حدیث نمبر: 4488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَاقْدُرُوا لَهُ " ، قَالَ : نَافِعٌ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا مَضَى مِنْ شَعْبَانَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَبْعَثُ مَنْ يَنْظُرُ ، فَإِنْ رُئِيَ ، فَذَاكَ ، وَإِنْ لَمْ يُرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ وَلَا قَتَرٌ ، أَصْبَحَ مُفْطِرًا ، وَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرٌ أَصْبَحَ صَائِمًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مہینہ کبھی ۲٩ دن کا ہوتا ہے اس لئے جب تک چاند دیکھ نہ لو روزہ نہ رکھو اور چاند دیکھے بغیر عید بھی نہ مناؤ، اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اندازہ کر لو۔“ نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما شعبان کی ٢٩ تاریخ ہونے کے بعد کسی کو چاند دیکھنے کے لئے بھیجتے تھے، اگر چاند نظر آ جاتا تو ٹھیک اور اگر چاند نظر نہ آتا اور کوئی بادل یا غبار بھی نہ چھایا ہوتا تو اگلے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا غبارچھایا ہوا ہوتا تو روزہ رکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080
حدیث نمبر: 4489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ نَافِعٌ : فَأُنْبِئْتُ أَنَّ أمَّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : فَكَيْفَ بِنَا ؟ قَالَ : " شِبْرًا " ، قَالَتْ : إِذَنْ تَبْدُوَ أَقْدَامُنَا ؟ قَالَ : " ذِرَاعًا ، لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (نافع رحمہ اللہ کے بقول) عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا ؟ (کیونکہ عورتوں کے کپڑے بڑے ہوتے ہیں اور عام طور پر شلوار پاؤنچوں میں آ رہی ہوتی ہے) فرمایا : ”ایک بالشت کپڑا اونچا کر لیا کرو۔ “ انہوں نے پھر عرض کیا کہ اس طرح تو ہمارے پاؤں نظر آنے لگیں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک بالشت پر اضافہ نہ کرنا (اتنی مقدارمعاف ہے)۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085
حدیث نمبر: 4490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُؤُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى ، إِنْ زَادَ فَلِي ، وَإِنْ نَقَص فَعَلَيَّ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ ابْنُ عُمَرَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ کی ممانعت فرمائی ہے، بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو ایک معین اندازے سے بیچنا اور یہ کہنا کہ اگر اس سے زیادہ نکلیں تو میری اور اگر کم ہو گئیں تب بھی میری۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا زیاد بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازے کے ساتھ بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2172، م: 1542
حدیث نمبر: 4491
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ جانور کے حمل سے پیدا ہونے والے بچے کی ”جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہے۔ “ پیٹ میں ہی بیع کر نے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2256، م: 1514
حدیث نمبر: 4492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَ : " يُصَلِّي أَحَدُكُمْ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ ، صَلَّى وَاحِدَةً ، فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ ! رات کی نماز سے متعلق آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : ” تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو تم نے رات میں جتنی نماز پڑھی ہو گی، ان سب کی طرف سے یہ وتر کے لئے کافی ہو جائے گی ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 473، م: 749
حدیث نمبر: 4493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ مِن الْعَاهَةَ ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا ہے جب تک اس کا شگوفہ نہ بن جائے اور گندم کے خوشے کی بیع سے جب تک وہ پک کر آفات سے محفوظ نہ ہو جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ممانعت بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں کو فرمائی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1535
حدیث نمبر: 4494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ ، وَلَا أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں استبرق کا ایک ٹکڑا ہے، میں جنت کی جس جگہ کی طرف بھی اس سے اشارہ کرتا ہوں، وہ مجھے اڑا کر وہاں لے جاتا ہے، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کے کہنے پر یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا بھائی نیک آدمی ہے۔ “ یا یہ فرمایا کہ عبداللہ نیک آدمی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1156، م: 7015
حدیث نمبر: 4495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : " كُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا ، وَهِيَ مَسْئُولَةٌ ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے باز پرس ہو گی چنانچہ حکمران اپنی رعایا کے ذمہ دار ہیں اور ان سے ان کی رعایا کے حوالے سے باز پرس ہو گی ، مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے اور اس کے متعلق باز پرس ہو گی ، عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی باز پرس ہو گی، غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی، الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک کی باز پرس ہو گی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5200 م: 1829
حدیث نمبر: 4496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ حَجٍّ أَوْ غَزْوٍ فَعَلَا فَدْفَدًا مِنَ الْأَرْضِ أَوْ شَرَفًا ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، آيِبُونَ تَائِبُونَ ، سَاجِدُونَ عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج ، جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو زمین کے جس بلند حصے پر چڑھتے یہ دعا پڑھتے : اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں، سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2995، م: 1344
حدیث نمبر: 4497
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " قَدْ أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي : الضَّبَّ ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ کو پیش کیا گیا ہے ، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نہ ہی حرام قرار دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1943
