حدیث نمبر: 5048
حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى آلِ عُمَرَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
حدیث نمبر: 5049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي بِاللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر رات کے آخری حصے میں ان کے ساتھ ایک رکعت ملا کر (تین) وتر پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 473، م: 749 .
حدیث نمبر: 5050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَنَّاقٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَانْتَسَبَ لَهُ ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ بَنِى لَيْثٍ ، فَعَرَفَهُ ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ يَقُولُ : " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ بِذَلِكَ إِلَّا الْمَخِيلَةَ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
مسلم بن یناق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو تہبند گھسیٹتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اس نے اپنا نسب بیان کیا تو پتہ چلا کہ اس کا تعلق بنو لیث سے ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے شناخت کر لیا پھر فرمایا کہ میں نے اپنے دونوں کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر کھینچتا ہوا چلتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2085.
حدیث نمبر: 5051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ ، أَوْ لَطَمَهُ ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو کسی ایسے جرم کی سزا دے جو اس نے نہ کیا ہو یا اسے تھپڑ مارے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے آزاد کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1657 .
حدیث نمبر: 5052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوَرِّقًا الْعِجْلِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، أَوْ هُوَ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : " هَلْ تُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ عُمَرُ ؟ قَالَ : لَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ ؟ فَقَالَ : فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَا إِِِخَالُ " .
مولانا ظفر اقبال
مورق عجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا، نہیں! میں نے پوچھا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے ؟ فرمایا : نہیں ! میں نے پوچھا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے ؟ فرمایا : نہیں ! میں نے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے ؟ فرمایا : میرا خیال نہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1157.
حدیث نمبر: 5053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي الْبَيْتِ " وَسَتَأْتُونَ مَنْ يَنْهَاكُمْ عَنْهُ ، فَتَسْمَعُونَ مِنْهُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ : فَتَسْمَعُونَ مِنْ قَوْلِهِ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ قَرِيبًا مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سماک حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے لیکن ابھی تم ایک ایسے شخص کے پاس جاؤ گے اور ان کی باتیں سنو گے جو اس کی نفی کریں گے، مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے جو قریب ہی بیٹھے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَاهُ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَزَعَمَ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے والد صاحب کو نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي، لكنه متابع، وانظر ماسلف برقم: 4540 .
حدیث نمبر: 5055
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد : وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِه ، وَهُوَ إِلَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الْأَزْرَقِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ مَخِيلَةً لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085.
حدیث نمبر: 5056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُصِيبُنِي مِنَ اللَّيْلِ الْجَنَابَةُ ؟ فَقَالَ : " اغْسِلْ ذَكَرَكَ ، ثُمَّ تَوَضَّأْ ، ثُمَّ ارْقُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ ! اگر میں رات کو ناپاک ہو جاؤں اور غسل کرنے سے پہلے سونا چاہوں تو کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”شرمگاہ دھو کر نماز والا وضو کر کے سو جاؤ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مَخِيلَةً ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085.
حدیث نمبر: 5058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الضَّبِّ ، قَالَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1943.
حدیث نمبر: 5059
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَنُبِّئْتُ أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر فرمایا ۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1182 .
حدیث نمبر: 5060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ أَوْ النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1486، م: 1534.
حدیث نمبر: 5061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ ؟ فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1535.
حدیث نمبر: 5062
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ وَجَّهَتْ ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھ لیتے تھے، خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700 .
حدیث نمبر: 5063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ ، وَبِالنَّاسِ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ ، قَالَ : فَمَرَّ بِنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَنَهَانَا عَنِ الْإِقْرَانِ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ الْإِقْرَانِ ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
جبلہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھانے کے لئے کھجور دیا کرتے تھے، اس زمانے میں لوگ انتہائی مشکلات کا شکار تھے، ایک دن ہم کھجوریں کھا رہے تھے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرے اور فرمانے لگے کہ ایک وقت میں کئی کئی کھجوریں اکٹھی مت کھاؤ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر کئی کھجوریں اکٹھی کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2045 .
