حدیث نمبر: 5008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي السُّبَيْعِيَّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے برسر منبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 844.
حدیث نمبر: 5009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْمُتَلَاعِنَيْنِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ قَال : سُبْحَانَ اللَّهِ ! نَعَمْ ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانٌ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ ، كَيْفَ يَصْنَعُ ؟ إِنْ سَكَتَ ، سَكَتَ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ ، وَإِنْ تَكَلَّمَ فَمِثْلُ ذَلِكَ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُجِبْهُ ، فَقَامَ لِحَاجَتِهِ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدْ ابْتُلِيتُ بِهِ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 حَتَّى خَتَمَ الْآيَاتِ ، فَدَعَا الرَّجُلَ ، فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ ، وَذَكَّرَهُ بِاللَّهِ تَعَالَى ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ، فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ دَعَا الْمَرْأَةَ ، فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا ، وَأَخْبَرَهَا بِأَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، إِنَّهُ لَكَاذِبٌ ، فَدَعَا الرَّجُلَ ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ ، وَالْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ، ثُمَّ دَعَا بِالْمَرْأَةِ ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الْكَاذِبِينَ ، وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا : اے ابوعبدالرحمن ! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کی جائے گی ؟ انہوں نے میرا سوال سن کر سبحان اللہ کہا اور فرمایا : لعان کے متعلق سب سے پہلے فلاں بن فلاں نے سوال کیا تھا، اس نے عرض کیا تھا، یا رسول اللہ ! ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو بدکاری کرتا ہوا دیکھتا ہے، وہ بولتا ہے تو بہت بڑی بات کہتا ہے اور اگر خاموش رہتا ہے تو اتنی بڑی بات پر خاموش رہتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے سکوت فرمایا ، کچھ ہی عرصے بعد وہ شخص دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے آپ سے جو سوال پوچھا تھا ، میں اس میں مبتلا ہو گیا ہوں ، اس پر اللہ نے سورہ نور کی یہ آیات «والذين يرمون ازواجهم ...... ان كان من الصدقين» تک نازل فرمائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو بلا کر اس کے سامنے ان آیات کی تلاوت کی ، پھر ان آیات کے مطابق مرد سے لعان کا آغاز کرتے ہوئے اسے وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے، وہ کہنے لگا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ، میں آپ سے جھوٹ نہیں بول رہا ، دوسرے نمبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو رکھا اسے بھی وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے، وہ کہنے لگی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، یہ جھوٹا ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے اس کا آغاز کیا اور اس نے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو ، پھر عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس نے بھی چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دی کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5311، م: 1493.
حدیث نمبر: 5010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْخَبَّاطِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ ، أَوْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ، وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ أَوْ تُضْحِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ تاجر سوار ہو کر آنے والوں سے، باہر باہر ہی مل لیں، یا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع کرے، یا کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیجے تا وقتیکہ نکاح نہ ہو جائے یا رشتہ چھوٹ نہ جائے، اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نفل نماز نہیں ہے اور نماز فجر کے بعد سورج کے بلند ہو جانے تک کوئی نفل نماز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2165، م: 1517.
حدیث نمبر: 5011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا ، فَأَبَيْتُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَةً كَرِهْتُهَا لَهُ ، فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا ، فَأَبَى ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، " طَلِّقْ امْرَأَتَكَ " ، فَطَلَّقْتُهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں میری جو بیوی تھی، مجھے اس سے بڑی محبت تھی، لیکن وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ناپسند تھی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ اسے طلاق دے دو، میں نے اسے طلاق دینے میں لیت و لعل کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! ! عبداللہ بن عمر کے نکاح میں جو عورت ہے، مجھے وہ پسند نہیں ہے، میں اسے کہتا ہوں کہ اسے طلاق دے دے، تو وہ میری بات نہیں مانتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ عبداللہ ! اپنی بیوی کو طلاق دے دو، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 5012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، قَالَ : كُنَّا فِي سَفَرٍ وَمَعَنَا ابْنُ عُمَرَ ، فَسَأَلْتُهُ ؟ فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَهَا ، قَالَ : وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ ؟ فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ " ، قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمَا تَذْهَبُ الْعَاهَةُ ؟ مَا الْعَاهَةُ ؟ قَالَ : طُلُوعُ الثُّرَيَّا .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سراقہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں تھے، ہمارے ساتھ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، میں نے ان سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں فرائض سے پہلے یا بعد میں نماز نہیں پڑھتے تھے (سنتیں مراد ہیں) ۔ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پھلوں کی بیع کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاهه» کے ختم ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے، میں نے ان سے «عاهه» کا مطلب پوچھا، تو انہوں نے فرمایا : ثریا ستارہ کا طلوع ہونا (جو کہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اب اس پھل پر کوئی آفت نہیں آئے گی)۔ ابن سری کہتے ہیں کہ خراسان کوئی عقلمندوں کا شہر نہیں ہے، اگر کچھ ہو بھی تو صرف اس شہر ”مرو“ میں ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5012
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1535.
