حدیث نمبر: 5288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً ، فَبَلَغَتْ سِهَامُهُمْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا ، أَوْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا ، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ روانہ فرمایا ، انہیں مال غنیمت سے اونٹ ملے ، ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے بھی عطاء فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3134 ، م : 1749 .
حدیث نمبر: 5289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشِّغَارِ " ، قَالَ مَالِكٌ : وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ : أَنْكِحْنِي ابْنَتَكَ ، وَأُنْكِحُكَ ابْنَتِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار (وٹے سٹے کی صورت) سے منع فرمایا ہے ، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں نکاح شغار کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے کہ تم اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دو میں اپنی بیٹی کا نکاح تم سے کر دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5112 ، م : 1415 .
حدیث نمبر: 5290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ " صَلَّى الْمَغْرِبَ بِجَمْعٍ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ " ، ثُمَّ حَدَّث عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک ہی اقامت سے پڑی اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بیان کیا کہ انہوں نے بھی اسی طرح کیا تھا اور انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 1288 .
حدیث نمبر: 5291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ ، فَخَطَبَا ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ بَيَانِهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ سِحْرٌ " ، أَوْ " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرق کی طرف سے دو آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے جو گفتگو کی لوگوں کو اس کی روانی اور عمدگی پر تعجب ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5767 .
حدیث نمبر: 5292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا ہے جب تک وہ پک نہ جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ممانعت بائع اور مشتری دونوں کو فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 1535 .
حدیث نمبر: 5293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں سفر پر جاتے وقت قرآن کریم اپنے ساتھ لے جانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 1535 .
حدیث نمبر: 5294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تک چاند دیکھ نہ لو ، روزہ نہ رکھو اور چاند دیکھے بغیر عید بھی نہ مناؤ ، اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اندازہ کر لو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1906 ، م : 1080 .
حدیث نمبر: 5295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَوْ غَزْوٍ ، كَبَّرَ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، آيِبُونَ تَائِبُونَ ، سَاجِدُونَ عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حج ، جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو زمین کے جس بلند حصے پر چڑھتے ، تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھتے : ”اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں ، سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں ، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1797 ، م : 1344 .
حدیث نمبر: 5296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھی ہیں ، نیز مغرب کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور دو رکعتیں جمعہ کے بعد اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 937 ، م : 882 .
حدیث نمبر: 5297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ " ، وَالْمُزَابَنَةُ : اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَالْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ کی ممانعت فرمائی ہے ، بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ کٹی ہوئی کھجور کی درختوں پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے اور انگور کی کشمش کے بدلے ، اندازے سے بیع کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2171 ، م : 1542 .
حدیث نمبر: 5298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، خَرَجَ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، وَقَالَ : " إِنْ نُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ ، صَنَعْنَا كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ایام امتحان میں عمرے کے لئے روانہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر ہمیں بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم اسی طرح کریں گے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1639 ، م : 1230 .
حدیث نمبر: 5299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ”ایام“ کی حالت میں ایک طلاق دے دی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ رجوع کر لیں اور دوبارہ ”ایام“ آنے تک انتظار کریں اور ان سے ”پاکیزگی “حاصل ہونے تک رکے رہیں ، پھر اپنی بیوی کے ”قریب“جانے سے پہلے اگر چاہیں تو اسے طلاق دے دیں ، اور چاہیں تو اسے روک لیں یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ نے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی رخصت دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5251 ، م : 1471 .
حدیث نمبر: 5300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد و عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3635 ، م : 1699 .
حدیث نمبر: 5301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَحَرَّيَنَّ أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا " ، قُلْتُ لِمَالِكٍ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 585، م : 828 .
حدیث نمبر: 5302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ رِيحٍ وَبَرْدٍ فِي سَفَرٍ " أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ قَالَ : الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر سردی کی راتوں میں یا بارش والی راتوں میں نماز کا اعلان کر کے یہ منادی کر دیتے تھے کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 666، م : 697 .
حدیث نمبر: 5303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، عَنْ كُلِّ ذَكَرٍ وَأُنْثَى ، وَحُرٍّ وَعَبْدٍ ، مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکر و مؤنث اور آزاد و غلام سب مسلمانوں پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1504، م : 984 .
حدیث نمبر: 5304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَلَقِّي السِّلَعِ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا الْأَسْوَاقُ ، وَنَهَى عَنِ النَّجْشِ ، وَقَالَ : " لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار میں سامان پہنچنے سے پہلے تاجروں سے ملنے اور دھوکہ کی بیع سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2165، م : 1517 .
حدیث نمبر: 5305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر کی جلدی ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کے درمیان جمع صوری فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2165، م : 1517 .
