حدیث نمبر: 5328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثُوَيْرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کر نے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف جدا، لضعف ثويبر .
حدیث نمبر: 5329
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَكَانَ فِي النُّسْخَةِ الَّتِي قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : نَافِعٍ ، فَغَيَّرَهُ ، فَقَالَ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، كَانَ " يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 1399.
حدیث نمبر: 5330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1191، م : 1399.
حدیث نمبر: 5331
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي ، وَقَالَ : اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ، قُلْتُ : وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ؟ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
علی بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے دوران نماز کھیلتے ہوئے دیکھا ، تو نماز سے فارغ ہو کر مجھے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا نماز میں اسی طرح کیا کرو جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی کو دائیں ران پر رکھ کر تمام انگلیاں بند کر لیتے تھے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ فرماتے تھے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 580.
حدیث نمبر: 5332
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیس درجے زیادہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 645، م : 650.
حدیث نمبر: 5333
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّا " نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ ؟ ! فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
آل خالد بن اسید کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ قرآن کریم میں ہمیں نماز خوف اور حضر کی نماز کا تذکرہ تو ملتا ہے لیکن سفر کی نماز کا تذکرہ نہیں ملتا (اس کے باوجود سفر میں نماز قصر کی جاتی ہے ؟ ) انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت مبعوث فرمایا ہم کچھ نہیں جانتے تھے ہم تو وہ کریں گے جیسے ہم نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح ، وهذا إسناد لم يقمه الإمام مالك كما قال ابن عبد البر في التمهيد 161/11 .
حدیث نمبر: 5334
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 700.
حدیث نمبر: 5335
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ ، فَحَكَّهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى " ، قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ : بُصَاقًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب تھوک لگا ہوا دیکھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے نہ تھوکا کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 406، م :547.
حدیث نمبر: 5336
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ ، وَقَالَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”محرم کو زعفران یا ورس سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع کیا ہے اور ارشاد فرمایا : ”اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5852، م :1177.
حدیث نمبر: 5337
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ! " مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ " ، يَعْنِي : مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ مَالِكٍ .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے یہ وہ مقام بیداء ہے جس کے متعلق تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت کرتے ہو ، بخدا ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی مسجد ہی سے احرام باندھا ہے (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور کر رکھا ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1541، م :1186.
حدیث نمبر: 5338
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ مِنْ أَصْحَابِكَ مَنْ يَصْنَعُهَا ! قَالَ : مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ ؟ قَالَ : رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ ، وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " أَمَّا الْأَرْكَانُ : فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ : فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ ، وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا ، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ : فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا ، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ : فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ نَاقَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبید ابن جریج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں جو میں آپ کے ساتھیوں میں آپ کے علاوہ کسی اور کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، انہوں نے پوچھا کہ وہ کون سے کام ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے ہیں ،کسی اور رکن کا استلام نہیں کرتے ، میں آپ کو رنگی ہوئی کھالوں کی جوتیاں پہنے ہوئے دیکھتا ہوں ، اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ اپنی داڑھی کو رنگین کرتے ہیں ؟ اور میں دیکھتا ہوں کہ جب آپ مکہ مکرمہ میں ہوتے ہیں تو لوگ چاند دیکھتے ہی تلبیہ پڑھ لیتے ہیں اور آپ اس وقت تک تلبیہ نہیں پڑھتے جب تک ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ نہ آ جائے ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رکن یمانی اور حجر اسود ہی کو بوسہ دینے کی جو بات ہے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انہی دو کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے علاوہ کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے ، رنگی ہوئی کھال کی جوتیاں پہننے کی جو بات ہے تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسی جوتی پہنی ہے ، اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو بھی فرما لیتے تھے اور اسے پسند کرتے تھے ، داڑھی کو رنگنے کا جو مسئلہ ہے ، سو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی داڑھی رنگتے ہوئے دیکھا ہے اور احرام باندھنے کی جو بات ہے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھاجب تک سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر روانہ نہیں ہو جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 166، م :1187.
حدیث نمبر: 5339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکر و مؤنث اور آزاد و غلام سب مسلمانوں پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 5340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ خُسِفَ بِهِ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک آدمی تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے کو زمین پر گھسیٹتا چلا جا رہا تھا کہ اچانک زمین میں دھنس گیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5790 .
