حدیث نمبر: 5088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : لَمَّا خَلَعَ النَّاسُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ ، ثُمَّ تَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " ، وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْغَدْرِ إلَا أَنْ يَكُونَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُبَايِعَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، ثُمَّ يَنْكُثَ بَيْعَتَهُ ، فَلَا يَخْلَعَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَزِيدَ ، وَلَا يُشْرِفَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَيَكُونَ صَيْلَمٌ بَيْنِي وَبَيْنَهُ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے سارے بیٹوں اور اہل خانہ کو جمع کیا، شہادتین کا اقرار کیا اور فرمایا : امابعد ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر اس شخص کی بیعت کی تھی اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر دھوکے باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دھوکہ بازی ہے اور شرک کے بعد سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کسی کی بیعت کرے اور پھر اسے توڑ دے، اس لئے تم میں سے کوئی بھی یزید کی بیعت توڑے اور نہ ہی امر خلافت میں جھانک کر بھی دیکھے، ورنہ میرے اور اس کے درمیان کوئی تعلق نہیں رہے گا۔
حدیث نمبر: 5089
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي مَجْلِسِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ ، فَقَالَ : " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " فَنُووِلَ ذِرَاعًا ، فَأَكَلَهَا ، قَالَ يَحْيَى : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا هَكَذَا ، ثُمَّ قَالَ : " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " فَنُووِلَ ذِرَاعًا ، فَأَكَلَهَا ، ثُمَّ قَالَ " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هُمَا ذِرَاعَانِ ، فَقَالَ : " وَأَبِيكَ لَوْ سَكَتَّ مَا زِلْتُ أُنَاوَلُ مِنْهَا ذِرَاعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقَالَ فَقَالَ سَالِمٌ : أَمَّا هَذِهِ فَلَا ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سالم رحمہ اللہ کی مجلس میں ایک شخص یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ روٹی اور گوشت کھانے میں پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے ایک دستی دینا“ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی دے دی گئی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرما لی اس کے بعد فرمایا : ”مجھے ایک اور دستی دو“ ، وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی تناول فرما لیا اور فرمایا کہ مجھے ایک اور دستی دو، کسی نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ! ایک بکر ی میں دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تیرے باپ کی قسم! اگر تو خاموش رہتا تو میں جب تک تم سے دستی مانگتا رہتا مجھے ملتی رہتی“، سیدنا سالم رحمہ اللہ نے یہ حدیث سن کر فرمایا : ” یہ بات تو بالکل نہیں ہے کیونکہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ وَسُئِلَ عَنْ " نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَشَقَّ عَلَيَّ لَمَّا سَمِعْتُهُ ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أُعَظِّمُهُ ! فَقَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قُلْتُ : سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : وَمَا الْجَرُّ ؟ قَالَ : كُلُّ شَيْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیررحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، کسی نے ان سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے، یہ سن کر مجھ پر بڑی گرانی ہوئی، میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے، میں نے پوچھا مٹکے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔
حدیث نمبر: 5091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَقْتُلُ مِنَ الدَّوَابِّ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ فَقَالَ : " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ : الْحِدَأَةُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا: یا رسول اللہ ! احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کر سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔“
حدیث نمبر: 5092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّاسِ وَقَدْ فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخُطْبَةِ ، فَقُلْتُ : مَاذَا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : " نَهَى عَنْ الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ منبر پر جلوہ افروز دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی، میں تیزی سے مسجد میں داخل ہوا اور ایک جگہ جا کر بیٹھ گیا، لیکن ابھی کچھ سننے کا موقعہ نہ ملا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 5093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شَاءَ أَنْ يَمْضِيَ عَلَى يَمِينِهِ ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرْجِعَ غَيْرَ حَنِثٍ ، أَوْ قَالَ : غَيْرَ حَرَجٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے، اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیررجوع کر لے۔