حدیث نمبر: 5013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمَةِ " ، قُلْتُ لَهُ : مَا الْحَنْتَمَةُ ؟ قَالَ : الْجَرَّةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «حنتمه» سے منع فرمای ہے ، کسی نے پوچھا : وہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا : ”وہ مٹکا جو نبیذ (یا شراب کشید کرنے کے لئے) استعمال ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5013
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ مَخِيلَةٍ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5014
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5791، م: 2085.
حدیث نمبر: 5015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَالْحَجَّاجُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : سَمِعْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ : وَقَالَ : أَشُكُّ فِي " النَّقِيرِ " ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ مَرَّاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء ، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ راوی کو ”نقیر“ کے لفظ میں شک ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوَتْرُ آخِرُ رَكْعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وتر رات کی نمازوں میں سب سے آخری رکعت ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 752.
حدیث نمبر: 5017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لَا نَكْتُبُ وَلَا ، نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " ، يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہم امی امت ہیں، حساب کتاب نہیں جانتے، بعض اوقات مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے، تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا اور بعض اوقات اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی پورے تیس کا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1913، م: 1080.
حدیث نمبر: 5018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : مَرَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ في طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَإِذَا فِتْيَةٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا ، لَهُمْ كُلُّ خَاطِئَةٍ ، قَالَ : فَغَضِبَ ، وَقَالَ : مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ قَالَ : فَتَفَرَّقُوا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُمَثِّلُ بِالْحَيَوَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ کے کسی راستے پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ہوا ، دیکھا کہ کچھ نوجوانوں نے ایک زندہ مرغی کو باندھ رکھا ہے اور اس پر نشانہ درست کر رہے ہیں، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے، یہ کون کر رہا ہے ؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہو گئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے، جو جانور کا مثلہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1957.
حدیث نمبر: 5019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدٍ , وَأَبِي بَكْرٍ ابْنَيْ مُحَمَّدٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا , نَافِعًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ ، وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا، میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1184.
حدیث نمبر: 5020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعًا ، قَالَ : رَأَى ابْنُ عُمَرَ مِسْكِينًا ، فَجَعَلَ يُدْنِيهِ ، وَيَضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا ، فَقَالَ لِي : لَا تُدْخِلَنَّ هَذَا عَلَيَّ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مسکین آدمی کو دیکھا ، انہوں نے اسے قریب بلا کر اس کے آگے کھانا رکھا ، وہ بہت سا کھانا کھا گیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ دیکھ کر مجھ سے فرمایا : آئندہ یہ میرے پاس نہ آئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5393، م: 2060.
حدیث نمبر: 5021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمْ الْمَسَاجِدَ بِاللَّيْلِ " ، فَقَالَ سَالِمٌ أَوْ بَعْضُ بَنِيهِ : وَاللَّهِ لَا نَدَعُهُنَّ يَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا ! ! قَالَ : فَلَطَمَ صَدْرَهُ ، وَقَالَ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَذَا ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم رات کے وقت اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہ روکا کرو“، یہ سن کر سالم یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ واللہ ! ہم تو انہیں اس طرح نہیں چھوڑیں گے، وہ تو اسے اپنے لئے دلیل بنا لیں گی ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 442.
حدیث نمبر: 5022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشَ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : عَنِ الْأَعْمَشِ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَأُرَاهُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبَةُ : قَالَ سُلَيْمَانُ : وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ " ، قَالَ حَجَّاجٌ : خَيْرٌ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”وہ مسلمان جو لوگوں سے ملتاجلتا ہے اور ان کی طرف سے آنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے، وہ اس مسلمان سے اجر و ثواب میں کہیں زیادہ ہے، جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا کہ ان کی تکالیف پر صبر کرنے کی نوبت آئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : فَإِذَا كَانُوا أَرْبَعَةً ؟ قَالَ : فَلَا بَأْسَ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو“، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر چار ہوں تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183.
