حدیث نمبر: 5527
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ذَلِكَ ، عَنْ سَالِمٍ ، فِي الْهَدْيِ وَالضَّحَايَا .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ سے یہی روایت ہدی اور قربانی کے جانور کے متعلق مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1970
حدیث نمبر: 5528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُحْرِمِ : " إِذَا لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، يَقْطَعُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ " يُصَلِّي حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، وَيَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھ لیتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا، اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700
حدیث نمبر: 5530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ أَعْرَابِيًّا نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَى فِي هَذَا الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے پکار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس گوہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1943
حدیث نمبر: 5531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يُلَقِّنُنَا هُوَ : " فِيمَا اسْتَطَعْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بات سننے اور اطاعت کرنے کی شرط پر بیعت لیا کرتے تھے پھر فرماتے تھے کہ حسب استطاعت (جہاں تک ممکن ہو گا تم بات سنو گے اور مانو گے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7202، م: 1867
حدیث نمبر: 5532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا ، وَلِأَهْلِ الشَّاْمِ الْجُحْفَةَ " ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَزَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1525، م: 1182
حدیث نمبر: 5533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ ، قَالَ : وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ ، فَكُنَّا نَأْكُلُ ، فَيَمُرُّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ ، فَيَقُولُ : لَا تُقَارِنُوا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ " ، قَالَ شُعْبَةُ : لَا أَرَى فِي الِاسْتِئْذَانِ إِلَّا أَنَّ الْكَلِمَةَ مِنْ كَلَامِ ابْنِ عُمَرَ .
مولانا ظفر اقبال
جبلہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھانے کے لئے کھجور دیا کرتے تھے، اس زمانے میں لوگ انتہائی مشکلات کا شکار تھے، ایک دن ہم کھجوریں کھا رہے تھے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرے اور فرمانے لگے کہ ایک وقت میں کئی کئی کھجوریں اکٹھی مت کھاؤ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر کئی کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے، امام شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرا خیال تو یہی ہے کہ اجازت والی بات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کلام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2045
حدیث نمبر: 5534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ مُلْتَمِسًا فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر کو تلاش کرنے والا اسے آخری عشرے میں تلاش کرے"۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1165
حدیث نمبر: 5535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ مَخِيلَةً ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظررحم نہ فرمائے گا“۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2085
حدیث نمبر: 5536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا " ، وَطَبَّقَ أَصَابِعَهُ مَرَّتَيْنِ ، وَكَسَرَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ ، يَعْنِي قَوْلَهُ : تِسْعٌ وَعِشْرُونَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بعض اوقات مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا یعنی ٢٩ کا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1908، م: 1080
حدیث نمبر: 5537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَتْرِ ؟ قَالَ : فَمَشَيْتُ أَنَا وَذَاكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْوَتْرُ رَكْعَةٌ " ، قَالَ شُعْبَةُ : لَمْ يَقُلْ : " مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا، اس وقت میں اور وہ آدمی چل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور وتر ایک رکعت پر۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ شَهِدَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ " أَقَامَ بِجَمْعٍ ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ وَأَذَّنَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ " ، ثُمَّ قَالَ : صَنَعَ بِنَا ابْنُ عُمَرَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : صَنَعَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
حکم کہتے ہیں کہ مزدلفہ میں ہمیں سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے مغرب کی نماز تین رکعتوں میں اقامت کی طرح پڑھائی، پھر سلام پھیر کر عشاء کی دو رکعتیں حالت سفر کی وجہ سے پڑھائی، اور پھر فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ہمارے ساتھ اس جگہ اس طرح کیا تھا اور فرمایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمارے ساتھ اس جگہ اسی طرح کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1288
حدیث نمبر: 5539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ " كَانَ قَدْ جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بحوالہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منت کو پورا کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1656