حدیث نمبر: 5094
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ " فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5095
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي سُوقٍ ثَوْبًا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ ابْتَعْتَ هَذَا الثَّوْبَ لِلْوَفْدِ ، قَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ أَوْ قَالَ : هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ، قَالَ : أَحْسِبُهُ قَالَ : " فِي الْآخِرَةِ " ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَاكَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ مِنْهَا ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى عُمَرَ ، فَكَرِهَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بَعَثْتَ بِهِ إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهِ مَا سَمِعْتُ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ أَوْ قَالَ : هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ؟ ! قَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهِ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهُ ، وَلَكِنْ بَعَثْتُ بِهِ إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهِ ثَمَنًا " ، قَالَ سَالِمٌ : فَمِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے ہوئے دیکھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسے خرید لیتے تو جمعہ کے دن پہن لیا کرتے یا وفود کے سامنے پہن لیا کرتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو“ چند دن بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے چند ریشمی حلے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بھجوا دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ نے خود ہی تو اس کے متعلق وہ بات فرمائی تھی جو میں نے سنی تھی اور اب آپ ہی نے مجھے یہ ریشمی جوڑا بھیج دیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کر کے اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ۔“
حدیث نمبر: 5096
رقم الحديث: 4947
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ ؟ قَالَ : " تُجْزِئُكَ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قُلْتُ : رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ، أُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ ؟ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّمَا سَأَلْتُكَ عَنْ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ! قَالَ : إِنَّكَ لَضَخْمٌ ! ! أَلَسْتَ تَرَانِي أَبْتَدِئُ الْحَدِيثَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ ، ثُمَّ يَضَعُ رَأْسَهُ ، فَإِنْ شِئْتَ ، قُلْتَ : نَامَ ، وَإِنْ شِئْتَ ، قُلْتَ : لَمْ يَنَمْ ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَيْهِمَا وَالْأَذَانُ فِي أُذُنَيْهِ " ، فَأَيُّ طُولٍ يَكُونُ ثُمَّ ؟ ! . (حديث موقوف) (حديث موقوف) قُلْتُ : " رَجُلٌ أَوْصَى بِمَالٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَيُنْفَقُ مِنْهُ فِي الْحَجِّ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ فَعَلْتُمْ كَانَ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ " . (حديث موقوف) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : قُلْتُ : رَجُلٌ تَفُوتُهُ رَكْعَةٌ مَعَ الْإِمَامِ ، فَسَلَّمَ الْإِمَامُ ، أَيَقُومُ إِلَى قَضَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ ؟ قَالَ : كَانَ " الْإِمَامُ إِذَا سَلَّمَ ، قَامَ " . (حديث موقوف) (حديث موقوف) قُلْتُ : الرَّجُلُ يَأْخُذُ بِالدَّيْنِ أَكْثَرَ مِنْ مَالِهِ ؟ قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ عَلَى قَدْرِ غَدْرَتِهِ " .
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ ؟ قَالَ : " تُجْزِئُكَ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قُلْتُ : رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ، أُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ ؟ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّمَا سَأَلْتُكَ عَنْ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ! قَالَ : إِنَّكَ لَضَخْمٌ ! ! أَلَسْتَ تَرَانِي أَبْتَدِئُ الْحَدِيثَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ ، ثُمَّ يَضَعُ رَأْسَهُ ، فَإِنْ شِئْتَ ، قُلْتَ : نَامَ ، وَإِنْ شِئْتَ ، قُلْتَ : لَمْ يَنَمْ ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَيْهِمَا وَالْأَذَانُ فِي أُذُنَيْهِ " ، فَأَيُّ طُولٍ يَكُونُ ثُمَّ ؟ ! . (حديث موقوف) (حديث موقوف) قُلْتُ : " رَجُلٌ أَوْصَى بِمَالٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَيُنْفَقُ مِنْهُ فِي الْحَجِّ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ فَعَلْتُمْ كَانَ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ " . (حديث موقوف) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : قُلْتُ : رَجُلٌ تَفُوتُهُ رَكْعَةٌ مَعَ الْإِمَامِ ، فَسَلَّمَ الْإِمَامُ ، أَيَقُومُ إِلَى قَضَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ ؟ قَالَ : كَانَ " الْإِمَامُ إِذَا سَلَّمَ ، قَامَ " . (حديث موقوف) (حديث موقوف) قُلْتُ : الرَّجُلُ يَأْخُذُ بِالدَّيْنِ أَكْثَرَ مِنْ مَالِهِ ؟ قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ عَلَى قَدْرِ غَدْرَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ پوچھا کہ کیا میں قرأت خلف الامام کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے امام کی قرأت ہی کافی ہے، میں نے پوچھا کہ کیا فجر کی سنتوں میں میں لمبی قرأت کر سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے، میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے فجر کی سنتوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، انہوں نے فرمایا تم بڑی موٹی عقل کے آدمی ہو دیکھ نہیں رہے کہ میں ابھی بات کا آغاز کر رہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے اور جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہوتا تو ایک رکعت ملا کر وتر پڑھ لیتے، پھر سر رکھ کر لیٹ جاتے اب تم چاہو تو یہ کہہ لو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے اور چاہو تو یہ کہہ لو کہ نہ سوتے، پھر اٹھ کر فجر کی سنتیں اس وقت پڑھتے جب اذان کی آواز کانوں میں آ رہی ہوتی تھی، تو اس میں کتنی اور کون سی طوالت ہو گی ؟ پھر میں نے پوچھا کہ ایک آدمی ہے جس نے اپنا مال فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی وصیت کی ہے، کیا اس کا مال حج میں خرچ کیا جا سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایسا کر لو تو یہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہو گا، میں نے مزید پوچھا کہ اگر ایک شخص کی امام کے ساتھ ایک رکعت چھوٹ جائے، امام سلام پھیر لے، تو کیا یہ امام کے کھڑا ہونے سے پہلے اسے قضاء کر سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب امام سلام پھیر دے تو مقتدی فورا کھڑا ہو جائے، پھر میں نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص قرض کے بدلے اپنے مال سے زیادہ وصول کرے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا : قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے کولہوں کے پاس اس کے دھوکے کے بقدر جھنڈا لگا ہو گا۔
حدیث نمبر: 5097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي جَهْضَمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَحْلِلْ " ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ فَلَمْ يَحِلُّوا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال نہیں ہوئے، سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نکلا، تو وہ بھی حلال نہیں ہوئے۔
حدیث نمبر: 5098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ ، مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي " رَفْعِ الْيَدَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
رفع یدین کی حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5099
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ ، وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کو جا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 5100
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ ، إِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَلَى الْإِبِلِ ، إِنَّهَا صَلَاةُ الْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام پر غالب نہ آ جائیں، یاد رکھو! اس کا نام نماز عشاء ہے، اس وقت یہ اپنے اونٹوں کا دودھ دوہتے ہیں (اس مناسبت سے عشاء کی نماز کو عتمہ کہہ دیتے ہیں ) ۔
حدیث نمبر: 5101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَلَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ " ، فَقَالَ ابْنُهُ : لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ يَتَّخِذْنَ ذَلِكَ دَغَلًا ! فَقَالَ : تَسْمَعُنِي أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَقُولُ أَنْتَ : لَا ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم رات کے وقت اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہ روکا کرو“ ، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ بخدا ! ہم تو انہیں اس طرح نہیں چھوڑیں گے، وہ تو اسے اپنے لئے دلیل بنا لیں گی ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو ؟
حدیث نمبر: 5102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا قَبْلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر رات کی نماز سے متعلق دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو، تم نے رات میں جتنی نماز پڑھی ہو گی، ان سب کی طرف سے یہ وتر کے لئے کافی ہو جائے گی ۔“
حدیث نمبر: 5104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ " ، قُلْتُ : وَمَتَى ذَاكَ ؟ قَالَ : حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سراقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پھلوں کی بیع کی متعلق پوچھا ، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاهه» کے ختم ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے، میں نے ان سے «عاهه» کا مطلب پوچھا ، تو انہوں نے فرمایا : ثریا ستارہ کا طلوع ہونا۔
حدیث نمبر: 5106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، يَقْطَعُهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے ۔
حدیث نمبر: 5107
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي : " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ وَهُوَ حَرَامٌ أَنْ يَقْتُلَهُنَّ : الْحَيَّةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْحِدَأَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں حالت احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ بچھو ، چوہے ، چیل ، کوے اور باؤلے کتے ۔“
