حدیث نمبر: 4888
قَال مَعْمَرٌ : وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 4889
قَالَ : وحَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَلَقَ فِي حَجَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے سر کا حلق کروایا تھا ۔
حدیث نمبر: 4890
قَالَ : وحَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 4891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ ، فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ ، فَجَاءَ بِهِ ، فَفَتَحَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، فَأَجَافُوا عَلَيْهِمْ الْبَابَ مَلِيًّا ، ثُمَّ فَتَحُوهُ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَبَادَرْتُ النَّاسَ ، فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا ، فَقُلْتُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ ، قَالَ : وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، صحن کعبہ میں پہنچ کر اونٹنی کو بٹھایا اور عثمان بن طلحہ سے چابی منگوائی، وہ چابی لے آئے اور دروازہ کھولا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہو گئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید ، عثمان بن طلحہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر لیا اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، تو سب سے پہلے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ؟ انہوں نے بتایا کہ اگلے دوستونوں کے درمیان لیکن میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں ؟
حدیث نمبر: 4892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَذِنَ لِضَعَفَةِ النَّاسِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کمزور لوگوں کو رات ہی کے وقت مزدلفہ سے منٰی جانے کی اجازت دے دی تھی ۔
حدیث نمبر: 4893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ خَالِدٍ الْحَارِثِيُّ : مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں ایک ہی اقامت سے مغرب کی تین رکعتیں اور عشاء کی دو رکعتیں پڑھیں، جس پر مالک بن خالد نے عرض کیا : اے ابوعبدالرحمن ! یہ کیسی نماز ہے ؟ فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ نمازیں اس جگہ ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھی ہیں ۔
حدیث نمبر: 4894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَسَدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ، بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں ایک ہی اقامت سے مغرب کی تین رکعتیں اور عشاء کی دو رکعتیں اکھٹیں پڑھیں ۔
حدیث نمبر: 4895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُلَبِّي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا : «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» ”میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں ، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں ۔“
حدیث نمبر: 4896
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وَمَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 4897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ، فَقَالَ : وَلِلْمُقَصِّرِينَ ؟ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا ، أَوْ أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَالَ : " وَلِلْمُقَصِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اے اللہ ! حلق کر انے والوں کو معاف فرما دے۔ “ لوگوں نے عرض کیا : قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعا فرمائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ اے اللہ ! قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے ۔
حدیث نمبر: 4898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو روانگی اختیار کی اور ظہر کی نماز واپس آ کر منٰی ہی میں پڑھی ۔
حدیث نمبر: 4899
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا نَادَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ : " لَا يَلْبَسُ السَّرَاوِيلَ ، وَلَا الْقَمِيصَ ، وَلَا الْبُرْنُسَ ، وَلَا الْعِمَامَةَ ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ ، وَلَا وَرْسٌ ، وَلْيُحْرِمْ أَحَدُكُمْ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ وَنَعْلَيْنِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْعَقِبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! محرم کون سا لباس ترک کر دے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قمیض، شلوار، عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں جس شخص کو جوتے نہ ملیں، اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے، اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا ۔“
حدیث نمبر: 4900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد اپنی قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے (بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا)۔
حدیث نمبر: 4901
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُقِيمَ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر دو آدمیوں کے درمیان غلام مشترک ہو اور ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے سے آزاد کر دے تو دوسرے کے مالدار ہونے کی صورت میں اس کی قیمت لگوائی جائے گی ۔“
حدیث نمبر: 4902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَمُرُّ عَلَيْهِ ثَلَاثُ لَيَالٍ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کسی شخص پر اگر کسی مسلمان کا کوئی حق ہو تو تین راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو ۔“
حدیث نمبر: 4903
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فی سبیل اللہ کسی شخص کو سواری کے لئے گھوڑا دے دیا ، بعد میں دیکھا کہ وہ گھوڑا بازار میں بک رہا ہے، انہوں نے سوچا کہ اسے خرید لیتا ہوں، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے صدقے سے رجوع مت کرو ۔
