حدیث نمبر: 5564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ أَوْ ابْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَتُبْ عَلَيَّ ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ " ، حَتَّى عَدَّ الْعَادُّ بِيَدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ جملہ «اللّهُمَّ اغفِرليِ وَتُب عَلَيَّ اِنَّكَ اَنتَ التَوَّابُ الغَفُورٌ» دہرانے لگے حتٰی کہ گننے والے نے اسے اپنے ہاتھ پر سو مرتبہ شمار کیا۔
حدیث نمبر: 5565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ : أَرَأَيْتَ حَدِيثَ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَقَدْ قَاعَدْتُ ابْنَ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ سَنَتَيْنِ ، أَوْ سَنَةٍ وَنِصْفٍ ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا ! قَالَ : كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سَعْدٌ ، فَذَهَبُوا يَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمٍ ، فَنَادَتْهُمْ امْرَأَةٌ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ ، فَأَمْسَكُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوا أَوْ اطْعَمُوا ، فَإِنَّهُ حَلَالٌ أوَ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، تَوْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِيهِ ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي " .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ڈیڑھ دو سال کے قریب آتا جاتا رہا ہوں لیکن اس دوران میں نے اس کے علاوہ کوئی اور حدیث نہیں سنی ( اور حسن کو دیکھ کر وہ کتنی حدیثیں بیان کرتے ہیں) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ " جن میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بھی تھے " دسترخوان پر موجود گوشت کھانے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے پکار کر کہا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے یہ سنتے ہی صحابہ رضی اللہ عنہ رک گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے کھالو یہ حلال ہے اور اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ میرے کھانے کی چیز نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 5566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، سَمِعْتُ حَكِيمًا الْحَذَّاءَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ " سُئِلَ عَنْ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : رَكْعَتَيْنِ ، سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حکیم حذاء کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سفر کی نماز کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ سفر میں نماز کی دو رکعتیں ہیں یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث نمبر: 5567
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْخَصِيبِ ، قَالَ : " كُنْتُ قَاعِدًا ، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ لَهُ ، فَلَمْ يَجْلِسْ فِيهِ ، وَقَعَدَ فِي مَكَانٍ آخَرَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مَا كَانَ عَلَيْكَ لَوْ قَعَدْتَ ؟ فَقَالَ : لَمْ أَكُنْ أَقْعُدُ فِي مَقْعَدِكَ وَلَا مَقْعَدِ غَيْرِكَ ، بَعْدَ شَيْءٍ شَهِدْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ ، فَذَهَبَ لِيَجْلِسَ فِيهِ ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالخصیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما آگئے، ایک آدمی اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑا ہو گیا لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں نہیں بیٹھے بلکہ دوسری جگہ جا کر بیٹھ گئے، اس آدمی نے کہا کہ اگر آپ وہاں بیٹھ جاتے تو کوئی حرج تو نہیں تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ” میں تمہاری یا کسی اور کی جگہ پر نہیں بیٹھ سکتا کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک آدمی آیا، دوسرے شخص نے اٹھ کر اپنی جگہ اس کے لئے خالی کر دی اور وہ آنے والا اس کی جگہ پر بیٹھنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 5568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسِبُهُ سَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الذُّبَابَ ؟ ! ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! ! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عراق کے کسی آدمی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو ماردے تو کیا حکم ہے ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ ”یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں“۔
حدیث نمبر: 5569
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمُؤَذِّنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّمَا " كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ حَجَّاجٌ : يَعْنِي : مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً ، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ : قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ ، قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ ، وَكُنَّا إِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ تَوَضَّأْنَا ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : لَا أَحْفَظُ غَيْرَ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور با سعادت میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہے جاتے البتہ «قد قامت الصلوة» دومرتبہ ہی کہا جاتا تھا اور ہم جب اقامت سنتے تو وضو کرتے اور نماز کے لئے نکل کھڑے ہوتے۔
حدیث نمبر: 5570