حدیث نمبر: 4498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَدْ زَنَيَا ، فَقَالَ : " مَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ ؟ " فَقَالُوا : نُسَخِّمُ وُجُوهَهُمَا وَيُخْزَيَانِ ! ! فَقَالَ : " كَذَبْتُمْ ، إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ ، فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ ، فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ " ، فَجَاءُوا بِالتَّوْرَاةِ ، وَجَاءُوا بِقَارِئٍ لَهُمْ أَعْوَرَ ، يُقَالُ لَهُ : ابْنُ صُورِيَا ، فَقَرَأَ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى مَوْضِعٍ مِنْهَا وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، فَقِيلَ لَهُ : ارْفَعْ يَدَكَ ، فَرَفَعَ يَدَهُ ، فَإِذَا هِيَ تَلُوحُ ، فَقَالَ : أَوْ قَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ ، وَلَكِنَّا كُنَّا نَتَكَاتَمُهُ بَيْنَنَا ، " فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُجِمَا " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يُجَانِئُ عَلَيْهَا يَقِيهَ الْحِجَارَةَ بِنَفْسِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چند یہودی اپنے میں سے ایک مرد و عورت کو لے کر آئے ”جنہوں نے بدکاری کی تھی“، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری کتاب (تورات) میں اس کی کیا سزا درج ہے ؟“ انہوں نے کہا: ہم ان کے چہرے کالے کر دیں گے اور انہیں ذلیل کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم جھوٹ بولتے ہو تورات میں اس کی سزا رجم بیان کی گئی ہے تم تورات لے کر آؤ اور مجھے پڑھ کر سناؤ اگر تم سچے ہو۔ “ چنانچہ وہ تورات لے آئے اور ساتھ ہی اپنے ایک اندھے قاری کو ” جس کا نام ابن صوریا تھا “ بھی لے آئے، اس نے تورات پڑھنا شروع کی جب وہ آیت رجم پر پہنچا تو اس نے اس پر ہاتھ رکھ دیا، اسے جب ہاتھ ہٹانے کے لئے کہا گیا اور جب اس نے ہاتھ ہٹایا تو وہاں آیت رجم چمک رہی تھی، یہ دیکھ کروہ یہودی خود ہی کہنے لگے کہ اے محمد ! اس میں ”رجم“ کا حکم ہے، ہم خود ہی اسے آپس میں چھپاتے تھے، بہرحال ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان دونوں کو رجم کر دیا گیا ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اس یہودی کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھروں سے بچانے کے لئے اس پر جھکا پڑتا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7543، م: 1699
حدیث نمبر: 4499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَرَوْنَ الرُّؤْيَا ، فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أرى أَوْ قَالَ : أَسْمَعُ رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ عَلَى السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَحَرِّيَهَا ، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں پر آ کر ایک دوسرے کے موافق ہو جاتے ہیں اس لئے تم میں سے جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے، اسے چاہئے کہ آخری سات راتوں میں اسے تلاش کرے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2015 م: 1165
حدیث نمبر: 4500
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا ، قَالَ : وَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَيَقُولُ : أَمَّا أَنَا فَطَلَّقْتُهَا وَاحِدَةً أَوْ اثْنَتَيْنِ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يُرْجِعَهَا ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا ، وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا ، فَقَدْ عَصَيْتَ اللَّهَ بِمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ ، وَبَانَتْ مِنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں ایک طلاق دے دی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ رجوع کر لیں اور دوبارہ ایام آنے تک انتظار کر یں اور ان سے پاکیزگی حاصل ہونے تک رکے رہیں، پھر اپنی بیوی کے قریب جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ نے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی رخصت دی ہے ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ جب ان سے اس شخص کے متعلق پوچھا جاتا جو ایام کی حالت میں بیوی کو طلاق دے دے تو وہ فرماتے کہ میں نے تو اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور دوسرے ایام اور ان کے بعد طہر ہونے تک انتظار کریں پھر اس کے قریب جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں، جب کہ تم تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے آئے ہو، تم نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے سے متعلق بتایا ہے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو چکی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1471، م:5332
حدیث نمبر: 4501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ ، قَالَ : " إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ ، كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ ، فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ ، فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ ، وَإِذَا رَفَعَهُ ، فَلْيَرْفَعْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس طرح چہرہ سجدہ کرتا ہے ، ہاتھ بھی اسی طرح سجدہ کرتے ہیں، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو ہاتھ بھی رکھے اور جب چہرہ اٹھائے تو ہاتھ بھی اٹھائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی ایسے درخت کو فروخت کرے جس میں کھجوروں کی پیوندکاری کی گئی ہو، تو اس کا پھل بائع (بچنے والا) کی ملیکت میں ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) خریدتے وقت اس کی بھی شرط لگا دے (کہ میں یہ درخت پھل سمیت خرید رہا ہوں )۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2206، م: 1543
حدیث نمبر: 4503
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال جس کی قیمت تین درہم تھی چوری کرنے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6796، م: 1686
