حدیث نمبر: 5644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عَلْوَانَ الْحَنَفِيّ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاکت میں ڈالنے والا شخص اور ایک کذاب ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 5645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو ، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آ پکڑے جو ان پر آیا تھا ۔ “
حدیث نمبر: 5646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ ، كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً ، فَرَّجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا ، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے دشمن کے حوالے کرتا ہے ، جو شخص اپنے بھائی کے کام میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کام میں لگا رہتا ہے ، جو شخص کسی مسلمان کی کسی پریشانی کو دور کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پریشانی کو دور کر دے گا ، اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ “
حدیث نمبر: 5647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ سورة إبراهيم آية 24 قَالَ : " هِيَ الَّتِي لَا تَنْفُضُ وَرَقَهَا " ، وَظَنَنْتُ أَنَّهَا النَّخْلَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «كشجرة طيبة» کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ وہ درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور میرا خیال ہے کہ وہ کھجور کا درخت ہوتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا ثُوَيْرٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔
حدیث نمبر: 5650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْوَحْدَةِ أَنْ يَبِيتَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ ، أَوْ يُسَافِرَ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا رات گزارنے یا تنہا سفر کرنے سے منع کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُلْتَمِسًا ، فَلْيَلْتَمِسْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ غُلِبَ ، فَلَا يُغْلَبْ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”شب قدر کو تلاش کرنے والا اسے آخری عشرے میں تلاش کرے ، اگر اس سے عاجز آ جائے یا کمزور ہو جائے تو آخری سات راتوں پر مغلوب نہ ہو ۔“
حدیث نمبر: 5652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى عَنْ تَلَقِّي السِّلَعِ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا الْأَسْوَاقُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار میں سامان پہنچنے سے پہلے تاجروں سے ملنے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا مَرَّ عَلَيْهِ وَهُمْ فِي طَرِيقِ الْحَجِّ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : أَلَسْتَ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَانْطَلَقَ إِلَى حِمَارٍ كَانَ يَسْتَرِيحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رَاحِلَتَهُ ، وَعِمَامَةٍ كَانَ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ ، فَدَفَعَهَا إِلَى الْأَعْرَابِيِّ ، فَلَمَّا انْطَلَقَ ، قَالَ لَهُ بَعْضُنَا : انْطَلَقْتَ إِلَى حِمَارِكَ الَّذِي كُنْتَ تَسْتَرِيحُ عَلَيْهِ ، وَعِمَامَتِكَ الَّتِي كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَكَ ، فَأَعْطَيْتَهُمَا هَذَا الْأَعْرَابِيَّ ، وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا يَرْضَى بِدِرْهَمٍ ! قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ ، صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرا ، وہ حج کے لئے جا رہے تھے ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس دیہاتی سے پوچھا کہ کیا آپ فلاں بن فلاں نہیں ہیں ؟ اس نے کہا کیوں نہیں ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گدھے کے پاس آئے ، جب آپ اپنی سواری سے اکتا جاتے تو اس پر آرام کرتے تھے اور اپناعمامہ لیا جس سے وہ اپنے سر پر پگڑی باندھا کرتے تھے اور یہ دونوں چیزیں اس دیہاتی کو دے دیں ، جب وہ چلا گیا تو ہم میں سے کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنا گدھا جس پر آپ آرام کیا کرتے تھے اور وہ عمامہ جسے آپ اپنے سر پر باندھتے تھے ، اس دیہاتی کو دے دیئے جب کہ وہ تو ایک درہم سے بھی خوش ہو جاتا ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے والد کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرے ۔
حدیث نمبر: 5654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”زکوٰۃ وصول کر نے والے کا کچھ دور قیام کر کے زکوٰۃ دینے والوں کو بلانا یا زکوٰۃ دینے والوں کا زکوٰۃ وصول کر نے والے کو اپنے حکم سے آگے پیچھے کرنا صحیح نہیں ہے اور وٹے سٹے کے نکاح کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَادٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَمَى النَّقِيعَ لِخَيْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھوڑوں کی چراگاہ نقیع کو بنایا ۔
حدیث نمبر: 5656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَادٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " سَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ ، وَأَعْطَى السَّابِقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ منعقد کروایا اور جیتنے والے کو انعام دیا ۔
حدیث نمبر: 5657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَادٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان ذرا سا وقفہ کر کے بیٹھ جاتے تھے ۔ “
حدیث نمبر: 5658
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً ، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک مقتول عورت کو دیکھا تو اس پر نکیر فرمائی اور عورتوں اور بچوں کو قتل کر نے سے روک دیا ۔
حدیث نمبر: 5659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْمَشْرِقَ يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ”جبکہ ان کا رخ مشرق کی جانب تھا“ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگاہ رہو، فتنہ یہاں سے ہو گا ، فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں شیطان کا سینگ نکلتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5660
