حدیث نمبر: 5368
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا : " لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن الفاظ سے قسم کھایا کرتے تھے وہ یہ تھے «لا و مقلب القلوب» نہیں ، مقلب القلوب کی قسم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ :6628 .
حدیث نمبر: 5369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَا آكُلُ ممَا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ ، وَلَا آكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ " ، حَدَّثَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے نشیبی علاقے میں نزول وحی کا زمانہ شروع ہونے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زید بن عمرو بن نفیل سے ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے دستر خوان بچھایا اور گوشت لا کر سامنے رکھا، انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا جنہیں تم لوگ اپنے بتوں کے نام پر قربان کرتے ہو ، بلکہ میں صرف وہ چیزیں کھاتا ہوں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ :3826 .
حدیث نمبر: 5370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : هَمَّامٌ : فِي كِتَابِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي الْقَبْرِ فَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم اپنے مردوں کو قبر میں اتارو تو کہو «بسم الله ، وعلي سنة رسول الله» ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات .
حدیث نمبر: 5371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ ، وَصَافِحْهُ ، وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ ، قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ ، فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب کسی حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو، اس سے مصافحہ کرو اور اس کے اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے لئے بخشش کی دعاء کرواؤ، کیونکہ وہ بخشا بخشایا ہوا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، محمد بن الحارث الحارثي وعبدالرحمن بن البيلماني أبو محمد ضعيفان ، ومحمد بن عبدالرحمن البيلماني ضعيف أيضا ، وقال عنه البخاري : منكر الحديث .
حدیث نمبر: 5372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ الْجَنَّةَ : مُدْمِنُ الْخَمْرِ ، وَالْعَاقُّ ، وَالدَّيُّوثُ ، الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخَبَثَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تین آدمیوں پر اللہ نے جنت کو حرام قرار دے دیا ہے ، شراب کا عادی ، والدین کا نافرمان اور وہ بےغیرت آدمی جو اپنے گھر میں گندگی کو برداشت کرتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ الذي رواه عن سالم ، لكن سيأتي بأطول مما هنا برقم : 6180، وإسناده حسن .
حدیث نمبر: 5373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَقِيَ نَاسًا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ جَاءَ هَؤُلَاءِ ؟ " قَالُوا : خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ الْأَمِيرِ مَرْوَانَ ، قَالَ : " وَكُلُّ حَقٍّ رَأَيْتُمُوهُ تَكَلَّمْتُمْ بِهِ ، وَأَعَنْتُمْ عَلَيْهِ ، وَكُلُّ مُنْكَرٍ رَأَيْتُمُوهُ أَنْكَرْتُمُوهُ وَرَدَدْتُمُوهُ عَلَيْهِ ؟ " قَالُوا : لَا وَاللَّهِ ، بَلْ يَقُولُ مَا يُنْكَرُ ، فَنَقُولُ : قَدْ أَصَبْتَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ قُلْنَا : قَاتَلَهُ اللَّهُ ، مَا أَظْلَمَهُ وَأَفْجَرَهُ ! ! قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " كُنَّا بِعَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُدُّ هَذَا نِفَاقًا ، لِمَنْ كَانَ هَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
عمر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ مروان کے پاس سے نکل رہے تھے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ان سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے پوچھا کہ یہ لوگ کہاں سے آ رہے ہیں ؟ وہ لوگ بولے کہ ہم امیر مدینہ مروان کے پاس سے آ رہے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا تم نے وہاں جو حق بات دیکھی اس کے متعلق بولے اور اس کی اعانت کی، اور جو منکر دیکھا اس پر نکیر اور تریدد کی ؟ وہ کہنے لگے کہ واللہ ! ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ غلط بات کہتا تھا اور ہم اس کی تائید کرتے تھے اور اس سے کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ بہتری کا معاملہ کرے، اور جب ہم وہاں سے نکل آئے تو ہم کہنے لگے کہ اللہ اسے قتل کرے، یہ کتنا ظالم اور بدکار ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں اس چیز کو ہم نفاق سمجھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ :7178 .
