حدیث نمبر: 5844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي : " أُتِيَ بِفَضِيخٍ فِي مَسْجِدِ الْفَضِيخِ ، فَشَرِبَهُ ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مسجد فضیخ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ”فضیخ “یعنی کچی کھجور کی نبیذ پیش کی گئی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرما لیا تھا ، اسی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجد فضیخ پڑ گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن نافع.
حدیث نمبر: 5845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص دنیا میں شراب پیئے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا ( اور وہاں اسے شراب نہیں پلائی جائے گی)“۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري، وقد توبع.
حدیث نمبر: 5846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَتْ : رَأَى ابْنُ عُمَرَ صَبِيًّا فِي رَأْسِهِ قَنَازِعُ ، فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ تَحْلِقَ الصِّبْيَانُ الْقَزَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
صفیہ بنت ابی عبید کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر میں کچھ بال کٹے ہوئے تھے اور کچھ یوں ہی چھوٹے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بچوں کے بال کٹوانے سے منع فرمایا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5846
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن نافع.
حدیث نمبر: 5847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الِلَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ أَوْ شَرِبَ ، فَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو بائیں ہاتھ سے نہ کھائے پیئے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5847
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، العمري وإن كان ضعيفا، توبع
حدیث نمبر: 5848
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا أُسَامَةَ ، وَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، فَقَالَ كَمَا حَدَّثَنِي سَالِمٌ : " أَلَا إِنَّكُمْ تَعِيبُونَ أُسَامَةَ ، وَتَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ ، وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ بِأَبِيهِ مِنْ قَبْلُ ، وَإِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ ، وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ كُلِّهِمْ إِلَيَّ ، وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا مِنْ بَعْدِهِ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ، فَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا ، فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ " ، قَالَ سَالِمٌ : مَا سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ قَطُّ , إِلَّا قَالَ : مَا حَاشَا فَاطِمَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا ، لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہو ، حالانکہ اللہ کی قسم ! وہ امارت کا حقدار تھا اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، لہٰذا اس کے ساتھ اچھا سلوک کر نے کی وصیت قبول کرو ،کیونکہ یہ تمہارا بہترین ساتھ ہے۔ “ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس حدیث کو بیان کرتے وقت ہمیشہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا استثناء کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5848
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:2426.
حدیث نمبر: 5849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ , عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَبَاءِ الْمَدِينَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَاءَهَا نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ " ، وَهِيَ الْجُحْفَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میں نے خواب میں کالی کلوٹی بکھرے بالوں والی ایک عورت کو مدینہ منورہ سے نکلتے ہوئے دیکھا جو مہیعہ یعنی جحفہ میں جا کر کھڑی ہو گئی، میں نے اس کی تعبیریہ لی کہ مدینہ منورہ کی وبائیں اور آفات جحفہ منتقل ہو گئی ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7038.
حدیث نمبر: 5850
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ ، وَعَنْ هِبَتِهِ " ، قَالَ : قُلْتُ : سَمِعْتَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَسَأَلَهُ عَنْهُ ابْنُهُ حَمْزَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء کو بیچنے یا ہبہ کر نے کی ممانعت فرمائی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5850
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2535، م: 1506.
حدیث نمبر: 5851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِمَهُمْ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَامَ يَوْمًا ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ " ، ثُمَّ نَبَذَهُ ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : ”میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا “، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5851
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں ، اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7248.
حدیث نمبر: 5853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ : ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ : قَرْنًا ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ : الْجُحْفَةَ ، وَزَعَمُوا أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ : يَلَمْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا اور لوگوں کا کہنا ہے اہل یمن کے لئے یلملم کو مقات قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1525، م: 1182.
حدیث نمبر: 5854
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ , قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أَشْتَرِي الْبَيْعَ فَأُخْدَعُ ، فَقَالَ : " إِذَا كَانَ ذَاكَ فَقُلْ : لَا خِلَابَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش کا ایک آدمی تھا جسے بیع میں لوگ دھوکہ دے دیتے تھے ، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” تم یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1533.
