حدیث نمبر: 4848
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ ، فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی نماز کے متعلق فرمایا : ”تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب ”صبح“ ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4848
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 473، م: 749
حدیث نمبر: 4849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ صُبَيْحٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : كُنْتُ قَائِمًا أُصَلِّي إِلَى الْبَيْتِ ، وَشَيْخٌ إِلَى جَانِبِي ، فَأَطَلْتُ الصَّلَاةَ ، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَصْرِي ، فَضَرَبَ الشَّيْخُ صَدْرِي بِيَدِهِ ضَرْبَةً لَا يَأْلُو ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : مَا رَابَهُ مِنِّي ؟ فَأَسْرَعْتُ الِانْصِرَافَ ، فَإِذَا غُلَامٌ خَلْفَهُ قَاعِدٌ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا الشَّيْخُ ؟ قَالَ : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَجَلَسْتُ حَتَّى انْصَرَفَ ، فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي ؟ قَالَ : أَنْتَ هُوَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " ذَاكَ الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
زیاد بن صبیح حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بیت اللہ کے سامنے کھڑا نماز پڑھ رہا تھا ، میرے پہلو میں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے نماز کو لمبا کر دیا اور ایک مرحلے پر اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھ لیا ، شیخ مذکور نے یہ دیکھ کر میرے سینے پر ایسا ہاتھ مارا کہ کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ انہیں مجھ سے کیا پریشانی ہے ؟ چنانچہ میں نے جلدی سے نماز کو مکمل کیا ۔ دیکھا تو ایک غلام ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے پوچھا یہ بزرگ کون ہیں ؟ اس نے بتایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے، میں نے ان سے عرض کیا کہ اے عبدالرحمن ! آپ کو مجھ سے کیا پریشانی تھی ؟ انہوں نے پوچھا : کیا تم وہی ہو ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : نماز میں اتنی سختی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4850
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عَرَفَةَ ، مِنَّا الْمُكَبِّرُ ، وَمِنَّا الْمُهِلُّ ، أَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ ، قَالَ : قُلْتُ : الْعَجَبُ لَكُمْ ! ! كَيْفَ لَمْ تَسْأَلُوهُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے تو ہم سے بعض لوگ تکبیر کہہ رہے تھے اور بعض تلبیہ پڑھ رہے تھے، جبکہ ہم تکبیر کہہ رہے تھے، راوی نے کہا کہ تعجب ہے تم لوگوں پر کہ تم نے ان سے نہیں پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا کر رہے تھے (تکبیر یا تلبیہ) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4850
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1284
حدیث نمبر: 4851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ وَبَرَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الذِّئْبِ لِلْمُحْرِمِ ، يَعْنِي ، وَالْفَأْرَةَ ، وَالْغُرَابَ وَالْحِدَأَ ، فَقِيلَ لَهُ : فَالْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ ؟ فَقَالَ : قَدْ كَانَ يُقَالُ ذَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو چوہے، کوے اور بھیڑیئے ، کو مار دینے کا حکم دیا ہے کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سانپ اور بچھو کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے کہا کہ ان کے متعلق بھی کہا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4851
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى نَخْلًا قَدْ أَبَّرَهَا صَاحِبُهَا ، فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الثَّمَرَةَ لِصَاحِبِهَا الَّذِي أَبَّرَهَا ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُشْتَرِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کھجور کا پیوندکاری شدہ درخت خریدا، ان دونوں کا جھگڑا ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ جھگڑا پیش ہوا ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ پھل درخت کے مالک کا ہے جس نے اس کی پیوندکاری کی ہے الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) نے پھل سمیت درخت خریدنے کی شرط لگائی ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2206، م: 1543، وهذا إسناد منقطع
حدیث نمبر: 4853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ . ح وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ ، قَالَ : لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَال إِسْحَاقُ : ، فَقَالَ لِي : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ عُمَانَ ، قَالَ : مِنْ أَهْلِ عُمَانَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَفَلَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا : عُمَانُ ، يَنْضَحُ بِجَانِبِهَا " ، وَقَالَ إِسْحَاقُ : " بِنَاحِيَتِهَا الْبَحْرُ ، الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حسن بن ہادیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے ؟ میں نے بتایا کہ میں اہل عمان میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کہ واقعی ؟ میں نے عرض کیا ، جی ہاں، فرمایا : پھر کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں فرمایا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا علاقہ جانتا ہوں جسے ”عمان“ کہا جاتا ہے ، اس کے ایک جانب سمندر بہتا ہے وہاں سے آ کر ایک حج کرنا دوسرے علاقے سے دو حج کرنے سے زیادہ افضل ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن بن هادية انفرد بالرواية عنه الزبير بن الخيريت وليس له إلا هذا الحديث، و ذكره ابن حبان فى «الثقات» : 123/4، ولم يؤثر توثيقه عن أحد غيره
حدیث نمبر: 4854