حدیث نمبر: 5374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَارِيَةً مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ ، فَوَهَبَهَا لِي ، فَبَعَثْتُ بِهَا إِلَى أَخْوَالِي مِنْ بَنِي جُمَحٍ ، لِيُصْلِحُوا لِي مِنْهَا حَتَّى أَطُوفَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ آتِيَهُمْ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصِيبَهَا إِذَا رَجَعْتُ إِلَيْهَا ، قَالَ : فَخَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ حِينَ فَرَغْتُ ، فَإِذَا النَّاسُ يَشْتَدُّونَ ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ قَالُوا : رَدَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا ، قَالَ : قُلْتُ : تِلْكَ صَاحِبَتُكُمْ فِي بَنِي جُمَحٍ ، فَاذْهَبُوا فَخُذُوهَا ، فَذَهَبُوا فَأَخَذُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بنو ہوازن کے قیدیوں میں سے ایک باندی عطاء فرمائی وہ انہوں نے مجھے ہبہ کر دی، میں نے اسے بنوجمح میں اپنے ننہیال بھجوادیا تاکہ وہ اسے تیار کریں اور میں بیت اللہ کا طواف کر آؤں، واپس آکر میرا ارادہ اس سے ”خلوت“ کرنے کا تھا، چنانچہ فارغ ہو کر جب میں مسجد سے نکلا تو دیکھا کہ لوگ بھاگے جا رہے ہیں، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے بیٹے اور عورتیں واپس لوٹا دی ہیں، میں نے کہا کہ پھر تمہاری ایک عورت بنوجمح میں بھی ہے، جا کر اسے وہاں سے لے آؤ، چنانچہ انہوں نے وہاں جا کر اسے حاصل کر لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن ، ابن إسحاق صرح بالتحديث هنا ، فانتفت شبهة تدليسه .
حدیث نمبر: 5375
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : جَلَسْتُ أَنَا وَمُحَمَّدٌ الْكِنْدِيُّ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ثُمَّ قُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ ، فَجَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : فَجَاءَ صَاحِبِي وَقَدْ اصْفَرَّ وَجْهُهُ ، وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ ، فَقَالَ : قُمْ إِلَيَّ ، قُلْتُ : أَلَمْ أَكُنْ جَالِسًا مَعَكَ السَّاعَةَ ؟ فَقَالَ سَعِيدٌ : قُمْ إِلَى صَاحِبِكَ ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ ؟ قُلْتُ : وَمَا قَالَ ؟ قَالَ : أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَعَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَحْلِفَ بِالْكَعْبَةِ ؟ قَالَ : وَلِمَ تَحْلِفُ بِالْكَعْبَةِ ؟ إِذَا حَلَفْتَ بِالْكَعْبَةِ فَاحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ إِذَا حَلَفَ ، قَالَ : كَلَّا وَأَبِي ، فَحَلَفَ بِهَا يَوْمًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحْلِفْ بِأَبِيكَ وَلَا بِغَيْرِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور محمد کندی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تھوڑی دیر بعد میں وہاں سے اٹھا اور جا کر سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس بیٹھ گیا، اتنی دیر میں میرا ساتھی آیا، اس کے چہرے کا رنگ متغیر اور پیلا زرد ہو رہا تھا، اس نے آتے ہی کہا کہ میرے ساتھ چلو، میں نے کہا : ابھی میں تمہارے ساتھ ہی تو بیٹھا ہوا تھا، سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہنے لگے کہ تم اپنے ساتھی کے ساتھ جاؤ، چنانچہ میں اٹھ کھڑا ہوا، اس نے مجھ سے کہا کہ تم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات سنی ؟ میں نے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے ؟ اس نے کہا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا، اے ابوعبدالرحمن ! اگر میں خانہ کعبہ کی قسم کھاؤں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہیں خانہ کعبہ کی قسم کھانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اگر تم خانہ کعبہ کی قسم ہی کھانا چاہتے ہو تو رب کعبہ کی قسم کھاؤ، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ «كلا وابي» کہہ کر قسم کھایا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بھی انہوں نے یہی قسم کھا لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنے باپ یا کسی غیر اللہ کی قسم نہ کھاؤ کیونکہ غیر اللہ کی قسم کھانے والاشرک کرتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة محمد الكندي .
حدیث نمبر: 5376
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ أَوْ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، تَحْشُرُ النَّاسَ " ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَاذَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالشَّاَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے قریب حضرموت کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر آپ اس وقت کے لئے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : ”ملک شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا (وہاں چلے جانا)۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ ثَوْبَانَ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ خُيَلَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5783، م :2085.
حدیث نمبر: 5378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ يَقُولُ : " يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا غَدْرَةَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ إِمَامِ عَامَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریب یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور سربراہ مملکت کے دھوکے سے بڑھ کر کسی کا دھوکہ نہ ہو گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح ، وهذا سند حسن في الشواهد .