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 5661
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُرَاهُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ مَثَّلَ بِذِي رُوحٍ ، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ ، مَثَّلَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی ذی روح کا مثلہ کرے اور توبہ نہ کرے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا بھی مثلہ کریں گے ۔ “
حدیث نمبر: 5662
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، " اتَّقُوا الظُّلْمَ ، فَإِنَّهُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اے لوگو ! ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 5663
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي الْعِيدَيْنِ : الْأَضْحَى وَالْفِطْرَ ، ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدَ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے موقع پر خطبہ سے پہلے نماز پڑھایا کرتے تھے پھر نماز کے بعد خطبہ دیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 5664
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ الْأَعْشَى ، عَنْ مُهَاجِرٍ الشَّامِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا ، أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص دنیا میں شہرت کا لباس پہنتا ہے، اللہ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا ۔ “
حدیث نمبر: 5665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاکت میں ڈالنے والا شخص اور ایک کذاب ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 5666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَسَمِعَ نِسَاءً مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَبْكِينَ عَلَى هَلْكَاهُنَّ ، فَقَالَ : " لَكِنْ حَمْزَةُ لَا بَوَاكِيَ لَهُ " ، فَجِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ عَلَى حَمْزَةَ عِنْدَهُ ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يَبْكِينَ ، فَقَالَ : " يَا وَيْحَهُنَّ ! أَنْتُنَّ هَاهُنَا تَبْكِينَ حَتَّى الْآنَ ؟ ! مُرُوهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے واپس ہوئے تو انصار کی عورتیں اپنے اپنے شہید ہونے والے شوہروں پر رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”حمزہ کے لئے کوئی رونے والی نہیں ہے“ ، چنانچہ کچھ انصاری عورتیں آ کر حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ لگ گئی، بیدار ہوئے تو وہ خواتین اسی طرح رو رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان پر افسوس ہے ، تم لوگ ابھی تک یہاں بیٹھ کر رو رہی ہو ، انہیں حکم دو کہ واپس چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں ۔
حدیث نمبر: 5667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي ، وَجُعِلَ الذُّلُّ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي ، وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مجھےقیامت کے قریب تلوار دے کر بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ کی ہی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں ، میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے، میرے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے بھرپور ذلت لکھ دی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ ان ہی میں شمار ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 5668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَرَّتْ بِنَا جِنَازَةٌ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَوْ قُمْتَ بِنَا مَعَهَا ، قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَقَبَضَ عَلَيْهَا قَبْضًا شَدِيدًا ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَقَابِرِ سَمِعَ رَنَّةً مِنْ خَلْفِهِ ، وَهُوَ قَابِضٌ عَلَى يَدِي ، فَاسْتَدَار بِي فَاسْتَقْبَلَهَا ، فَقَالَ لَهَا شَرًّا ، وَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے قریب سے ایک جنازہ گزرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : آؤ ، اس کے ساتھ چلیں، یہ کہہ کر انہوں نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا، جب ہم قبرستان کے قریب پہنچے تو پیچھے سے کسی کے رونے کی آواز آئی، اس وقت بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، وہ مجھے لے کر پیچھے کی جانب گھومے اور اس رونے والی کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے اور اسے سخت سست کہا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے کے ساتھ کسی رونے والی کو جانے سے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5669
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَكَانَ عُمَرُ يَأْمُرُنَا بِالْمُقَامِ عَلَيْهِمَا مِنْ حَيْثُ يَرَاهَُا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا مروہ پر کھڑے ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمیں صفا مروہ پر اس جگہ کھڑے ہونے کا حکم دیتے تھے جہاں سے خانہ کعبہ نظر آ سکے ۔
حدیث نمبر: 5670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ ، وَلَا خَمْسِ أَوَاقٍ ، وَلَا خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پانچ سے کم اونٹوں میں ، پانچ اوقیہ سے کم چاندی یا پانچ وسق میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ الثُّمَالِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَجْلَانِ الْمُحَارِبِيُّ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْكَافِرَ لَيَجُرُّ لِسَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَاءَهُ قَدْرَ فَرْسَخَيْنِ ، يَتَوَطَّؤُهُ النَّاسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن کافر اپنی زبان اپنے پیچھے دو فرسخ کی مسافت تک کھینچ رہا ہو گا اور لوگ اسے روند رہے ہوں گے ۔
