حدیث نمبر: 5604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) ارشاد فرمایا : ” میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔“
حدیث نمبر: 5605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ نَهْشَلِ بْنِ مُجَمِّعٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا اسْتُوْدِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ " ، وقَالَ مَرَّةً : نَهْشَلٌ ، عَنْ قَزَعَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي غَالِبٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لقمان حکیم کہا کرتے تھے جب کوئی چیز اللہ کی حفاظت میں دے دی جائے تو وہ خود ہی اس کی حفاظت کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 5606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي نَهْشَلُ بْنُ مُجَمِّعٍ الضَّبِّيُّ ، قَالَ وَكَانَ مَرْضِيًّا : عَنْ قَزَعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَخبرنا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ إِذَا اسْتُوْدِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لقمان حکیم کہا کرتے تھے جب کوئی چیز اللہ کی حفاظت میں دے دی جائے تو وہ خود ہی اس کی حفاظت کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 5607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاکت میں ڈالنے والا شخص اور ایک کذاب ہو گا۔“
حدیث نمبر: 5608
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة الزمر آية 67 ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ عز وجل : " أَنَا الْجَبَّارُ ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ ، أَنَا الْمَلِكُ ، أَنَا الْمُتَعَالِي ، يُمَجِّدُ نَفْسَهُ " ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَدِّدُهَا ، حَتَّى رَجَفَ بِهِ الْمِنْبَرُ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيَخِرُّ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر یہ آیت تلاوت فرمائی : «وما قدرو الله حق قدره والارض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه سبحانه وتعالي عمايشركون» اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے کہ پروردگار اپنی بزرگی خود بیان کرے گا اور کہے گا کہ میں ہوں جبار، میں ہوں متکبر، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں غالب، یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کانپنے لگے یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے ہی نہ گر جائیں۔
حدیث نمبر: 5609
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ كَأَنَّ الْأَذَانَ فِي أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتیں اس وقت پڑھتے، جب اذان کی آواز کانوں میں آ رہی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 5610
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَزْدَوَيْهِ ، عَنْ يَعْفُرَ بْنِ رُوذِيٍّ ، قال : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ وَهُوَ يَقُصُّ : يَقُولُ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الرَّابِضَةِ بَيْنَ الغَنَمَيْنَ " ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَيْلَكُمْ ، لَا تَكْذِبُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
یعفربن روزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ وعظ کہہ رہے تھے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو۔ “ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ افسوس تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت نہ کیا کرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر «ربيضين» کی بجائے «غنمين» کا لفظ استعمال کیا تھا۔
حدیث نمبر: 5611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً ، فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ، ثُمَّ رَقَدْنَا ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ، ثُمَّ رَقَدْنَا ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اللَّيْلَةَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کسی کام میں مصروف رہے اور نماز کو اتنا مؤخر کر دیا کہ ہم لوگ مسجد میں تین مرتبہ سو کر جاگے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اس وقت روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی شخص نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔
حدیث نمبر: 5612
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس سے محبت کرنے والوں سے صلہ رحمی کرے۔“
حدیث نمبر: 5613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَذِنَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ ، فَأَذِنَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت سر انجام دینے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منٰی کے ایام میں مکہ مکرمہ میں ہی رہنے کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
حدیث نمبر: 5614
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر منڈوایا تھا۔
حدیث نمبر: 5615
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعَرِهِ ، وَتُرِكَ بَعْضُهُ ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " احْلِقُوا كُلَّهُ ، أَوْ اتْرُكُوا كُلَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بچے کو دیکھا جس کے کچھ بال کٹے ہوئے تھے اور کچھ چھوٹے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا : ” یا تو سارے سر کے بال کٹواؤ یا سب چھوڑ دو۔“
حدیث نمبر: 5616