حدیث نمبر: 5540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص پیوندکاری کئے ہوئے کھجوروں کے درخت بیچتا ہے تو اس کا پھل بھی بائع (بچنے والا) کا ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگادے اور جو شخص کسی مالدار غلام کو بیچے تو اس کا سارا مال بائع (بچنے والا) کا ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگا دے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2379، م: 1199 وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 5541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ خَمْسًا : الْحُدَيَّا ، وَالْغُرَابَ ، وَالْفَأْرَةَ ، وَالْعَقْرَبَ ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم پانچ قسم کے جانوروں کو مار سکتا ہے بچھو چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے کو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1199، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 5542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّاْمِ مِنَ الْجُحْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ " ، فَقَالَ النَّاسُ : مُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا: ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1525، م: 1182، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 5543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال (جس کی قیمت تین درہم تھی) چوری کرنے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6796، م: 1686، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 5544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتَشٍ ، أَخْبَرَنِي النُّعْمَانُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ سَلْمَانَ ، رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ ، قَالَ : كُنَّا بِمَكَّةَ ، فَجَلَسْنَا إِلَى عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، إِلَى جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ ، فَلَمْ نَسْأَلْهُ ، وَلَمْ يُحَدِّثْنَا ، قَالَ : ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ مَجْلِسِكُمْ هَذَا ، فَلَمْ نَسْأَلْهُ ، وَلَمْ يُحَدِّثْنَا ، قَالَ : فَقَالَ : مَا بَالُكُمْ لَا تَتَكَلَّمُونَ وَلَا تَذْكُرُونَ اللَّهَ ؟ ! قُولُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، بِوَاحِدَةٍ عَشْرًا ، وَبِعَشْرٍ مِائَةً مَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ سَكَتَ غَفَرَ لَهُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَمْسٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ، فَهُوَ مُضَادُّ اللَّهِ فِي أَمْرِهِ ، وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِغَيْرِ حَقٍّ ، فَهُوَ مُسْتَظِلٌّ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَتْرُكَ ، وَمَنْ قَفَا مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَةً ، حَبَسَهُ اللَّهُ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ ، عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، أُخِذَ لِصَاحِبِهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ ، لَا دِينَارَ ثَمَّ وَلَا دِرْهَمَ ، وَرَكْعَتَا الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا ، فَإِنَّهُمَا مِنَ الْفَضَائِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایوب بن سلیمان کہتے ہیں کہ ہم لوگ مکہ مکرمہ میں عطاء خراسانی رحمہ اللہ کے پاس مسجد کی ایک دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ہم ان سے کچھ پوچھتے تھے اور نہ ہی وہ ہم سے کچھ بیان کرتے تھے، پھر ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھی اسی طرح بیٹھے رہے کہ ہم ان سے کچھ پوچھتے تھے اور نہ ہی وہ ہم سے کچھ بیان کرتے تھے، بالآخر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کیا بات ہے تم لوگ کچھ بولتے کیوں نہیں؟ اور اللہ کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟ اللہ اکبر، الحمدللہ اور سبحان اللہ وبحمدہ کہو ایک کے بدلے میں دس اور دس کے بدلے میں سونیکیاں عطاء ہوں گی، اور جو جتنا اس تعداد میں اضافہ کرتا جائے گا، اللہ اس کی نیکیوں میں اتناہی اضافہ کرتا جائے گا اور جو شخص سکوت اختیار کر لے اللہ اس کی بخشش فرمائے گا، کیا میں تمہیں پانچ باتیں نہ بتاؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں فرمایا : ”جس شخص کی سفارش اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی ایک میں حائل ہو گئی تو گویا اس نے اللہ کے معاملے میں اللہ کے ساتھ ضد کی جو شخص کسی ناحق مقدمے میں کسی کی اعانت کرے وہ اللہ ناراضگی کے سائے تلے رہے گا جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے، جو شخص کسی مومن مرد و عورت کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرتا ہے اللہ اسے اہل جہنم کی پیپ کے مقام پر روک لے گا، جو شخص مقروض ہو کر مرے تو اس کی نیکیاں اس سے لے کر قرض خواہ کودے دی جائیں گی کیونکہ قیامت میں کوئی درہم و دینار نہ ہو گا اور فجر کی دو سنتوں کا خوب اہتمام کیا کرو کیونکہ یہ دو رکعتیں بڑے فضائل کی حامل ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيوب بن سلمان الصنعاني
حدیث نمبر: 5545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتَشٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى عَلَى عُطَارِدٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَهُوَ يُقِيمُ حُلَّةً مِنْ حَرِيرٍ يَبِيعُهَا ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ عُطَارِدًا يَبِيعُ حُلَّتَهُ ، فَاشْتَرِيهَا تَلْبَسْهَا إِذَا أَتَاكَ وُفُودُ النَّاسِ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے ارادے سے نکلے، راستے میں بنو تمیم کے ایک آدمی "عطارد" کے پاس سے ان کا گزر ہوا جو ایک ریشمی جوڑا فروخت کر رہا تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے عطارد کو ایک ریشمی جوڑا فروخت کرتے ہوئے دیکھا ہے اگر آپ اسے خرید لیتے تو وفود کے سامنے پہن لیا کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 5841، م: 2068، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن الحسن بن أتش .
