حدیث نمبر: 5684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَمْدَحُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ : هَكَذَا ، يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْمَدَّاحِينَ ، فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تعریف کی تو انہوں نے اس کے منہ میں مٹی ڈالنا شروع کر دی اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم کسی کو اپنی تعریف کرتے ہوئے دیکھو تو اس کے منہ میں مٹی بھر دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 5685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ فِي خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش تھا ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5686
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ لِلنَّبِيِّ مُؤَذِّنَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِيبَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَا فَتَكَلَّمَا ، ثُمَّ قَعَدَا ، وَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمَ ، ثُمَّ قَعَدَ ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِهِمْ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، " قُولُوا بِقَوْلِكُمْ ، فَإِنَّمَا تَشْقِيقُ الْكَلَامِ مِنَ الشَّيْطَانِ " ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دور نبوت میں مشرق کی طرف سے دو آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کھڑے ہو کر گفتگو کی، پھر وہ دونوں بیٹھ گئے ( اور خطیب رسول سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گفتگو کر کے بیٹھ گئے) لوگوں کو ان کی گفتگو پر بڑا تعجب ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا : ”لوگو ! اپنی بات عام الفاظ میں کہہ دیا کرو ، کیونکہ کلام کے ٹکڑے کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيز يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ " إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْجُمُعَةِ ، انْصَرَفَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز جمعہ پڑھ کر گھر واپس آتے تو دو رکعتیں گھر میں پڑھتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ جُنَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ سَيْفَهُ عَلَى أُمَّتِي " ، أَوْ قَالَ " أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازہ اس شخص کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار سونتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، جنيد مجهول.
حدیث نمبر: 5690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ ، عَنْ وَبَرَةَ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ يَعْنِي سَعِيدًا ، خَرَجَ إِلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يُحَدِّثَنَا بِحَدِيثٍ يُعْجِبُنَا ، فَبَدَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا تَقُولُ فِي الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193 ، قَالَ : وَيْحَكَ ! أَتَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ؟ ! إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ ، وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً ، وَلَيْسَ بِقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ ! ! .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے، ہمیں امید تھی کہ وہ ہم سے عمدہ احادیث بیان کریں گے لیکن ہم سے پہلے ہی ایک آدمی (جس کا نام حکم تھا) بول پڑا اور کہنے لگا، اے ابو عبدالرحمن ! فتنہ کے ایام میں قتال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان سے اس وقت تک قتال کرو، جب تک فتنہ باقی رہے، انہوں نے فرمایا : تیری ماں تجھے روئے، کیا تجھے معلوم ہے کہ فتنہ کیا چیز ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے قتال کیا کرتے تھے، اس وقت مشرکین کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا ، ایسا نہیں تھا جیسے آج تم حکومت کی خاطر قتال کرتے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7095 .
حدیث نمبر: 5691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا ، فَكَانَ " يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے پورا مہینہ یہ اندازہ لگایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں (سنتوں) میں سورہ کافروں اور سورہ اخلاص پڑھتے رہے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أبو إِسْرَائِيلُ ، عَنْ فُضَيلٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى نَامَ النَّاسُ ، وَتَهَجَّدَ الْمُتَهَجِّدُونَ ، وَاسْتَيْقَظَ الْمُسْتَيْقِظُ ، فَخَرَجَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، وَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَخَّرْتُهَا إِلَى هَذَا الْوَقْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کر دی کہ سونے والے سو گئے اور تہجد پڑھنے والوں نے تہجد پڑھ لی اور جاگنے والے جاگتے رہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا : ”اگر مجھے اپنی امت پر تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز اسی وقت تک مؤخر کر دیتا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى إسرائيل.
حدیث نمبر: 5693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَسَاهُ حُلَّةً سِيَرَاءَ ، وَكَسَا أُسَامَةَ قُبْطِيَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا مَسَّ الْأَرْضَ فَهُوَ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک ریشمی جو ڑا دیا اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو کتان کا جوڑا عطاء فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس کا جو حصہ زمین پر لگے کا وہ جہنم میں ہو گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نُعْمٍ أَوْ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ شَكَّ أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمُتْعَةِ وَأَنَا عِنْدَهُ مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَانِينَ وَلَا مُسَافِحِينَ ! ! ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَكُونَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ : الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ، وَكَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن اعرجی سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میری موجودگی میں عورتوں سے متعہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کوئی بدکاری یا شہوت رانی نہیں کیا کرتے تھے، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت سے پہلے مسیح دجال اور تیس یا زیادہ کذاب ضرور آئیں گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبد الرحمن بن نعيم الأعرجي مجهول.