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص مانگنا اپنی عادت بنا لیتا ہے وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کیا ایک بوٹی تک نہ ہو گی۔“
حدیث نمبر: 5617
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ ، قَالَ : " أَرَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ ، فإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ ، فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبْقَى الْيَوْمَ مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ " يُرِيدُ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک مرتبہ عشاء کی نماز پڑھائی، جب سلام پھیر چکے تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ آج کی رات کو یاد رکھنا کیونکہ اس کے پورے سو سال بعد روئے زمین پر جو آج موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی باقی نہ بچے گا ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات میں بہت سے لوگوں کو التباس ہو گیا ہے اور وہ ”سو سال“ سے متعلق مختلف قسم کی باتیں کرنے لگے ہیں، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ روئے زمین پر آج جو لوگ موجود ہیں، اور مراد یہ تھی کہ یہ نسل ختم ہو جائے گی (یہ مطلب نہیں تھا کہ آج سے سو سال بعد قیامت آ جائے گی)۔
حدیث نمبر: 5618
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَى اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت دی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت میں مصروف رہتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو۔
حدیث نمبر: 5619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجِدُونَ النَّاسَ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگوں کی مثال اس سو اونٹوں کی سی پاؤ گے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 5620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ ثَوْبًا أَبْيَضَ ، فَقَالَ : " أَجَدِيدٌ ثَوْبُكَ أَمْ غَسِيلٌ ؟ " فَقَالَ : فَلَا أَدْرِي مَا رَدَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَسْ جَدِيدًا ، وَعِشْ حَمِيدًا ، وَمُتْ شَهِيدًا " ، أَظُنُّهُ قَالَ : " وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سفید لباس زیب تن کئے ہوئے دیکھا, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کپڑے نئے ہیں یا دھلے ہوئے ہیں؟ مجھے یاد نہیں رہا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دیا، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نئے کپڑے پہنو، قابل تعریف زندگی گزارو، اور شہیدوں والی موت پاؤ اور غالباً یہ بھی فرمایا کہ اللہ تمہیں دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطاء فرمائے۔“
حدیث نمبر: 5621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مَسْحَ الرُّكْنِ الْيَمَانِي ، وَالرُّكْنِ الْأَسْوَدِ يَحُطُّ الْخَطَايَا حَطًّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرنا گناہوں کو بالکل مٹا دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 5622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ ، وَلَا يَسْتَلِمُ الْآخَرَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (حجراسود کے علاوہ) صرف رکن یمانی کا استلام کرتے تھے، باقی دو کونوں کا استلام نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَلَقَ فِي حَجَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے سر کا حلق کروایا تھا۔
حدیث نمبر: 5624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ يَنْزِلُونَ بِالْأَبْطَحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ ”ابطح“ نامی جگہ میں پڑاؤ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُقِمْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَيَجْلِسَ فِي مَجْلِسِهِ " ، قَالَ سَالِمٌ : فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ لِابْنِ عُمَرَ مِنْ مَجْلِسِهِ ، فَمَا يَجْلِسُ فِي مَجْلِسِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ نہ بیٹھے“ ، سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے اگر کوئی آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لئے اپنی جگہ خالی کرتا تھا تو وہ وہاں نہیں بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " إِذَا بَلَغَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، آمَنَهُ اللَّهُ مِنْ أَنْوَاعِ الْبَلَايَا : مِنَ الْجُنُونِ ، وَالْبَرَصِ ، وَالْجُذَامِ ، وَإِذَا بَلَغَ الْخَمْسِينَ ، لَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ حِسَابَهُ ، وَإِذَا بَلَغَ السِّتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ إِنَابَةً يُحِبُّهُ عَلَيْهَا ، وَإِذَا بَلَغَ السَّبْعِينَ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، وَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ ، تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنْهُ حَسَنَاتِهِ ، وَمَحَا عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ ، وَإِذَا بَلَغَ التِّسْعِينَ ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، وَشُفِّعَ فِي أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ جب کوئی مسلمان چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مختلف قسم کی بیماریوں مثلاً جنون، برص اور جذام سے محفوظ کر دیتا ہے، جب پچاس سال کی عمر کا ہو جائے تو اللہ اس کے حساب میں نرمی کر دیتا ہے جب ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اسے اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق دے دیتا ہے، اور اس کی بناء پر اس سے محبت کرنے لگتا ہے جب ستر سال کی عمر ہو جائے تو اللہ اور آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں جب اسی سال کی عمر ہو جائے تو اللہ اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اسے «اسير الله فى الارض» کا خطاب دیا جاتا ہے اور اس کے اہل خانہ کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 5627
