حدیث نمبر: 4968
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ الْجَزَرِيَّ يُخْبِرُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ ، أَوْ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 4969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لاَ تُقْبَلُ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ ، وَلاَ صَلاَةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ مال غنیمت میں سے چوری کی ہوئی چیز کا صدقہ قبول نہیں کرتا اور نہ ہی طہارت کے بغیر نماز قبول کرتا ہے ۔“
حدیث نمبر: 4970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ : أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ فِي الْيَوْمِ الأْوْسَطِ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ، قَالَ : فَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَدَنَا الْقَوْمُ ، وَتَنَحَّى ابْنٌ لَهُ ، قَالَ : فَقَالَ له : ادْنُ فاطْعَمْ ، قَالَ : فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهَا أَيَّامُ طُعْمٍ وَذِكْرٍ " ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایام تشریق کے کسی درمیانی دن میں ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تھوڑی دیر بعد کھانا آیا اور لوگ قریب قریب ہو گئے ، لیکن ان کا ایک بیٹا ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : آگے ہو کر کھانا کھاؤ، اس نے کہا کہ میں روزے سے ہوں انہوں نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں ۔
حدیث نمبر: 4971
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " وَمَنْ صَلَّى مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ، فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صلاَتِهِ وِتْرًا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص رات کے آغاز میں نماز پڑھے تو اسے چاہئے کہ رات کو اپنی سب سے آخری نماز وتر کو بنائے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی تلقین فرماتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُرِيتُ فِي النَّوْمِ أَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيب ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَاسْتَقَى ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ ، حَتَّى رَوَّى النَّاسُ ، وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک کنوئیں پر ڈول کھینچ رہا ہوں، اتنی دیر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری تھی، اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے ڈول کھینچے اور وہ ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا میں نے کسی عبقری انسان کو ان کی طرح ڈول بھرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کر دیا ۔
حدیث نمبر: 4973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ " ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَالْقَزَعُ : التَّرْقِيعُ فِي الرَّأْسِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے ، «قزع» کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں۔
حدیث نمبر: 4974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بن عثمان ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے «قزع» کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لیے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں۔
حدیث نمبر: 4975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيَّ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ”تم میں سے کسی کا پیٹ قے سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے ۔“
حدیث نمبر: 4976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ " فَصَّ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عِنْدَ 60 الْكَعْبَةِ 60 ، مِمَّا يَلِي وَجْهَهَا ، رَجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّأْسِ ، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ ، يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ، وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى ، جَعْدَ الرَّأْسِ ، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا ، اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ پتہ چلا کہ یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ کے ، گھنگریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلا کہ یہ مسیح دجال ہے ۔“
حدیث نمبر: 4978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ إِسْتَبْرَقٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ تَلْبَسَهَا إِذَا قَدِمَ عَلَيْكَ وُفُودُ النَّاسِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ، ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ ثَلَاثٍ ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ ، وَإِلَى عَلِيٍّ بِحُلَّةٍ ، وَإِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ ، فَأَتَى عُمَرُ رضي الله عنه بِحُلَّتِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تُشَقِّقَهَا لِأَهْلِكَ خُمُرًا " ، قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ : وَأَتَاهُ أُسَامَةُ وَعَلَيْهِ الْحُلَّةُ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا " ، مَا أَدْرِي أَقَالَ لِأُسَامَةَ : " تُشَقِّقُهَا خُمُرًا " أَمْ لَا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فِي حَدِيثِهِ : أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : وَجَدَ عُمَرُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے ہوئے دیکھا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسے خرید لیتے تو وفود کے سامنے پہن لیا کرتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو“ ، چند دن بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے چند ریشمی حلے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بھجوا دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ نے خود ہی تو اس کے متعلق وہ بات فرمائی تھی جو میں نے سنی تھی اور اب آپ ہی نے مجھے یہ ریشمی جوڑا بھیج دیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کر کے اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ یا اپنے گھر والوں کو اس کے دوپٹے بنا دو ۔“ اسی طرح سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے وہ ریشمی جوڑا پہن رکھا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے یہ تمہیں پہننے کے لئے نہیں بھجوایا تھا ، میں نے تو اس لئے بھجوایا تھا کہ تم اسے فروخت کر دو“ یہ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا یا نہیں کہ اپنے گھر والوں کو اس کے دوپٹے بنا دو ۔
حدیث نمبر: 4979
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : وَأَتَاهُ أُسَامَةُ وَقَدْ لَبِسَهَا ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : أَنْتَ كَسَوْتَنِي ، قَالَ : " شَقِّقْهَا بَيْنَ نِسَائِكَ خُمُرًا ، أَوْ اقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمی لباس پہن کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہی نے تو مجھے پہنایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹے تقسیم کر دو یا اپنی ضرورت پوری کر لو ۔“