حدیث نمبر: 5379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ ، فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ قَدْ فَعَلْتَ ، وَلَكِنْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا ، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا ، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے قسم کھالی لیکن تمہارے «لا اله الا الله» کہنے میں اخلاص کی برکت سے تمہارے سارے گناہ معاف ہو گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف .
حدیث نمبر: 5380
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّكَ قَدْ فَعَلْتَ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ غَفَرَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا ہے کہ تم نے وہ کام تو کیا ہے لیکن «لا اله الا الله» کہنے کی برکت سے تمہاری بخشش ہو گئی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه بين ثابت البناني وبين ابن عمر .
حدیث نمبر: 5381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا ، أَوْ حَدِيثًا حَسَنًا ، فَبَدَرَنَا رَجُلٌ مِنَّا ، يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا تَقُولُ فِي الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ ؟ قَالَ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! وَهَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ؟ ! إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ ، فَكَانَ الدُّخُولُ فِيهِمْ أَوْ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً ، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ ! ! " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے، ہمیں امید تھی کہ وہ ہم سے عمدہ احادیث بیان کریں گے لیکن ہم سے پہلے ہی ایک آدمی ”جس کا نام حکم تھا“ بول پڑا اور کہنے لگا، اے ابوعبدالرحمن ! فتنہ کے ایام میں قتال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تیری ماں تجھے روئے، کیا تجھے معلوم ہے کہ فتنہ کیا چیز ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے قتال کیا کرتے تھے ، ان میں یا ان کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا، ایسا نہیں تھا جیسے آج تم حکومت کی خاطر قتال کرتے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ :4651 .
حدیث نمبر: 5382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَحْدَثْتُ ، فَقَالَ : " أَوَحَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ ! ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ”مجھے مسجد سے چٹائی پکڑانا،“ وہ کہنے لگیں کہ میرا وضو نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: الحديث متنه صحيح ، وفي إسناده اضطراب .
حدیث نمبر: 5383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَرَّتَيْنِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " اعْتَمَرَ ثَلَاثَةً سِوَى الْعُمْرَةِ الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے ؟ انہوں نے کہا دو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو معلوم بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو عمرہ کیا تھا، اس کے علاوہ تین عمرے کئے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات .
حدیث نمبر: 5384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً ، وَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ ، فَقُلْنَا : كَيْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنَ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ ؟ ! ثُمَّ قُلْنَا : لَوْ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَبِتْنَا ، ثُمَّ قُلْنَا : لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ تَوْبَةٌ ، وَإِلَّا ذَهَبْنَا ، فَأَتَيْنَاهُ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَخَرَجَ ، فَقَالَ : " مَنْ الْقَوْمُ ؟ " قَالَ : فَقُلْنَا : نَحْنُ الْفَرَّارُونَ ! قَالَ : " لَا ، بَلْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ ، أَنَا فِئَتُكُمْ ، وَأَنَا فِئَةُ الْمُسْلِمِينَ " ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ حَتَّى قَبَّلْنَا يَدَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد میں شریک تھا، لوگ دوران جنگ گھبرا کر بھاگنے لگے، ان میں میں بھی شامل تھا، بعد میں ہم لوگ سوچنے لگے کہ اب کیا ہو گا ؟ ہم تو میدان جنگ سے پشت پھیر کر بھاگے اور اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں ، پھر ہم کہنے لگے کہ مدینہ منورہ چل کر رات وہیں گزارتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہو جائیں گے، اگر تو یہ قبول ہو گئی تو بہت اچھا ورنہ دوبارہ قتال کے لئے روانہ ہو جائیں گے، چنانچہ ہم لوگ نماز فجر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے تو فرمایا : ”کون لوگ ہو ؟“ ہم نے عرض کیا فرار ہو کر بھاگنے والے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کر نے والے ہو ، میں تمہاری ایک جماعت ہوں اور میں مسلمانوں کی ایک پوری جماعت ہوں“ ، پھر ہم نے آگے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو بوسہ دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد.
حدیث نمبر: 5385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا ، عَشَرَةً مِنْ أَهْلِ الشَّاَمِ حَتَّى أَتَيْنَا مَكَّةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا ، يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَلَا بِالدِّرْهَمِ ، وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ ، لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ ، أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم دس آدمی اہل شام میں سے حج کے اراداے سے نکلے اور مکہ مکرمہ پہنچے ، پھر ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، وہ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کی سفارش اللہ کی مقرر کردہ کسی سزا کے درمیان حائل ہو جائے تو گویا اس نے اللہ کے ساتھ ضد کی، جو شخص مقروض ہو کر مر گیا تو اس کا قرض درہم و دینار سے نہیں، نیکیوں اور گناہوں سے ادا کیا جائے گا، جو شخص غلطی پر ہو کر جھگڑا کرتا ہے اور وہ اپنے آپ کو غلطی پر سمجھتا بھی ہے تو وہ اس وقت تک اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹ جاتا، اور جو شخص کسی مسلمان کے متعلق کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس میں نہیں ہے، اللہ اسے اہل جہنم کی پیپ کے مقام پر ٹھہرائے گا یہاں تک کہ وہ بات کہنے سے باز آ جائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ ، فَلَا حُجَّةَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ ، فَقَدْ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے، قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص جماعت کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 5387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ ، لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ،عبدالرحمن بن عبدالله-وإن كان في حديثه ضعف - قد توبع .
حدیث نمبر: 5388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 قَالَ : " يَقُومُونَ حَتَّى يَبْلُغَ الرَّشْحُ آذَانَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» ”جب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 2862.
حدیث نمبر: 5389
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ الْبَاهِلِيُّ أَبُو الْحَسَينِ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنْتُ أَعْزَبَ شَابًّا أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَتْ الْكِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں جب میں کنوارا نوجوان تھا، تو رات کو مسجد نبوی میں سو جایا کرتا تھا ، اس وقت مسجد میں کتے آیا جایا کرتے تھے اور لوگ اس کے بعد زمین پر معمولی سا چھڑکاؤ بھی نہ کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبي صالح الأخضر ، وقوله : كنت أعزب شابا أبيت في المسجد ، أخرجه بنحوه مطولا : خ : 1121 ، و م : 2479 .
حدیث نمبر: 5390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو طُعْمَةَ ، قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : لَا أَعْرِفُ إِيشْ اسْمُهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمِرْبَدِ ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ ، فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ فَتَأَخَّرْتُ لَهُ ، فَكَانَ عَنْ يَمِينِهِ ، وَكُنْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ ، فَتَنَحَّيْتُ لَهُ ، فَكَانَ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِرْبَدَ ، فَإِذَا بِأَزْقَاقٍ عَلَى الْمِرْبَدِ فِيهَا خَمْرٌ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُدْيَةِ ، قَالَ : وَمَا عَرَفْتُ الْمُدْيَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ ، فَأَمَرَ بِالزِّقَاقِ فَشُقَّتْ ، ثُمَّ قَالَ : " لُعِنَتْ الْخَمْرُ ، وَشَارِبُهَا ، وَسَاقِيهَا ، وَبَائِعُهَا ، وَمُبْتَاعُهَا ، وَحَامِلُهَا ، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ ، وَعَاصِرُهَا ، وَمُعْتَصِرُهَا ، وَآكِلُ ثَمَنِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے باڑے کی طرف تشریف لے گئے، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا گیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب تھا، تھوڑی دیر بعد سامنے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دئیے، میں اپنی جگہ سے ہٹ گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف آ گئے اور میں بائیں جانب، اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے، میں پھر اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب آ گئے ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے باڑے میں پہنچے تو وہاں کچھ مشکیزے نظر آئے جن میں شراب تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چھری منگوائی، مجھے چھری نامی کسی چیز کا اسی دن پتہ چلا، بہرحال ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان مشکیزوں کو چاک کر دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”شراب پر، اس کے پینے اور پلانے والے پر، اس کے بیچنے اور خریدنے والے پر، اس کے اٹھانے اور اٹھوانے والے پر، اس کے نچوڑنے اور نچڑوانے والے پر، اور اس کی قیمت کھانے پر لعنت ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن ، عبدالله بن لهيعة - وإن كان ضعيفا - قد روى عنه أيضا ابن وهب وسماعه منه قبل احتراق كتبه ، والمرفوع منه صحيح بطرقه وشواهده .
حدیث نمبر: 5391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي طُعْمَةَ مَوْلَاهُمْ ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُعِنَتْ الْخَمْرُ عَلَى عَشَرَةِ وُجُوهٍ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 5392
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو طُعْمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي أَقْوَى عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوطعمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا ، اے ابو عبدالرحمن ! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی طرف سے دی جانے والی رخصت کو قبول نہیں کرتا، اس پر عرفہ کے پہاڑوں کے برابر گناہ ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ، لضعف ابن لهيعة .
حدیث نمبر: 5393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَأَلْتُ جَابِرًا ، عَنْ إِمْسَاكِ الْكَلْبِ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَمْسَكَهُ ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کتے رکھنے کا مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کتا رکھتا ہے اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ، لضعف ابن لهيعة ، وقد سلف بإسناد صحيح برقم: 4479 بلفظ: «من اقتنى كلبا ليس بضار ولا كلب ماشية نقص من أجره كل يوم قيراطان» .