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : آشْتَرِي الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ ، أَوْ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ ؟ قَالَ : " إِذَا اشْتَرَيْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا بِالْآخَرِ ، فَلَا يُفَارِقْكَ صَاحِبُكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں سونے کو چاندی کے بدلے یا چاندی کو سونے کے بدلے خرید سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کے بدلے وصول کرو تو اس وقت تک اپنے ساتھی سے جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان بیع کا کوئی معاملہ باقی ہو۔“
حدیث نمبر: 5629
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ قَامَ ابْنُ الْخَطَّابِ ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَمَا رَأَيْتُ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ خواب میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، فرمایا : ”میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ڈول کھینچے اور وہ ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا، میں نے کسی عبقری انسان کو ان کی طرح ڈول بھرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کر دیا۔“
حدیث نمبر: 5630
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَ أُسَامَةَ ، بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَيَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ ، فَقَامَ ، كَمَا حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ تَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَتَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ ، وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فِي أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ ، وَإِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ ، وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ كُلِّهِمْ إِلَيَّ ، وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا بَعْدَهُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ ، فَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا ، فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا، لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہو، حالانکہ ، اللہ کی قسم ! وہ امارت کا حقدار تھا اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، لہٰذا اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کی وصیت قبول کرو، کیونکہ یہ تمہارا بہترین ساتھی ہے۔“
حدیث نمبر: 5631
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ ، وَقَالَ : إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ ، وَلَا آكُلُ مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے نشیبی علاقے میں نزول وحی کا زمانہ شروع ہونے سے قبل، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زید بن عمرو بن نفیل سے ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے دسترخوان بچھایا اور گوشت لاکر سامنے رکھا، انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا، جنہیں تم لوگ اپنے بتوں کے نام پر قربان کرتے ہو اور میں وہ چیزیں بھی نہیں کھاتا، جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 5632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " أُتِيَ وَهُوَ فِي الْمُعَرَّسِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ میں ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ آپ مبارک بطحاء میں ہیں۔
حدیث نمبر: 5633
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كان شَيْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ شَعَرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں گنتی کے بیس بال سفید تھے۔
حدیث نمبر: 5634
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّى الْعَصْرَ أَرْبَعًا ، وَلَيْسَ بَعْدَهَا شَيْءٌ ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ أَرْبَعًا ، وَصَلَّى فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَلَيْسَ بَعْدَهَا شَيْءٌ ، وَالْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر و حضر میں نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں ظہر کی چار رکعتیں اور اس کم بعد دو سنتیں پڑھتے تھے، عصر کی چار رکعتیں اور اس کے بعد کچھ نہیں، مغرب کی تین رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں، اور عشاء کی چار رکعتیں پڑھتے تھے جبکہ سفر میں ظہر کی دو رکعتیں اور اس کے بعد بھی دو رکعتیں، عصر کی دو رکعتیں اور اس کے بعد کچھ نہیں، مغرب کی تین اور اس کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کی دو اور اس کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي خَادِمًا يُسِيءُ وَيَظْلِمُ ، أَفَأَضْرِبُهُ ؟ قَالَ : " تَعْفُو عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ ! میرا ایک خادم ہے جو میرے ساتھ برا اور زیادتی کرتا ہے، کیا میں اسے مار سکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے روزانہ ستر مرتبہ درگزر کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 5636