حدیث نمبر: 5695
قال عبد الله بن أحمد : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَخْبَرَنَا إِيَادٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 5696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ ، بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " ، فَكَانَ أَحَبُّهُمَا إِلَى اللَّهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء اسلام میں یہ دعاء فرمائی تھی کہ اے اللہ ! اسلام کو ان دو آدمیوں ابوجہل یا عمربن خطاب میں سے اس شخص کے ذریعے غلبہ عطاء فرما جو تیری نگاہوں میں زیادہ محبوب ہو (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا) معلوم ہوا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ کی نگاہوں میں زیادہ محبوب تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5696
حدیث نمبر: 5697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى قَلْبِ عُمَرَ وَلِسَانِهِ " ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ ، وَقَالَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، أَوْ قَالَ عُمَرُ ، إِلَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا قَالَ عُمَرُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ نے عمر کے قلب و زبان پر حق کو جاری فرما دیا ہے“ ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا اور لوگوں کی رائے کچھ ہوتی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کچھ ، تو قرآن کریم اسی کے قریب قریب نازل ہوتا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے ہوتی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قابل للتحسين.
حدیث نمبر: 5698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ عُمَرَ ، فَكَانَا " لَا يَزِيدَانِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ ، وَكُنَّا ضُلَّالًا فَهَدَانَا اللَّهُ بِهِ ، فَبِهِ نَقْتَدِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے، یہ دونوں سفر میں دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھتے تھے، ہم پہلے گمراہ تھے پھر اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں ہدایت عطاء فرمائی، اب ہم ان ہی کی اقتداء کریں گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن .
حدیث نمبر: 5699
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً ، أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً ، " يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے چوبیس یا پچیس دن تک یہ اندازہ لگایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں (سنتوں) میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص پڑھتے رہے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5700
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُفْتِي بِالَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَةِ بِالتَّمَتُّعِ ، وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ، فَيَقُولُ نَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ : كَيْفَ تُخَالِفُ أَبَاكَ وَقَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ؟ ! فَيَقُولُ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ : وَيْلَكُمْ ! أَلَا تَتَّقُونَ اللَّهَ ؟ ! إِنْ كَانَ عُمَرُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ، فَيَبْتَغِي فِيهِ الْخَيْرَ يَلْتَمِسُ بِهِ تَمَامَ الْعُمْرَةِ ، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ ذَلِكَ وَقَدْ أَحَلَّهُ اللَّهُ ، وَعَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! أَفَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا سُنَّتَهُ أَمْ سُنَّةَ عُمَرَ ؟ ! إِنَّ عُمَرَ لَمْ يَقُلْ لَكُمْ إِنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : إِنَّ " أَتَمَّ الْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم کہتے ہیں کہ حج تمتع کے سلسلے میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وہی رخصت دیتے تھے، جو اللہ نے قرآن میں نازل کی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے ، کچھ لوگ ان سے کہتے کہ آپ کے والد صاحب تو اس سے منع کرتے تھے، آپ ان کی مخالفت کیوں کرتے ہیں ؟ وہ انہیں جواب دیتے کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا تھا، تو ان کے پیش نظر بھی خیر تھی کہ لوگ اتمام عمرہ کریں، جب اللہ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے تو تم اسے خود پر حرام کیوں کرتے ہو ؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنا زیادہ بہتر ہے یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ اشہر حج میں عمرہ کرنا ہی حرام ہے، انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ عمرہ کا اتمام یہ ہے کہ تم اشہر حج کے علاوہ کسی اور مہینے میں الگ سے اس کے لئے سفر کر کے آؤ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف صالح بن أبى الأخضر.