حدیث نمبر: 5306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِرَتْ ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص کسی ایسے درخت کو فروخت کرے جس میں کھجوروں کی پیوندکاری کی گئی ہو تو اس کا پھل بائع کی ملکیت میں ہو گا ، الاّ یہ کہ مشتری خریدتے وقت اس کی بھی شرط لگا دے (کہ میں یہ درخت پھل سمیت خرید رہا ہوں )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2204، م : 1543 .
حدیث نمبر: 5307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ جانور کے حمل سے پیدا ہونے والے بچے کی ” جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہے پیٹ میں ہی“ بیع کر نے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2143 .
حدیث نمبر: 5308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ، قَالَ : " لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ ، وَلَا الْعَمَائِمَ ، وَلَا الْبَرَانِسَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ ، وَلَا الْخِفَافَ ، إِلَّا مَنْ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ ، فَيَقْطَعُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ مَا مَسَّهُ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ محرم کون سا لباس پہن سکتا ہے ؟ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قمیض ، شلوار ، ٹوپی ، عمامہ اور موزے نہ پہنو الاّ یہ کہ جوتے نہ ملیں ، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے ، اسی طرح ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو وہ بھی نہ پہنو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1542، م : 1177 .
حدیث نمبر: 5309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا ، فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص غلہ خریدے ، اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال ” جس کی قیمت تین درہم تھی “ چوری کر نے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6795، م : 1686 .
حدیث نمبر: 5311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 877، م : 644 .
حدیث نمبر: 5312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا ، " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچے کی اپنی طرف نسبت کی نفی کی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی درمیان تفریق کرا دی اور بچے کو ماں کے حوالے کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5315، م : 1494 .
حدیث نمبر: 5313
(حديث مرفوع) قالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وحَدَّثَنِي حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ برباد ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 552، م : 626 .
حدیث نمبر: 5314
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ جَنَابَةٌ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، ثُمَّ نَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ بعض اوقات رات کو ان پر غسل واجب ہو جاتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وضو کر لیا کرو اور شرمگاہ کو دھو کر سو جایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 290، م : 306.
حدیث نمبر: 5315
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”حامل قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے ، جسے اس کا مالک اگر باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلاچھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5031، م : 789.
حدیث نمبر: 5316
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 617، م : 1092.
حدیث نمبر: 5317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثُوَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً الَّذِي يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ سَنَةٍ ، وَإِنَّ أَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً " ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ سورة القيامة آية 22 - 23 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جنت میں سب سے کم درجے کا آدمی ایک ہزار سال کے فاصلے پر پھیلی ہوئی مملکت میں اپنے باغات ، نعمتوں ، تختوں اور خادموں کو بھی دیکھتا ہو گا جب کہ سب سے افضل درجے کا جنتی روزانہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کا دیدار کر نے والا ہو گا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔“ [القيامة]
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، ثويربن أبي فاختة ضعفه غير واحد من الأئمة ، وقال الدارقطني وعلي ابن الجنيد : متروك .
حدیث نمبر: 5318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، رَفَعَ الْحَدِيثَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 ، قَالَ : " يَقُومُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت ”جب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 4938، م : 2862.
حدیث نمبر: 5319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَبَعْضَ عَمَلِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : وَلَوْ شِئْتُ ، قُلْتُ : عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ ، بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ ، فَذَهَبَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " ، فَتَرَكَ أَنْ يُكْرِيَهَا ، فَكَانَ إِذَا سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ ، يَقُولُ : زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما خلفاء ثلاثہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلاف میں اپنی زمین کرائے پر دیا کرتے تھے ، اگر میں چاہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت کا بھی ذکر کر سکتا ہوں ، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں انہیں پتہ چلا کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر دینے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت روایت کرتے ہیں ، تو وہ ان کے پاس آئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا انہوں نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام چھوڑ دیا اور بعد میں جب کوئی ان سے پوچھتا تو وہ فرما دیتے کہ رافع بن خدیج کا یہ خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2343، م : 1547.
حدیث نمبر: 5320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ " ، قَالَ : فَكَانَ نَافِعٌ يُفَسِّرُهَا : الثَّمَرَةُ تُشْتَرَى بِخَرْصِهَا تَمْرًا بِكَيْلٍ مُسَمًّى ، إِنْ زَادَتْ فَلِي ، وَإِنْ نَقَصَتْ فَعَلَيَّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ کی ممانعت فرمائی ہے ، بیع مزابنہ کی تشریح نافع یوں کرتے ہیں کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو ایک معین اندازے سے بیچنا اور یہ کہنا کہ اگر اس سے زیادہ نکلیں تو میری اور اگر کم ہو گئیں تب بھی میری۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، يَقُولُ : إِمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوْ اثْنَتَيْنِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا إِنْ لَمْ يُرِدْ إِمْسَاكَهَا ، وَإِمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا ، فَقَدْ عَصَيْتَ اللَّهَ تَعَالَى فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ ، وَبَانَتْ مِنْكَ ، وَبِنْتَ مِنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ”ایام“ کی حالت میں ایک طلاق دے دی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ رجوع کر لیں اور دوبارہ ”ایام “ آنے تک انتظار کریں اور ان سے ”پاکیزگی“ حاصل ہونے تک رکے رہیں ، پھر اپنی بیوی کے ”قریب“جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ نے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی رخصت دی ہے ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ جب ان سے اس شخص کے متعلق پوچھا جاتا جو ”ایام“ کی حالت میں بیوی کو طلاق دے دے تو وہ فرماتے کہ تم نے تو اسے ایک یا دو طلاقیں کیوں نہیں دیں ، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور دوسرے ایام اور ان کے بعد طہر ہونے تک انتظار کریں ، پھر اس کے قریب جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں ، جب کہ تم تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے آئے ہو ، تم نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے سے متعلق بتایا ہے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو چکی اور تم اس سے جدا ہو چکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 1471.