حدیث نمبر: 4980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ ، أَوْ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ ، وَيَقُولُ : " ها ، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، هَا ، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، هَا ، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، مِنْ حَيْثُ يُطْلِعُ الشَّيْطَانُ قَرْنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا : ”فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے ۔“
حدیث نمبر: 4981
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْيدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يُخْبِرُ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے ۔
حدیث نمبر: 4982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَكَانَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ هَاهُنَا وَهَاهُنَا ، فَقُلْتُ لَهُ ، فَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن سعد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ، وہ سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو میں نے ایک مرتبہ ان سے اس کے متعلق پوچھا ، تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 4983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ ثَلَاثًا مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ، وَمَشَى أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چاروں میں اپنی رفتار معمول کے مطابق رکھی ۔
حدیث نمبر: 4984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ ، فَجَعَلَتْ نِسَاءُ 61 الْأَنْصَارِ 61 يَبْكِينَ عَلَى مَنْ قُتِلَ مِنْ أَزْوَاجِهِنَّ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَكِنْ حَمْزَةُ لَا بَوَاكِيَ لَهُ " ، قَالَ : ثُمَّ نَامَ ، فَاسْتَنْبَهَ وَهُنَّ يَبْكِينَ ، قَالَ : " فَهُنَّ الْيَوْمَ إِذًا يَبْكِينَ يَنْدُبْنَ بِحَمْزَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے واپس ہوئے ، تو انصار کی عورتیں اپنے اپنے شہید ہونے والے شوہروں پر رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”حمزہ کے لئے کوئی رونے والی نہیں ہے ؟“ ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ لگ گئی بیدار ہوئے تو وہ خواتین اسی طرح رو رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ آج حمزہ کا نام لے کر روتی ہی رہیں گی ۔“
حدیث نمبر: 4985
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ " ، وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب نازل فرمانا چاہتا ہے تو وہاں کے تمام رہنے والوں پر عذاب نازل ہو جاتا ہے، پھر انہیں ان کے اعمال کے اعتبار سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا (عذاب میں تو سب نیک وبد شریک ہوں گے جزا و سزا اعمال کے مطابق ہو گی)۔ “
حدیث نمبر: 4986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " مَا أَتَيْتُ عَلَى الرُّكْنِ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ ، فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ ، إِلَّا مَسَحْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے، اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا ۔
حدیث نمبر: 4987
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيتَ الْفَجْرَ ، فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے جب طلوع فجر ہونے لگے تو ان کے ساتھ ایک رکعت اور ملا کر وتر پڑھ لو ۔“
حدیث نمبر: 4988
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُضْرَبُونَ إِذَا ابْتَاعُوا الطَّعَامَ جُزَافًا أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگوں کو اس بات پر مار پڑتی تھی کہ وہ اندازے سے کوئی غلہ خریدیں اور اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیں جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں ۔
حدیث نمبر: 4989
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ : أخبرنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ ، وَإِنْ كَانَ لَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ ، قَالَ يَزِيدُ : فِي الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہماری امامت کرتے ہوئے سورت صفّٰت (کی چند آیات) پر اکتفاء فرماتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي الْحَدَّادَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي الْقُبُورِ ، فَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم اپنے مردوں کو قبر میں اتارو تو کہو «بسم الله وعلي ملة رسول الله» ۔ “
حدیث نمبر: 4991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : لَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ ، مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شام کی طرف رخ کر کے دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے قضائے حاجت فرما رہے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4992
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ النَّهَارِ ، فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو ۔“
حدیث نمبر: 4993
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا لَكَ لَا تَرْمُلُ ؟ فَقَالَ : قَدْ " رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مقدام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان سعی میں عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا ، اے ابوعبدالرحمن ! آپ تیز کیوں نہیں چل رہے ؟ فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اپنی رفتار تیز بھی فرمائی اور نہیں بھی فرمائی ۔
حدیث نمبر: 4994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ مَوْلَى مَيْمُونَةَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک دن میں ایک ہی نماز کو دو مرتبہ نہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 4995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ سَلَمَةَ الشَّيْبَانِيُّ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُدُمَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ مَعَ الْأَشَجِّ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ ؟ " فَنَهَاهُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ بنو عبدالقیس کا وفد اپنے سردار کے ساتھ آیا، ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشروبات کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حنتم، دباء، اور نقیر سے منع فرمایا ۔
حدیث نمبر: 4996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، قَالَ : ذَكَرْتُ لِابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَنَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ ، فَقَالَ : وَهِلَ أَنَسٌ ، إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ ، وَأَهْلَلْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ ، قَالَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً " ، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ ، فَلَمْ يَحِلَّ .