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُؤَذِّنَ الْعُرْبَانِ فِي مَسْجِدِ بَنِي هِلَالٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى ، مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ ، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، فَتَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، دوسرا شخص اس عورت سے نکاح کر لے، لیکن دخول سے قبل ہی وہ اسے طلاق دے دے تو کیا وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی ؟ فرمایا نہیں، جب تک کہ وہ دوسرا شوہر اس کا شہد نہ چکھ لے۔
حدیث نمبر: 5572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَقَالَ : " انْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے دباء اور مزفت سے منع کیا ہے اور فرمایا : ” ہے کہ مشکیزوں میں نبیذ بنا لیا کرو"۔
حدیث نمبر: 5573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، ثُمَّ صَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الَّذِي يَخْرُجُ إِلَيْهِ ، فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : هُوَ سُنَّةٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے، طواف کے ساتھ چکر لگائے، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں پھر اس دروازے سے صفا کی طرف نکلے جو صفا کی طرف نکلتا ہے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی، پھر فرمایا کہ یہ سنت ہے ۔
حدیث نمبر: 5574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَكَادُ أن يَلْعَنُ الْبَيْدَاءَ ، وَيَقُولُ : " أَحْرَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام بیداء کے متعلق فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور کر رکھا ہے) ۔
حدیث نمبر: 5575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنْ يَكُ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ ، فَفِي الْمَرْأَةِ ، وَالْفَرَسِ ، وَالدَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر کسی چیز میں نحوست ہوسکتی تو تین چیزوں میں ہوسکتی تھی گھوڑے میں عورت میں اور گھر میں ۔“
حدیث نمبر: 5576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ ، أَوْ بَرِّدُوهَا بِالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بخار جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے پانی سے بجھایا کرو ۔“
حدیث نمبر: 5577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنْهُ سَمِعَ أَبَاهُ مُحَمَّدًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " ، أَوْ قَالَ : " خَشِيتُ أَنْ يُوَرِّثَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پڑوسی کے متعلق مجھے جبرئیل نے اتنے تسلسل سے وصیت کی ہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ اسے وارث بنادیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 5578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " وَيْحَكُمْ " ، أَوْ قَالَ : " وَيْلَكُمْ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا ، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا : ”میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔“
حدیث نمبر: 5579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ مُحَمَّدًا يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْخَمْسَ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے ہر چیز کی کنجیاں دے دی گئی ہیں سوائے پانچ چیزوں کے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ "قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا؟ بےشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔“
حدیث نمبر: 5580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ مَرَّ بِرَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ مَطِيَّتَهُ ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَنْحَرَهَا ، فَقَالَ : قِيَامًا مُقَيَّدَةً ، سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ (میں میدان منیٰ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا)، راستے میں ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جس نے اپنی اونٹنی کو گھٹنوں کے بل بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنا چاہتا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : ” اسے کھڑا کر کے اس کے پاوں باندھ لو اور پھر اسے ذبح کرو، یہ نبی صلی اللہ علیہ کی سنت ہے۔“
حدیث نمبر: 5581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ عَلِمَ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ ، مَا سَرَى رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہاسفر نہ کرے ۔“
حدیث نمبر: 5582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَارِقٍ أَبُو قُرَّةَ الزَّبِيدِيُّ ، مِنْ أَهْلِ زَبِيدٍ ، مِنْ أَهْلِ الْحُصَيْبِ بِالْيَمَنِ قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : وَكَانَ قَاضًّيا لَهُمْ ، عَنْ مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَّعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے درخت کٹوا کر انہیں آگ لگا دی۔
حدیث نمبر: 5583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يَجْعَلُ فَصَّ خَاتَمِهِ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 5584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى غُفْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسٌ ، ومَجُوسُ أُمَّتِي الَّذِينَ يَقُولُونَ : لَا قَدَرَ ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر امت کے مجوسی ہوئے ہیں اور میری امت کے مجوسی قدریہ (منکر ین تقدیر) ہیں اگر یہ بیمار ہوں تو تم ان کی عیادت کو نہ جاؤ اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 5585
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہاہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے، اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑے کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ہم نشین (شیطان) ہے۔“