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَفَعَ خَيْبَرَ إِلَى أَهْلِهَا بِالشَّطْرِ ، فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُمْ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا ، وَحَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ ، وَحَيَاةَ عُمَرَ ، حَتَّى بَعَثَنِي عُمَرُ لِأُقَاسِمَهُمْ ، فَسَحَرُونِي ، فَتَكَوَّعَتْ يَدِي ، فَانْتَزَعَهَا عُمَرُ مِنْهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا علاقہ وہاں کے رہنے والوں ہی کے پاس نصف پیداوار کے عوض رہنے دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیات طیبہ میں ان کے ساتھ یہی معاملہ رہا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں بھی اسی طرح رہا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں بھی اسی طرح رہا ، ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے خیبر بھیجا تاکہ ان کے حصے تقسیم کر دوں، تو وہاں کے یہودیوں نے مجھ پر جادو کر دیا اور میرے ہاتھ کی ہڈی کا جوڑ ہل گیا، اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خبیر کو ان سے چھین لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الحجاج بن أرطاة، وقد سلف نحوه بإسناد حسن فى «مسند عمر بن الخطاب» رقم: 90
حدیث نمبر: 4855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِي بَرِيرَة ، فَأَبَى أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ وَلَاؤُهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرِيها فَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن بریرہ کے مالک نے انہیں بیچنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر ولاء ہمیں ملے تو ہم بیچ دیں گے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اسے خرید کر آزاد کر دو، ولاء اسی کا حق ہے جو قیمت ادا کرتا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4855
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6759
حدیث نمبر: 4856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : وَجَدَ ابْنُ عُمَرَ الْقُرَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ : " أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا ، فَأَخَّرَهُ ، وَقَالَ : تُلْقِي عَلَيَّ ثَوْبًا قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حالت احرام میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ٹھنڈ لگ گئی وہ مجھ سے کہنے لگے کہ مجھ پر کوئی کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر ٹوپی ڈال دی، انہوں نے اسے پیچھے کر دیا اور کہنے لگے کہ تم مجھ پر ایسا کپڑا ڈال رہے جسے محرم کے پہننے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4856
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5794
حدیث نمبر: 4857
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى نافِعٍ أَسْأَلُهُ هَلْ كَانَتْ الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَالِ ؟ قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ ذَاكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ ، وَسَبَى سَبْيَهُمْ ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ " ، وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ .
مولانا ظفر اقبال
ابن عون رحمہ اللہ کہتے کہ میں نے نافع رحمہ اللہ کے پاس ایک خط لکھا جس میں ان سے دریافت کیا کہ کیا قتال سے پہلے مشرکین کو دعوت دی جاتی تھی ؟ انہوں نے مجھے جواب میں لکھ بھیجا کہ ایسا ابتداء اسلام میں ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر جس وقت حملہ کیا تھا وہ لوگ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لڑاکا لوگوں کو قتل کر دیا، بقیہ افراد کو قید کر لیا اور اسی دن سیدہ جویرہ بنت حارث ان کے حصے میں آئیں، مجھ سے یہ حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی ہے جو لشکر میں شریک تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4857
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2541، م: 1730
حدیث نمبر: 4858
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ سِتَّ سِنِينَ بِمِنًى ، فَصَلَّوْا صَلَاةَ الْمُسَافِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرات شیخین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور چھ سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی منٰی میں نماز پڑھی ہے یہ سب حضرات مسافروں والی نماز پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4858
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 694
حدیث نمبر: 4859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا ، فَمَا هِيَ ؟ " قَالَ : فَقَالُوا وَقَالُوا ، فَلَمْ يُصِيبُوا ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ : هِيَ النَّخْلَةُ ، فَاسْتَحْيَيْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جو مسلمان کی طرح ہے (بتاؤ وہ کون سادرخت ہے ؟ )“ لوگوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی، میں نے کہنا چاہا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن پھر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4859
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6122، م: 2811
حدیث نمبر: 4860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي اللَّيْلَ مَثْنَى مَثْنَى ، ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّ الْأَذَانَ أوِ الْإِقَامَةَ فِي أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھتے تھے پھر رات کے آخری حصے میں ان کے ساتھ ایک رکعت ملا کر (تین) وتر پڑھ لیتے تھے، پھر اس وقت کھڑے ہوتے جب اذان یا اقامت کی آواز کانوں میں پہنچتی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4860
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 995
حدیث نمبر: 4861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَبِي حَنْظَلَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَر عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ " ، فَقَالَ : إِنَّا آمِنُونَ لَا نَخَافُ أَحَدًا ، قَالَ : سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوحنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سفر کی نماز کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ سفر میں نماز کی دو رکعتیں ہیں، ہم نے کہا کہ اب تو ہر طرف امن و امان ہے اور ہمیں کسی کا خوف بھی نہیں ہے ؟ فرمایا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4861
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل أبى حنظلة
حدیث نمبر: 4862
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 ، لِعَظَمَةِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى إِنَّ الْعَرَقَ لَيُلْجِمُ الرِّجَالَ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» ”جب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ “ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4862
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق. وإن كان مدلسا وقد عنعن. قد توبع