حدیث نمبر: 5108
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ : وقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قبیلہ اسلم ، اللہ اسے سلامت رکھے ، قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔“
حدیث نمبر: 5109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، فَقَالَ : " هَا ، إِنَّ الْفِتَنَ مِنْ هَاهُنَا ، إِنَّ الْفِتَنَ مِنْ هَاهُنَا ، إِنَّ الْفِتَنَ مِنْ هَاهُنَا ، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا : ”فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے ۔“
حدیث نمبر: 5110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " زَارَ لَيْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تشریف لائے ۔
حدیث نمبر: 5111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا ، وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ " ، وَقَالَ : هَؤُلَاءِ الثَّلَاثُ حَفِظْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ " ، فَقِيلَ لَهُ : الْعِرَاقُ ؟ قَالَ : لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ ، اہل نجد کے لئے قرن اور اہل شام کے لئے جحفہ کو میقات قرار دیا ہے۔ یہ تین جگہیں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر خود یاد کی ہیں اور یہ بات مجھ سے بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اہل یمن کے لئے یلملم ہے“ ، کسی نے عراق کے متعلق پوچھا، تو فرمایا : اس وقت عراق نہ تھا ۔
حدیث نمبر: 5112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْثَدٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ الْهُنَائِيَّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو النَّدَبِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَعْجَبُ مِنَ الصَّلَاةِ فِي الْجَمِيعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جماعت کی نماز سے اللہ بہت خوش ہوتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَقَدْ حَسَّنَهُ صَاحِبُهُ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ ، فَإِذَا طَعَامٌ رَدِيءٌ ، فَقَالَ : " بِعْ هَذَا عَلَى حِدَةٍ ، وَهَذَا عَلَى حِدَةٍ ، فَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں جا رہے تھے، تو غلہ پر نظر پڑی جسے اس کے مالک نے بڑا سجا رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اندر ہاتھ ڈالا تو وہ اندر سے ردی غلہ نکلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے علیحدہ بیچو ، جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔“
حدیث نمبر: 5114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي ، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي ، وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مجھے تلوار دے کر بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ کی ہی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں ، میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے ، میرے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے بھرپور ذلت لکھ دی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ان ہی میں شمار ہو گا ۔“
حدیث نمبر: 5115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي ، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي ، وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مجھے قیامت سے پہلے تلوار دے کر بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ کی ہی عبادت کی جائے، جس کا کوئی شریک نہیں ، میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے، میرے احکام کی خلاف ورزی کر نے والوں کے لئے بھر پور ذلت لکھ دی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ان ہی میں شمار ہو گا ۔“
حدیث نمبر: 5116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر دو رکعت نماز پڑھی ہے ۔
حدیث نمبر: 5117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، فَقَالَ : " حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَأَنَا لَا أَصُومُهُ ، وَلَا آمُرُ بِهِ ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابونجیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، لیکن انہوں نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا، میں نے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج کیا، لیکن انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہ رکھا، میں اس دن کا روزہ رکھتا ہوں اور نہ حکم دیتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 5118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَا يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ ، إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کسی شخص پر اگر کسی کا کوئی حق ہو تو دو راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو ۔ “
حدیث نمبر: 5119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَحْسِبُهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ النَّارِ ، يُقَالُ : هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو اس کے سامنے صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے تک تمہارا یہ ٹھکانہ ہے ۔“