حدیث نمبر: 5855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : كُنَّا فِي بُسْتَانٍ لَنَا , أَوْ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , نَرْمِي ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، فَقَامَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى مَقْرَى الْبُسْتَانِ فِيهِ جِلْدُ بَعِيرٍ ، فَأَخَذَ يَتَوَضَّأُ فِيهِ ، فَقُلْتُ : أَتَتَوَضَّأُ فِيهِ وَفِيهِ هَذَا الْجِلْدُ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن منذر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم اپنے یا عبیداللہ بن عبداللہ کے باغ میں تیراندازی کر رہے تھے کہ نماز کا وقت آ گیا ، عبیداللہ کھڑے ہو کر باغ کے تالاب پر چلے گئے ، وہاں اونٹ کی کھال پانی میں پڑی ہوئی تھی ، وہ اس پانی سے وضو کر نے لگے میں نے ان سے کہا کہ آپ اس پانی سے وضو کر رہے ہیں جبکہ اس میں یہ کھال بھی پڑی ہوئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے میرے والد صاحب نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب پانی دو تین مٹکے ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5855
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد دون قوله: أو ثلاثا.
حدیث نمبر: 5856
رقم الحديث: 5698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ , إِنَّ عِنْدَنَا رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الْأَمْرَ بِأَيْدِيهِمْ ، فَإِنْ شَاءُوا عَمِلُوا ، وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يَعْمَلُوا ! فَقَالَ : أَخْبِرْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ ، وَأَنَّهُمْ مِنِّي بُرَآءُ ، ثُمَّ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا مُحَمَّدُ , مَا الْإِسْلَامُ ؟ فَقَالَ : تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ، قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ، فَأَنَا مُسْلِمٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : فَمَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ : تَخْشَى اللَّهَ تَعَالَى كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَا تَكُ تَرَاهُ ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ ، قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ، فَأَنَا مُحْسِنٌ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : فَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : تُؤْمِنُ بِاللَّهِ ، وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكُتُبِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَالْبَعْثِ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ ، وَالنَّارِ ، وَالْقَدَرِ كُلِّهِ ، قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ، فَأَنَا مُؤْمِنٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : صَدَقْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی ، میں نے ان سے عرض کیا کہ ہمارے یہاں کچھ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ معاملات ان کے اختیار میں ہیں، چاہیں تو عمل کر لیں اور چاہیں تو نہ کر یں، ہماری بات سن کر انہوں نے فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤ تو ان سے کہہ دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں ، یہ بات کہہ کر انہوں نے یہ روایت سنائی کہ ایک مرتبہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اے محمد ! ”اسلام “ کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نیز یہ کہ آپ نماز قائم کر یں، زکوٰۃ ادا کریں، رمضان کے روزے رکھیں اور حج بیت اللہ کریں۔“ اس نے کہا کہ جب میں یہ کام کر لوں تو میں ”مسلمان “کہلاؤں گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں !“ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا، پھر اس نے پوچھا کہ ”احسان “ کی تعریف کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اللہ سے اس طرح ڈرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہ کر سکو تو پھر یہی تصور کر لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے “ ، اس نے کہا : کیا ایسا کرنے کے بعد میں ”محسن “ بن جاؤں گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں !“ اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا : پھر اس نے پوچھا کہ ”ایمان “ کی تعریف کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، موت کے بعد دوبارہ زندگی، جنت و جہنم اور ہر تقدیر پر یقین رکھو“ ، اس نے کہا : کیا ایسا کر نے کے بعد میں مومن کہلاؤں گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ! “اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5856
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد، وقد توبع.
حدیث نمبر: 5857
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، قَالَ : وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ، البتہ اس میں اتنا اضافہ بھی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں آتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5857
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5858
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قبیلہ اسلم ، اللہ اسے سلامت رکھے، قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5858
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2518.