حدیث نمبر: 5701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : أَرَاكَ تُزَاحِمُ عَلَى هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ ؟ قَالَ : إِنْ أَفْعَلْ ، فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مَسْحَهُمَا يَحُطَّانِ الْخَطَايَا " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا يُحْصِيهِ ، كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةٌ ، وَكُفِّرَ عَنْهُ سَيِّئَةٌ ، وَرُفِعَتْ لَهُ دَرَجَةٌ وَكَانَ عَدْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبید بن عمیر نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں آپ کو ان دو رکنوں حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے کے لئے رش میں گھستے ہوئے دیکھتا ہوں ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان دونوں کا استلام انسان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ جو شخص گن کر طواف کے سات چکر لگائے ( اور اس کے بعد دوگانہ طواف پڑھ لے ) تو ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جائے گی ، ایک گناہ مٹا دیا جائے گا ، ایک درجہ بلند کر دیا جائے گا اور یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 5702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قُعَيْسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا لَا يَفْعَلُونَ ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”عنقریب تم پر ایسے امراء آئیں گے جو تمہیں ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو خود نہیں کرتے ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ حوض کوثر پر میرے پاس نہ آ سکے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبراهيم قعيس، ضعفه أبو حاتم.
حدیث نمبر: 5703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ ، وَمَنْ أَهْدَى لَكُمْ فَكَافِئُوهُ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ ، فَادْعُوا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطاء کر دو، جو شخص تمہیں دعوت دے اسے قبول کر لو، جو تمہیں ہدیہ دے اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ میں دینے کے لئے کچھ نہ ملے تو اس کے لئے اتنی دعائیں کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
حدیث نمبر: 5704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَأَنْ يَكُونَ جَوْفُ الْمَرْءِ مَمْلُوءًا قَيْحًا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوءًا شِعْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کسی کا پیٹ قے سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح، خ: 6154.
حدیث نمبر: 5705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آ پکڑے جو ان پر آیا تھا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح، خ: 3381، م: 2980.
حدیث نمبر: 5706
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، كَانَ يُدْخِلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ ، فَطَرَحَهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَطَرَحَ أَصْحَابُهُ خَوَاتِيمَهُمْ ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، وَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی ، اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہر لگاتے تھے، لیکن اسے پہنتے نہیں تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح، خ: 5865، م: 2091.
حدیث نمبر: 5707
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُسَامَةُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ " ، مَا حَاشَا فَاطِمَةَ وَلَا غَيْرَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”لوگوں میں مجھے اسامہ سب سے زیادہ محبوب ہے، سوائے فاطمہ کے، لیکن کوئی اور نہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح، خ: 4468، وليس فيه: ما حاشا فاطمة ولا غيرها.
حدیث نمبر: 5708
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ رَقَبَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَإِذَا نَحْنُ بِرَأْسٍ مَنْصُوبٍ عَلَى خَشَبَةٍ ، قَالَ : فَقَالَ : شَقِيَ قَاتِلُ هَذَا ، قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ تَقُولُ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : فَشَدَّ يَدَهُ مِنْ يَدِي ، وَقَالَ : أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا مَشَى الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِي إِلَى الرَّجُلِ لِيَقْتُلَهُ ، فَلْيَقُلْ هَكَذَا ، فَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سمیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چلا جارہا تھا، راستے میں ان کا گزر ایک کٹے ہوئے سر پر ہوا ، جو سولی پر لٹکا ہوا تھا، اسے دیکھ کروہ فرمانے لگے کہ اسے قتل کرنے والا شقی ہے ، میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن ! یہ آپ کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے اپنا ہاتھ یہ سنتے ہی میرے ہاتھ سے چھڑا لیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرا جو امتی کسی کو قتل کرنے کے لئے نکلے اور اسی طرح کسی کو قتل کر دے (جیسے اس مقتول کا سر لٹکا ہوا ہے) تو مقتول جنت میں جائے گا اور قاتل جہنم میں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن سميرة مجهول.
حدیث نمبر: 5709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ جَمَعَ بَنِيهِ حِينَ انْتَزَى أَهْلُ الْمَدِينَةِ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، وَخَلَعُوا يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : إِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ بِبَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْغَادِرُ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ ، وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْغَدْرِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى ، أَنْ يُبَايِعَ الرَّجُلُ رَجُلًا عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، ثُمَّ يَنْكُثَ بَيْعَتَهُ " ، فَلَا يَخْلَعَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَزِيدَ ، وَلَا يُسْرِفَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ ، فَيَكُونَ صَيْلَمًا فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب اہل مدینہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع ہو گئے اور انہوں نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے سارے بیٹوں اور اہل خانہ کو جمع کیا، اور فرمایا : ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر اس شخص کی بیعت کی تھی اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر دھوکے باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دھوکہ بازی ہے، اور شرک کے بعد سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کسی کی بیعت کرے اور پھر اسے توڑ دے ، اس لئے تم میں سے کوئی بھی یزید کی بیعت نہ توڑے اور نہ ہی امر خلافت میں جھانک کر دیکھے، ورنہ میرے اور اس کے درمیان کوئی تعلق نہیں رہے گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7111، م: 1735.