حدیث نمبر: 5586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ مَاتَ ، فَأَرَادُوا أَنْ يُخْرِجُوهُ مِنَ اللَّيْلِ لِكَثْرَةِ الزِّحَامِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنْ أَخَّرْتُمُوهُ إِلَى أَنْ تُصْبِحُوا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بِقَرْنِ شَيْطَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حفص بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ جب عبدالرحمن بن زید بن خطاب کا انتقال ہوا تو لوگوں نے رات ہی کو انہیں تدفین کے لئے لے جانا چاہا کیونکہ رش بہت زیادہ ہو گیا تھا, سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ اگر صبح ہونے تک رک جاؤ تو اچھا ہے کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سورج شیطان کے سینگ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5587
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَنْزِلهِ ، فَمَرَرْنَا بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، نَصَبُوا طَيْرًا يَرْمُونَهُ ، وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ مَنْ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے گھر سے نکلا، ہمارا گزر قریش کے کچھ نوجوانوں پر ہوا جنہوں نے ایک پرندہ کو باندھ رکھا تھا اور اس پر اپنا نشانہ درست کر رہے تھے اور پرندے کے مالک سے کہہ رکھا تھا کہ جو تیر چوک جائے وہ تمھارا ہوگا، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے یہ کون کر رہا ہے؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہو گئے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندارچیز کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرے ۔
حدیث نمبر: 5588
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُضَمِّرُ الْخَيْلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دور کا مقابلہ کروایا۔
حدیث نمبر: 5589
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، قَالَتْ : إِنَّهَا حَائِضٌ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي كَفِّكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ”مجھے مسجد سے چٹائی پکڑانا“ ، وہ کہنے لگیں کہ وہ ایام سے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 5590
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يُصَلِّي فِي السَّفَرِ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ " ، قال : وكان ابن عمر لا يصلي في إلا ركعتين ، غير أنه كان يتجهد من الليل ، قَالَ جَابِرٌ : فَقُلْتُ لِسَالِمٍ : كَانَا يُوتِرَانِ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت نماز ہی پڑھتے تھے، البتہ رات کو تہجد پڑھ لیا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سالم رحمہ اللہ سے پوچھا کیا وہ دونوں وتر پڑھتے تھے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
حدیث نمبر: 5591
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ ، فَفَرَرْنَا ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَرْكَبَ الْبَحْرَ ، ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ ، فَقَالَ : " لَا ، بَلْ أَنْتُمْ ، أَوْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جہاد میں شریک تھے، ہم لوگ دوران جنگ گھبرا کر بھاگنے لگے، پہلے ہمارا ارادہ بنا کہ بحری سفر پر چلے جاتے ہیں پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اور ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم فرار ہو کر بھاگنے والے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کر نے والے ہو۔“
حدیث نمبر: 5592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے کوئی بھلائی تو ملتی نہیں البتہ بخیل آدمی سے اسی طرح مال نکلوایا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 5593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَقُمْتُ وَتَرَكْتُ رَجُلًا عِنْدَهُ مِنْ كِنْدَةَ ، فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : فَجَاءَ الْكِنْدِيُّ فَزِعًا ، فَقَالَ : جَاءَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَحْلِفُ بِالْكَعْبَةِ ؟ فَقَالَ : لَا ، وَلَكِنْ احْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحْلِفْ بِأَبِيكَ ، فَإِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تھوڑی دیر بعد میں وہاں سے اٹھا اور جا کر سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس بیٹھ گیا، اتنی دیر میں میرا کندی ساتھی آیا، اس کے چہرے کا رنگ متغیر اور پیلا زرد ہو رہا تھا اس نے آتے ہی کہا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابوعبدالرحمن! اگر میں خانہ کعبہ کی قسم کھاؤں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، لیکن اگر تم خانۂ کعبہ کی قسم ہی کھانا چاہتے ہو تو رب کعبہ کی قسم کھاؤ، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے باپ کی قسم کھایا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنے باپ کی قسم نہ کھایا کرو کیونکہ غیر اللہ کی قسم کھانے والا شرک کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 5594
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ ، قَالَ : قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ : وَقَالَ نَافِعٌ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُعَرِّسُ بِهَا حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ سے واپس آتے تو ذوالحلیفہ میں جو وادی بطحاء ہے، وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی رات یہیں پر گزارا کرتے تھے تا آنکہ فجر کی نماز پڑھ لیتے۔
حدیث نمبر: 5595
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ مُوسَى ، وَأَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى فِي مُعَرَّسِهِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ فِي بَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ میں ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ آپ مبارک بطحاء میں ہیں۔
حدیث نمبر: 5596