حدیث نمبر: 5341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا قَبْلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر رات کی نماز سے متعلق دریافت کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو ، تم نے رات میں جتنی نماز پڑھی ہو گی ان سب کی طرف سے یہ وتر کے لئے کافی ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ : 473، م :729، وهذا إسناد جيد .
حدیث نمبر: 5342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ : " لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ " ، وَتَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قوم ثمود پر سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو ، اگر تمہیں رونا نہ آتا ہو تو وہاں نہ جایا کرو ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ پر چادر ڈھانپ لی اور اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار تھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3380 .
حدیث نمبر: 5343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوف ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، وَقَالَ مَرَّةً : حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، تَصَدَّقْنَ وَأَكْثِرْنَ ، فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ، لِكَثْرَةِ اللَّعْنِ وَكُفْرِ الْعَشِيرِ ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ ؟ قَالَ : " أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ ، فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ ، فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ ، وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ لَا تُصَلِّي ، وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ ، فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے گروہ خواتین ! کثرت سے صدقہ دیا کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں تمہاری اکثریت دیکھی ہے اور ایسا تمہاری لعن طعن میں کثرت اور شوہروں کی نافرمانی کی وجہ سے ہو گا ، میں نے تم سے بڑھ کر دین و عقل کے اعتبار سے کوئی ناقص مخلوق ایسی نہیں دیکھی جو تم سے زیادہ کسی عقلمند آدمی پر غالب آ جاتی ہو ایک خاتون نے پوچھا : یا رسول اللہ ! دین و عقل میں ناقص ہونے سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہونا تو عقل کے ناقص ہونے کی علامت ہے اور کئی دنوں تک نماز روزہ نہ کر سکنا دین کے ناقص ہونے کی علامت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 79.
حدیث نمبر: 5344
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ ، وَالْيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اوپر والے ہاتھ سے مرادخرچ کر نے والا اور نیچے والے ہاتھ سے مراد مانگنے والا ہاتھ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1429، م :1033.
حدیث نمبر: 5345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ صدقہ فطر عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ : 1503، وهذا إسناد حسن من أجل أسامة بن زيد .
حدیث نمبر: 5346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ . . " فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص غیر اللہ کی قسم کھاتا ہے۔۔۔۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق سخت بات ارشاد فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5347
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سَالِمٌ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَكْثَرُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ بِهَذِهِ الْيَمِينِ ، يَقُولُ : " لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جن الفاظ سے قسم کھایا کرتے تھے وہ یہ تھے «لا و مقلب القلوب» نہیں، مقلب القلوب کی قسم
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6617 .
حدیث نمبر: 5348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حدثنا عبد الله ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَبَّقَ بِالْخَيْلِ وَرَاهَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ منعقد کروایا اور ایک جگہ مقرر کر کے شرط لگائی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ يَعْنِي السُّكَّرِيَّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صَدَقَةَ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَاتُّخِذَ لَهُ فِيهِ بَيْتٌ مِنْ سَعَفٍ ، قَالَ : فَأَخْرَجَ رَأْسَهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ بِمَا يُنَاجِي رَبَّهُ ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجور کی شاخوں سے ایک خیمہ بنادیا گیا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے سر نکالا اور ارشاد فرمایا : ”جو شخص بھی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے درحقیقت وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تم اپنے رب سے کیا مناجات کر رہے ہو ؟ اور تم نماز میں ایک دوسرے سے اونچی قرأت نہ کیا کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، ابن أبي ليلى-وإن كان سيء الحفظ- قد تابعه معمر بن راشد فيما مضى برقم : 4928 .
حدیث نمبر: 5350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَنَ بَيْنَ حَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ ، أَجْزَأَهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص حج و عمرہ کا قران کرے اس کے لئے ان دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف کافی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا بهذا اللفظ .
حدیث نمبر: 5351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ ثَوْبِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ خُيَلَاءَ " ، قَالَ مُوسَى : قُلْتُ لِسَالِمٍ : أَذَكَرَ عَبْدُ اللَّهِ : " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ " ؟ قَالَ : لَمْ أَسْمَعْهُ ذَكَرَ إِلَّا " ثَوْبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہیں فرمائے گا“ ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک کونا بعض اوقات نیچے لٹک جاتا ہے گو کہ میں کوشش تو بہت کرتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3665 .