حدیث نمبر: 5672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، عَنْ بَرَكَةَ بْنِ يَعْلَى التَّيْمِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُوَيْدٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ ، فَجَلَسْنَا بِبَابِهِ لِيُؤْذَنَ لَنَا ، قال : فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَى جُحْرٍ فِي الْبَابِ ، فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِيهِ ، فَفَطِنَ بِي ، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ اطَّلَعَ آنِفًا فِي دَارِي ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : بِأَيِّ شَيْءٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِي دَارِي ؟ ! قَالَ : قُلْتُ : أَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ ، فَنَظَرْتُ ، فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَلِكَ ، قَالَ : ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ " ، قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا تَقُولُ فِي الْجِهَادِ ؟ قَالَ : مَنْ جَاهَدَ ، فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوسوید عبدی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھر کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب اجازت ملنے میں دیر ہونے لگی تو میں نے ان کے گھرکے دروازے میں ایک سوراخ سے جھانکنا شروع کر دیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پتہ چل گیا، چنانچہ جب ہمیں اجازت ملی اور ہم اندر جا کر بیٹھ گئے ، تو انہوں نے فرمایا کہ ابھی ابھی تم میں سے کس نے گھر میں جھانک کر دیکھا تھا ؟ میں نے اقرار کیا ، انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے میرے گھر میں جھانکنا کیونکر حلال ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ جب ہمیں اجازت ملنے میں تاخیر ہوئی تب میں نے دیکھا تھا اور وہ بھی جان بوجھ کر نہیں ۔ اس کے بعد ساتھیوں نے ان سے کچھ سوالات کئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ دینا ، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا، میں نے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن ! جہاد کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا : جو شخص مجاہدہ کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَسْتَسْقِي ، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ " ، وَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ : وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِه ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر بیٹھ کر طلب باران کر رہے ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اترنے سے پہلے ہی سارے نالے بہنے لگتے، اس وقت جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ زیبا کو دیکھتا تو مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آتا۔ وہ سفید رنگت والا جس کی ذات کو واسطہ بنا کر بادلوں سے پانی برسنے کی دعاء کی جاتی ہے اور وہ شخص جو یتیموں کا فریاد رس اور بیواؤں کا محافظ ہے، یاد رہے کہ یہ ابو طالب کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہا گیا شعر ہے ۔
حدیث نمبر: 5674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ ، صَالِحُ الْحَدِيثِ ، ثِقَةٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا ، اللَّهُمَّ الْعَنِ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو ، اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ " ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 ، قَالَ : فَتِيبَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ بددعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! فلاں پر لعنت نازل فرما ، اے اللہ ! حارث بن ہشام ، سہیل بن عمرو اور صفوان بن امیہ پر اپنی لعنت نازل فرما ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ یہ ظالم ہیں، چنانچہ ان سب پر اللہ کی توجہ مبذول ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔
حدیث نمبر: 5675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَا جَالِسٌ ، فَسَأَلَهُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ ، فَقَالَ لَهُ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ : هَا ، انْظُرُوا إِلَى هَذَا ! يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا " ! ! .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی نعم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی آدمی نے میری موجودگی میں یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو مار دے تو کیا حکم ہے ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ اس نے کہا عراق کا، انہوں نے فرمایا : واہ ! اسے دیکھو ، یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا ، حالانکہ میں نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں ۔
حدیث نمبر: 5676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ نَزَعَ يَدَهُ مِنَ الطَّاعَةِ ، فَلَا حُجَّةَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے، قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص جماعت کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا ۔
حدیث نمبر: 5677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گی جب تک دو آدمی (متفق و متحد) رہیں گے ۔ “