حدیث نمبر: 5546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ، يَقُولُ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، أَوْ شَهِدَ مَعَهُ مَشْهَدًا ، لَمْ يُقَصِّرْ دُونَهُ أَوْ يَعْدُوهُ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ يقص على أهل مكة ، إذ قَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ ، إِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى هَذِهِ الْغَنَمِ نَطَحَتْهَا ، وَإِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى هَذِهِ نَطَحَتْهَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَيْسَ هَكَذَا ، فَغَضِبَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كَيْفَ قَالَ رَحِمَكَ اللَّهُ ؟ فَقَالَ : " مَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الشَّاةِ بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ ، إِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى ذَا الرَّبِيضِ نَطَحَتْهَا ، وَإِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى ذَا الرَّبِيضِ نَطَحَتْهَا " ، فَقَالَ لَهُ : رَحِمَكَ اللَّهُ ، هُمَا وَاحِدٌ ، قَالَ : كَذَا سَمِعْتُ ، كذا سمعتُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوجعفر محمد بن علی رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن لیتے یا کسی موقع پر موجود ہوتے تو اس میں (بیان کرتے ہوئے) کمی بیشی بالکل نہیں کرتے تھے کہ ایک مرتبہ عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی وہاں تشریف فرما تھے، عبید بن عمیر کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” منافق کی مثال اس بکر ی کی سی ہے جو دور ریوڑوں کے درمیان ہو، اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں اور اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ حدیث اس طرح نہیں ہے اس پر عبید بن عمر کو ناگواری ہوئی، اس مجلس میں عبداللہ بن صفوان بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ اے ابو عبدالرحمن! آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح فرمایا تھا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مذکورہ حدیث دوبارہ سنا دی اور اس میں «غنمين» کے بجائے «ربيضين» کا لفظ استعمال کیا تو عبداللہ نے کہا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے اس دونوں کا مطلب تو ایک ہی ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، مصعب بن سلام من شيوخ أحمد، وثقه العجلي
حدیث نمبر: 5547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي الْبَيْتِ ، وَسَيَأْتِي مَنْ يَنْهَاكُمْ عَنْهُ ، فَتَسْمَعُونَ مِنْهُ ! ! " ، قَالَ : يَعْنِي : ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسًا قَرِيبًا مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سماک حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے، لیکن ابھی تم ایک ایسے شخص کے پاس جاؤ گے اور ان کی باتیں سنو گے، جو اس کی نفی کر یں گے ۔ مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تھے جو قریب ہی بیٹھے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ " ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : وَهُوَ الرُّقْعَةُ فِي الرَّأْسِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قزع“ سے منع فرمایا ہے ”قزع“ کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5921
حدیث نمبر: 5549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَهْوَازِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ ، فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ ، وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں، سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو اور رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور وتر کی رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہوتی ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله : «صلاة المغرب وتر صلاة النهار فأوتروا صلاة الليل» .
حدیث نمبر: 5550
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لْقَزَعِ فِي الرَّأْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قزع“ سے منع فرمایا ہے۔ ”قزع“ کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لیے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2120
حدیث نمبر: 5551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً ، فَقَالَ : إِنَّمَا جِئْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ نَزَعَ يَدًا مَنْ طَاعَةِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ مَفَارِقٌ لِلْجَمَاعَةِ ، فَإِنَّهُ يَمُوتُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خوش آمدید کہا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت سے ہاتھ کھینچتا ہے، قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص "جماعت " کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1851، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 5552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ شَرَاحِيلَ ، قَالَ : " خَرَجْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقُلْنَا : مَا صَلَاةُ الْمُسَافِرِ ؟ فَقَالَ : رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كُنَّا بِذِي الْمَجَازِ ، قَالَ : وَمَا ذُو الْمَجَازِ ؟ قُلْتُ : مَكَانًا نَجْتَمِعُ فِيهِ وَنَبِيعُ فِيهِ ، وَنَمْكُثُ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، قَالَ : يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ ، كُنْتُ بِأَذْرَبِيجَانَ ، لَا أَدْرِي قَالَ : أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ ، فَرَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، وَرَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصْبَ عَيْنِي يُصَلِّيهِمَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ نَزَعَ هَذِهِ الْآيَةَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 " ، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
ثمامہ بن شراجیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے ان سے مسافر کی نماز کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اس کی دو دو رکعتیں ہیں سوائے مغرب کے, کہ اس کی تین ہی رکعتیں ہیں"، میں نے پوچھا اگر ہم ”ذی المجاز“ میں ہوں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے پوچھا : ”ذوالمجاز“ کس چیز کا نام ہے ؟ میں نے کہا کہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں ہم لوگ اکٹھے ہوتے ہیں خریدو فروخت کرتے ہیں اور بیس پچیس دن وہاں گزارتے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے شخص میں آذر بائجان میں تھا وہاں چار یا دو ماہ رہا (یہ یاد نہیں) میں نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو وہاں دو دو رکعتیں ہی پڑھتے ہوئے دیکھا پھر میں نے اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر دو دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ " تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5553
