حدیث نمبر: 5408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيْ النَّاسِ ، فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِهِ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے ۔ “
حدیث نمبر: 5409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ادَّهَنَ بِزَيْتٍ غَيْرِ مُقَتَّتٍ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے وقت زیتون کا وہ تیل استعمال فرماتے تھے جس میں پھول ڈال کر انہیں جوش نہ دیا گیا ہوتا ۔
حدیث نمبر: 5410
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھی اور سلام پھیر کر سورج طلوع ہونے کے رخ پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور دو مرتبہ فرمایا : ”فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، فَقَالَ : " لَمْ يَصُمْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَبُو بَكْرٍ ، وَلَا عُمَرُ ، وَلَا عُثْمَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یوم عرفہ کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس دن کا روزہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفاء ثلاثہ میں سے کسی نے نہیں رکھا ۔
حدیث نمبر: 5411M
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمْ يَصُمْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَبُو بَكْرٍ ، وَلَا عُمَرُ ، وَلَا عُثْمَانُ ، يَعْنِي : يَوْمَ عَرَفَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یوم عرفہ کے روزے کے متعلق فرمایا کہ اس دن کا روزہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفاء ثلاثہ میں سے کسی نے نہیں رکھا ۔
حدیث نمبر: 5412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَسَمَ فِي النَّفَلِ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ خبیر کے موقع پر) گھوڑے کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر فرمایا تھا ۔
حدیث نمبر: 5413
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ ، أَيْنَمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ ، قَالَ : وَذَكَرَ ابْنُ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سفر میں اس طرح کیا کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 5414
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ : وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة الزمر آية 67 وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَكَذَا بِيَدِهِ ، وَيُحَرِّكُهَا ، يُقْبِلُ بِهَا وَيُدْبِرُ : " يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ : أَنَا الْجَبَّارُ ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ ، أَنَا الْمَلِكُ ، أَنَا الْعَزِيزُ ، أَنَا الْكَرِيمُ " ، فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرُ ، حَتَّى قُلْنَا لَيَخِرَّنَّ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر یہ آیت تلاوت فرمائی «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو آگے پیچھے لے جا کر حرکت دیتے ہوئے کہنے لگے کہ پروردگار اپنی بزرگی خود بیان کرے گا اور کہے کہ میں ہوں جبار، میں ہوں متکبر ، میں ہوں بادشاہ ، میں ہوں غالب ، میں ہوں سخی یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کانپنے لگے، یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے ہی نہ گر جائیں ۔
حدیث نمبر: 5415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تِلْكَ الْأَوْعِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے برتنوں کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں سے منع فرمایا ہے (جو شراب کشید کرنے کے لئے استعمال ہوتے تھے) ۔
حدیث نمبر: 5416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَمِرُ فِي رَجَبٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ ، " وَمَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب میں عمرہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں ! عروہ نے یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا : اللہ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس میں شریک رہے ہیں (لیکن یہ بھول گئے کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 5417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ : رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے ۔
حدیث نمبر: 5418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : اخْتَرْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں یا یہ کہ ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ اختیار کر لو ۔ “
حدیث نمبر: 5419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ لَا تَدْعُو لِي ؟ قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ " ، وَقَدْ كُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ ، يَعْنِي : عَامِلًا .
