حدیث نمبر: 5724
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَقِيمُوا الصُّفُوفَ ، فَإِنَّمَا تَصُفُّونَ بِصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ ، وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ ، وَسُدُّوا الْخَلَلَ ، وَلِينُوا فِي أَيْدِي إِخْوَانِكُمْ ، وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ ، وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا ، وَصَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا ، قَطَعَهُ اللَّهُ تبَارك وَتَعالَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”صفیں درست رکھا کرو، کیونکہ تمہاری صفیں ملائکہ کی صفوں کے مشابہہ ہوتی ہیں، کندھے ملا لیا کرو، درمیان میں خلاء کو پر کر لیا کرو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جایا کرو اور شیطان کے لئے خالی جگہ نہ چھوڑا کرو ، جو شخص صف کو ملاتا ہے، اللہ اسے جوڑتا ہے اور جو شخص صف کو توڑتا ہے اللہ اسے توڑ دیتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5725
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ , عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ تَفِلَاتٍ " , لَيْثٌ الَّذِي ذَكَرَ " تَفِلَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم رات کے وقت عورتوں کو پراگندہ حالت میں مساجد میں آنے کی اجازت دے دیا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في الشواهد، ليث ضعيف، وقد توبع.
حدیث نمبر: 5726
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے ارشاد فرماتے تھے اور ان دونوں کے درمیان کچھ دیر بیٹھتے بھی تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالله العمري- وإن كان ضعيفا- متابع.
حدیث نمبر: 5727
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً ، وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً سِيَرَاءَ ، قَالَ : فَنَظَرَ فَرَآنِي قَدْ أَسْبَلْتُ ، فَجَاءَ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِي ، وَقَالَ : " يَا ابْنَ عُمَرَ ، كُلُّ شَيْءٍ مَسَّ الْأَرْضَ مِنَ الثِّيَابِ ، فَفِي النَّارِ " ، قَالَ : فَرَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَتَّزِرُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک ریشمی جوڑا دیا اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو کتان کا جوڑا عطاء فرمایا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو وہ کپڑا زمین پر لٹک رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا : ”اے ابن عمر ! کپڑے کا جو حصہ زمین پر لگے کا وہ جہنم میں ہو گا ۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نصف پنڈلی تک تہبند باندھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل.
حدیث نمبر: 5728
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ وَهُوَ يَخْطُبُ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُعْطِيَةُ ، وَالْيَدُ السُّفْلَى , يَدُ السَّائِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے، اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا اور نیچے والے ہاتھ سے مراد مانگنے والا ہاتھ ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1429.
حدیث نمبر: 5729
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الَّذِي لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ , يُمَثِّلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَالَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ، لَهُ زَبِيبَتَانِ ، ثُمَّ يَلْزَمُهُ يُطَوِّقُهُ ، يَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ ، أَنَا كَنْزُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا جس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے ، وہ سانپ طوق بنا کر اس کے گلے میں لٹکا دیا جائے گا اور وہ اسے کہے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ، فَمَاتَ وَهُوَ مُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ ، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو شخص دنیا میں شراب پیتا ہو اور اسی حال میں مر جائے کہ وہ مستقل اس کا عادی رہا ہو اور اس سے توبہ بھی نہ کی ہو، وہ آخرت میں شراب طہور سے محروم رہے گا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2003.
حدیث نمبر: 5731
قَالَ عَبْد الله بْنِ أَحْمَّد : قَالَ أَبِي : وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه.
حدیث نمبر: 5732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " مَنْ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ ، لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ " ، قَالَ : ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : صُمَّتَا إِنْ لَمْ يَكُنْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جو شخص دس دراہم کا ایک کپڑا خریدے اور اس میں ایک درہم حرام کا ہو تو جب تک وہ کپڑا اس کے جسم پر رہے گا اس کی کوئی نماز قبول نہ ہو گی ، اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کر کے فرمایا کہ یہ کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، بقية بن الوليد الحمصي يدلس تدليس التسوية، وهو شر أنواعه، وعثمان بن زفر الجهني، مجهول الحال.
حدیث نمبر: 5733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، قَالَ شَرِيكٌ : أُرَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك النخعي، سيئ الحفظ.
حدیث نمبر: 5734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا هُرَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ تُحْمَلُ مَعَهُ الْعَنَزَةُ فِي الْعِيدَيْنِ فِي أَسْفَارِهِ ، فَتُرْكَزُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر دوران سفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک نیزہ بھی لے جایا جاتا تھا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گاڑا جاتا تھا اور اسے سترہ بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وقد سلف مختصرا برقم: 4614.
حدیث نمبر: 5735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلُ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَةً ، فَتِلْكَ وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْهَا ، وَمَنْ تَوَضَّأَ اثْنَتَيْنِ ، فَلَهُ كِفْلَانِ ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ، فَذَلِكَ وُضُوئِي ، وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ایک مرتبہ اعضاء وضو کو دھوتا ہے تو یہ وضو کا وہ وظیفہ ہے جس کا ہونا ضروری ( اور فرض) ہے، جو دو مرتبہ دھوتا ہے اسے دہرا اجر ملتا ہے اور جو تین مرتبہ دھوتا ہے تو یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کا بھی یہی وضو ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبي إسرائيل.