حدیث نمبر: 5678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى فِي النَّاسِ : الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَهْلِهِ جَوَادًا ، فَأَلْقَى ثِيَابًا كَانَتْ عَلَيْهِ ، وَلَبِسَ ثِيَابًا كَانَ يَأْتِي فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمُصَلَّى ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ انْحَدَرَ مِنْ مِنْبَرِهِ ، وَقَامَ النَّاسُ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : مَا أَحْدَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ ؟ قَالُوا : " نَهَى عَنِ النَّبِيذِ ، قَالَ : أَيُّ النَّبِيذِ ؟ قَالَ : نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لِنَافِعٍ فَالْجَرَّةُ ؟ قَالَ : وَمَا الْجَرَّةُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : الْحَنْتَمَةُ ، قَالَ : وَمَا الْحَنْتَمَةُ ؟ قُلْتُ : الْقُلَّةُ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : فَالْمُزَفَّتُ ؟ قَالَ : وَمَا الْمُزَفَّتُ ؟ قُلْتُ : الزِّقُّ يُزَفَّتُ ، وَالرَّاقُودُ يُزَفَّتُ ، قَالَ : لَا ، لَمْ يَنْهَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں الصلوة جامعة کی منادی کروائی ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے گھر پہنچے ، جو کپڑے پہن رکھے تھے وہ اتارے کیونکہ وہ ان کپڑوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ جاتے تھے اور دوسرے کپڑے بدل کر مسجد کی طرف چل پڑے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر رہے تھے اور لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے پوچھا کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نیا حکم دیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ کی ممانعت کر دی ہے ، انہوں نے پوچھا : کون سی نبیذ ؟ لوگوں نے بتایا کدو اور لکڑی میں تیار کی جانے والی ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا جرہ کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا جرہ کیا چیز ہوتی ہے ؟ میں نے کہا حنتمہ ، انہوں نے پوچھا حنتمہ کیا چیز ہوتی ہے ؟ میں نے کہا مٹکا ، انہوں نے فرمایا : اس کی ممانعت نہیں فرمائی ، میں نے پوچھا مزفت کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے پوچھا مزفت کیا چیز ہوتی ہے ؟ میں نے بتایا کہ ایک مشکیزہ ہوتا ہے جس پر لک مل دی جاتی ہے، انہوں نے فرمایا : اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کدو اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا تھا ۔
حدیث نمبر: 5679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا هَؤُلَاءِ ، " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَأَنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتَكَ ، قَالَ : " فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي وَإِنَّ مِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ ، أَطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ ، فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن وہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا : ”اے لوگو ! کیا تم نہیں جانتے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہوں ؟“ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس نوعیت کا حکم نازل فرمایا ہے کہ جو میری اطاعت کرے گا گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی ؟“ لوگوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جو شخص آپ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے، آپ کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پھر یہ بھی اللہ کی اطاعت کا حصہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور یہ میری اطاعت کا حصہ ہے کہ تم اپنے ائمہ کی اطاعت کرو، اپنے ائمہ کی اطاعت کیا کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ “
حدیث نمبر: 5680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْمَسْأَلَةُ كُدُوحٌ فِي وَجْهِ صَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَمَنْ شاء فَلْيَسْتَبْقِ عَلَى وَجْهِهِ ، وَأَهْوَنُ الْمَسْأَلَةِ مَسْأَلَةُ ذِي الرَّحِمِ ، تَسْأَلُهُ فِي حَاجَةٍ ، وَخَيْرُ الْمَسْأَلَةِ الْمَسْأَلَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مانگنے والے کے چہرے پر قیامت کے دن خراشیں ہوں گی اس لئے جو چاہے اپنے چہرے کو بچا لے، سب سے ہلکا سوال قریبی رشتہ دار سے سوال کرنا ہے جو اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے کوئی شخص کرے اور بہترین سوال وہ ہے جو دل کے استغناء کے ساتھ ہو اور تم دینے میں ابتداء ان لوگوں سے کرو جن کے تم ذمہ دار ہو ۔ “
حدیث نمبر: 5681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَنْ يَزَالَ الْمَرْءُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”انسان اس وقت دین کے اعتبار سے کشادگی میں رہتا ہے جب تک ناحق قتل کا ارتکاب نہ کرے ۔ “
حدیث نمبر: 5682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَغُلَامٌ مِنْ بَنِيهِ رَابِطٌ دَجَاجَةً يَرْمِيهَا ، فَمَشَى إِلَى الدَّجَاجَةِ فَحَلَّهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا وَبِالْغُلَامِ ، وَقَالَ لِيَحْيَى : ازْجُرُوا غُلَامَكُمْ هَذَا مِنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ عَلَى الْقَتْلِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهْمَةٌ أَوْ غَيْرُهَا لِقَتْلٍ ، وَإِنْ أَرَدْتُمْ ذَبْحَهَا فَاذْبَحُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یحییٰ بن سعید کے یہاں تشریف لے گئے، اس وقت یحییٰ کا کوئی لڑکا ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہا تھا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مرغی کے پاس پہنچ کر اسے کھول دیا اور مرغی کے ساتھ اس لڑکے کو بھی لے آئے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے اس لڑکے کو کسی بھی پرندے کو اس طرح باندھ کر نشانہ بازی کرنے سے روکو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چوپائے یا جانور کو باندھ کر نشانہ بازی کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، اگر تم اسے ذبح کرنا ہی چاہتے ہو تو صحیح طرح ذبح کرو ۔
حدیث نمبر: 5683
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّا " نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : ابْنَ أَخِي ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
امیہ بن عبداللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ قرآن کریم میں ہمیں نماز خوف اور حضر کی نماز کا تذکرہ تو ملتا ہے، لیکن سفر کی نماز کا تذکرہ نہیں ملتا (اس کے باوجود سفر میں نماز قصر کی جاتی ہے ؟ ) انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے ! اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت مبعوث فرمایا ، ہم کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو وہ ہی کریں گے جیسے ہم نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
…