حدیث نمبر: 4504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْأَرْضَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ ، لَا أَدْرِي كَمْ هُوَ ، وَإِنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ فِي عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ ، وَعَهْدِ عُمَرَ وَعَهْدِ عُثْمَانَ ، وَصَدْرِ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِهَا بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعًا يُحَدِّثُ فِي ذَلِكَ بِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَر ، فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا ، فَكَانَ إِذَا سُئِلَ يَقُول : زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اس بات کو جانتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں گھاس اور تھوڑے سے بھوسے کے عوض زمین کو کر ایہ پر دے دیا جاتا تھا ، جس کی مقدار مجھے یاد نہیں، خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی دور صدیقی و فاروقی و عثمانی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور حکومت میں زمین کرائے پر دیا کرتے تھے ، لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں انہیں پتہ چلا کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کر ائے پر دینے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت روایت کرتے ہیں ، تو وہ ان کے پاس آئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام چھوڑ دیا اور بعد میں وہ کسی کو بھی زمین کرائے پر نہ دیتے تھے، اور جب کوئی ان سے پوچھتا تو وہ فرما دیتے کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا یہ خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کر ائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2343، م: 1547
حدیث نمبر: 4505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا لَا تُحْتَلَبَنَّ مَاشِيَةُ امْرِئٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ ، فَيُكْسَرَ بَابُهَا ، ثُمَّ يُنْتَثَلَ مَا فِيهَا ؟ ! فَإِنَّمَا فِي ضُرُوعِ مَوَاشِيهِمْ طَعَامُ أَحَدِهِمْ ، أَلَا فَلَا تُحْتَلَبَنَّ مَاشِيَةُ امْرِئٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ " أَوْ قَالَ : " بِأَمْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کے جانوروں کا دودھ دوہ کر اپنے استعمال میں مت لایا کرو کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کر سکتا ہے کہ اس کے بالاخانے میں کوئی جا کر اس کے گودام کا دروازہ توڑ دے اور اس میں سے سب کچھ نکال کر لے جائے، یاد رکھو ! لوگوں کے جانوروں کے تھنوں میں ان کا کھانا ہوتا ہے اس لئے اس کی اجازت کے بغیر اس کے جانور کا دودھ نہ دوہا جائے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1726
حدیث نمبر: 4506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَن ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ ، قَالَ : وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ ، وَيُنَادِي الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، " قَالَ أَيُّوبُ : أُرَاهُ قَالَ : خَفِيفَتَيْنِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فِي بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں، نیز مغرب کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھی ہیں اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طلوع فجر کے وقت بھی دو رکعتیں پڑھتے تھے اس وقت منادی نماز کا اعلان کر رہا ہوتا تھا (اقامت کہہ رہا ہوتا تھا) اور دو رکعتیں جمعہ کے بعد اپنے گھر میں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1180
حدیث نمبر: 4507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفر میں جاتے وقت قرآن کریم اپنے ساتھ نہ لے جایا کرو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1869
حدیث نمبر: 4508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا ، فَقَالَ : مَنْ يَعْمَلُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ أَلَا فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ أَلَا فَعَمِلَتْ النَّصَارَى ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ؟ أَلَا فَأَنْتُمْ الَّذِينَ عَمِلْتُمْ ، فَغَضِبَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ، قَالُوا : نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلًا ، وَأَقَلَّ عَطَاءً !! ، قَالَ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَإِنَّمَا هُوَ فَضْلِي ، أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسے ہے کہ ایک شخص نے چند مزدوروں کو کام پر لگایا اور کہا کہ ایک قیراط کے عوض نماز فجر سے لے کر نصف النہار تک کون کام کرے گا ؟ اس پر یہودیوں نے فجر کی نماز سے لے کر نصف النہار تک کام کیا ، پھر اس نے کہا کہ ایک قیراط کے عوض نصف النہار سے لے کر نماز عصر تک کون کام کرے گا ؟ اس پر عیسائیوں نے کام کیا، پھر اس نے کہا کہ نماز عصر سے لے کر غروب آفتاب تک دو دو قیراط کے عوض کون کام کرے گا ؟ یاد رکھو ! وہ تم ہو جنہوں نے اس عرصے میں کام کیا لیکن اس پر یہود و نصاریٰ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہماری محنت اتنی زیادہ اور اجرت اتنی کم ؟ اللہ نے فرمایا : ”کیا میں نے تمہارا حق ادا کرنے میں ذرا بھی کوتاہی یا کمی کی ؟“ انہوں نے جواب دیا نہیں۔ اللہ نے فرمایا : ” پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں عطاء کر دوں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح خ: 2268
حدیث نمبر: 4509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ ، فَحَكَّهَا أَوْ قَالَ : فَحَتَّهَا بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ ، وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي صَلَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے ناراض ہو کر فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے، اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1213، م: 547
حدیث نمبر: 4510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَيُّوبُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَن لنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ ، فَاسْتَثْنَى ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شَاءَ أَنْ يَمْضِيَ عَلَى يَمِينِهِ مَضَى ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرْجِعَ غَيْرَ حِنْثٍ " ، أَوْ قَالَ : " غَيْرَ حَرِجٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے، اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کر لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4511
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال : " صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا " ، قَالَ : أَحْسِبُهُ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھا کرو انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1187، م: 777