حدیث نمبر: 5394
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي الْمُصَلَّى فِي الْفِطْرِ ، وَإِلَى جَنْبِهِ ابْنٌ لَهُ ، فَقَالَ لِابْنِهِ : هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي هَذَا الْيَوْمِ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي قَبْلَ الْخُطْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن رافع حضرمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو عیدالفطر کے دن عیدگاہ میں دیکھا ، ان کی ایک جانب ان کا ایک بیٹا تھا، وہ اپنے بیٹے سے کہنے لگے کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کیا کرتے تھے ؟ اس نے کہا : مجھے معلوم نہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ : 963، م :888.
حدیث نمبر: 5395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ ، وَلَا بَيْعَتَيْنِ فِي وَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تمہیں کسی مالدار کے حوالے کر دیا جائے تو اس کے پیچھے لگ کر اپنا قرض اس سے وصول کرو اور ایک معاملے میں دو بیع کرنا صیحح نہیں ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد رجاله ثقات .
حدیث نمبر: 5396
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبِيتَنَّ النَّارُ فِي بُيُوتِكُمْ ، فَإِنَّهَا عَدُوٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑا کرو کیونکہ وہ دشمن ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة .
حدیث نمبر: 5397
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ " الْمَغَانِمَ تُجَزَّأُ خَمْسَةَ أَجْزَاءٍ ، ثُمَّ يُسْهَمُ عَلَيْهَا ، فَمَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ لَهُ ، يَتَخَيَّرُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے مال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم ہوتے ہوئے دیکھا ہے، پھر اس کا حصہ لگتے ہوئے بھی دیکھا ہے، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ ہوتا تھا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں ہوتا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ، لضعف ابن لهيعة .
حدیث نمبر: 5398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، إِلَّا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نیلامی کی بیع کے متعلق سوال پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے سوائے مال غنیمت کے یا مال وراثت کے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ، لضعف ابن لهيعة .
حدیث نمبر: 5399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَبَادِرْ الصُّبْحَ بِرَكْعَةٍ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا جبکہ میں ان دونوں کے درمیان تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے پڑھ لیا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم .
حدیث نمبر: 5400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ ، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ ، وَكَانَ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچے کی اپنی طرف نسبت کی نفی کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر ا دی اور بچے کو ماں کے حوالے کر دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5315، م :1494.
حدیث نمبر: 5401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، عبدالله العمري-وإن كان ضعيفا-متابع .
حدیث نمبر: 5402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ الْأَنْدَرَاوَرْدِيُّ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْمُحَارِبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَيْفَ كَانَتْ ؟ قَالَ : فَذَكَرَ " التَّكْبِيرَ كُلَّمَا وَضَعَ رَأْسَهُ وَكُلَّمَا رَفَعَهُ ، وَذَكَرَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ عَنْ يَسَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
واسع بن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہر مرتبہ سر جھکاتے اور اٹھاتے وقت تکبیر کا ذکر کیا اور دائیں جانب «السلام عليكم ورحمته الله» کا اور بائیں جانب «السلام عليكم» کا ذکر کیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 5403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِلَالٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1191، م :1399.
حدیث نمبر: 5404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو ، اگر تمہیں رونا نہ آتا ہو تو وہاں نہ جایا کرو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آ پکڑے جو ان پر آیا تھا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م :2980.
حدیث نمبر: 5405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ ، فَقَالَ لَهُ : " مَنْ بَايَعْتَ ، فَقُلْ : لَا خِلَابَةَ " ، فَكَانَ يَقُولُ إِذَا بَايَعَ : لَا خِلَابَةَ ، وَكَانَ فِي لِسَانِهِ رُتَّةٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش کا ایک آدمی تھا جسے بیع میں لوگ دھوکہ دے دیتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکر ہ ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم جس سے خرید و فروخت کیا کرو اس سے یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے ۔“ چونکہ اس کی زبان میں لکنت تھی لہٰذا وہ «لاخلابه» کے بجائے «لاخيابه» کہہ دیتا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م :1533.
حدیث نمبر: 5406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ ، وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سفر میں اس طرح کیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1000، م :700.
حدیث نمبر: 5407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبَذَهُ ، وَقَالَ : " لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا " ، قَالَ : فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اسے پھینک دیا اور فرمایا : ”آئندہ میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا چنانچہ لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ :5867.