مولانا ظفر اقبال
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ابن عامر کے پاس ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، ابن عامر نے ان سے کہا کہ آپ میرے لئے دعاء کیوں نہیں فرماتے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مال غنیمت میں سے چوری کی ہوئی چیز کا صدقہ قبول نہیں کرتا اور نہ ہی طہارت کے بغیر نماز قبول کرتا ہے اور تم بصرہ کے گورنر رہ چکے ہو ۔
حدیث نمبر: 5420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَنْبَأَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنِ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَأَنَا لَا أَصُومُهُ ، وَلَا آمُرُكَ ، وَلَا أَنْهَاكَ ، إِنْ شِئْتَ فَصُمْهُ ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَصُمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابونجیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، لیکن انہوں نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا ، میں نے سیدنا ابوبکر سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج کیا، لیکن انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہ رکھا، میں اس دن کا روزہ رکھتا ہوں اور نہ حکم دیتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں، اس لئے اگر تمہاری مرضی ہو تو وہ روزہ رکھ لو، نہ ہو تو نہ رکھو ۔
حدیث نمبر: 5421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا صَلَّى إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَعَلَ يَعْبَثُ بِالْحَصَى ، فَقَالَ : لَا تَعْبَثْ بِالْحَصَى ، فَإِنَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَلَكِنْ اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ، قَالَ هَكَذَا ، وَأَرَانَا وُهَيْبٌ ، وَصَفَهُ عَفَّانُ : " وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى ، وَبَسَطَ أَصَابِعَهُ عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى ، وَكَأَنَّهُ عَقَدَ ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو دوران نماز کھیلتے ہوئے دیکھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : نماز میں مت کھیلو کیونکہ یہ شیطانی کام ہے اور اسی طرح کرو جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور انگلی سے اشارہ کرنے لگے ۔
حدیث نمبر: 5422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عُمْرَى وَلَا رُقْبَى ، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ عَطَاءٌ : وَالرُّقْبَى هِيَ لِلْآخِرِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : مِنِّي وَمِنْكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کسی کی موت تک یا عمر بھر کے لئے کوئی زمین دینے کی کوئی حیثیت نہیں، جسے ایسی زمین دی گئی ہو وہ زندگی اور موت کے بعد بھی اسی کی ہو گی ۔ “
حدیث نمبر: 5423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : " أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ قَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا ، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، لوگ یہی کہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 5424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ أَوْ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يُنَادِي بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو ۔ “
حدیث نمبر: 5425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”(جب تم تین آدمی ہو تو) تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 5426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے آگے فروخت نہ کرے ۔ “
حدیث نمبر: 5427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا صُبِغَ بِوَرْسٍ أَوْ زَعْفَرَانٍ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو زعفران یا ورس سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع کیا ہے اور ارشاد فرمایا : ”اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے ۔ “
حدیث نمبر: 5428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ ، وَيَقُولُ : " هَا إِنَّ الْفِتَنَ هَاهُنَا ، إِنَّ الْفِتَنَ هَاهُنَا ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور دو مرتبہ فرمایا :” فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَأَمَرَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الْأَسْقِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے ، دباء اور مزفت سے منع کیا ہے اور مشکیزوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دی ہے ۔
حدیث نمبر: 5430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، قَالَ : " تَحَرَّوْهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے شب قدر کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کیا کرو ۔
حدیث نمبر: 5431
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا مِنْ عِنْدِ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے ۔ “
حدیث نمبر: 5432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " عَشْرُ رَكَعَاتٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدَاوِمُ عَلَيْهِنَّ : رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوام فرماتے تھے، ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں، نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے ۔
حدیث نمبر: 5433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا إِنْ شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے کہو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر اگر وہ اسے طلاق دینا ہی چاہے تو طہر کے دوران دے ۔ “
حدیث نمبر: 5434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَسُ بْنُ سِيرِين ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا " ، قَالَ : قُلْتُ : احْتُسِبَ بِهَا ؟ قَالَ : فَمَهْ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
انس بن سرین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکر ہ کیا، تو انہوں نے فرمایا : ”اسے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے ، جب وہ پاک ہو جائے تو اس کو ایام طہارت میں اسے طلاق دے دے ۔“ میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے وہ طلاق شمار کی تھی جو ایام کی حالت میں دی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ اسے شمار نہ کرنے کیا وجہ تھی ؟
حدیث نمبر: 5435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ ، قَالَ : كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فِي بَعْثِ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ ، فَجَعَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ : لَا تُقَارِنُوا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْقِرَانِ ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْمِرَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
جبلہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھانے کے لئے کھجور دیا کرتے تھے، اس زمانے میں لوگ انتہائی مشکلات کا شکار تھے، ایک دن ہم کھجوریں کھا رہے تھے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرے اور فرمانے لگے کہ ایک وقت میں کئی کئی کھجوریں اکٹھی مت کھاؤ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر کئی کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5436
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ عَفَّانُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ ، إِذْ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ ، فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ، وَيَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ ، وَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ ، وَيَقُولُ لَهُ : أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا ؟ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا ؟ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا ؟ حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ ، وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ ، قَالَ : فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا ، وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، ثُمَّ يُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ ف وَيَقُولُ الأَشْهَادُ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ سورة هود آية 18 " .