حدیث نمبر: 5859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا ، إِذْ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
image
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5859
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3676.
حدیث نمبر: 5860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5860
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1193.
حدیث نمبر: 5861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” جو شخص غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کر نے سے پہلے اسے آگے فروخت نہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5861
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5862
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " ، وَنَهَى عَنِ النَّجْشِ ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ ، وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ : بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے“ ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع میں دھوکے سے، حاملہ جانور کے حمل کی بیع سے اور بیع مزابنہ سے منع فرمایا ، بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ پھلوں کی بیع کھجوروں کے بدلے کی جائے ماپ کر ، یا ا نگور کی بیع کشمش کے بدلے ناپ کر کے کی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5862
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2165، م: 1517.
حدیث نمبر: 5863
قَالَ عَبْد الله : حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ النَّجْشِ " ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع میں دھوکے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5863
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2165، م: 1517.
حدیث نمبر: 5864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ ، وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ , وَإِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھریوں کو پہلے سے تیز کر لینے کا حکم دیا ہے ، اور یہ کہ چھریوں کو جانوروں سے چھپا کر رکھا جائے اور یہ کہ جب تم میں سے کوئی شخص جانور کو ذبح کر نے لگے تو جلدی سے ذبح کر ڈالے (جانوروں کو تڑپانے سے بچے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5864
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 5865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ ، فَإِنَّهُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ ، وَمَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مسواک کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ یہ منہ کی پاکیزگی اور اللہ کی رضامندی کا سبب بنتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5865
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 5866
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ تعالیٰ اپنی رخصتوں پر عمل کرنے کو اسی طرح پسند کرتا ہے جیسے اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 5867
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم , يَقُولُ : " سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ ، أَلَا وَذَاكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالزِّنْدِيقِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت میں بھی شکلیں مسخ ہوں گی یاد رکھو کہ یہ ان لوگوں کی ہوں گی جو تقدیر کی تکذیب کرتے ہیں یا زندیق ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف رشيدين بن سعد.
حدیث نمبر: 5868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " ، قَالُوا : فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْعِلْمُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا ، میں نے اسے پیا ، پھر میں نے اپنا پس خوردہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”علم۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7032، م: 3291.
حدیث نمبر: 5869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَكَانَ وَهْبٌ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ , لَيْسَ فِي كِتَابِ ابْنِ مَالِكٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى رَاعِيَ غَنَمٍ فِي مَكَانٍ قَبِيحٍ ، وَقَدْ رَأَى ابْنُ عُمَرَ مَكَانًا أَمْثَلَ مِنْهُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَيْحَكَ يَا راعي , حَوِّلْها , فَإِنِّي ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " كُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک چرواہے کو اپنی بکریاں کسی گندی جگہ پر چراتے ہوئے دیکھا جبکہ اس سے بہتر جگہ موجود تھی ، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسے دیکھا تھا اس لئے فرمانے لگے : اے چرواہے ! تجھ پر افسوس ہے ، ان بکریوں کو کہیں اور لے جاؤ ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر چرواہے سے اس کی رعیت کے بارے سوال ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن عجلان.
حدیث نمبر: 5870
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ النَّجْشِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع میں دھوکے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2165، م: 1517.
حدیث نمبر: 5871
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ نُمَيْرٍ أَبُو مِحْصَنٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجَ يَوْمَ عِيدٍ فَبَدَأَ فَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ خَطَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر اذان و اقامت کے پہلے نماز پڑھائی ، پھر خطبہ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5871M
قَالَ : وَحَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
یہی حدیث سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5871M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 5872
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مِحْصَنِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي كسابقه.
حدیث نمبر: 5873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ اپنی رخصتوں پر عمل کر نے کو اسی طرح پسند کرتا ہے جیسے اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد : وَسَمِعْتَهُ أَنَا مِنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھا لیتے تھے (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کی کے لئے وقت کہاں ؟ )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وصححه الترمذي وابن حبان.
