سنا کہ رہنے دو ، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سے بھی کسی کے انتقال پر خواتین نے جمع ہو کر رونا شروع کر دیا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر انہیں ڈانٹنا اور منع کرنا شروع کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے ابن خطاب ! رہنے دو ، کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔“ انہوں نے پوچھا : کیا یہ روایت آپ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! سلمہ نے پوچھا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا ، أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب نازل فرمانا چاہتا ہے ، تو وہاں کے تمام رہنے والوں پر عذاب نازل ہو جاتا ہے ، پھر انہیں ان کے اعمال کے اعتبار سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ “ (عذاب میں تو سب نیک و بد شریک ہوں گے، جزا سزا اعمال کے مطابق ہو گی)۔
حدیث نمبر: 5891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ الْأَيْلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُمَيَّةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : " مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ازار “ کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا ہے قمیض (شلوار) کے بارے میں بھی وہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 5892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَبَكْر بِنْ عَبْد الله , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، أَيْ بِالْمُحَصَّبِ ، ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً ، ثُمَّ دَخَلَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں (وادی بطحاء میں) پڑھیں، رات وہیں گزاری اور پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طواف کیا۔
حدیث نمبر: 5893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ الطَّبَّاعِ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، قَالَ : أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُونَ : كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ ، حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس یمانی رحمہ اللہ کہتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے ہی صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے پایا ہے کہ ہر چیز تقدیر کے ساتھ وابستہ ہے ، اور میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” ہر چیز تقدیر کے ساتھ وابستہ ہے حتٰی کہ بیوقوفی اور عقلمندی بھی۔“
حدیث نمبر: 5894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا ، قَالَ : مَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ ؟ قَالَ : رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ ، وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " أَمَّا الْأَرْكَانُ ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَأَمَّا النِّعَالُ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ ، وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا ، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا ، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
image
حدیث نمبر: 5895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَلَمَّا لَقِينَا الْعَدُوَّ نْهَزَمْنَا فِي أَوَّلِ عَادِيَةٍ ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي نَفَرٍ لَيْلًا ، فَاخْتَفَيْنَا ، ثُمَّ قُلْنَا : لَوْ خَرَجْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَذَرْنَا إِلَيْهِ ؟ فَخَرَجْنَا ، فَلَمَّا لَقِينَاهُ قُلْنَا : نَحْنُ الْفَرَّارُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بَلْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ ، وَأَنَا فِئَتُكُمْ " ، قَالَ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ : " وَأَنَا فِئَةُ كُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی سریہ میں روانہ فرمایا ، جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا تو ہم پہلے ہی مرحلے پر بھاگ اٹھے اور رات کے وقت ہی کچھ لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ آ گئے اور روپوش ہو گئے، پھر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چل کر ان سے اپنا عذر بیان کرتے ہیں، چنانچہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ، تو ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم فرار ہو کر بھاگنے والے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کر نے والے ہو ، میں تمہاری ایک جماعت ہوں اور میں مسلمانوں کی ایک پوری جماعت ہوں۔ میں تمہاری ایک جماعت ہوں اور میں مسلمانوں کی ایک پوری جماعت ہوں۔“
حدیث نمبر: 5896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَبَرُّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ إِذْ يُوَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے والد کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرے۔
حدیث نمبر: 5897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ طَاعَةِ اللَّهِ ، مَاتَ وَلَا حُجَّةَ لَهُ ، وَمَنْ مَاتَ وَقَدْ نَزَعَ يَدَهُ مِنْ بَيْعَةٍ ، كَانَتْ مِيتَتُهُ مِيتَةَ ضَلَالَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی اطاعت کے علاوہ کسی اور حال پر مرے تو وہ اس طرح مرے گا کہ قیامت کے دن اس کی کسی حجت کا اعتبار نہ ہو گا اور جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس نے اپنا ہاتھ بیعت سے چھڑا لیا ہو تو اس کی موت گمراہی کی موت ہو گی۔