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ يَعْنِي عَبْدَ الْجَبَّارِ الْأَيْلِيَّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي سُمَيَّةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَأَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَرَى الْمَرْأَةُ فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَتْ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ وَأَنْزَلَتْ ، فَلْتَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اگر عورت بھی خواب میں اس کیفیت سے دوچار ہو جس سے مرد ہوتا ہے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عورت خواب میں پانی دیکھے اور انزال بھی ہو جائے تو وہ بھی غسل کرے گی۔“
حدیث نمبر: 5637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْنَهُ عَنِ الذَّيْلِ ، فَقَالَ : " اجْعَلْنَهُ شِبْرًا " ، فَقُلْنَ : إِنَّ شِبْرًا لَا يَسْتُرُ مِنْ عَوْرَةٍ ، فَقَالَ : " اجْعَلْنَهُ ذِرَاعًا " ، فَكَانَتْ إِحْدَاهُنَّ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَتَّخِذَ دِرْعًا أَرْخَتْ ذِرَاعًا ، فَجَعَلَتْهُ ذَيْلًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دامن لٹکانے کے متعلق پوچھا ، تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بالشت کے برابر دامن کی اجازت عطاء فرمائی، انہوں نے کہا کہ ایک بالشت سے ستر پوشی نہیں ہوتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایک گز کر لو، چنانچہ جب ان میں سے کوئی خاتون قمیض بنانا چاہتی تو اسے ایک گز لٹکا کر اس کا دامن بنا لیتی تھیں۔“
حدیث نمبر: 5638
(حديث موقوف) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، " أَنَّ شَاعِرًا قَالَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ : وَبِلَالُ عَبْدُ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالِ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : كَذَبْتَ ، ذَاكَ بِلَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شاعر نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں ان کے صاحبزادے بلال کی تعریف میں یہ شعر کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بلال ہر بلال سے بہتر ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : تم غلط کہتے ہو یہ شان صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال کی تھی۔
حدیث نمبر: 5639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّأْمِ يُكَاتِبُهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَرَّةً عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل شام میں سے ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا دوست تھا جو ان سے خط و کتابت بھی کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خط لکھا کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ تم تقدیر کے بارے میں اپنی زبان کھولتے ہو، آئندہ مجھے خط نہ لکھنا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو تقدیر کی تکذیب کرتے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 5640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ " ، فَقَالَ بِلَالٌ : وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ ! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَقُولُ : لَنَمْنَعُهُنَّ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب خواتین تم سے مسجدوں میں جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں مساجد کے حصے سے مت روکا کرو “ ، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیٹا بلال کہنے لگا کہ ہم تو انہیں روکیں گے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے ؟
حدیث نمبر: 5641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّارُ عَدُوٌّ ، فَاحْذَرُوهَا " ، قَالَ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَتَتَبَّعُ نِيرَانَ أَهْلِهِ ، فَيُطْفِئُهَا قَبْلَ أَنْ يَبِيتَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”آگ دشمن ہے اس لئے اس سے بچو، یہی وجہ ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رات کو سونے سے پہلے اپنے گھر میں جہاں بھی آگ جل رہی ہوتی اسے بجھا کر سوتے تھے ۔ “
حدیث نمبر: 5642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا ، ويَمَنِنَا " مَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَفِي مَشْرِقِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ هُنَالِكَ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ وَبَهَا تِسْعَةُ أَعْشَارِ الشَّرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! ہمارے شام اور یمن میں برکتیں عطاء فرما، ایک آدمی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمارے مشرق کے لئے بھی دعاء فرمائیے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہاں سے تو شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے اور دس میں سے نو فیصد شر وہیں سے ہوتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ : الْخَمِيسَ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ ، وَالِاثْنَيْنِ الَّذِي يَلِيهِ ، وَالِاثْنَيْنِ الَّذِي يَلِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے ، مہینے کی پہلی جمعرات کو، اگلے ہفتے میں پیر کے دن اور اس سے اگلے ہفتے میں بھی پیر کے دن ۔
…