حدیث نمبر: 5024
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ ، وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا ، میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1184.
حدیث نمبر: 5025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ؟ فَقَالَ : أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ؟ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَهُ طَلَاقُهَا طَلَّقَهَا فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا " ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : " أَوْ فِي قُبُلِ طُهْرِهَا " ، فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : أَيُحْسَبُ طَلَاقُهُ ذَلِكَ طَلَاقًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
یونس بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا : جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے، تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو ، اس نے بھی اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے کہو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر اگر وہ اسے طلاق دینا ہی چاہے تو طہر کے دوران دے،“ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا اس کی وہ طلاق شمار کی جائے گی ؟ فرمایا : یہ بتاؤ، کیا تم اسے بیوقوف اور احمق ثابت کرنا چاہتے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5252، م: 1471.
حدیث نمبر: 5026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا آكُلُهُ ، وَلَا آمُرُ بِهِ ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نہ گوہ کو کھاتا ہوں، نہ حکم دیتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1943.
حدیث نمبر: 5027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے جس وقت اسلام قبول کیا ان کے نکاح میں دس بیویاں تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے چار کو منتخب کر لو ( اور باقی چھ کو طلاق دے دو )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات إلا أن معمرا أخطأ فيه كما سلف برقم: 4609.
حدیث نمبر: 5028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5029
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : " إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلِ الْمِائَةِ ، لَا يُوجَدُ فِيهَا رَاحِلَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے، جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5030
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ بَهْزٌ : قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ حُرَيْثٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ ، وَهِيَ الدُّبَّاءُ ، وَالْمُزَفَّتُ ، وَقَالَ : " انْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے یعنی دباء اور مزفت سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مشکیزوں میں نبیذ بنا لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5031
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ حُرَيْثٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مُلْتَمِسًا فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ ، فَإِنْ عَجَزَ أَوْ ضَعُفَ فَلَا يُغْلَبْ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”شب قدر کو تلاش کر نے والا اسے آخری عشرے میں تلاش کرے، اگر اس سے عاجز آ جائے یا کمزور ہو جائے تو آخری سات راتوں میں مغلوب نہ ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2015، م: 1165.
حدیث نمبر: 5032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِنْ خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : مَا مَثْنَى مَثْنَى ؟ قَالَ : رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ر”ات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے، جب طلوع فجر ہونے لگے تو ان کے ساتھ ایک رکعت اور ملا کر وتر پڑھ لو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 749، م: 473.
حدیث نمبر: 5033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : رَأَيْتُ طَاوُسًا " حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ ، وَحِينَ يَرْكَعُ ، وَحِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ " ، فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، أَنَّهُ يُحَدِّثُهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس کو دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کر رہے تھے، ان کے کسی شاگرد نے مجھے بتایا کہ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل من أصحاب طاووس الذى حدث عنه الحكم بن عتيبة.
حدیث نمبر: 5034
حَدَّثَنَاه أَبُو النَّضْرِ ، بِمَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: انظر ما قبله .
حدیث نمبر: 5035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : يَا كَافِرُ ، فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا ، إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ ، وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَى الْآخَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی آدمی کو کافر کہتا ہے، اگر وہ واقعی کافر ہو تو ٹھیک، ورنہ وہ جملہ اسی پر لوٹ آتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 60.
حدیث نمبر: 5036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُغْبَنُ فِي الْبَيْعِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ : لَا خِلَابَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش کا ایک آدمی تھا جیسے بیع میں لوگ دھوکہ دے دیتے تھے، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1533.
حدیث نمبر: 5037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، الْمَعْنَى ، قَالَ حَجَّاجٌ : عَنْ جَبَلَةَ ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ جَبَلَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ ، قَالَ : وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ ، فَكُنَّا نَأْكُلُ فَيَمُرُّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ ، فَيَقُولُ : لَا تُقَارِنُوا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ الْإِقْرَانِ ، قَالَ حَجَّاجٌ : نَهَى عَنِ الْقِرَانِ ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ " ، وَقَالَ شُعْبَةُ : لَا أُرَى هَذِهِ الْكَلِمَةَ فِي الِاسْتِئْذَانِ إِلَّا مِنْ كَلَامِ ابْنِ عُمَرَ .