حدیث نمبر: 5352
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3665 .
حدیث نمبر: 5353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِي هَذِهِ السَّبَخَةِ بِمَرِّ قَنَاةَ ، فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْجِعُ إِلَى حَمِيمِهِ ، وَإِلَى أُمِّهِ ، وَابْنَتِهِ ، وَأُخْتِهِ ، وَعَمَّتِهِ ، فَيُوثِقُهَا رِبَاطًا ، مَخَافَةَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ يُسَلِّطُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ ، فَيَقْتُلُونَهُ وَيَقْتُلُونَ شِيعَتَهُ ، حَتَّى إِنَّ الْيَهُودِيَّ لَيَخْتَبِئُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَوْ الْحَجَرِ ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوْ الشَّجَرَةُ لِلْمُسْلِمِ : هَذَا يَهُودِيٌّ تَحْتِي ، فَاقْتُلْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دجال اس ”مرقناۃ“ کی دلدلی زمین میں آ کر پڑاؤ ڈالے گا، اس کے پاس نکل نکل کر جانے والوں میں اکثریت خواتین کی ہو گی اور نوبت یہاں تک جاپہنچے گی کہ ایک آدمی اپنے گھر میں اپنی ماں، بیٹی، بہن اور پھوپھی کے پاس آ کر انہیں اس اندیشے سے کہ کہیں یہ دجال کے پاس نہ چلی جائیں، رسیوں سے باندھ دے گا، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دجال پر تسلط عطاء فرمائے گا اور وہ اسے اور اس کے ہمنواؤں کو قتل کر دیں گے، حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے نیچے چھپا ہو گا تو وہ درخت اور پتھر مسلمانوں سے پکار پکار کر کہے گا کہ یہ میرے نیچے یہودی چھپا ہوا ہے، آ کر اسے قتل کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ، فيه محمد بن إسحاق وهو مدلس، وقد عنعن .
حدیث نمبر: 5354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ اسْتَغْفَرَ مِائَةَ مَرَّةٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَتُبْ عَلَيَّ ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ " ، أَوْ " إِنَّكَ تَوَّابٌ غَفُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سو مرتبہ استغفار کرتے ہوئے سنا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ أَوْ إِنَّكَ تَوَّابٌ غَفُورٌ» ”اے اللہ مجھے معاف فرما ، مجھ پر رحم فرما، مجھ پر توجہ فرما ، بیشک تو نہایت توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے یا یہ کہ نہایت بخشنے والا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح .
حدیث نمبر: 5355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ : وَقَالَ عَطَاءٌ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ ، حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ ، وَالْمَاءُ يَجْرِي عَلَى اللُّؤْلُؤِ وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” کوثر جنت میں ایک نہر ہو گی جس کے دونوں کنارے سونے کے ہوں گے اور اس کا پانی موتیوں پر بہتا ہو گا، نیز اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہو گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي، وهذا إسناد فيه ضعف ، فإن عطاء قد اختلط ، وراويه عنه هنا ورقاء ابن عمر اليشكري، وهو ممن روى عنه بعد الاختلاط، لكن سيأتي برقم : 5913 من طريق حماد بن زيد ، وهو ممن روى عن عطاء قبل الاختلاط.
حدیث نمبر: 5356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْقَزَعِ فِي الرَّأْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا ہے ، ( قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوالیے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں ) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 2120.
حدیث نمبر: 5357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَيَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِذَنْبٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ يَقُولُ : " لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ : يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ ، وَيَنْصَحُهُ إِذَا غَابَ ، وَيَشْهَدُهُ ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ ، وَيَتْبَعُهُ إِذَا مَاتَ " ، وَنَهَى عَنْ هِجْرَةِ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ”ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے رسوا کرتا ہے۔ “ اور فرماتے تھے : ”اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، جو دو آدمی بھی آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں اور ان دونوں کے درمیان جدائی ہو جائے تو وہ یقیناً ان میں سے کسی ایک کے گناہ کی وجہ سے ہو گی، اور فرماتے تھے کہ ایک مسلمان آدمی پر اپنے بھائی کے چھ حقوق ہیں ، چھینک آنے پر اس کا جواب دے ، بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرے، اس کی غیر موجودگی میں خیرخواہی کرے، ملاقات ہونے پر اسے سلام کرے ، دعوت دینے پر قبول کرے اور فوت ہو جانے پر اس کے جنازے میں شرکت کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف ابن لهيعة .
