حدیث نمبر: 5804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْغَادِرَ يَنْصِبُ اللَّهُ لَهُ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ أَلَا هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔“
حدیث نمبر: 5805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ أَوْ الْعَصَا مُغَلَّظَةٌ ، مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا ، أَلَا إِنَّ كُلَّ دَمٍ وَمَالٍ وَمَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ ، فَإِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُهَا لِأَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن (خانہ کعبہ کی سیڑھیوں پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یاد رکھو ! لکڑی یا لاٹھی سے مقتول ہو جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے ، بعض اسانید کے مطابق اس میں دیت مغلظہ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹیاں بھی ہوں گی، یاد رکھو ! زمانہ جاہلیت کا ہر تفاخر ، ہر خون اور ہر دعوی میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے ، البتہ حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ شریف کی کلید برداری کا جو عہدہ ہے میں اسے ان عہدوں کے حاملین کے لئے برقرار رکھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 5806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " ، قَالَ : وَلَقَدْ تَعَشَّى ابْنُ عُمَرَ مَرَّةً وَهُوَ يَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کسی کے سامنے کھانا لا کر رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔“ راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما امام کی قرأت کی آواز سننے کے باوجود کھانا کھاتے رہے تھے۔
حدیث نمبر: 5807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَيُصَلِّي رَكَعَاتٍ يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ ، فَإِذَا انْصَرَفَ الْإِمَامُ ، رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " ، وَقَالَ : هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کے دن مسجد جاتے اور چند رکعات نماز پڑھتے جن میں طویل قیام فرماتے جب امام واپس چلا جاتا تو اپنے گھر جا کر دو رکعتیں پڑھتے اور فرماتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ لَقِيطٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ، وَأَنَا عِنْدَهُ ، عَنِ الْمُتْعَةِ , مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَغَضِبَ ، وَقَالَ : وَاللَّهِ مَا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَّائِينَ وَلَا مُسَافِحِينَ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَكُونَنَّ قَبْلَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ " , قَالَ عَبْدُ اللهُ بْنِ أَحْمَّد : قَالَ أَبِي : وقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ : " قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن اعرجی سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میری موجودگی میں عورتوں سے متعہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کوئی بدکاری یا شہوت رانی نہیں کیا کرتے تھے ، پھر فرمایا کہ بخدا ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : قیامت سے پہلے مسیح دجال اور تیس یا زیادہ کذاب ضرور آئیں گے۔
حدیث نمبر: 5809
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , كَذَا قَالَ عَفَّانُ ، وإنما هو واقد بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجتہ الوداع کے موقع پر) ارشاد فرمایا :” میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنے مارنے لگو۔“
حدیث نمبر: 5810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " وَيْحَكُمْ " ، أَوْ قَالَ " وَيْلَكُمْ " ، " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجتہ الوداع کے موقع پر) ارشاد فرمایا : ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنے مارنے لگو۔“
حدیث نمبر: 5811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ حُصَيْنٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَآنِي ابْنُ عُمَرَ , وَأَنَا أُصَلِّي بَعْدَمَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، فَقَالَ : يَا يَسَارُ ، كَمْ صَلَّيْتَ ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي ! قَالَ : لَا دَرَيْتَ ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : " أَلَا لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ أَنْ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ إِلَّا سَجْدَتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
یسار ” جو کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کر دہ غلام ہیں“ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے طلوع فجر کے بعد نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمانے لگے : اے یسار ! تم نے کتنی رکعتیں پڑھیں ؟ میں نے عرض کیا کہ یاد نہیں ، فرمایا : تجھے یاد نہ رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک مرتبہ اس وقت تشریف لائے تھے اور ہم اسی طرح نماز پڑھ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”حاضرین غائبین کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ طلوع فجر کے بعد دو رکعتوں کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 5812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الْغَلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَدْعُو عَلَى أَرْبَعَةٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 ، قَالَ : وَهَدَاهُمْ اللَّهُ إِلَى الْإِسْلَامِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار آدمیوں پر بددعاء فرماتے تھے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ یہ ظالم ہیں، چنانچہ ان سب کو اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت عطاء فرما دی۔
حدیث نمبر: 5813
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5814
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الْغَلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ الْعَقِيقَ : " فَنَهَى عَنْ طُرُوقِ النِّسَاءِ اللَّيْلَةَ الَّتِي يَأْتِي فِيهَا ، فَعَصَاهُ فَتَيَانِ ، فَكِلَاهُمَا رَأَى مَا كَرِهَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی عقیق میں پڑاؤ کیا تو لوگوں کو رات کے وقت اچانک بغیر اطلاع کے اپنی خواتین کے پاس جانے سے منع کیا ، دو نوجوانوں نے بات نہیں مانی اور دونوں کو کراہت امیز مناظر دیکھنے پڑے۔
حدیث نمبر: 5815