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ سالِمًا ، يَقُولُ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ مِمَّا يَلِي الْمَقَامَ ، رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الرَّأْسِ ، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ ، يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ؟ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ ، ثُمَّ رَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ ، جَعْدَ الرَّأْسِ ، أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى ، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ مِنْهُ ابْنُ قَطَنٍ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے قریب مقام ابراہیم کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا، اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے “ ، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ پتہ چلا کہ یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں، پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو پتہ چلا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3439، م: 169
حدیث نمبر: 5554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى جَعَلَ اللَّبَنُ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي ، ثُمَّ نَاوَلْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا أَوَّلْتَهُ ؟ قَالَ : " الْعِلْمُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اسے اتنا پیا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکلنے لگا ، پھر میں نے اپنا پس خوردہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علم ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3681، م: 2391
حدیث نمبر: 5555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ حُجْرَتَهُ ، فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا بِالْآخَرِ ، فَلَا يُفَارِقَنَّكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ بَيْعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینار لے لیتا، ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں داخل ہو رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پکڑ کر یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کے بدلے وصول کرو تو اس وقت تک اپنے ساتھی سے جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان بیع کا کوئی معاملہ باقی ہو“۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتفرد سماك بن حرب برفعه
حدیث نمبر: 5556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، فَرَأَى أَصْحَابُهُ أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ " ، قَالَ : وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي مِجْلَزٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھاتے ہوئے پہلی رکعت میں سجدہ تلاوت کیا, صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت سجدہ کی تلاوت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات رجال الشيخين إلا أن سليمان بن طرخان التيمي قد صرح فى آخر الحديث بأنه لم يسمع من أبى مجلز: لاحق بن حميد، فهو منقطع .
حدیث نمبر: 5557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ ، وَوَجْهُهُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، تَطَوُّعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نفلی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کو جا رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 700
حدیث نمبر: 5558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ وَتَحْتَهُ عَشَرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے جس وقت اسلام قبول کیا، ان کے نکاح میں دس بیویاں تھیں،اور ان سب نے بھی ان کے ہمراہ اسلام قبول کر لیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے چار کو منتخب کر لو ( اور باقی چھ کو طلاق دے دو )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات إلا أن معمرا أخطأ فيه كما سلف بيانه بالرواية رقم: 4609، ويزيد بن هارون سمع من سعيد بن أبى عروبة قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 5559
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ مَكَانَهَا الْوَرِقَ ، وَأَبِيعُ بِالْوَرِقِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتُهُ خَارِجًا مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهِ بِالْقِيمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینارلے لیتا، ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے باہرپایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر قیمت کے بدلے میں ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتفرد سماك برفعه
حدیث نمبر: 5560
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَا أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ : " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ، وَلَيُكْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے) ”لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگادے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 5561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ ، قَالَ : " قُلْ : لَا خِلَابَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ! خرید و فروخت میں لوگ مجھے دھوکہ دے دیتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے“۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:1533.
حدیث نمبر: 5562
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : يَقُولُ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا صَاحِبُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ بِأَحَقَّ مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنَا بِأَخَرَةٍ الْآنَ وَلَلدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِنَا مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ہم نے ایک زمانہ وہ دیکھا ہے جب ہماری نظروں میں درہم و دینار والا اپنے غریب مسلمان بھائی سے زیادہ حقدار نہ ہوتا تھا اور اب ہم یہ زمانہ دیکھ رہے ہیں کہ جس میں دینار و درہم ایک مسلمان بھائی سے زیادہ عزیز ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى جناب، وشهر بن حوشب كثير الأوهام.