مولانا ظفر اقبال
صفوان بن محرز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، ایک آدمی آ کر کہنے لگا کہ قیامت کے دن جو سرگوشی ہو گی، اس کے متعلق آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بندہ مومن کو اپنے قریب کر یں گے اور اس پر اپنی چادر ڈال کر اسے لوگوں کی نگاہوں سے مستور کر لیں گے اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروائیں گے اور اس سے فرمائیں گے کیا تجھے فلاں فلاں گناہ یاد ہے ؟ جب وہ اپنے سارے گناہوں کا اقرار کر چکے گا اور اپنے دل میں یہ سوچ لے گا کہ اب تو وہ ہلاک ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے میں نے دنیا میں تیری پردہ پوشی کی تھی اور آج تیری بخشش کرتا ہوں، پھر اسے اس کا نامہ اعمال دے دیا جائے گا، باقی رہے کفار اور منافقین تو گواہ کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی تکذیب کیا کرتے تھے، آگاہ رہو ! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ۔
حدیث نمبر: 5437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَفْعَلْ ، فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ مَاتَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص مدینہ میں مر سکتا ہو، اسے ایسا ہی کرنا چاہئے کیونکہ میں مدینہ میں مرنے والوں کی سفارش کروں گا ۔ “
حدیث نمبر: 5438
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدٍ ، سَمِعْتُ نَافِعًا ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ ، فَجَعَلَ يُلْقِي إِلَيْهِ الطَّعَامَ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا ، فَقَالَ لِنَافِعٍ : لَا تُدْخِلَنَّ هَذَا عَلَيَّ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مسکین آدمی کو دیکھا، انہوں نے اسے قریب بلا کر اس کے آگے کھانا رکھا، وہ بہت سا کھانا کھا گیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ دیکھ کر مجھ سے فرمایا : آئندہ یہ میرے پاس نہ آئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا ۔ “
حدیث نمبر: 5440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ ، فَقَالَ : " لَسْتُ آكِلَهُ وَلَا مُحَرِّمَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 5441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْحِجْرِ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قوم ثمود کے قریب سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو، اگر تمہیں رونا نہ آتا ہو تو وہاں نہ جایا کرو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آ پکڑے جو ان پر آیا تھا ۔ “
حدیث نمبر: 5442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ " الْجَنَابَةَ تُصِيبُهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلَ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ يَنَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ بعض اوقات رات کو ان پر غسل واجب ہو جاتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وضو کر لیا کرو اور شرمگاہ کو دھو کر سو جایا کرو ۔
حدیث نمبر: 5443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مُلْتَمِسَهَا ، فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَإِنْ عَجَزَ أَوْ ضَعُفَ ، فَلَا يُغْلَبْ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”شب قدر کو تلاش کرنے والا اسے آخری عشرے میں تلاش کرے، اگر اس سے عاجز آ جائے یا کمزور ہو جائے تو آخری سات راتوں پر مغلوب نہ ہو ۔“
حدیث نمبر: 5444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ الْأُوَلَ حَوْلَ الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا ۔
حدیث نمبر: 5445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ ، وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَمَلِ فِيهِنَّ ، مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ ، فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”عشرہ ذی الحجہ سے بڑھ کر کوئی دن اللہ کی نگاہوں میں معظم نہیں اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی اور دن میں اعمال اتنے زیادہ پسند ہیں اس لئے ان دونوں میں تہلیل و تکبیر اور تحمید کی کثرت کیا کرو ۔“
…