حدیث نمبر: 5898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَلَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ ذِمَّتَهُ ، فَإِنَّهُ مَنْ أَخْفَرَ ذِمَّتَهُ ، طَلَبَهُ اللَّهُ حَتَّى يُكِبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص صبح کی نماز پڑھ لے وہ اللہ کی ذمہ داری میں آ جاتا ہے اس لئے تم اللہ کی ذمہ داری کو مت توڑو، کیونکہ جو اللہ کی ذمہ داری کو توڑے گا، اللہ اسے تلاش کر کے اوندھے جہنم میں داخل کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 5899
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ جُلَيْدٍ الْحَجْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمْ يُعْفَى عَنِ الْمَمْلُوكِ ؟ قَالَ : فَصَمَتَ عَنْهُ ، ثُمَّ أَعَادَ ، فَصَمَتَ عَنْهُ ، ثُمَّ أَعَادَ ، فَقَالَ : " يُعْفَى عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! ! کسی غلام سے کتنی مرتبہ درگزر کی جائے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس نے پھر یہی سوال کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تیسری مرتبہ پوچھنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس سے روزانہ ستر مرتبہ درگزر کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 5900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا بِكَيْلٍ أَوْ وَزْنٍ ، فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ناپ کر یا وزن کر کے غلہ خریدے، اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے۔“
حدیث نمبر: 5901
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَالْأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى رَعِيَّتِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا ، وَمَسْئُولَةٌ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے باز پرس ہو گی، چنانچہ حکمران اپنی رعایا کے ذمہ دار ہیں اور ان سے ان کی رعایا کے حوالے سے باز پرس ہو گی مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے اور اس کے متعلق باز پرس ہو گی، عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی باز پرس ہو گی غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی ، الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک کی باز پرس ہو گی۔“
حدیث نمبر: 5902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ قَالَ أُمَّتِي وَمَثَلُ الْيَهُودِ , وَالنَّصَارَى ، كَمَثَلِ رَجُلٍ ، قَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ غُدْوَةٍ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ ؟ قَالَتْ الْيَهُودُ : نَحْنُ ، فَفَعَلُوا ، فَقَالَ : فَمَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ ؟ قَالَتْ النَّصَارَى : نَحْنُ ، فَعَمِلُوا ، وَأَنْتُمْ الْمُسْلِمُونَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ ، فَغَضِبَتْ الْيَهُودُ , وَالنَّصَارَى ، فَقَالُوا : نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ أَجْرًا ! فَقَالَ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ شَيْئًا ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَذَاكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تمہاری اور یہود و نصاری کی مثال ایسے ہے کہ ایک شخص نے چند مزدوروں کو کام پر لگایا اور کہا کہ ایک قیراط کے عوض نماز فجر سے لے کر نصف النہار تک کون کام کرے گا ؟ اس پر یہودیوں نے فجر کی نماز سے لے کر نصف النہار تک کام کیا پھر اس نے کہا کہ ایک اور قیراط کے عوض نصف النہار سے لے کر نماز عصر تک کون کام کرے گا ؟ اس پر عیسائیوں نے کام کیا پھر اس نے کہا کہ نماز عصر سے لے کر غروب آفتاب تک دو دو قیراط کے عوض کون کام کرے گا ؟ یاد رکھو وہ تم ہو جنہوں اس عرصے میں کام کیا لیکن اس پر یہود و نصاری غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہماری محنت اتنی زیادہ اور اجرت اتنی کم ؟ اللہ نے فرمایا : کیا میں نے تمہارا حق ادا کر نے میں ذرا بھی کوتاہی یا کمی کی ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں ، اللہ نے فرمایا : پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں عطاء کر دوں۔“
حدیث نمبر: 5903
سَمِعْت مِنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمْ أَكْتُبْهُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ كَذَا ، وَالنَّصَارَى كَذَا " , نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي قِصَّةِ الْيَهُودِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5904
وحَدَّثَنَاه مُؤَمَّلٌ أَيْضًا ، عَنْ سُفْيَانَ ، نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَيْضًا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ : " هَاهُنَا الْفِتْنَةُ ، هَاهُنَا الْفِتْنَةُ ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ اور دو مرتبہ فرمایا : ”فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔“
حدیث نمبر: 5906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبِسْ الْخُفَّيْنِ ، يَقْطَعُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔
حدیث نمبر: 5907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ الْبَيْدَاءُ يَسُبُّهَا ، أَو كَادَ يَسُبَّهَا ، وَيَقُولُ : إِنَّمَا " أَحْرَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام بیداء کے متعلق لعنت فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور کر رکھا ہے)۔
حدیث نمبر: 5908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا سَرَى أَحَدٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر لوگوں کو تنہا سفر کر نے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے۔ “
حدیث نمبر: 5909
قَالَ أَبِي : وَحَدَّثَنَا بِهِ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً أُخْرَى ، وَلَمْ يَقُلْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلاً بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5910