حدیث نمبر: 4904
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ وَالْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ يَحْلِفُ وَأَبِي ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَلَفَ بِشَيْءٍ دُونَ اللَّهِ تَعَالَى فَقَدْ أَشْرَكَ " ، وَقَالَ الْآخَرُ : " فَهُوَ شِرْكٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ «وابي» کہہ کر قسم کھایا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا : ”جو شخص غیر اللہ کی قسم کھاتا ہے وہ شرک کرتا ہے ۔“
حدیث نمبر: 4905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ ، أَوْ مَنْ لَا أَتَّهِمُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ خَطَبَ إِلَى نَسِيبٍ لَهُ ابْنَتَهُ ، قَالَ : فَكَانَ هَوَى أُمِّ الْمَرْأَةِ فِي ابْنِ عُمَرَ ، وَكَانَ هَوَى أَبِيهَا فِي يَتِيمٍ لَهُ ، قَالَ : فَزَوَّجَهَا الْأَبُ يَتِيمَهُ ذَلِكَ ، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمِّرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک ہم نسب کی بیٹی کے لئے پیغام نکاح بھیجا ، اس لڑکی کی ماں یہ چاہتی تھی کہ اس کا نکاح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہو جائے اور باپ کی خواہش اپنے یتیم بھتیجے سے شادی کرنے کی تھی، بالآخر اس کے باپ نے اس کی شادی اپنے یتیم بھتیجے سے کر دی ، وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا قصہ ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیٹیوں کے معاملے میں اپنی عورتوں سے بھی مشورہ کر لیا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 4906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عُمْرَى ، وَلَا رُقْبَى ، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا ، أَوْ أُرْقِبَهُ ، فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عمریٰ اور رقبٰی (کسی کی موت تک کوئی مکان یا زمین دینے) کی کوئی حیثیت نہیں ہے“ اور فرمایا : ”جس کے لئے عمریٰ رقبیٰ کیا گیا وہ اسی کا ہے ، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ۔“
حدیث نمبر: 4907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَضَعُ فَصَّ خَاتَمِهِ فِي بَطْنِ الْكَفِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَرَأَى فِي الْقِبْلَةِ نُخَامَةً ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ ، وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَسْتَقْبِلُهُ بِوَجْهِهِ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْقِبْلَةِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ دَعَا بِعُودٍ فَحَكَّهُ ، ثُمَّ دَعَا بِخَلُوقٍ فَخَضَبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران نماز مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے ناراض ہو کر فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے، تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے ۔ اور نہ ہی دائیں جانب“ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی منگوا کر اس سے اسے ہٹا دیا اور ”خلوق“ نامی خوشبو منگوا کر وہاں لگا دی ۔
حدیث نمبر: 4909
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مَرَّةً ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَأَنَا أَشُكُّ " يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی سنتوں میں بیسیوں مرتبہ سورۃ کافروں اور سورۃ اخلاص پڑھی ہو گی ۔
حدیث نمبر: 4910
رقم الحديث: 4769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا الَّذِي يَجُوزُ فِي الرَّضَاعِ مِنَ الشُّهُودِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَجُلٌ أَوْ امْرَأَةٌ " .
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا الَّذِي يَجُوزُ فِي الرَّضَاعِ مِنَ الشُّهُودِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَجُلٌ أَوْ امْرَأَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے یا کسی اور آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے کتنے گواہوں کا ہونا کافی ہوتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک مرد اور ایک عورت ۔“
حدیث نمبر: 4911
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنْ مُعْتَمِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَعْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 4912
(حديث مرفوع) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْدُ الله بْنِ أحْمَدَ : وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا يَجُوزُ فِي الرَّضَاعَةِ مِنَ الشُّهُودِ ؟ قَالَ : رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے یا کسی اور آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے کتنے گواہوں کا ہونا کافی ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک مرد اور ایک عورت ۔“
حدیث نمبر: 4913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ ، فَقَالَ : " أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے اور کدو کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ۔
حدیث نمبر: 4914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ الْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ . قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُنْبَذُ لَهُ فِيهِ ، نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹکے اور کدو کے برتن کو استعمال کر نے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث اس اضافے کے ساتھ سنی ہے کہ اگر کوئی ایسا برتن نہ ملتا جس میں نبیذ بنائی جا سکے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پتھر کے برتن میں نبیذ بنا لی جاتی تھی ۔
حدیث نمبر: 4915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، " عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ فَقَالَ : حَرَامٌ ، فَقُلْتُ : أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : يَزْعُمُونَ ذَلِكَ ! ! " .