حدیث نمبر: 5120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ ، فَسَارَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، سَارَ حَتَّى أَمْسَى ، فَقُلْتُ : الصَّلَاةَ ، فَسَارَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ ، فَسَارَ حَتَّى أَظْلَمَ ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ أَوْ رَجُلٌ : الصَّلَاةَ وَقَدْ أَمْسَيْتَ ، فَقَالَ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ ، جَمَعَ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ " ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا ، فَسِيرُوا ، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کوئی ناگہانی خبر ملی تو وہ روانہ ہو گئے اور اس ایک رات میں تین راتوں کی مسافت طے کی، وہ شام ہونے تک چلتے رہے ، میں نے ان سے نماز کا تذکرہ کیا، لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور چلتے رہے، حتیٰ کہ اندھیرا چھانے لگا، پھر سالم یا کسی اور آدمی نے ان سے کہا کہ شام بہت ہو گئی ہے ، نماز پڑھ لیجئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جب چلنے کی جلدی ہوتی تھی، تو وہ بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے تھے اور میں بھی ان دونوں کو جمع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے چلتے رہو ، چنانچہ وہ چلتے رہے حتیٰ کہ شفق بھی غائب ہو گئی ، پھر انہوں نے اتر کر دونوں نمازوں کو اکٹھا پڑھا ۔
حدیث نمبر: 5121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَقَالَ : أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " يُرَاجِعَهَا ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا ، فَتَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
یونس بن جبیر رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا، جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے، تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو، میں نے کہا ، جی ہاں ! انہوں نے فرمایا کہ اس نے بھی اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے کہو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر اگر وہ اسے طلاق دینا ہی چاہے تو طہر کے دوران دے ۔“
حدیث نمبر: 5122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى " ، وَكَانَ شُعْبَةُ يَفْرَقُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعتیں ہیں ۔“
حدیث نمبر: 5123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : مَرِضَ ابْنُ عَامِرٍ ، فَجَعَلُوا يَثْنُونَ عَلَيْهِ ، وَابْنُ عُمَرَ سَاكِتٌ ، فَقَالَ : أَمَا إِنِّي لَسْتُ بِأَغَشِّهِمْ لَكَ ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ " .
مولانا ظفر اقبال
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ابن عامر کے پاس ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے اور ان کی تعریف کرنے لگے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ”جو پہلے خاموش بیٹھے تھے“ نے فرمایا کہ میں تمہیں ان سے بڑھ کر دھوکہ نہیں دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مال غنیمت میں سے چوری کی ہوئی چیز کا صدقہ قبول نہیں کرتا اور نہ ہی طہارت کے بغیر نماز قبول کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 5124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْقِتَالِ ، فَكَتَبَ إِلَيَّ : " إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ، قَدْ أَغَارَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ ، وَسَبَى ذُرِّيَّتَهُمْ ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ " ، حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ .
مولانا ظفر اقبال
ابن عون رحمہ اللہ کہتے کہ میں نے نافع رحمہ اللہ کے پاس ایک خط لکھا جس میں ان سے دریافت کیا کہ کیا قتال سے پہلے مشرکین کو دعوت دی جاتی تھی ؟ انہوں نے مجھے جواب میں لکھ بھیجا کہ ایسا ابتداء اسلام میں ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر جس وقت حملہ کیا تھا، وہ لوگ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لڑاکا لوگوں کو قتل کر دیا، بقیہ افراد کو قید کر لیا اور اسی دن سیدہ جویرہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ان کے حصے میں آئیں، مجھ سے یہ حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی ہے جو لشکر میں شریک تھے ۔
حدیث نمبر: 5125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَرِيرِ : " إِنَّمَا يَلْبَسُهُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے متعلق فرمایا : ”یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو ۔“
حدیث نمبر: 5126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وتر رات کی نمازوں میں سب سے آخری رکعت ہوتی ہے ۔“
حدیث نمبر: 5127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كَانَتْ " صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي لَا يَدَعُ : رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ نمازیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، وہ ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں، نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد دو رکعتیں اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں ہیں ۔
…