حدیث نمبر: 5064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا ، فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کرنے پہلے اسے آگے فروخت نہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1233، م: 1526.
حدیث نمبر: 5065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخبرنا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سماک حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر دو رکعت نماز پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي الْبَيْتِ " ، وَسَتَأْتُونَ مَنْ يَنْهَاكُمْ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سماک حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے لیکن ابھی تم ایک ایسے شخص کے پاس جاؤ گے جو اس کی نفی کریں گے، (مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تھے جو قریب ہی بیٹھے تھے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 5067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ نَجْرَانَ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ : عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ، وَعَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ سَكْرَانَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا ، قَالَ : فَجَلَدَهُ الْحَدَّ ، وَنَهَى عَنْهُمَا أَنْ يُجْمَعَا ، قَالَ : وَأَسْلَمَ رَجُلٌ فِي نَخْلٍ لِرَجُلٍ ، فَقَالَ : لَمْ تَحْمِلْ نَخْلُهُ ذَلِكَ الْعَامَ ، فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ دَرَاهِمَهُ ، فَلَمْ يُعْطِهِ ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَمْ تَحْمِلْ نَخْلُهُ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَفِيمَ تَحْبِسُ دَرَاهِمَهُ ؟ ! " ، قَالَ : فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ، قَالَ : وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ .
مولانا ظفر اقبال
نجران کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے دو چیزوں کے متعلق پوچھتا ہوں، ایک تو کشمش اور کھجور کے متعلق اور ایک کھجور کے درخت میں بیع سلم کے متعلق (ادھار) ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نشے میں دھت ایک شخص کو لایا گیا، اس نے کشمش اور کھجور کی شراب پینے کا اعتراف کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری فرمائی اور ان دونوں کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا ۔ نیز ایک آدمی نے دوسرے کے لئے کھجور کے درخت میں بیع سلم کی، لیکن اس سال پھل ہی نہیں آیا، اس نے اپنے پیسے واپس لینا چاہے تو اس نے انکار کر دیا، وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کے مالک سے پوچھا کہ کیا اس کے درختوں پر پھل نہیں آیا ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو پھر اس کے پیسے کیوں روک رکھے ہیں ؟“ چنانچہ اس نے اس کے پیسے لوٹا دئیے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے تک بیع سلم سے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة النجراني الذى روى عنه أبو إسحاق .
حدیث نمبر: 5068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الضَّبِّ ، فَقَالَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1943، ابن إسحاق - وإن كان مدلسا، وقد عنعن- متابع .
حدیث نمبر: 5069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَا بَأْسَ عَلَى أَحَدٍ يَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ ، قَالَ عِكْرِمَةُ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے قبل از حج عمرہ کرنے کا مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ حج سے پہلے عمرہ کرنے میں کسی کے لئے کوئی حرج نہیں ہے، نیز انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حج سے پہلے عمرہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1774 .
حدیث نمبر: 5070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ ؟ قَالَ : " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " ، قَالَ لِي نَافِعٌ : وَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ : وَزَعَمُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " ، وَكَانَ يَقُولُ لَا أَذْكُرُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ ہمیں کہاں سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اہل یمن کی میقات یلملم ہے لیکن مجھے یہ یاد نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1525، م: 1182، ابن جريج صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدليسه .
حدیث نمبر: 5071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ ، وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " ، قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : وَزِدْتُ أَنَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا، میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں یہ اضافہ فرماتے تھے کہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں تیری خدمت میں آ گیا ہوں، ہر قسم کی خیر آپ کے ہاتھ میں ہے، میں حاضر ہوں، تمام رغبتیں اور عمل آپ ہی کے لئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1184 .
حدیث نمبر: 5072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخبرنا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ طَاوُسًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ : " هَلْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے اور کدو کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں، طاؤس کہتے ہیں کہ یہ بات میں نے خود سنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا ، إِلَّا ضَارِيًا أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5481.