حدیث نمبر: 5562M
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَئِنْ أَنْتُمْ اتَّبَعْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ ، وَتَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ ، وَتَرَكْتُمْ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، لَيُلْزِمَنَّكُمْ اللَّهُ مَذَلَّةً فِي أَعْنَاقِكُمْ ، ثُمَّ لَا تُنْزَعُ مِنْكُمْ حَتَّى تَرْجِعُونَ إِلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ ، وَتَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم نے جہاد کو ترک کر دیا گائے کی دمیں پکڑنے لگے عمدہ اور بڑھیاچیزیں خریدنے لگے تو اللہ تم پر مصائب کو نازل فرمائے گا اور اس وقت تک انہیں دور نہیں کرے گا جب تک تم لوگ توبہ کر کے دین کی طرف واپس نہ آجاؤ گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5562M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: طرفه الثاني حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب وشهر بن حوشب .
حدیث نمبر: 5562M2
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَتَكُونَنَّ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ ، إِلَى مُهَاجَرِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى لَا يَبْقَى فِي الْأَرَضِينَ إِلَّا شِرَارُ أَهْلِهَا ، وَتَلْفِظُهُمْ أَرَضُوهُمْ ، وَتَقْذَرُهُمْ رُوحُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَتَحْشُرُهُمْ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ ، تَقِيلُ حَيْثُ يَقِيلُونَ ، وَتَبِيتُ حَيْثُ يَبِيتُونَ ، وَمَا سَقَطَ مِنْهُمْ فَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” اس ہجرت کے بعد ایک اور ہجرت ہو گی، جو تمہارے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دارالہجرۃ کی طرف ہو گی ، یہاں تک کہ زمین میں صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے، جنہیں ان کی زمین نگل جائے گی۔ پروردگار کے نزدیک وہ گندے لوگ ہوں گے، انہیں آگ میں بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، جہاں وہ آرام کریں گے وہ آگ بھی وہیں رک جائے گی، جہاں وہ رات گزاریں گے وہیں وہ بھی رات گزارے گی اور ان میں سے جو گرجائے گا وہ آگ کا حصہ ہو گا“۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5562M2
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى جناب، وشهر بن حوشب ليس بذاك، وقد اضطرب فيه.
حدیث نمبر: 5562M3
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يُسِيئُونَ الْأَعْمَالَ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ " ، قَالَ يَزِيدُ : لَا أَعْلَمُ إِلَّا قَالَ : " يَحْقِرُ أَحَدَكُمْ عَمَلَهُ مِنْ عَمَلِهِمْ ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ ، فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ، فَطُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ ، كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " ، فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ أَكْثَرَ ، وَأَنَا أَسْمَعُ .
مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ایک ایسی قوم بھی پیدا ہو گی جو بدکردار ہو گی یہ لوگ قرآن پڑھتے ہوں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے سامنے حقیر سمجھو گے وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے جب ان کا خروج ہو تو تم انہیں قتل کرنا اور جب تک ان کا خروج ہوتا رہے تم انہیں قتل کرتے رہنا، خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو انہیں قتل کرے اور خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جسے وہ قتل کریں جب بھی ان کی کوئی نسل نکلے گی اللہ اسے ختم کر دے گا یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس یا اس سے زیادہ مرتبہ دہرائی اور میں سنتا رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5562M3
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6932، وهذا إسناد ضعيف، أبوجناب يحيى بن أبى حية ضعيف ومدلس، وشهر بن حوشب ضعيف .
حدیث نمبر: 5563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ ، سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ ، فَقَالَ : " لَكِنْ حَمْزَةُ لَا بَوَاكِيَ لَهُ " فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ ، فَجِئْنَ يَبْكِينَ عَلَى حَمْزَةَ ، قَالَ : فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَسَمِعَهُنَّ وَهُنَّ يَبْكِينَ ، فَقَالَ : " وَيْحَهُنَّ ! لَمْ يَزَلْنَ يَبْكِينَ بَعْدُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ ؟ ! مُرُوهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ ، وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے واپس ہوئے تو انصار کی عورتیں اپنے اپنے شوہروں پر رونے لگیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”حمزہ کے لئے کوئی رونے والی نہیں ہے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ لگ گئی، بیدار ہوئے تو وہ خواتین اسی طرح رورہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ آج حمزہ کے نام لے کر روتی ہی رہیں گی انہیں کہہ دو کہ واپس چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر مت روئیں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد .