حدیث نمبر: 5447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو ۔
حدیث نمبر: 5448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 5449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَدِمَ مَكَّةَ ، فَدَخَلَ الْكَعْبَةَ ، فَبَعَثَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " صَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ بِحِيَالِ الْبَابِ " ، فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَرَجَّ الْبَابَ رَجًّا شَدِيدًا ، فَفُتِحَ لَهُ ، فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ : أَمَا إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي كُنْتُ أَعْلَمُ مِثْلَ الَّذِي يَعْلَمُ ، وَلَكِنَّكَ حَسَدْتَنِي ! ! .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے تو بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے ، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس حصے میں نماز پڑھی تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ باب کعبہ کے عین سامنے دو ستونوں کے درمیان ، اتنی دیر میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آ گئے اور زور زور سے دروازہ بجایا دروازہ کھلا تو انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کو معلوم تھا کہ یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح مجھے بھی پتہ ہے (پھر بھی آپ نے یہ بات ان سے دریافت کروائی ؟ ) اصل بات یہ ہے کہ آپ کو مجھ سے حسد ہے ۔
حدیث نمبر: 5450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جِئْتُمْ الْجُمُعَةَ فَاغْتَسِلُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے ۔“
حدیث نمبر: 5451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ أَوْ حِمَارَةٍ ، وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کو جا رہے تھے ۔
حدیث نمبر: 5452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ قُرَادٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، أَوْ يَدْخُلُ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ ، لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى ، أَتُرَوْنَهَا لِلْمُنَقَّيْنَ ؟ ! لَا ، وَلَكِنَّهَا لِلْمُتَلَوِّثِينَ ، الْخَطَّاءُونَ " ، قَالَ زِيَادٌ : أَمَا إِنَّهَا لَحْنٌ ، وَلَكِنْ هَكَذَا حَدَّثَنَا الَّذِي حَدَّثَنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مجھے دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا گیا شفاعت کا یا نصف امت کے جنت میں داخل ہونے کا ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ، کیونکہ یہ زیادہ عام اور کفایت کرنے والی چیز ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ متقیوں کے لئے ہو گی ؟ نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کے لئے ہو گی جو گناہوں میں ملوث ہوں گے ۔“
حدیث نمبر: 5453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَنَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ رَكْعَتَانِ ، فَإِذَا خِفْتُمْ الصُّبْحَ ، فَأَوْتِرُوا بِوَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کی ایک رکعت اور ملا لو ۔“
حدیث نمبر: 5455
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول : " مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ حَتَّى تَفُوتَهُ ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " ، وقَالَ شَيْبَانُ : يَعْنِي : غُلِبَ عَلَى أَهْلِهِ وَمَالِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا ۔“
حدیث نمبر: 5456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے ۔“
حدیث نمبر: 5457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے ۔“
حدیث نمبر: 5458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةً ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ ، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک مقتول عورت کو دیکھا تو اس پر نکیر فرمائی اور عورتوں اور بچوں کو قتل کر نے سے روک دیا ۔
حدیث نمبر: 5459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد و عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی ۔
حدیث نمبر: 5460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ : أَمَرْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ أَنْ يَسْأَلَ ابْنَ عُمَرَ وَأَنَا جَالِسٌ بَيْنَهُمَا : مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مسلم بن یسار سے کہا کہ میری موجودگی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ سوال پوچھیں کہ تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پر لٹکانے والے کے متعلق آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا ۔
حدیث نمبر: 5461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ يَعْنِي السُّكَّرِيَّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي الصَّائِغَ ، عَنِ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَفْصِلُ بَيْنَ الْوَتْرِ وَالشَّفْعِ بِتَسْلِيمَةٍ ، وَيُسْمِعُنَاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر اور دو رکعتوں کے ددرمیان سلام کے ذریعے فصل فرماتے تھے اور سلام کی آواز ہمارے کانوں میں آتی تھی ۔
حدیث نمبر: 5462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ حَالِفًا ، فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا ، فَقَالَ : " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص قسم کھانا چاہتا ہے وہ اللہ کے نام کی قسم کھائے“ ، قریش کے لوگ اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھایا کرتے تھے اس لئے فرمایا : ”اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں مت کھاؤ ۔“
حدیث نمبر: 5463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ " امْرَأَةً كَانَتْ تَرْعَى عَلَى آلِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ غَنَمًا بِسَلْعٍ ، فَخَافَتْ عَلَى شَاةٍ مِنْهَا الْمَوْتَ ، فَذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ للرسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک باندی تھی جو”سلع “میں ان کی بکریاں چرایا کرتی تھی ان بکریوں میں سے ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس باندی نے تیز دھاری دار پتھر لے کر اس بکری کو اس سے ذبح کر دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی ۔
حدیث نمبر: 5464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ ، أَنَّ " جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ ، فَعَرَضَ لِشَاةٍ مِنْهَا ، فَخَافَتْ عَلَيْهَا ، فَأَخَذَتْ لِخَافَةً مِنْ حَجَرٍ ، فَذَبَحَتْهَا بِهَا ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے بنو سلمہ کے ایک آدمی کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک باندی تھی جو ”سلع“ میں ان کی بکریاں چرایا کرتی تھی ان بکریوں میں سے ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس باندی نے تیز دھاری دار پتھر لے کر اس بکری کو اس سے ذبح کر دیا ، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی ۔
حدیث نمبر: 5465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں سفر پر جاتے وقت قرآن کریم اپنے ساتھ لے جانے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ " يَنْهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ ، وَذَاكَ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَبِيعُونَ ذَلِكَ الْبَيْعَ ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اونٹ کا گوشت حاملہ جانور کے حمل سے پیدا ہونے والے بچے کے بدلے بیچا کرتے تھے اور حاملہ جانور کے حمل سے پیدا ہونے والے بچے سے مراد ”جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہے“ اس کا بچہ ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص جان بوجھ کر نماز عصر چھوڑ دے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا ۔ “
حدیث نمبر: 5468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمْ الْمَسَاجِدَ ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ " ، قَالَ : فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : بَلَى ، وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ ! فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : تَسْمَعُنِي أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ مَا تَقُولُ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہ روکا کرو ، البتہ ان کے گھر ان کے حق میں زیادہ بہتر ہیں“ ، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ ہم تو انہیں روکیں گے ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو؟ “
حدیث نمبر: 5469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " رَأَيْتُ قُبَيْلَ الْفَجْرِ كَأَنِّي أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ ، فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ ، وَأَمَّا الْمَوَازِينُ ، فَهِذه الَّتِي تَزِنُونَ بِهَا ، فَوُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ ، وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ ، فَرَجَحْتُ ، ثُمَّ جِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ ، فَوُزِنَ بِهِمْ ، فَوَزَنَ ، ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ ، فَوُزِنَ ، فَوَزَنَ ، ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ ، فَوُزِنَ بِهِمْ ، ثُمَّ رُفِعَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلوع آفتاب کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ” آج میں نے نماز فجر سے کچھ ہی دیر قبل ایک خواب دیکھا ہے جس میں مجھے مقالید اور موازین دیئے گئے ، مقالید سے مراد تو چابیاں ہیں اور موازین سے مراد ترازو ہیں جن سے تم وزن کرتے ہو، پھر اس ترازو کے ایک پلڑے میں مجھے رکھا گیا اور دوسرے میں میری ساری امت کو ، میرا وزن زیادہ ہو گیا اور میرا پلڑا جھک گیا، پھر ابوبکر کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا تو وہ بھی ساری امت سے زیادہ نکلا ، پھر عمر کو لا کر ان کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھی جھک گیا ، پھر عثمان کو لایا گیا اور ان کا وزن کرنے کے بعد اس ترازو کو اٹھا لیا گیا۔“
حدیث نمبر: 5470
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَدَوِيِّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ : " مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةً ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : ”اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس دیہاتی کے درمیان تھا“ یا رسول اللہ! رات کی نماز سے متعلق آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : ” تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو اور دو رکعتیں فجر سے پہلے پڑھ لیا کرو ۔
حدیث نمبر: 5471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ أَنْ يَخْرُجْنَ إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں کو مساجد میں آنے سے امت روکو ، البتہ ان کے گھر ان کے حق میں زیادہ بہتر ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 5472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : أِنَّ عُمَرَ بْنَ نَافِعٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا نَلْبَسُ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ : " لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ ، وَلَا الْعَمَائِمَ ، وَلَا الْبَرَانِسَ ، وَلَا الْخِفَافَ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ ، فَيَلْبَسَ الْخُفَّيْنِ ، وَيَجْعَلَهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! ہم احرام باندھ لیں تو کون سے کپڑے پہن سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیض ، شلوار ، عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں ، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے ، اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا۔“
حدیث نمبر: 5473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تک پھل خوب پک نہ جائے ، اس وقت تک اس کی خرید و فروخت نہ کیا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 5474
(حديث مرفوع) وَأَخْبَرَنَا يَعْنِي يَزِيدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي إِنْسَانٍ أَوْ مَمْلُوكٍ ، كُلِّفَ عِتْقَ بَقِيَّتِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ يُعْتِقُهُ بِهِ ، فَقَدْ جَازَ مَا عَتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو اسے اس کا بقیہ حصے آزاد کر نے کا بھی مکلف بنایا جائے گا ، اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے اسے آزاد کیا جا سکے تو جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا ۔ “
حدیث نمبر: 5475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنِ الَّذِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِهِ ، يَقُولُ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ ، وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ " ، وَذَكَرَ نَافِعٌ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَزِيدُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ عِنْدِهِ : لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا ، میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں ، میں حاضر ہوں ، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں ، حکومت بھی آپ ہی کی ہے آپ کا کوئی شریک نہیں ، ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں یہ اضافہ فرماتے تھے کہ میں حاضر ہوں ، تمام رغبتیں اور عمل آپ ہی کے لئے ہیں میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ۔
حدیث نمبر: 5476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَنْ قَتَلَ مِنْهُنَّ : الْغُرَابُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْعَقْرَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کر نے میں کوئی حرج نہیں ہے ، بچھو ، چوہے ، چیل ، کوے اور باؤلے کتے ۔ “
حدیث نمبر: 5477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ ، فَأَسْرَعْتُ لِأَسْمَعَ كَلَامَهُ ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَ وَقَالَ مَرَّةً : قَبْلَ أَنْ أَنْتَهِيَ إِلَيْهِمْ ، فَسَأَلْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ : مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ " نَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ ، وَالدُّبَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ منبر پر جلوہ افروز دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی میں تیزی سے مسجد میں داخل ہوا ، اور ایک جگہ جا کر بیٹھ گیا لیکن ابھی کچھ سننے کا موقعہ نہ ملا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے ، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ ، وَنَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ ، وَمَعَهُ حَفْصُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، وَمُسَاحِقُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خِدَاشٍ ، فَغَابَتْ لَنَا الشَّمْسُ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : الصَّلَاةَ ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ الْآخَرُ : الصَّلَاةَ ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ ، فَقَالَ نَافِعٌ : فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ " ، فَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا ، قَالَ : فَسِرْنَا أَمْيَالًا ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ، قَالَ يَحْيَى : فَحَدَّثَنِي نَافِعٌ : هَذَا الْحَدِيثَ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَ : سِرْنَا إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُبُعِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہم لوگ مکہ مکرمہ سے آ رہے تھے ان کے ساتھ حفص بن عاصم اور مساحق بن عمرو بھی تھے ہم لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، ان میں سے ایک نے کہا ”نماز“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کوئی بات نہیں کی (پھر دوسرے نے یاد دہانی کرائی لیکن انہوں نے اسے بھی کوئی جواب نہ دیا پھر میں نے ان سے کہا ”نماز“ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب انہیں سفر کی جلدی ہوتی تھی تو وہ ان دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے تھے میرا ارادہ ہے کہ میں بھی انہیں جمع کر لوں گا چنانچہ ہم نے کئی میل کا سفر طے کر لیا پھر اتر کر انہوں نے نماز پڑھی ایک دوسرے موقع پر نافع نے ربع میل کا ذکر کیا تھا ۔
حدیث نمبر: 5479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ الْكَلْبِيِّ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ پہلے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے تاآنکہ قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہو گئی کہ انہیں ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے پکارا کرو کیونکہ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے ۔
حدیث نمبر: 5480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 5481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ ، أَمْرٌ مُبْتَدَعٌ أَوْ مُبْتَدَأٌ ، أَوْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، فَاعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ ، فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ ، فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم جو عمل کرتے ہیں کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے ؟ فرمایا : ” نہیں ! بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے لہٰذا ، اے ابن خطاب ! عمل کرتے رہو کیونکہ جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اسے اس کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے، چنانچہ اگر وہ اہل سعادت میں سے ہو تو وہ سعادت والے اعمال کرتا ہے اور اہل شقاوت میں سے ہو تو بدبختی والے اعمال کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی سے ہے کہ ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے ۔“
حدیث نمبر: 5483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ يُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " ، قَالَ : فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : مَا مَثْنَى مَثْنَى ؟ قَالَ : تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو“، کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ دو دو کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ کہ ہر دو رکعتوں پر سلام پھیر دو ۔
حدیث نمبر: 5484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " ، وَطَبَّقَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَكَسَرَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ ، قَالَ عُقْبَةُ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : " وَالشَّهْرُ ثَلَاثُونَ " ، وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بعض اوقات مہینہ اتنا ، اتنا اور اتنا ہوتا ہے، تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا اور بعض اوقات اتنا اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی پورے ٣٠ کا ۔
حدیث نمبر: 5485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ ، فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کیا کرو اگر اس سے عاجز آ جاؤ یا کمزور ہو جاؤ تو آخری سات راتوں پر مغلوب نہ ہونا ۔“
حدیث نمبر: 5486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " أَهَلْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : زَعَمُوا ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى ؟ فَقَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ ؟ فَقَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَلِكَ " ، فَصَرَفَهُ اللَّهُ عَنِّي ، وَكَانَ إِذَا قِيلَ لِأَحَدٍهم أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ غَضِبَ ، وَهَمَّ يُخَاصِمُهُ .
مولانا ظفر اقبال
ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا مٹکے کی نبیذ سے ممانعت کی گئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ” ان کا یہی کہنا ہے میں نے پوچھا کن کا کہنا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انہوں نے فرمایا : ” ان کا یہی کہنا ہے میں نے دوبارہ یہی سوال پوچھا اور انہوں نے یہی جواب دیا ، بس اللہ نے مجھے اس دن ان سے بچا لیا کیونکہ جب ان سے کوئی شخص یہ پوچھتا کہ واقعی آپ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو وہ غصے میں آ جاتے تھے اور اس شخص کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ۔
…