حدیث نمبر: 4528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ : اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْر ، كَيْلًا ، وَالْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ کی ممانعت فرمائی ہے بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے کٹی ہوئی کھجور کو یا انگور کو کشمش کے بدلے ایک معین اندازے سے بیچنا ۔
حدیث نمبر: 4529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد و عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی ۔
حدیث نمبر: 4530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَوْتَرَ عَلَى الْبَعِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر وتر پڑھے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ تَلَقِّي السِّلَعِ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا الْأَسْوَاقُ ، وَنَهَى عَنِ النَّجْشِ ، وَقَالَ : لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) " وَكَانَ إِذَا عَجَّلَ بِهِ السَّيْرُ ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار میں پہنچنے سے پہلے تاجروں سے ملنے اور دھوکہ کی بیع سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر کی جلدی ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کے درمیان جمع صوری فرما لیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ نَخْل بَنِي النَّضِير وَحَرَّقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے درخت کٹوا کر انہیں آگ لگا دی ۔
حدیث نمبر: 4533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منٰی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔
حدیث نمبر: 4534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ " يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَيُسْنِدُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ کہتے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " سَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ ، فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، وَعَدَلَ رَاحِلَتَهُ عَنِ الطَّرِيقِ ، يَقُولُ : يَا نَافِعُ ، أَتَسْمَعُ ؟ فَأَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَمْضِي ، حَتَّى قُلْتُ : لَا ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ ، وَأَعَادَ رَاحِلَتَهُ إِلَى الطَّرِيقِ ، وَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ ، فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما راستے میں جا رہے تھے کہ ان کے کانوں میں کسی چرواہے کے گانے اور ساز کی آواز آئی انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور وہ راستہ ہی چھوڑ دیا اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد مجھ سے پوچھتے رہے کہ نافع ! کیا اب بھی آواز آ رہی ہے میں اگر ”ہاں“ میں جواب دیتا تو وہ چلتے رہتے یہاں تک کہ جب میں نے نہیں کہہ دیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ کانوں سے ہٹا لئے اور اپنی سواری کو پھر راستے پر ڈال دیا اور کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چرواہے کے گانے اور ساز کی آواز سنتے ہوئے اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔
حدیث نمبر: 4536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَن َّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، أَوْ بِحَضْرَمَوْتَ ، فَتَسُوقُ النَّاسَ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حضرموت جو کہ شام کا ایک علاقہ ہے سے ایک آگ نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر آپ اس وقت کے لئے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : ” ملک شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا (وہاں چلے جانا) ۔“
حدیث نمبر: 4537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ ، وَإِذَا شَرِبَ ، فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہئے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 4538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : مَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ : " لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ ، وَلَا الْبُرْنُسَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَ ، وَلَا الْعِمَامَةَ ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ ، وَلَا الزَّعْفَرَانُ ، وَلَا الْخُفَّيْنِ ، إِلَّا لِمَنْ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! ! محرم کون سا لباس پہن سکتا ہے ؟ یا یہ پوچھا کہ محرم کون سا لباس ترک کر دے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قمیض شلوار عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا ۔ “
حدیث نمبر: 4539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْر وَعُمَرَ " يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 4540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ " ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، وَأَكْثَرُ مَا كَانَ يَقُولُ : وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 4541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ " ، قَالَ سُفْيَانُ : كَذَا حَفِظْنَا الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، وَأَخْبَرَهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کٹی ہوئی کھجور کے بدلے درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو ایک معین اندازے سے بیچنے کی ممانعت فرمائی ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازے کے ساتھ بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 4542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے میں جلدی ہوتی تو وہ مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 4543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ ؟ قَالَ : " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ : الْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا کہ محرم کون سے جانور کو قتل کر سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے کو مار سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ : الْفَرَسِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالدَّارِ " ، قَالَ سُفْيَانُ : إِنَّمَا نَحْفَظُهُ عَنْ سَالِمٍ ، يَعْنِي : " الشُّوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نحوست تین چیزوں میں ہو سکتی تھی، گھوڑے میں عورت میں اور گھر میں۔“
حدیث نمبر: 4545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 4546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رِوَايَةً ، وَقَالَ مَرَّةً يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑا کرو۔“