حدیث نمبر: 5074
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : " أَنُهِيَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ فَقَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ ، فَقُلْتُ : مَنْ زَعَمَ ذَاكَ ، النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : زَعَمُوا ذَاكَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ " ، قَالَ : فَصَرَفَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَنِّي يَوْمَئِذٍ ، وَكَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا سُئِلَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ غَضِبَ ثُمَّ هَمَّ بِصَاحِبِهِ .
مولانا ظفر اقبال
ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا مٹکے کی نبیذ سے ممانعت کی گئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ان کا یہی کہنا ہے، میں نے پوچھا: کن کا کہنا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا؟ انہوں نے فرمایا : ان کا یہی کہنا ہے، میں نے دوبارہ یہی سوال پوچھا اور انہوں نے یہی جواب دیا، بس اللہ نے مجھے اس دن ان سے بچا لیا کیونکہ جب ان سے کوئی شخص یہ پوچھتا کہ واقعی آپ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو وہ غصے میں آ جاتے تھے اور اس شخص کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَلْيَشُقَّهُمَا ، أَوْ لِيَقْطَعْهُمَا ، أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہیے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5853، م: 1178 .
حدیث نمبر: 5076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ الْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ : أَنَا لِلْمُحْرِمِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ورس اور زعفران سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا : محرم کو ؟ فرمایا: ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5847 .
حدیث نمبر: 5077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ : أَنْتَ كَافِرٌ أَوْ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کوئی شخص جب اپنے بھائی کو اے کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 60.
حدیث نمبر: 5078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ وَثَّابٍ ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ " الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : فَقَالَ : أَمَرَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن وثاب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غسل جمعہ کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 844.
حدیث نمبر: 5079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ ، تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً ، وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً ، لَا تَدْرِي أَهَذِهِ تَتْبَعُ أَمْ هَذِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے، جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو، کبھی اس ریوڑ کے پاس جائے اور کبھی اس ریوڑ کے پاس جائے اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ اس ریوڑ میں شامل ہو یا اس ریوڑ میں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2784 .
حدیث نمبر: 5080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، فَقَالَ : " حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَأَنَا لَا أَصُومُهُ ، وَلَا آمُرُ بِهِ ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ " ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً ، عَمَّنْ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ .
مولانا ظفر اقبال
ابونجیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، لیکن انہوں نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا، میں نے سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر رضی اللہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج کیا لیکن انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہ رکھا، میں اس دن کا روزہ رکھتا ہوں اور نہ حکم دیتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده.
حدیث نمبر: 5081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَإِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5082
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ " إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ أَمْسَكَ عَنِ التَّلْبِيَةِ ، ثُمَّ يَأْتِي ذَا طُوًى ، فَيَبِيتُ بِهِ ، وَيُصَلِّي بِهِ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، وَيَغْتَسِلُ ، وَيُحَدِّثُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حرم کے قریبی حصے میں پہنچتے تو تلبیہ روک دیتے، جب مقام ذی طوی پر پہنچتے، تو وہاں رات گزارتے، صبح ہونے کے بعد فجر کی نماز پڑھتے، غسل کرتے اور بتاتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1573، م: 1259.
حدیث نمبر: 5083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 844.
حدیث نمبر: 5084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي يَفُوتُهُ الْعَصْرُ ، كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے تو گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 626 .
حدیث نمبر: 5085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَأْمُرُنَا نُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَ : " يُصَلِّي أَحَدُكُمْ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ يُصَلِّي وَاحِدَةً ، فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! رات کی نماز کے متعلق آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : ”تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو ، تم نے رات میں جتنی نماز پڑھی ہو گی ، ان سب کی طرف سے یہ وتر کے لئے کافی ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 473، م: 729.
حدیث نمبر: 5086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا، «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1184.
حدیث نمبر: 5087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنْ أَيْنَ نُهِلُّ ؟ قَالَ : " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَأَهْلُ الشام مِنَ الْجُحْفَةِ ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " ، قَالَ : وَيَقُولُونَ : وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ! آپ ہمیں کہاں سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اہل یمن کی میقات یلملم ہے لیکن مجھے یہ یاد نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1525، م: 1182 .