حدیث نمبر: 5710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ قَالَ لِأَبِي قِلَابَةَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُوكَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَنَا ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَلَمْ أَقْعُدْ عَلَيْهَا ، بَقِيَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
خالد الخداء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابوالمیلح رحمہ اللہ نے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے کہا کہ میں اور آپ کے والد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، انہوں نے ہمیں یہ حدیث سنائی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چمڑے کا تکیہ پیش کیا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، لیکن میں اس کے ساتھ ٹیک لگا کر نہیں بیٹھا اور وہ تکیہ میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہی پڑا رہا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”سب سے بڑاجھوٹ یہ ہے کہ آدمی وہ خواب بیان کرے جو اس نے دیکھا ہی نہ ہو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7043.
حدیث نمبر: 5712
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”شریف ابن شریف ابن شریف ابن شریف سیدنا یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام تھے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3390.
حدیث نمبر: 5713
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حُلَلِ السِّيَرَاءِ ، أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ ، فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ ، فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا ، فَسَحَبْتُهُ ، وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ ، فَتَقَنَّعْتُ بِهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَاتِقِي ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بن عمر ، " ارْفَعْ الْإِزَارَ ، فَإِنَّ مَا مَسَّتْ الْأَرْضُ مِنَ الْإِزَارِ إِلَى مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ : فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان ریشمی جوڑوں میں سے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا جو فیروز نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے تھے ، میں نے تہبند باندھا تو صرف اسی نے طول و عرض میں مجھے ڈھانپ لیا ، میں نے اسے لپیٹا اور اوپر سے چادر اوڑھ لی اور اسے پہن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پکڑ کر فرمایا : ”اے عبداللہ ! تہبند اوپر کرو، ٹخنوں سے نیچے شلوار کا جو حصہ زمین پر لگے گا وہ جہنم میں ہو گا“ ، عبداللہ بن محمد راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی انسان کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اہتمام کے ساتھ اپنے ٹخنے ننگے رکھنے والا کسی کو نہیں دیکھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل.
حدیث نمبر: 5714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُهَنَّى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو شِبْلٍ , عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَسَاهُ حُلَّةً فَأَسْبَلَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا ، وَذَكَرَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک ریشمی جوڑا دیا، وہ ان کے ٹخنوں سے نیچے لٹکنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت بات کہی اور جہنم کا ذکر کیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كسابقه.
حدیث نمبر: 5715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَذْهَبًا مُوَاجِهَ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کے رخ چلتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف.
حدیث نمبر: 5716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ ، وَلَعَنَ شَارِبَهَا ، وَسَاقِيَهَا ، وَعَاصِرَهَا ، وَمُعْتَصِرَهَا ، وَبَائِعَهَا ، وَمُبْتَاعَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”نفس شراب پر ، اس کے پینے والے پر ، پلانے والے پر ، فروخت کرنے والے پر، خریدار پر ، نچوڑنے والے پر اور جس کے لئے نچوڑی گئی، اٹھانے والے پر اور جس کے لئے اٹھائی گئی اور اس کی قیمت کھانے والے پر اللہ کی لعنت ہو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، بطرقه و شواهده.
حدیث نمبر: 5717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ ، وَيَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ , فَقِيلَ لَهُ : لِمَ تَصْبُغُ ثِيَابَكَ وَتَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ ؟ قَالَ : لِأَنِّي رَأَيْتُهُ " أَحَبَّ الْأَصْبَاغِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَّهِنُ بِهِ ، وَيَصْبُغُ بِهِ ثِيَابَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کپڑوں کو رنگتے تھے اور زعفران کا تیل لگاتے تھے، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے کپڑوں کو کیوں رنگتے ہیں اور زعفران کا تیل کیوں لگاتے ہو ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ زعفران کا تیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رنگے جانے کی چیزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ تھا ، اسی کا تیل لگاتے تھے اور اسی سے کپڑوں کو رنگتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 5718
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ لَيَالِي الْحَرَّةِ ، فَقَالَ : ضَعُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ آتِ لِأَجْلِسَ ، إِنَّمَا جِئْتُ لِأُخْبِرَكَ كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ ، لَمْ تَكُنْ لَهُ حُجَّةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ ، فَإِنَّهُ يَمُوتُ مَوْتَ الْجَاهِلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں بیٹھنے کے لئے نہیں آیا بلکہ آپ کو ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے ، قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص جماعت کو چھوڑ کر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 5719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے ابتداءً صرف حج کا احرام باندھا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1231.