حدیث نمبر: 5322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَكُونَ الْعَامَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ ، فَلَوْ أَقَمْتَ ، فَقَالَ : قَدْ " حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، فَإِنْ يُحَلْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، أَفْعَلْ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ، ثُمَّ قَالَ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ ، قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَرَى سَبِيلَهُمَا إِلَّا وَاحِدًا ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا ، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حج اور عمرہ کبھی ترک نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ ان کے پاس ان کے صاحبزداے عبداللہ آئے اور کہنے لگے کہ مجھے اندیشہ ہے اس سال لوگوں کے درمیان قتل و قتال ہو گا ، اگر آپ اس سال ٹھہر جاتے اور حج کے لئے نہ جاتے تو بہتر ہوتا ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حج کے لئے روانہ ہوئے تھے اور کفار قریش ان کے اور حرم شریف کے درمیان حائل ہو گئے تھے ، اس لئے اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ ”تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے“ اور فرمایا : ” میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کی نیت کر چکا ہوں۔“ اس کے بعد وہ روانہ ہو گئے چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا تو ہے میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کر لی ہے ، چنانچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچے اور دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1639، م : 1230.
حدیث نمبر: 5323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ ؟ قَالَ : " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَأَهْلُ الشاَمِ مِنَ الْجُحْفَةِ ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " ، قَالَ : وَيَقُولُونَ : وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ ہمیں کہاں سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ ، اہل شام کے لئے جحفہ ، اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے یہ نے یہ بھی کہا کہ اہل یمن کی میقات یلملم ہے لیکن مجھے یہ یاد نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1525، م : 1182.
حدیث نمبر: 5324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا نَقْتُلُ مِنَ الدَّوَابِّ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ : " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ : الحُدَيَّة ، وَالْغُرَابُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْعَقْرَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا : یا رسول اللہ ! احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کر سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بچھو ، چوہے ، چیل ، کوے اور باؤلے کتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 1199.
حدیث نمبر: 5325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ : " لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَ ، وَلَا الْعِمَامَةَ ، وَلَا الْخُفَّيْنِ ، إِلَّا أَحَدٌ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا الْبُرْنُسَ ، وَلَا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! ہم احرام باندھنے کے بعد کون سے کپڑے پہن سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قمیض ، شلوار ، عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں ، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو ،بھی محرم نہیں پہن سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5794.
حدیث نمبر: 5326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي ثُوَيْرٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا مِنْ هَذَا ، وَدَعُوا هَذَا " ، يَعْنِي : شَارِبَهُ الْأَعْلَى يَأْخُذُ مِنْهُ ، يَعْنِي : الْعَنْفَقَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اوپر والے ہونٹ کی مونچھوں کو تراش لیا کرو اور نیچے والے ہونٹ کے بالوں کو چھوڑ دیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، لضعف ثوير بن أبي فاختة ، وقال الدارقطني وعلي ابن الجنيد : متروك .
حدیث نمبر: 5327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي مَجْلِسِ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ ، فَمَرَّ فَتًى مُسْبِلًا إِزَارَهُ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَدَعَاهُ عبد اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ بَنِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : تُحِبُّ أَنْ يَنْظُرَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : ارْفَعْ إِزَارَكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَوْمَأَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ ، يَقُولُ : " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ إِلَّا الْخُيَلَاءَ ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
مسلم بن یناق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں بنو عبداللہ کی مجلس میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک قریشی نوجوان ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکائے وہاں سے گزرا ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلایا اور پوچھا : تم کس خاندان سے تعلق رکھتے ہو ؟ اس نے کہا بنو بکر سے ، فرمایا : کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ قیامت کے دن تم پر نظر رحم فرمائیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ، فرمایا : اپنی شلوار اونچی کرو ، میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے اپنے ان دو کانوں سے سنا ہے جو شخص صرف تکبر کی وجہ سے اپنی شلوار زمین پر کھینچتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہ فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 2085.