قَالَ عَبْد اللَّهِ بنْ أَحْمَّد , سَمِعْت أَبِي , يَقُولُ : قَدْ سَمِعَ مُؤَمَّلٌ ، مِنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي أَحَادِيثَ ، وَسَمِعَ أَيْضًا مِنْ ابْنِ جُرَيْجٍ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مؤمل نے عمر بن محمد بن زید سے بھی حدیث کی سماعت کی ہے اور ابن جریج سے بھی۔
حدیث نمبر: 5911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پہلی امتوں کے مقابلے میں تمہاری مدت اتنی ہی ہے جتنی عصر کی نماز سے لے کر غروب آفتاب تک ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 5912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ سورة المعارج آية 4 فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت ”جب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ اور اس آیت ”وہ دن جس کی مقدارپچاس ہزار سال کے برابر ہو گی“ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 5913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ : قَالَ لِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ : مَا سَمِعْتَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَذْكُرُ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْكَوْثَرِ ؟ فَقُلْتُ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَذَا الْخَيْرُ الْكَثِيرُ ، فَقَالَ مُحَارِبٌ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! مَا أَقَلَّ مَا يَسْقُطُ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلٌ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : لَمَّا أُنْزِلَتْ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ ، حَافَتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ ، يَجْرِي عَلَى جَنَادِلِ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ ، شَرَابُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " ، قَالَ : صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، هَذَا وَاللَّهِ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن سائب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے محارب بن دثار نے کہا کہ آپ نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے کوثر کے متعلق کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے، محارب نے کہا : سبحان اللہ ! سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول اتنا کم وزن نہیں ہو سکتا، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب سورت کوثر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے، جس کا پانی موتیوں اور یاقوت کی کنکریوں پر بہتا ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ شریں، دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے“، محارب نے یہ سن کر کہا کہ پھر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صحیح فرمایا : کیونکہ واللہ یہ خیر کثیر ہی تو ہے۔
حدیث نمبر: 5914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ : يَا كَافِرُ ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب کوئی شخص اپنے بھائی کو اے کافر ! کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔“
حدیث نمبر: 5915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 5916
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ " ، قَالَ : أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا الْجَرُّ ؟ قَالَ : كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنَ الْمَدَرِ .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مٹکے کی نبیذ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ آپ کو ابو عبدالرحمن پر تعجب نہیں ہوتا ان کا خیال ہے کہ مٹکے کی نبیذ کو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے میں نے پوچھا ”مٹکے“ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔
حدیث نمبر: 5917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ " ، فَقَالَ : أَوَلَسْتَ تُوَاصِلُ ؟ قَالَ : " إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رمضان کے مہینے میں) ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے لوگوں کو روکا ، تو وہ کہنے لگے کہ کیا آپ اس طرح نہیں کرتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 5918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، سَمِعْتُ مَالِكًا يُحَدِّثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔“
حدیث نمبر: 5919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ ، فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا ، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ روانہ فرمایا جن میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے، ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے بھی عطاء فرمایا ۔
حدیث نمبر: 5920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا فِي عَبْدٍ ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ ، فَإِنَّهُ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ ، فَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ ، وَعَتَقَ الْعَبْدُ عَلَيْهِ ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مَا عَتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہو تو اس غلام کی قیمت لگائی جائے گی، باقی شرکاء کو ان کے حصے کی قیمت دے دی جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا، ورنہ جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتناہی رہے گا۔“
حدیث نمبر: 5921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیس درجے زیادہ ہے۔“
حدیث نمبر: 5922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَصَلَّى بِهَا ، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔
…