حدیث نمبر: 5358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف عبدالله بن عمر .
حدیث نمبر: 5359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ بِمَكَّةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مَعَهُ ، فَقَالَ أَبِي : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَثَلَ الْمُنَافِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالشَّاةِ بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ مِنَ الْغَنَمِ ، إِنْ أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحْتَهَا وَإِنْ أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحْتَهَا " ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : كَذَبْتَ ، فَأَثْنَى الْقَوْمُ عَلَى أَبِي خَيْرًا ، أَوْ مَعْرُوفًا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَا أَظُنُّ صَاحِبَكُمْ إِلَّا كَمَا تَقُولُونَ ، وَلَكِنِّي شَاهِدٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ : " كَالشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ " ، فَقَالَ : هُوَ سَوَاءٌ ، فَقَالَ : هَكَذَا سَمِعْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابن عبید رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کسی مجلس میں بیٹھے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی وہاں تشریف فرما تھے ، میرے والد صاحب کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت کے دن منافق کی مثال اس بکری کی سی ہو گی جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو، اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں اور اس ریوڑ کے پاس جائے، تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں۔ “ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ آپ کو غلطی لگی ہے، ادھر لوگ میرے والد صاحب کی تعریف کر نے لگے، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں بھی تمہارے ساتھی کو ویسا ہی سمجھتا ہوں جیسے تم لوگ کہہ رہے ہو لیکن میں بھی اس مجلس میں موجود تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر «غنمين» کا لفظ استعمال کیا تھا ، عبید نے فرمایا کہ یہ دونوں برابر ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف ، لضعف الهذيل بن بلال .
حدیث نمبر: 5360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَابَيْ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ تَحِيَّةَ الصَّلَاةِ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا ؟ " فَتَلَا عَلَيَّ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ، يَعْنِي : قَوْلَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فِي التَّشَهُّدِ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بابی المکی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا : کیا میں تمہیں تحیۃ الصلوٰۃ نہ سکھاؤں جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے ؟ یہ کہہ کر انہوں نے میرے سامنے تشہد کے وہ کلمات پڑھے جو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ " قَالَ : لَا ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا فَعَلْتُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام : " قَدْ فَعَلَ ، وَلَكِنْ قَدْ غُفِرَ لَهُ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، قَالَ حَمَّادٌ : لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنَ ابْنِ عُمَرَ ، بَيْنَهُمَا رَجُلٌ ، يَعْنِي : ثَابِتًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص سے پوچھا کہ تم نے یہ کام کیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، میں نے یہ کام نہیں کیا، اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آ گئے اور کہنے لگے کہ وہ کام تو اس نے کیا ہے لیکن «لا اله الا الله» کہنے کی برکت سے اس کی بخشش ہو گئی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه مابين ثابت البناني وبين ابن عمر .
حدیث نمبر: 5362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شَاءَ فَلْيَمْضِ ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَتْرُكْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے، اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہئے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کر لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5363
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبِشْرُ بْنُ عَائِذٍ الْهُذَلِيُّ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ریشمی لباس وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده من جهة بكر بن عبدالله المزني صحيح ، وسلف الكلام بشر بن عائذ برقم : 5125 .
حدیث نمبر: 5365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ ، وَمَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ ، فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دے دو ، جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطاء کر دو، جو شخص تمہیں دعوت دے اسے قبول کر لو ، جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ دینے کے لئے کچھ نہ ملے تو اس کے لئے اتنی دعائیں کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ يَدِهِ ، قَالَ : فَطَرَحَهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی ، اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہر لگاتے تھے لیکن اسے پہنتے نہیں تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5865، م :2091.
حدیث نمبر: 5367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَجِيبُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تمہیں دعوت دی جائے تو اسے قبول کر لیا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5179، م :1429.