حدیث نمبر: 5875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ : " اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ " ، وَقَالَ : مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حجر اسود کا استلام کر کے اپنے ہاتھ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ فرماتے تھے کہ میں نے جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ،کبھی اسے ترک نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1268.
حدیث نمبر: 5876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِالْمُصَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ " ، وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے مروی ہے کہ وہ دس ذی الحجہ کو عیدگاہ میں ہی قربانی کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 982، وهذا إسناد حسن من أجل أسامة.
حدیث نمبر: 5877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد : وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَا يَجُوزُ فِي الرَّضَاعَةِ مِنَ الشُّهُودِ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ أَوْ امْرَأَةٌ " , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے کتنے گواہوں کا ہونا کافی ہوتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک مرد اور ایک عورت۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، محمد بن عثيم مجمع على ضعفه.
حدیث نمبر: 5878
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ , أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أُتِيَ بِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ كَتَبْتَ هَذَا الْكِتَابَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا وَاللَّهِ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَغَيَّرَ الْإِيمَانُ مِنْ قَلْبِي ، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ , إِلَّا وَلَهُ جِذْمٌ وَأَهْلُ بَيْتٍ يَمْنَعُونَ لَهُ أَهْلَهُ ، وَكَتَبْتُ كِتَابًا رَجَوْتُ أَنْ يَمْنَعَ اللَّهُ بِذَلِكَ أَهْلِي ، فَقَالَ عُمَرُ : ائْذَنْ لِي فِيهِ ، قَالَ : " أَوَ كُنْتَ قَاتِلَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، إِنْ أَذِنْتَ لِي ، قَالَ : " وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ قَدْ اطَّلَعَ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ " ، فَقَالَ : " اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ خط تم نے ہی لکھا ہے ؟ انہوں نے اس کا اقرار کرتے ہوئے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ، میرے دل میں ایمان کے اعتبار سے کوئی تغیر واقع نہیں ہوا ، بات اصل میں اتنی ہے کہ قریش کے ہر آدمی کا مکہ مکرمہ میں کوئی نہ کوئی حمایتی یا اس کے اہل خانہ موجود ہیں جو اس کے اعزہ و اقرباء کی حفاظت کرتے ہیں ، میں نے انہیں یہ خط لکھ دیا تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ان میں سے کسی سے میرے اہل خانہ کی حفاظت کروا لے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اتاروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تم واقعی اسے مارو گے ؟“ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ! اگر آپ نے اجازت دے دی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو زمین پر جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو چاہو کرو (میں نے تمہیں معاف کر دیا)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف عمر بن حمزة.
حدیث نمبر: 5879
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هو عَبْدٌ الله بْنِ أَحْمَّد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مِنْ طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے موقع پر ایک راستے سے جاتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس آتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري.
حدیث نمبر: 5880
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " ، قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا إِلَّا وِتْرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ طاق ہے ، طاق عدد کو پسند کرتا ہے“ ، نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما طاق عدد کا خیال رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري.
حدیث نمبر: 5881
(حديث مقطوع) قال عَبْد اللَّهِ بْنِ أَحْمد ، حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : " أَنَا رَأَيْتُ غَيْلَانَ يَعْنِي الْقَدَرِيَّ مَصْلُوبًا عَلَى بَابِ دِمَشْقَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے غیلان قدری دمشق کے دروازے پر سولی پر لٹکا ہوا دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ ، لَا تَكَادُ تَرَى فِيهَا رَاحِلَةً ، أَوْ مَتَى تَرَى فِيهَا رَاحِلَةً ؟ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نَعْلَمُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مِائَةٍ مِثْلِهِ ، إِلَّا الرَّجُلَ الْمُؤْمِنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سورای کے قابل نہ ہو“ ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مرد مؤمن کے علاوہ سو چیزوں میں سے ایک کے مثل کوئی بہتر چیز ہم نہیں جانتے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن عبدالله بن عمرو بن عثمان ضعيف.