حدیث نمبر: 4547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، رَأَى رَجُلٌ أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ أَوْ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْبَوَاقِي ، فِي الْوِتْرِ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے خواب دیکھا کہ شب قدر ماہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں پر آ کر ایک دوسرے کے موافق ہو جاتے ہیں اس لئے تم میں سے جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں اسے تلاش کرے۔“
حدیث نمبر: 4548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ سَالِمًا ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَأَبِي وَأَبِي ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " ، قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ ، فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھانا چاہئے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے جان بوجھ کر یا نقل کرتے ہوئے بھی ایسی قسم نہیں کھائی۔
حدیث نمبر: 4549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔“
حدیث نمبر: 4550
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَهُوَ يُنْفِقُهُ فِي الْحَقِّ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت دی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت میں مصروف رہتاہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو۔
حدیث نمبر: 4551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو ۔ “
حدیث نمبر: 4552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا مُؤَبَّرًا ، فَالثَّمَرَةُ لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی ایسے درخت کو فروخت کرے جس میں کھجوروں کی پیوندکاری کی گئی ہو تو اس کا پھل بائع (بچنے والا) کی ملیکت میں ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگا دے ۔“
حدیث نمبر: 4553
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ ، فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے ۔ “
حدیث نمبر: 4554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّه سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ ، فَقَالَ : " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حیاء کے متعلق نصیحت کرتے ہوئے سنا (کہ اتنی بھی حیاء نہ کیا کرو)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حیاء تو ایمان کا حصہ ہے ۔ “
حدیث نمبر: 4555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ ، وَقَالَ مَرَّةً : " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَأَهْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ ، وَأَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ، قَالَ : وَذُكِرَ لِي وَلَمْ أَسْمَعْهُ : وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے گو کہ میں نے خود نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں گے ۔
حدیث نمبر: 4556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمْ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَلَا يَمْنَعْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے اجازت دینے سے انکار نہ کرے ۔ “
حدیث نمبر: 4557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا ، فَرَآهُ أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً ، فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سانپ کو مار دیا کرو خاص طور پر دو دھاری اور دم کٹے سانپوں کو کیونکہ یہ دونوں انسان کی بینائی زائل ہونے اور حمل ساقط ہو جانے کا سبب بنتے ہیں۔ “ ، اس لئے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جو بھی سانپ ملتا وہ اسے مار دیتے تھے ایک مرتبہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ یا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک سانپ کو دھتکارتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا کہ گھروں میں آنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4558
(حديث مرفوع) قَرَأَ عَلَيَّ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت نہ کھائے (بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا)“
حدیث نمبر: 4559
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َسُئِلَ كَيْفَ يُصَلَّى بِاللَّيْلِ ؟ قَالَ : " لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ ، فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! ! رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے ؟ فرمایا : ” تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو ۔ “
حدیث نمبر: 4560
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء کو بیچنے یا ہبہ کر نے کی ممانعت فرمائی ہے ۔
حدیث نمبر: 4561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو اگر تمہیں رونا نہ آتا ہو تو وہاں نہ جایا کرو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آ پکڑے جو ان پر آیا تھا ۔ “
حدیث نمبر: 4562
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 4563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكَ الْيَهُودِيُّ ، فَإِنَّمَا يَقُولُ : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقُلْ : وَعَلَيْكَ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ الْيَهُودُ فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ ، فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرتا ہے تو وہ «السام عليك» کہتا ہے ، اس لئے اس کے جواب میں تم صرف «وعليك» کہہ دیا کرو۔ “ اور ایک روایت میں ہے کہ جب یہودی تمہیں سلام کریں تو تم وعلیکم کہہ دیا کرو کیونکہ وہ «السام عليكم» کہتے ہیں (تم پر موت طاری ہو) ۔
حدیث نمبر: 4564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ " ، وَقَالَ مَرَّةً : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَنَاجَى الرَّجُلَانِ دُونَ الثَّالِثِ ، إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 4565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، ثُمَّ يَقُولُ : " فِيمَا اسْتَطَعْتَ " ، وَقَالَ مَرَّةً : فَيُلَقِّنُ أَحَدَنَا : " فِيمَا اسْتَطَعْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات سننے اور اطاعت کر نے کی شرط پر بیعت لیا کرتے تھے پھر فرماتے تھے کہ حسب استطاعت (جہاں تک ممکن ہو گا تم بات سنو گے اور مانو گے)۔
حدیث نمبر: 4566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب کہ وہ جدا نہ ہو جائیں یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو ۔
حدیث نمبر: 4567
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ابْنَ ابْنِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَاقِدٍ : يَا بُنَيَّ ، سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ خُيَلَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا ۔
…