مولانا ظفر اقبال
ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا : وہ حرام ہے میں نے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں، لوگ یہی کہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4916
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ، ثُمَّ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُهَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا ، حَرَّمَهَا اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص دنیا میں شراب پیئے اور اس سے توبہ نہ کرے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اور وہاں اسے شراب نہیں پلائی جائے گی ۔“
حدیث نمبر: 4917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَإِنْ تَابَ ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ نَهَرِ الْخَبَالِ " ، قِيلَ : وَمَا نَهَرُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : " صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص شراب نوشی کرے اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہ ہو گی، اگر توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ کو قبول فرمائے گا دوسری مرتبہ بھی توبہ قبول ہو جائے گی ، تیسری مرتبہ ایسا کرنے پر اللہ کے ذمہ حق ہے کہ وہ اسے نہرخبال کا پانی پلائے“ ، لوگوں نے پوچھا کہ نہرخبال کیا چیز ہے ؟ فرمایا : ”جہاں اہل جہنم کی پیپ جمع ہو گی ۔“
حدیث نمبر: 4918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔“
حدیث نمبر: 4919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَرَّتَيْنِ ، بَيْنَهُمَا جَلْسَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے اور دونوں کے درمیاں ذرا سا وقفہ کر کے بیٹھ جاتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : " مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ ، فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے ۔“
حدیث نمبر: 4921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4922
رقم الحديث: 4780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ " سَأَلَ عُمَرُ عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، اعْتِكَافُ يَوْمٍ ؟ فَأَمَرَهُ بِهِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : وَبَعَثَ مَعِي بِجَارِيَةٍ كَانَ أَصَابَهَا يَوْمَ حُنَيْنٍ ، قَالَ : فَجَعَلْتُهَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ الْأَعْرَابِ حِينَ نَزَلْتُ ، " فَإِذَا أَنَا بِسَبْيِ حُنَيْنٍ قَدْ خَرَجُوا يَسْعَوْنَ ، يَقُولُونَ : أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ : اذْهَبْ فَأَرْسِلْهَا ، قَالَ : فَذَهَبْتُ فَأَرْسَلْتُهَا " .
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ " سَأَلَ عُمَرُ عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، اعْتِكَافُ يَوْمٍ ؟ فَأَمَرَهُ بِهِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : وَبَعَثَ مَعِي بِجَارِيَةٍ كَانَ أَصَابَهَا يَوْمَ حُنَيْنٍ ، قَالَ : فَجَعَلْتُهَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ الْأَعْرَابِ حِينَ نَزَلْتُ ، " فَإِذَا أَنَا بِسَبْيِ حُنَيْنٍ قَدْ خَرَجُوا يَسْعَوْنَ ، يَقُولُونَ : أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ : اذْهَبْ فَأَرْسِلْهَا ، قَالَ : فَذَهَبْتُ فَأَرْسَلْتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ حنین سے واپس آ رہے تھے تو راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے زمانہ جاہلیت کی اس منت کی متعلق پوچھا جو انہوں نے ایک دن کے اعتکاف کے حوالے سے مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی منت پوری کر نے کا حکم دیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو گئے اور میرے ساتھ اپنی اس باندی کو بھیج دیا جو انہیں غزوہ حنین میں ملی تھی، میں نے اسے ایک دیہاتی کے گھر میں ٹھہرایا اچانک میں نے دیکھا کہ غزوہ حنین کے ساری قیدی نکل کر بھاگے چلے جا رہے ہیں اور کہتے جا رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی عبداللہ سے کہا کہ جا کر اسے آزاد کر دو چنانچہ میں نے جا کر اس باندی کو بھی چھوڑ دیا ۔
حدیث نمبر: 4923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْقُرْآنِ إِذَا عَاهَدَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ، فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ لَهُ إِبِلٌ ، فَإِنْ عَقَلَهَا حَفِظَهَا ، وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ ، فَكَذَلِكَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جسے اس کا مالک اگر باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلا چھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے اسی طرح صاحب قرآن کی مثال ہے جو اسے دن رات پڑھتا رہے ۔“
حدیث نمبر: 4924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَى اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت دی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت میں مصروف رہتا ہو اور دوسرا وہ آدمی ہے جسے اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو ۔
حدیث نمبر: 4925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ ، فِي التِّسْعِ الْغَوَابِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کیا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 4926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : كَانَ مَرَّةً يَقُولُ : ابْنِ مُحَمَّدٍ ، وَمَرَّةً يَقُولُ ابْنِ رَبِيعَة ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْجَزَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِنَّهَا تَحْتَ قَدَمَيَّ الْيَوْمَ ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ وَسِقَايَةِ الْحَاجِّ ، أَلَا وَإِنَّ مَا بَيْنَ الْعَمْدِ وَالْخَطَإِ وَالْقَتْلِ بِالسَّوْطِ وَالْحَجَرِ فِيهَا مِئَةُ بَعِيرٍ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فتح مکہ کہ دن خانہ کعبہ کی سیڑھیوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو تن تنہا شکست دی، یاد رکھو ! زمانہ جاہلیت کا ہر تفاخر، ہر خون اور ہر دعویٰ میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے، البتہ حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی کلید برداری کا جو عہدہ ہے میں اسے ان عہدوں کے حاملین کے لیے برقرار رکھتا ہوں، یاد رکھو! لکڑی یا لاٹھی سے مقتول ہو جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے ، بعض اسانید کے مطابق اس میں دیت مغلظہ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹیاں بھی ہوں گی ۔
حدیث نمبر: 4927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ : الْفَرَسِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالدَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نحوست تین چیزوں میں ہو سکتی تھی، گھوڑے میں ، عورت میں اور گھر میں ۔“
…