حدیث نمبر: 4512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ ، قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ ؟ قَالَ : وَمَا بَأْسُ ذَلِكَ ؟ ! قَالَ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ " وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہو تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے ؟ وہ شخص کہنے لگا کہ اصل میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سے منع کرتے ہیں ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف بھی کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی کی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1233
حدیث نمبر: 4513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِقْرَانِ ، إِلَّا أَنْ تَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ایک ساتھ کئی کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ لَا تَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِكَ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کھانے کے بعد اپنی انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے، تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4515
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِئَةٍ لَا يُوجَدُ فِيهَا رَاحِلَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6498
حدیث نمبر: 4517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُمْ " كَانُوا يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَرَوْا طَعَامًا جُزَافًا أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ ، حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگوں کو اس بات پر مار پڑتی تھی کہ وہ اندازے سے کوئی غلہ خریدیں اور اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیں اور اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6852، م: 1527
حدیث نمبر: 4518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر (خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا) نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1098، م: 700
حدیث نمبر: 4519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَوْتَرَ عَلَى الْبَعِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ پر وتر پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 999، م: 700
حدیث نمبر: 4520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجَّهٌ إِلَى خَيْبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کو جا رہے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 700
حدیث نمبر: 4521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَوَجَدَهَا تُبَاعُ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَائِهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فی سبیل اللہ کسی شخص کو سواری کے لئے گھوڑا دے دیا بعد میں دیکھا کہ وہ گھوڑا بازار میں بک رہا ہے انہوں نے سوچا کہ اسے خرید لیتا ہوں ، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے صدقے سے رجوع مت کرو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1489
حدیث نمبر: 4522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمْ امْرَأَتُهُ أَنْ تَأْتِيَ الْمَسْجِدَ ، فَلَا يَمْنَعْهَا " ، قَالَ : وَكَانَتْ امْرَأَةُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ لَهَا : إِنَّكِ لَتَعْلَمِينَ مَا أُحِبُّ ! فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى تَنْهَانِي ! قَال : فَطُعِنَ عُمَر ، وَإِنَّهَا لَفِي الْمَسْجِدِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے اجازت دینے سے انکار نہ کرے۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی مسجد میں جا کر نماز پڑھتی تھیں ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ جانتی ہو کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے وہ کہنے لگیں کہ جب تک آپ مجھے واضح الفاظ میں منع نہیں کریں گے میں باز نہیں آؤں گی ، چنانچہ جس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو وہ مسجد میں ہی موجود تھیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 873، م: 442
حدیث نمبر: 4523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عُمَر َوَهُوَ يَقُول : وَأَبِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، فَإِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ " ، قَالَ عُمَرُ : فَمَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھانا چاہئے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے جان بوجھ کر یا نقل کرتے ہوئے بھی ایسی قسم نہیں کھائی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1646
حدیث نمبر: 4524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا أَتَى الرَّجُلَ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرَ ، قَالَ : لَهُ ادْنُ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُنَا ، فَيَقُولُ : " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس اگر کوئی ایسا شخص آتاجو سفر پر جا رہا ہوتا تو وہ اس سے فرماتے کہ قریب آ جاؤ تاکہ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رخصت کرتے تھے پھر فرماتے کہ میں تمہارے دین و امانت اور تمہارے عمل کا انجام اللہ کے حوالے کرتا ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد فيه وهم، فقط ذكر أبو حاتم وأبو زرعة كما في العلل 1/269 أن سعيدا وهم في هذا الحديث
حدیث نمبر: 4525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے جب تک وہ پک نہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ممانعت بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں کو فرمائی ہے ۔ نیز سفر میں جاتے وقت قرآن کریم اپنے ساتھ لے جانے کی ممانعت فرمائی ہے کیونکہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1535
حدیث نمبر: 4526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشِّغَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار (وٹے سٹے کی صورت) سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5112، م: 1415
حدیث نمبر: 4527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا ، " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچے کی اپنی طرف نسبت کی نفی کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور بچے کو ماں کے حوالے کر دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5315، م: 1494