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُتِيَ وَهُوَ فِي الْمُعَرَّسِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي ، فَقِيلَ : إِنَّكَ فِي بَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ میں ” جو بطن وادی میں ذوالحلیفہ کے قریب تھا “ ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ آپ مبارک بطحاء میں ہیں۔
حدیث نمبر: 5816
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي لَيَسْتَرْخِي ، إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ ؟ فَقَالَ : " إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ تَصْنَعُ الْخُيَلَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظررحم نہیں فرمائے گا“، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک کونا بعض اوقات نیچے لٹک جاتا ہے گو کہ میں کوشش تو بہت کرتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں ، جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 5817
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ قَامَ ابْنُ الْخَطَّابِ ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَمَا رَأَيْتُ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ خواب میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ، فرمایا :” میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں ، ابوبکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری تھی ، اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے ، پھر عمر نے ڈول کھینچے اور وہ ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا ، میں نے کسی عبقری انسان کو ان کی طرح ڈول بھرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کر دیا۔“
حدیث نمبر: 5818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ ، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص مدینہ میں مر سکتا ہو ، اسے ایسا ہی کرنا چاہئے کیونکہ میں مدینہ منورہ میں مرنے والوں کی سفارش کروں گا۔“
حدیث نمبر: 5819
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ " ، قَالَ : فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَعْجَبُ مِنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ ! فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَدَقَ ، فَقُلْتُ : وَمَا الْجَرُّ ؟ قَالَ : مَا يُصْنَعُ مِنَ الْمَدَرِ .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مٹکے کی نبیذ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے ، میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ آپ کو ابو عبدالرحمن پر تعجب نہیں ہوتا ، ان کا خیال ہے کہ مٹکے کی نبیذ کو تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے میں نے پوچھا ”مٹکے “سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔
حدیث نمبر: 5820
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ أَصْحَابَنَا حَدَّثُونَا عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَ أَبِي : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے “۔ یہ حدیث بعض حضرات نے موقوفاً نقل کی ہے اور بعض نے مرفوعاً ۔
حدیث نمبر: 5821
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، سَمِعْتُ نَافِعًا ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي عَبْدٍ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ ، وَإِلَّا فَقَدْ أَعْتَقَ مَا أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو اسے اس کا بقیہ حصہ آزاد کر نے کا بھی مکلف بنایا جائے گا ، اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے اسے آزاد کیا جا سکے تو جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا۔“
حدیث نمبر: 5822
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ : " كَانَ يُصَلِّي فِي اللَّيْلِ ، وَيُوتِرُ رَاكِبًا عَلَى بَعِيرِهِ ، لَا يُبَالِي حَيْثُ وَجَّهَهُ " ، قَالَ : وَقَدْ رَأَيْتُ أَنَا سَالِمًا يَصْنَعُ ذَلِكَ ، وَقَدْ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَأْثُرُ ذَلِكَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رات کی نماز اور وتر اپنی سواری پر پڑھ لیتے تھے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہ فرماتے تھے کہ اس کا رخ کس سمت میں ہے ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سالم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے نافع نے بتایا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5823
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 ، قَالَ : " يَغِيبُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت ”جب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 5824
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِصَاحِبِهِ يَا كَافِرُ ، فَإِنَّهَا تَجِبُ عَلَى أَحَدِهِمَا ، فَإِنْ كَانَ الَّذِي قِيلَ لَهُ كَافِرٌ ، فَهُوَ كَافِرٌ ، وَإِلَّا رَجَعَ إِلَيْهِ مَا قَالَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کوئی شخص جب اپنے بھائی کو اے کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے کسی ایک پر تو یہ چیز لازم ہو ہی جاتی ہے، جسے کافر کہا گیا ہے یا تو وہ کافر ہوتا ہے ورنہ کہنے والے پر اس کی بات پلٹ جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 5825
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، إِذْ عَرَضَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كَيْفَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى ؟ قَالَ : " يَدْنُو الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ ، فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ أَيْ يَسْتُرُهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَتَعْرِفُ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّ أَعْرِفُ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَتَعْرِفُ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّ أَعْرِفُ ، يَعْنِي فَيَقُولُ : أَنَا سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا ، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، وَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ ، فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ : هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ سورة هود آية 18 , قَالَ سَعِيدٌ : وَقَالَ قَتَادَةُ : فَلَمْ يَخْزَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ , فَخَفِيَ خِزْيُهُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ .
مولانا ظفر اقبال
صفوان بن محرز رحمہ الله کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ ایک آدمی آ کر کہنے لگا : اے ابوعبدالرحمن ! قیامت کے دن جو سرگوشی ہو گی ، اس کے متعلق آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بندہ مومن کو اپنے قریب کریں گے اور اس اپنی چادر ڈال کر اسے لوگوں کی نگاہوں سے مستور کر لیں گے اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروائیں گے اور اس سے فرمائیں گے، کیا تھے فلاں فلاں گناہ یاد ہے ؟ جب وہ اپنے سارے گناہوں کا اقرار کر چکے گا (اور اپنے دل میں یہ سوچ لے گا کہ اب تو وہ ہلاک ہو گیا) ، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے میں نے دنیا میں تیری پردہ پوشی کی تھی اور آج تیری بخشش کرتا ہوں ، پھر اسے اس کا نامہ اعمال دے دیا جائے گا ، باقی رہے کفار اور منافقین تو گواہ کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی تکذیب کیا کرتے تھے ، آگاہ رہو ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ۔
حدیث نمبر: 5826
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَمَّادٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ أَبْصَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ تَطَوُّعًا " ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے کہ وہ سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو، انہوں نے ایک مرتبہ ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5827
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ قُرْآنٌ ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ " ، قَالَ : فَاسْتَدَارُوا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ آج کی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کر نے کا حکم دیا گیا ہے ، یہ سنتے ہی ان لوگوں نے نماز کے دوران ہی گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف اپنا رخ کر لیا۔
حدیث نمبر: 5828
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔“
حدیث نمبر: 5829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى أُمَرَائِنَا ، فَنَقُولُ الْقَوْلَ ، فَإِذَا خَرَجْنَا قُلْنَا غَيْرَهُ ؟ ! فَقَالَ : كُنَّا نَعُدُّ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پوچھا کہ ہم لوگ اپنے حکمرانوں کے پاس جاتے ہیں تو کچھ کہتے ہیں اور جب باہر نکلتے ہیں تو کچھ کہتے ہیں ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں اس چیز کو ہم نفاق سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5830
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَنَافِعٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْغَزْوِ أَوْ الْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ ، يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حج ، جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو پہلے تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے ”اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں ، سجدہ کرتے ہوئے ، عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آرہے ہیں ، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی۔ “
حدیث نمبر: 5831
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَنَافِعٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَارِبٍ يَعْنِي ابْنَ دِثَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اے لوگو ! ظلم کر نے سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 5833
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ بَكَّارٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُنْدَةَ , أَنَّهُ سَأَلَ طَاوُسًا عَنِ الشَّرَابِ ، فَأَخْبَرَهُ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
خلاد بن عبدالرحمن نے طاؤس سے شراب کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے اور کدو سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 5834
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب سورج کا کنارہ نکلنا شروع ہو تو جب تک وہ نمایاں نہ ہو جائے اس وقت تک تم نماز نہ پڑھو اسی طرح جب سورج کا کنارہ غروب ہونا شروع ہو تو اس کے مکمل غروب ہونے تک نماز نہ پڑھو۔“
حدیث نمبر: 5835
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الله بِنْ نَافِع ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو، کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 5836
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى خَاصِرَتِي ، فَضَرَبَ يَدَيَّ ، فَلَمَّا صَلَّى , قَالَ : " هَذَا الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
زیاد بن صبیح حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز پڑھ رہا تھا میں نے اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھ لیا، انہوں نے یہ دیکھ کر میرے ہاتھ پر ہاتھ مارا جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے فرمایا : نماز میں اتنی سختی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 5837
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ , وَعُثْمَانَ : " فَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے یاد رکھو ! طلوع آفتاب تک نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تھی تو وہ مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 5839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " مَا كَانَ لِي مَبِيتٌ وَلَا مَأْوَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مسجد کے علاوہ میرا کوئی ٹھکانہ تھا اور نہ ہی رات گزارنے کی جگہ۔
حدیث نمبر: 5840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ تُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ فِي الْعِيدَيْنِ ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عیدین میں نیزہ گاڑا جاتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے سترہ بنا کر نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيْكٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو سامنے رکھ کر اسے بطور سترہ آگے کر لیتے اور نماز پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 5842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " سَجْدَةٌ مِنْ سُجُودِ هَؤُلَاءِ أَطْوَلُ مِنْ ثَلَاثِ سَجَدَاتٍ مِنْ سُجُودِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا ایک سجدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین سجدوں سے بھی زیادہ لمبا ہوتا ہے۔ (حالانکہ امام کو تخفیف کا حکم ہے)۔
حدیث نمبر: 5843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین کرتے ہوئے کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے تھے۔
…