حدیث نمبر: 5720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ ، وَاسْمُهُ الَّذِي يعرف به نعيم بن النحام ، وكان رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ صَالِحًا ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : اخْطُبْ عَلَيَّ ابْنَةَ صَالِحٍ , فَقَالَ : إِنَّ لَهُ يَتَامَى ، وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِيَخْطُبَ ، فَانْطَلَقَ زَيْدٌ إِلَى صَالِحٍ ، فَقَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ ، فَقَالَ : لِي يَتَامَى ، وَلَمْ أَكُنْ لِأُتْرِبَ لَحْمِي , وَأَرْفَعَ لَحْمَكُمْ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا , وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِي ، فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حَجْرِهِ ، وَلَمْ يُؤَامِرْهَا ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَالِحٍ ، فَقَالَ : " أَنْكَحْتَ ابْنَتَكَ وَلَمْ تُؤَامِرْهَا ؟ " , فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ " ، وَهِيَ بِكْرٌ ، فَقَالَ صَالِحٌ : فَإِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا يُصْدِقُهَا ابْنُ عُمَرَ ، فَإِنَّ لَهُ فِي مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا .
مولانا ظفر اقبال
نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ ”جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صالح کا خطاب دیا تھا“ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے درخواست کی کہ صالح کی بیٹی سے میرے لئے پیغام نکاح بھیجیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اس کے یتیم بھتیجے ہیں، وہ ہمیں ان پر ترجیح نہیں دیں گے، ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے چچا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور ان سے بھی پیغام نکاح بھیجنے کے لئے کہا ، چنانچہ زید رضی اللہ عنہ خود ہی صالح رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور فرمایا کہ مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیٹی کے لئے اپنی طرف سے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے، صالح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے یتیم بھتیجے موجود ہیں، میں اپنے گوشت کو نیچا کر کے آپ کے گوشت کو اونچا نہیں کر سکتا ، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اس لڑکی کا نکاح میں نے فلاں شخص سے کر دیا ۔ لڑکی کی ماں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی شادی کرنا چاہتی تھی ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی ، اے اللہ کے نبی ! ابن عمر رضی اللہ عنہما نے میری بیٹی کا اپنے لئے رشتہ مانگا تھا لیکن اس کے باپ نے اپنی پرورش میں موجود یتیم بھتیجے سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ تک نہیں کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صالح کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ کیا تم نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنی بیوی کے مشورے کے بغیر ہی طے کر دیا ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ایسا ہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عورتوں سے ان کے متعلق مشورہ کر لیا کرو جب کہ وہ کنواری بھی ہوں۔ “ صالح رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے یہ کام صرف اس وجہ سے کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جو مہر اسے دیں گے ، میرے پاس ان کا اتنا ہی مال پہلے سے موجود ہے (میں ان کا مقروض ہوں، اس لئے مجھے اس حال میں اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دینا گوارا نہ ہوا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد فيه نظر.
حدیث نمبر: 5721
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْوَلِيدُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے والد کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2552 مطولا.
حدیث نمبر: 5722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ الْكَلِمَاتِ ؟ " , فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهَا تَصْعَدُ حَتَّى فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ " ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُها مِنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وقَالَ عَوْنٌ : مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنَ ابْنِ عُمَرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک آدمی کہنے لگا «الله اكبركبيرا والحمدلله كثيرا وسبحان الله بكرة واصيلا» نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ جملے کس نے کہے ہیں ؟ وہ آدمی بولا، یا رسول اللہ ! میں نے کہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں نے ان کلمات کو اوپر چڑھتے ہوئے دیکھا، حتٰی کہ ان کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھول دئیے گئے۔ “ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ، میں نے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا اور عون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے یہ کلمات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سنے ہیں، میں نے کبھی انہیں ترک نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 5723
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ ، فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ ، وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہمارے لئے دو طرح کے مردار اور دو طرح کا خون حلال ہے ، مردار سے مراد تو مچھلی اور ٹڈی دل ہے (کہ انہیں ذبح کرنے کی ضرورت ہی نہیں) اور خون سے مراد کلیجی اور تلی ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد بن أسلم.