حدیث نمبر: 5736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ حَالِفًا ، فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ " ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا ، قَالَ : " فَلَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص قسم کھانا چاہتا ہے وہ اللہ کے نام کی قسم کھائے“، قریش کے لوگ اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھایا کرتے تھے اس لئے فرمایا : ”اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں مت کھاؤ ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ ، خَبَّ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ، وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چار چکروں میں عام رفتار رکھتے تھے اور صفاء مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے ”بطن مسیل“ میں دوڑتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1644، م: 1261.
حدیث نمبر: 5738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ قِبَلِ حَضْرَمَوْتَ تَحْشُرُ النَّاسَ " ، قَالَ : قُلْنَا : فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”حضرموت (جو کہ شام کا ایک علاقہ ہے) سے ایک آگ نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی“ ، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر آپ اس وقت کے لئے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : ”ملک شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا (وہاں چلے جانا)۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : حَفِظْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ صَلَوَاتٍ : " رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں، ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور دو رکعتیں نماز فجر سے سے پہلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا ، خُسِفَ بِهِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص زمین کا کوئی ٹکڑا ظلماً لے لیتا ہے وہ اس ٹکڑے کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسایا جاتا رہے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 2454.
حدیث نمبر: 5741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ : " مَذْهَبًا مُوَاجِهًا لِلْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کا راستہ دیکھا ہے جو قبلہ کے رخ ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف.
حدیث نمبر: 5742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ ، أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً : " يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ب قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے 24 یا 25 دن تک یہ اندازہ لگایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں (سنتوں) میں سورہ کافروں اور سورہ اخلاص پڑھتے رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنْ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ ، فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ ، وَمَنْ اسْتَجَارَكُمْ فَأَجِيرُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دے دو ، جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطاء کر دو ، جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ دو ، اگربدلہ میں دینے کے لئے کچھ نہ ملے تو اس کے لئے اتنی دعائیں کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے اور جو شخص تمہاری پناہ میں آئے ، اسے پناہ دے دو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فِئَةُ كُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں ہر مسلمان کی جماعت ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
حدیث نمبر: 5745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ ، فَإِنَّ تُجَاهَهُ الرَّحْمَنُ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے اور نہ ہی دائیں جانب کرے ، البتہ بائیں جانب یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے کر سکتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، لكن تابعه على معنى حديثه ابن أبي داود فيما سلف برقم: 4908.
حدیث نمبر: 5746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ حَاتِمِ بْنِ مُسْلِمٍ ، سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ , يَقُولُ : رَأَيْتُ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ عُمَرَ بِمِنًى ، عَلَيْهَا دِرْعُ حَرِيرٍ ، فَقَالَتْ : " مَا تَقُولُ فِي الْحَرِيرِ ؟ فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حاتم بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے قریش کے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ایک عورت کو میدان منٰی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آتے ہوئے دیکھا ، جس نے ریشمی قمیض پہن رکھی تھی ، اس نے آکر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ریشم کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مردوں کے لئے) اس کی ممانعت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة التابعي راويه عن ابن عمر.
حدیث نمبر: 5747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتَخَلَّى عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کچی اینٹوں پر خانہ کعبہ کے رخ قضاء حاجت کرتے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة.
حدیث نمبر: 5748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يُعْطِي عُمَرَ الْعَطَاءَ ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ : أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ ، أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ , وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ ، وَمَالَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " ، قَالَ سَالِمٌ : فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ , كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا ، وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز عطاء فرماتے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ ! مجھ سے زیادہ جو محتاج لوگ ہیں ، یہ انہیں دے دیجئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے لے لو ، اپنے مال میں اضافہ کرو اس کے بعد صدقہ کر دو ، اور یاد رکھو ! اگر تمہاری خواہش اور سوال کے بغیر کہیں سے مال آئے تو اسے لے لیا کرو ، ورنہ اس کے پیچھے نہ پڑا کرو“ ، سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی کسی سے کچھ مانگتے نہ تھے ، البتہ اگر کوئی دے دیتا تو اسے رد نہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1045، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشيدين، وهو متابع.
حدیث نمبر: 5749
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشيدين.
حدیث نمبر: 5750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثِ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ : تَأْخُذُ إِنْ حَدَّثْتُكَ ؟ ! , قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ قَصَرَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
بشر بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ دوران سفر روزہ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں تم سے حدیث بیان کروں تو تم اس پر عمل کرو گے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس شہر سے باہر نکلتے تھے تو نماز میں قصر فرماتے اور واپس آنے تک روزہ نہ رکھتے تھے (بعد میں قضاء کر لیتے تھے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فيه الحارث بن عبيد أبو قدامة الإيادي وبشر بن حرب، وفيهما ضعف.