مولانا ظفر اقبال
جبلہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھانے کے لئے کھجور دیا کرتے تھے، اس زمانے میں لوگ انتہائی مشکلات کا شکار تھے، ایک دن ہم کھجوریں کھا رہے تھے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرے اور فرمانے لگے کہ ایک وقت میں کئی کئی کھجوریں اکٹھی مت کھاؤ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر کئی کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے۔ امام شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میرا خیال تو یہی ہے کہ اجازت والی بات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کلام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2045.
حدیث نمبر: 5038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ مِنْ مَخِيلَةٍ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2085.
حدیث نمبر: 5039
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ بَهْزٌ : أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا " ، وَطَبَّقَ بِأَصَابِعِهِ مَرَّتَيْنِ ، وَكَسَرَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ : يَعْنِي قَوْلَهُ : تِسْعٌ وَعِشْرِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بعض اوقات مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا یعنی انتیس کا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1908، م: 1080.
حدیث نمبر: 5040
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھ لیتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
حدیث نمبر: 5041
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ " يُصَلِّي صَلَاةَ السَّفَرِ يَعْنِي رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ سِتَّ سِنِينَ مِنْ إِمْرَتِهِ ، ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، حضرات شیخین رضی اللہ عنہم کے ساتھ اور چھ سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی منٰی میں نماز پڑھی ہے، یہ سب حضرات مسافروں والی نماز یعنی دو رکعتیں پڑھتے تھے، بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکمل نماز پڑھنے لگے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 694.
حدیث نمبر: 5042
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ ، سَمِعْتُ عَوْنًا الْأَزْدِيَّ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ أَمِيرًا عَلَى فَارِسَ ، فَكَتَبَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ يَسْأَلُهُ عَنِ الصَّلَاةِ ؟ فَكَتَبَ ابْنُ عُمَرَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عون ازدی کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر ”جو کہ فارس کے گورنر تھے“ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک خط لکھا، جس میں ان سے نماز کے متعلق پوچھا ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب میں لکھ بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے نکل جاتے تو واپس آنے تک دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے (قصر نماز مراد ہے )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عون الأزدي لم يرو عنه سوى أبى فروة الهمداني، ولم يوثقه غير ابن حبان، فهو فى عداد المجهولين.
حدیث نمبر: 5043
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ حَجَّاجٌ : مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَلِيٍّ ، قَالَ حَجَّاجٌ : الْأُمَوِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، وَرَأَى رَجُلًا يَعْبَثُ فِي صَلَاتِهِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " لَا تَعْبَثْ فِي صَلَاتِكَ ، وَاصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : فَوَضَعَ ابْنُ عُمَرَ فَخِذَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ، وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُمْنَى ، وَقَالَ بِإِصْبَعِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو دوران نماز کھیلتے ہوئے دیکھا ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : نماز میں مت کھیلو اور اسی طرح کرو جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی دائیں ران بائیں پر رکھ لی، بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور انگلی سے اشارہ کر نے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَيَّانَ يَعْنِي الْبَارِقِيَّ ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّ إِمَامَنَا يُطِيلُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " رَكْعَتَانِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفُّ ، أَوْ مِثْلُ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حیان بارقی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ہمارا امام بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں اس شخص کی نماز کی ایک رکعت سے بھی ہلکی یا برابر ہوتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير حيان بن إياس البارقي، فلم يرو عنه غير شعبة، ووثقه ابن معين وابن حبان.
حدیث نمبر: 5045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي السَّخْتِيَانِيَّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمْ الْمَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اپنی عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے مت روکا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 873، م: 442 .
حدیث نمبر: 5046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى يُحَدِّثُ : عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، وَلَا يُقِيمُ الرَّجُلُ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو اور کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183.
حدیث نمبر: 5047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَجَعَلَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَاحِيَةَ مَكَّةَ ، فَقُلْتُ لِسَالِمٍ : لَوْ كَانَ وَجْهُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي ؟ قَالَ : سَلْهُ ، فَسَأَلْتُهُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَهَاهُنَا وَهَاهُنَا ، وَقَالَ : لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ سے مکہ تک مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رفاقت حاصل ہوئی، وہ مکہ کے ایک کونے میں اپنی سواری پر ہی نماز پڑھنے لگے، میں نے سالم سے کہا کہ اگر ان کا چہرہ مدینہ کی جانب ہوتا تو یہ کس طرح نماز پڑھتے ؟ سالم نے کہا کہ تم خود ہی ان سے پوچھ لو، چنانچہ میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں اسی طرح پڑھتا یہاں بھی اور وہاں بھی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.