مولانا ظفر اقبال
بکر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو مغالطہ ہو گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں تو حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ حج کا ہی احرام باندھا تھا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو فرمایا : ”جس شخص کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، اسے چاہئے کہ اسے عمرہ بنا لے اور چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام نہیں کھولا۔
حدیث نمبر: 4997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَرْبَعًا تَلَقَّفْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ چار جملے ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کئے ہیں اور وہ یہ کہ میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔
حدیث نمبر: 4998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا صَلَاحُهَا ؟ قَالَ : إِذَا ذَهَبَتْ عَاهَتُهَا ، وَخَلَصَ طَيِّبُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے سے پہلے اس کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے، لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! ! پھل پکنے سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب اس سے خراب ہونے کا خطرہ دور ہو جائے اور عمدہ پھل چھٹ جائے۔“
حدیث نمبر: 4999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ : سَهْمًا لَهُ ، وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر) مرد اور اس کے گھوڑے کے تین حصے مقرر فرمائے تھے، جن میں سے ایک حصہ مرد کا اور دو حصے گھوڑے کے تھے۔
حدیث نمبر: 5000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ شَجَرَةً بَرَكَتُهَا كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ النَّخْلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں ایک ایسا درخت جانتا ہوں جس کی برکت مرد مسلم کی طرح ہے، وہ کھجور کا درخت ہے۔“
حدیث نمبر: 5001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " يُصَلِّي حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، وَيَتَأَوَّلُ عَلَيْهِ : وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ سورة البقرة آية 144 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھ لیتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ اس کی تائید میں یہ آیت پیش کرتے تھے «وحيث ماكنتم فولوا وجوهكم» ۔
حدیث نمبر: 5002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِي ، أَوْ بِبَعْضِ جَسَدِي ، وَقَالَ : يا عَبْدَ اللَّهِ ، " كُنْ كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ، وَعُدَّ نَفْسَكَ مِنْ أَهْلِ الْقُبُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ میرے کپڑے یا جسم کے کسی حصے کو پکڑ کر فرمایا : ”اے عبداللہ ! دنیا میں اس طرح رہو ، جیسے کوئی مسافر یا راہ گزر ہوتا ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو۔“
حدیث نمبر: 5003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْبُرْنُسَ ، وَلَا الْقَمِيصَ ، وَلَا الْعِمَامَةَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَ ، وَلَا الْخُفَّيْنِ ، إِلَّا أَنْ يَضْطَرَّ ، يَقْطَعُهُ مِنْ عِنْدِ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا يَلْبَسُ ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ وَلَا الزَّعْفَرَانُ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ غَسِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” محرم قمیض شلوار عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے، اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو، وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے دھو لیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 5004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مَالِكٍ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے متعلق سوال پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اس کی ممانعت کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 5005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مَالِكٍ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کر کے آئے۔“
حدیث نمبر: 5006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْدَامِ بْنِ وَرْدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ " طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمْ يَرْمُلْ ، فَقُلْتُ : لِمَ تَفْعَلُ هَذَا ؟ قَالَ : فَقَالَ : نَعَمْ ، كُلًّا قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ، رَمَلَ وَتَرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مقدام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان سعی میں عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا ، تو ان سے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن ! آپ تیز کیوں نہیں چل رہے ؟ فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اپنی رفتار تیز بھی فرمائی اور نہیں بھی فرمائی۔
حدیث نمبر: 5007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، أخبرنا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَئِنْ تَرَكْتُمْ الْجِهَادَ ، وَأَخَذْتُمْ بِأَذْنَابِ الْبَقَرِ ، وَتَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ ، لَيُلْزِمَنَّكُمْ اللَّهُ مَذَلَّةً فِي رِقَابِكُمْ ، لَا تَنْفَكُّ عَنْكُمْ حَتَّى تَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَتَرْجِعُوا عَلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر تم نے جہاد کو ترک کر دیا ، گائے کی دمیں پکڑنے لگے، عمدہ اور بڑھیا چیزیں خریدنے لگے، تو اللہ تم پر مصائب کو نازل فرمائے گا اور اس وقت تک انہیں دور نہیں کرے گا جب تک تم لوگ توبہ کر کے دین کی طرف واپس نہ آ جاؤ گے۔“
…