حدیث نمبر: 5751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُهَيْلِ أَو سُهَيْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِيثَرَةِ ، وَالْقَسِّيَّةِ ، وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ ، وَالْمُفْدَمِ " ، قَالَ يَزِيدُ : وَالْمِيثَرَةُ : جُلُودُ السِّبَاعِ ، وَالْقَسِّيَّةُ : ثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ مِنْ إِبْرَيْسَمٍ يُجَاءُ بِهَا مِنْ مِصْرَ ، وَالْمُفْدَمُ : الْمُشَبَّعُ بِالْعُصْفُرِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میثرہ ، قسیہ ، سونے کے حلقے (چھلے) اور مفدم سے منع فرمایا ہے ، راوی کہتے ہیں کہ میثرہ سے مراد درندوں کی کھالیں ہیں، قسیہ سے مراد ریشم سے بنے ہوئے کپڑے ہیں جو مصر سے لائے جاتے تھے اور مفدم سے مراد زرد رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
حدیث نمبر: 5752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَقِينَا الْعَدُوَّ ، فَحَاصَ الْمُسْلِمُونَ حَيْصَةً ، فَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ ، فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ، قَالَ : فَتَعَرَّضْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ لِلصَّلَاةِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ ، قَالَ : " لَا ، بَلْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ ، إِنِّي فِئَةٌ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا ، لوگ دوران جنگ گھبرا کر بھاگنے لگے ، ان میں میں بھی شامل تھا ، ہم مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے باہر نکلے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم فرار ہو کر بھاگنے والے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں ، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کر نے والے ہو ، میں تمہاری ایک جماعت ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
حدیث نمبر: 5753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ , عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا بِامْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ ، " فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک مقتول عورت کو دیکھا تو عورتوں اور بچوں کو قتل کر نے سے روک دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم.
حدیث نمبر: 5754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى رَأْسًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ إِذَا جَاءَهُ مَنْ يُرِيدُ قَتْلَهُ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ ابْنيْ آدَمَ ، الْقَاتِلُ فِي النَّارِ ، وَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سمیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک کٹا ہوا سر دیکھا تو فرمایا : تم میں سے کسی آدمی کو ” جب اسے کوئی قتل کر نے کے لئے آئے “ ابن آدم جیسا بننے سے کیا چیز روکتی ہے، یاد رکھو ! مقتول جنت میں جائے گا اور قاتل جہنم میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، علته عبدالرحمن سميرة.
حدیث نمبر: 5755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ الْقَاصُّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ : إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ، وَ إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : وَسُورَةَ هُودٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے ، اسے چاہیے کہ وہ سورہ تکویر، سورہ انفطار پڑھ لے ، غالباً سورہ ہود کا بھی ذکر فرمایا“۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 5756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، بِالْبَطْحَاءِ ، ثُمَّ هَجَعَ بِهَا هَجْعَةً ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ " ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں وادی بطحاء میں پڑھیں ، رات وہیں گزاری اور پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 1768.
حدیث نمبر: 5757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ عُمَرَ ، فَلَمْ أَرَهُمَا يَزِيدَانِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ ، وَكُنَّا ضُلَّالًا فَهَدَانَا اللَّهُ بِهِ ، فَبِهِ نَقْتَدِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے ، یہ دونوں سفر میں دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھتے تھے ، ہم پہلے گمراہ تھے پھر اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں ہدایت عطاء فرمائی، اب ہم ان ہی کی اقتداء کر یں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل مطر.
حدیث نمبر: 5758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلْمَانَ يُحَدِّثُ فِي بَيْتِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ سِوَى الْفَرِيضَةِ : رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرض نمازوں کے علاوہ دس رکعتیں محفوظ کی ہیں ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں، نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ , سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ : " مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا :” دو رکعتیں پڑھا کرو اور وتر کی رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 473، م: 729.
حدیث نمبر: 5760
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " يَرْمُلُ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ " ، وَيُخْبِرُنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَذَكَرُوا لِنَافِعٍ , أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ ؟ قَالَ : " مَا كَانَ يَمْشِي إِلَّا حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَلِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرتے تھے اور ہمیں بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے اور وہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلتے تھے تاکہ استلام کرنے میں آسانی ہو سکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1262.
حدیث نمبر: 5761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، سَمِعْتُ نَافِعًا يَزْعُمُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ : أَنَّ عَائِشَةَ سَاوَمَتْ بِبَرِيرَةَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا رَجَعَ ، قَالَتْ : إِنَّهُمْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُونِي , إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدنا چاہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز تشریف لے گئے ، جب واپس آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ان لوگوں نے انہیں بیچنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر ولاء ہمیں ملے تو ہم بیچ دیں گے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6759.
حدیث نمبر: 5762
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا دَخَلَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کرتے تو کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے تھے ، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 739.
حدیث نمبر: 5763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَطَرٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بجلی کی گرج اور کڑک سنتے تو یہ دعاء فرماتے «اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ» کہ اے اللہ ! ہمیں اپنے غضب سے ہلاک نہ فرما، اپنے عذاب سے ہمیں ختم نہ فرما اور اس سے پہلے ہی ہمیں عافیت عطاء فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حجاج، ولجهالة حال أبي مطر.