حدیث نمبر: 5128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ وَثَّابٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ " الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ : أَمَرَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
یحیٰی بن وثاب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غسل جمعہ کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قُلْتُ : إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْئَيْنِ : عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ، وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ، فَقَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ ، قَدْ شَرِبَ زَبِيبًا وَتَمْرًا ، قَالَ : فَجَلَدَهُ الْحَدَّ ، وَنَهَى أَنْ يُخْلَطَا ، قَالَ : وَأَسْلَمَ رَجُلٌ فِي نَخْلِ رَجُلٍ فَلَمْ يَحْمِلْ نَخْلُهُ ، قَالَ : فَأَتَاهُ يَطْلُبُهُ ، قَالَ : فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهُ ، قَالَ : فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَحَمَلَتْ نَخْلُكَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَبِمَ تَأْكُلُ مَالَهُ ؟ ! قَالَ : فَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ ، وَنَهَى عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ .
مولانا ظفر اقبال
نجران کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے دو چیزوں کے متعلق پوچھتا ہوں، ایک تو کشمش اور کھجور کے متعلق اور ایک کھجور کے درخت میں بیع سلم کے متعلق (ادھار) ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نشے میں دھت ایک شخص کو لایا گیا، اس نے کشمش اور کھجور کی شراب پی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری فرمائی اور ان دونوں کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا ۔ نیز ایک آدمی نے دوسرے کے لئے کھجور کے درخت میں بیع سلم کی، لیکن اس سال پھل ہی نہیں آیا، اس نے اپنے پیسے واپس لینا چاہے تو اس نے انکار کر دیا، وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کے مالک سے پوچھا کہ کیا تمہارے درختوں پر پھل نہیں آیا ؟ اس نے کہا : نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو پھر اس کے پیسے کیوں روک رکھے ہیں ؟“ چنانچہ اس نے اس کے پیسے لوٹا دئیے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے تک بیع سلم سے منع فرما دیا ۔
حدیث نمبر: 5130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا ، إِلَّا بَيْعُ الْخِيَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں الاّ یہ کہ وہ بیع خیار ہو ۔“
حدیث نمبر: 5131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ الْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : قُلْتُ لَهُ : يَعْنِي الْمُحْرِمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ورس اور زعفران سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا، محرم کو ؟ فرمایا : ہاں ۔
حدیث نمبر: 5132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ لَيْسَ عَلَى حَرَامٍ جُنَاحٌ فِي قَتْلِهِنَّ : الْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحُدَيَّا ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْحَيَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں حالت احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ بچھو ، چوہے ، چیل، کوے اور باؤلے کتے کو ۔ “
حدیث نمبر: 5133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ ، لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ : لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا يَعْلَمُ نُزُولَ الْغَيْثِ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا يَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا يَعْلَمُ السَّاعَةَ إِلَّا اللَّهُ ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”غیب کی پانچ باتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کل کیا ہو گا ؟ یہ اللہ ہی جانتا ہے، قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے ، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا ۔“
حدیث نمبر: 5134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : هُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْفُوا اللِّحَى ، وَحُفُّوا الشَّوَارِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مونچھیں خوب اچھی طرح کتروایا کرو اور ڈاڑھی خوب بڑھایا کرو ۔“
حدیث نمبر: 5136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ ، وَحَرَّقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے درخت کٹوا کر انہیں آگ لگا دی ۔
حدیث نمبر: 5137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَإِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : وَطَبَّقَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَحَبَسَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہم امی امت ہیں، حساب کتاب نہیں جانتے، بعض اوقات مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا یعنی ٢٩ کا ۔“
حدیث نمبر: 5138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْفَى اللِّحَى ، وَأَنْ تُجَزَّ الشَّوَارِبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھیں خوب اچھی طرح کتروانے اور ڈاڑھی خوب بڑھانے کا حکم دیا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5139
قال عبد الله بن أحمد : قال أبي : وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلْقَمَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 5140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ ، أَفِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، أَوْ مُبْتَدَإٍ أَوْ مُبْتَدَعٍ ؟ قَالَ : " فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، فَاعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ ، فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم جو عمل کرتے ہیں، کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے ؟ فرمایا : نہیں ! بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے، لہٰذا اے ابن خطاب ! عمل کرتے رہو کیونکہ جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اسے اس کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے، چنانچہ اگر وہ اہل سعادت میں سے ہو تو وہ سعادت والے اعمال کرتا ہے اور اہل شقاوت میں سے ہو تو بدبختی والے اعمال کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " فَقُلْنَا : لَا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " ، فَفَعَلْنَا ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " قُلْنَا : لَا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " ، فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَغُشِيَ عَلَيْهِ ، قَالَتْ : وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا ، فَقَالَ : يَا عُمَرُ ، صَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ ، فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ ، وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا ، فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : هَاتِ ، فَحَدَّثْتُهُ ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : هَلْ سَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : هُوَ عَلِيٌّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے بارے کچھ بتائیں گی ؟ فرمایا : کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت جب بوجھل ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے کہا : نہیں، یا رسول اللہ ! ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میرے لئے ایک ٹب میں پانی رکھو“، ہم نے ایسے ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور جانے کے لئے کھڑے ہونے ہی لگے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بےہوشی طاری ہو گئی جب افاقہ ہوا تو پھر یہی سوال پوچھا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے حسب سابق وہی جواب دیا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ نماز عشاء کے لئے مسجد میں بیٹھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے رقیق القلب آدمی تھے، کہنے لگے : اے عمر ! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، انہوں نے کہا اس کے حقدار تو آپ ہی ہیں، چنانچہ ان دنوں میں سیدنا صدیق ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے وقت دو آدمیوں کے درمیان نکلے، جن میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور اپنے ساتھ آنے والے دونوں صاحبوں کو حکم دیا، تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سماعت کے بعد ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے یہاں آیا ہوا تھا، میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے سنائی ہے ؟ انہوں نے کہا ضرور بیان کرو، چنانچہ میں نے ان سے ساری حدیث بیان کر دی انہوں نے اس کے کسی حصے پر نکیر نہیں فرمائی، البتہ اتنا ضرور پوچھا کہ کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس آدمی کا نام بتایا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں۔
حدیث نمبر: 5142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ وَثَّابٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے ۔“
حدیث نمبر: 5143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقُلْتُ : تَمْشِي ؟ فَقَالَ : " إِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي ، وَإِنْ أَسْعَ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى " .
مولانا ظفر اقبال
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا کہ آپ عام رفتار سے چل رہے ہیں ؟ فرمایا : اگر میں عام رفتار سے چلوں، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس طرح چلتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر تیزی سے چلوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح بھی دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 5144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا ، وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا ، فَأَبَيْتُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، " طَلِّقْ امْرَأَتَكَ " فَطَلَّقْتُهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری جو بیوی تھی وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ناپسند تھی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ اسے طلاق دے دو، میں نے اسے طلاق دینے میں لیت و لعل کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ عبداللہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی ۔
حدیث نمبر: 5145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ نے حق کو عمر کی زبان و دل پر جاری کر دیا ہے ۔“
حدیث نمبر: 5146
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَخْرُجُ نَارٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ ، أَوْ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، تَحْشُرُ النَّاسَ " قَالُوا : فَبِمَ تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالشاْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ قیامت کے قریب حضرموت ”جو کہ شام کا ایک علاقہ ہے“ کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی ، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر آپ اس وقت کے لئے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : ”ملک شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا (وہاں چلے جانا)۔ “
حدیث نمبر: 5147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ " ، قَالَ : وَهِلَ أَنَسٌ ، خَرَجَ فَلَبَّى بِالْحَجِّ ، وَلَبَّيْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ أَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَنَسٍ ؟ فَقَالَ : مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا ! ! .
مولانا ظفر اقبال
بکر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو مغالطہ ہو گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں تو حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ حج کا ہی احرام باندھا تھا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو فرمایا : ”جس شخص کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، اسے چاہئے کہ اسے عمرہ بنا لے۔ “ میں نے یہ بات سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بتائی انہوں نے فرمایا کہ تم تو ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہو ۔
حدیث نمبر: 5148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُضْرَبُونَ إِذَا تَبَايَعُوا طَعَامًا جُزَافًا أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے میں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگوں کو اس بات پر مار پڑتی تھی کہ وہ اندازے سے کوئی غلہ خریدیں اور اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیں, جب تک کہ اسے اپنے خیمہ میں نہ لے جائیں ۔
حدیث نمبر: 5149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ہم پر اسلحہ تان لے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔“
حدیث نمبر: 5150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ فَقَدْ عَتَقَ كُلُّهُ ، فَإِنْ كَانَ لِلَّذِي أَعْتَقَ نَصِيبَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ ، فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے ، تو وہ غلام مکمل آزاد ہو جائے گا، پھر اگر آزاد کر نے والے کے پاس اتنا مال ہے جو اس کی قیمت کو پہنچتا ہے تو اس کے ذمے ہے کہ اسے مکمل آزاد کر دے ۔“
حدیث نمبر: 5151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَذَّنَ بِضَجَنَانَ لَيْلَةً الْعِشَاءَ ، ثُمَّ قَالَ فِي إِثْرِ ذَلِكَ : أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، وَأَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَأْمُرُ مُؤَذِّنًا ، يَقُولُ : أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " ، فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ أَوْ الْمَطِيرَةِ فِي السَّفَرِ .