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ : حَدَّثَنَا قَالَ : وَقَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عِنْدَ الْمَسْجِدِ الصَّغِيرِ الَّذِي دُونَ الْمَسْجِدِ الَّذِي يُشْرِفُ عَلَى الرَّوْحَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھوٹی مسجد میں نماز پڑھی، جو روحاء کے اوپر بنی ہوئی مسجد کے علاوہ ہے۔
حدیث نمبر: 5597
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ قَالَ : وَقَالَ نَافِعٌ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَنْزِلُ تَحْتَ سَرْحَةِ ضخمة دون الرُّوَيْثَةِ عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ ، فِي مَكَانٍ بَطْحٍ سَهْلٍ ، حِينَ يُفْضِي مِنَ الْأَكَمَةِ ، دُونَ بَرِيدِ الرُّوَيْثَةِ بِمِيلَيْنِ ، وَقَدْ انْكَسَرَ أَعْلَاهَا ، وَهِيَ قَائِمَةٌ عَلَى سَاقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم راستے کی دائیں جانب ٹیلے کی طرف جاتے ہوئے ایک کشادہ اور نرم زمین میں پہاڑ کی چونچ سے ہٹ کر ایک موٹے سے صحن کے نیچے پڑاؤ کرتے تھے، جو ایک دوسری چونچ سے دومیل کے فاصلے پر ہے، اس کا نچلا حصہ اب جھڑ چکا ہے اور وہ اپنی جڑوں پر قائم ہے۔
حدیث نمبر: 5598
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ وَقَالَ نَافِعٌ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى مِنْ وَرَاءِ الْعَرْجِ " ، وَأَنْتَ ذَاهِبٌ عَلَى رَأْسِ خَمْسَةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْعَرْجِ ، فِي مَسْجِدٍ إِلَى هَضْبَةٍ ، عِنْدَ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ قَبْرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ ، عَلَى الْقُبُورِ رَضْمٌ مِنْ حِجَارَةٍ ، عَلَى يَمِينِ الطَّرِيقِ ، عِنْدَ سَلَامَاتِ الطَّرِيقِ ، بَيْنَ أُولَئِكَ السَّلَامَاتِ ، كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرُوحُ مِنَ الْعَرْجِ بَعْدَ أَنْ تَمِيلَ الشَّمْسُ بِالْهَاجِرَةِ ، فَيُصَلِّي الظُّهْرَ فِي ذَلِكَ الْمَسْجِدِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عرج“ سے آگے ایک بڑے پہاڑ کی مسجد میں نماز پڑھی ہے عرج کی طرف جاتے ہوئے یہ مسجد پانچ میل کے فاصلے پر واقع ہے، اور اس مسجد کے قریب دو یا تین قبریں بھی ہیں، اور ان قبروں پر بہت سے پتھر پڑے ہوئے ہیں، یہ جگہ راستے کے دائیں ہاتھ آئی ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما دوپہر کے وقت زوال آفتاب کے بعد ”عرج“ سے روانہ ہوتے تھے اور اس مسجد میں پہنچ کر ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5599
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ وَقَالَ نَافِعٌ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ تَحْتَ سَرْحَةٍ ، وَقَالَ غَيْرُ أَبِي قُرَّةَ : " سَرَحَاتٍ " عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ ، فِي مَسِيلٍ دُونَ هَرْشَا ، ذَلِكَ الْمَسِيلُ لَاصِقٌ عَلَى هَرْشَا ، وَقَالَ غَيْرُهُ : لَاصِقٌ بِكَرَاعِ هَرْشَا ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ قَرِيبٌ مِنْ غَلْوَةِ سَهْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”ہرشی“ کے پیچھے پانی کی ایک نالی کے پاس جو راستے کی بائیں جانب آتی ہے، ایک کشادہ جگہ پر بھی رکے ہیں وہ نالی ”ہرشی“ سے ملی ہوئی ہے، بعض ”کراع ہرشا“ سے متصل بتاتے ہیں، اس کے اور راستے کے درمیان ایک تیر پھینکنے کی مسافت ہے۔
حدیث نمبر: 5600
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ وَقَالَ نَافِعٌ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَنْزِلُ بِذِي طُوًى ، يَبِيتُ بِهِ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ حِينَ قَدِمَ إِلَى مَكَّةَ " ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ ، لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ ، وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ، عَلَى أَكَمَةٍ خَشِنَةٍ غَلِيظَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ آتے ہوئے ”ذی طویٰ“ میں بھی پڑاؤ کرتے تھے، رات وہیں گزارتے اور فجر کی نماز بھی وہیں ادا فرماتے، اس مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز ایک موٹے سے ٹیلے پر تھی، اس مسجد میں نہیں جو وہاں اب بنا دی گئی ہے، بلکہ اس سے نیچے ایک کھردرے اور موٹے ٹیلے پر تھی۔
حدیث نمبر: 5601
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيْ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ الَّذِي قِبَلَ الْكَعْبَةِ ، فَجَعَلَ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ يَمِينًا ، وَالْمَسْجِدُ بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلُ مِنْهُ ، عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ ، يَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشْرَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا ، ثُمَّ يُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طویل پہاڑ کے (جو خانہ کعبہ کے سامنے ہے) دونوں حصوں کا رخ کیا، وہاں بنی ہوئی مسجد کو " جو ٹیلے کی ایک جانب ہے " دائیں ہاتھ رکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز اس سے ذرا نیچے کالے ٹیلے پر تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹیلے سے دس گز یا اس کے قریب جگہ چھوڑ کر کھڑے ہوئے تھے اور ان دونوں حصوں کا رخ کر کے نماز پڑھتے تھے جو اس طویل پہاڑ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خانہ کعبہ کے درمیان تھے۔
حدیث نمبر: 5602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْإِقَامَةُ وَاحِدَةً ، غَيْرَ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ كَانَ إِذَا قَالَ : قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ ، قَالَ : قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہے جاتے البتہ مؤذن «قد قامت الصلوة» دو مرتبہ ہی کہتا تھا۔
حدیث نمبر: 5603
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
…