مولانا ظفر اقبال
نافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وادی ضجنان میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز کا اعلان کروایا، پھر یہ منادی کر دی کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دوران سفر سردی کی راتوں میں یا بارش والی راتوں میں نماز کا اعلان کر کے یہ منادی کر دیتے تھے کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو ۔
حدیث نمبر: 5152
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَتَنَخَّمْ ، يعنى ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا پھر فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے ۔“
حدیث نمبر: 5153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔“
حدیث نمبر: 5154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ ، وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تلبیہ حاصل کیا ہے۔ میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں ۔
حدیث نمبر: 5155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ، سَمِعْتُ نَافِعًا ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔“
حدیث نمبر: 5156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَرْعِ وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال (جس کی قیمت تین درہم تھی) چوری کرنے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا ۔
حدیث نمبر: 5158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَأَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا ، أَوْ يَكُونَ خِيَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو ۔“
حدیث نمبر: 5159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ؟ قَالَ : " يُصَلِّي أَحَدُكُمْ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيَ أَنْ يُصْبِحَ صَلَّى رَكْعَةً تُوتِرُ لَهُ صَلَاتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر رات کی نماز سے متعلق دریافت کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو ، تم نے رات میں جتنی پڑھی ہو گی ان سب کی طرف سے یہ وتر کے لئے کافی ہو جائے گی ۔ “
حدیث نمبر: 5160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ وَهُوَ حَرَامٌ : الْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ قسم کے جانور ہیں جہنیں حالت احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ بچھو ، چوہے ، چیل، کوے اور باؤلے کتے ۔
حدیث نمبر: 5161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ فَاتَهُ الْعَصْرُ ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے، گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا ۔“
حدیث نمبر: 5162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا نَخْلٍ بِيعَتْ أُصُولُهَا ، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي أَبَّرَهَا ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی ایسے درخت کو فروخت کرے جس میں کھجوروں کی پیوند کاری کی گئی ہو ، تو اس کا پھل بائع (بچنے والا) کی ملیکت میں ہو گا، الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) خریدتے وقت اس کی بھی شرط لگا دے (کہ میں یہ درخت پھل سمیت خرید رہا ہوں )“
حدیث نمبر: 5163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، كَانَ " إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَعْدَمَا يَغِيبُ الشَّفَقُ ، وَيَقُولُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو وہ غروب شفق کے بعد مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کو اکٹھا کر لیتے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جب جلدی ہوتی تھی تو وہ بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 5164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَاهُ ، فَقَالَ : " مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ ، ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ، فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُفَارِقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا ، أَوْ لِيُمْسِكْهَا ، فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أُمِرَ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں ایک طلاق دے دی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ سے کہو کہ وہ رجوع کر لیں اور دوبارہ ایام آنے تک انتظار کریں اور ان سے پاکیزگی حاصل ہونے تک رکے رہیں، پھر اپنی بیوی کے قریب جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں یا اسے اپنے پس روک لیں یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ نے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی رخصت دی ہے ۔
حدیث نمبر: 5165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَا : لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ ، فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ ، وَأَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، قَالَ : " إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ، حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ، فَإِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ ، فَلَبَّى بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ تَلَا : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ ، قَالَ : مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ ، إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي ، فَانْطَلَقَ ، حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا ، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے صاحبزادے عبداللہ اور سالم آئے یہ اس وقت کی بات ہے جب حجاج بن یوسف سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کے ارادے سے مکہ مکرمہ آیا ہوا تھا اور کہنے لگے کہ ہمیں اندیشہ ہے اس سال لوگوں کے درمیان قتل و قتال ہو گا اور آپ کو حرم شریف پہنچنے سے روک دیا جائے گا ، اگر آپ اس سال ٹھہر جاتے اور حج کے لئے نہ جاتے تو بہتر ہوتا ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے اور کفار قریش ان کے اور حرم شریف کے درمیان حائل ہو گئے تھے، اس لئے اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کی نیت کر لی ہے ، اگر میرا راستہ چھوڑ دیا گیا تو میں عمرہ کر لوں گا اور اگر کوئی چیز میرے اور خانہ کعبہ کے درمیان حائل ہو گئی تو میں وہی کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ، جبکہ میں بھی ان کے ہمراہ تھا، پھر وہ روانہ ہو گئے اور ذوالخلیفہ پہنچ کر عمرے کا تلبیہ پڑھ لیا، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ تمہارے لئے پیغمبر خدا کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ اس کے بعد وہ روانہ ہو گئے، چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا تو ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کر لی ہے، چنانچہ وہ روانہ ہو گئے اور مقام قدید پہنچ کر ہدی کا جانور خریدا اور دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کی ، پھر یوم النحرتک اسی طرح رہے ۔
حدیث نمبر: 5166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ : " لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ ، وَلَا الْعَمَائِمَ ، وَلَا الْبَرَانِسَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ ، وَلَا الْخُفَّيْنِ ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ " ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً : " إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ نَعْلَانِ ، فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! ! ہم احرام باندھنے کے بعد کون سے کپڑے پہن سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قمیض، شلوار، عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتے الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں ، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے، اسی طرح ٹوپی یا ایساکپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا ۔“
حدیث نمبر: 5167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْهِمْ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ ، وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى بَيْتِ سَيِّدِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے باز پرس ہو گی، چنانچہ حکمران اپنی رعایا کے ذمہ دار ہیں اور ان سے ان کی رعایا کے حوالے سے باز پرس ہو گی، مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے متعلق باز پرس ہو گی ، عورت اپنے خاوند کے گھر اور بچوں کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی باز پرس ہو گی ، غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی، الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق باز پرس ہو گی ۔“
…