حدیث نمبر: 4863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ ، قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4863
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2003، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانُ يَا فُلَانُ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُمْ الْآنَ لَيَسْمَعُونَ كَلَامِي " ، قَالَ يَحْيَى : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّهُ وَهِلَ ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقُّ ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ سورة فاطر آية 22 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر کے دن اس کنوئیں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جس میں صنادید قریش کی لاشیں پڑی تھیں اور ایک ایک کا نام لے لے کر فرمانے لگے، کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ؟ بخدا ! اس وقت یہ لوگ میری بات سن رہے ہیں، یحییٰ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب یہ حدیث معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگیں ، اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے، انہیں وہم ہو گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اب یقین ہو گیا ہے کہ میں ان سے جو کہتا تھا وہ سچ تھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں «إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَ» ى ”آپ مردوں کو سنا نہیں سکتے“ نیز یہ کہ «إِوَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ» ”آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4864
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْر ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا لَيُعَذَّبُ الْآنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّهُ وَهِلَ ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا لَيُعَذَّبُ الْآنَ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قبر کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ اس وقت اسے اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کی بخشش فرمائے انہیں وہم ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4865
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1286، م: 928، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4866
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ صَفَّقَ الثَّالِثَةَ ، وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّهُ وَهِلَ ، إِنَّمَا هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا ، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ نَزَلَتْ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ ! فَقَالَ : " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مہینہ ٢٩ دن کا ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دس دس کا اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ اشارہ کرتے وقت انگوٹھا بند کر لیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث معلوم ہونے پر فرمایا : اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے انہیں وہم ہو گیا ہے دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے ازاواج مطہرات کو چھوڑ دیا تھا ٢٩ دن ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالاخانے سے نیچے آ گئے لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! آپ تو ٢٩ ویں دن ہی نیچے آگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بعض اوقات مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4867
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ " ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا الْقِيرَاطُ " ؟ قَالَ : " مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا“ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیراط کیا ہوتا ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 4868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَنْهَى النَّاسَ إِذَا أَحْرَمُوا عَمَّا يُكْرَهُ لَهُمْ : " لَا تَلْبَسُوا الْعَمَائِمَ ، وَلَا الْقُمُصَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ ، وَلَا الْبَرَانِسَ ، وَلَا الْخُفَّيْنِ ، إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ مُضْطَرٌّ إِلَيْهِمَا ، فَيَقْطَعَهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ وَلَا الزَّعْفَرَانُ " ، قَالَ : " وَسَمِعْتُهُ يَنْهَى النِّسَاءَ عَنِ الْقُفَّازِ ، وَالنِّقَابِ ، وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے کے بعد لوگوں کو مکروہات سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، قمیض ، شلوار ، عمامہ ، ٹوپی اور موزے مت پہنو، الاّ یہ کہ کسی کو جوتے نہ ملیں جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے ، اسی طرح ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو ، وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا نیز میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں خواتین کو دستانے اور نقاب پہننے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے ، نیز ان کپڑوں کی جنہیں ورس یا زعفران لگی ہوئی ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5794، محمد ابن إسحاق. وإن كان مدلسا وقد عنعن. قد توبع
حدیث نمبر: 4869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَصْلُحُ بَيْعُ الثَّمَرِ حَتَّى يَتَبَيَّنَ صَلَاحُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”پھلوں کی بیع اس وقت تک صحیح نہیں ہے جب تک وہ اچھی طرح پک نہ جائیں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1535، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو
حدیث نمبر: 4870
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ ، " فَمَرَّ بِمَكَانٍ ، فَحَادَ عَنْهُ ، فَسُئِلَ لِمَ فَعَلْتَ ؟ فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَذَا ، فَفَعَلْتُ .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر میں تھے ایک جگہ سے گزرتے گزرتے انہوں نے راستہ بدل لیا، ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا اس لئے میں نے بھی ایسا ہی کر لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 559
حدیث نمبر: 4871
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ يَحْيَى ، أَنَّهُ كَانَ مَع عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ لَهُ : فِي الْفِتْنَةِ لَا تَرَوْنَ الْقَتْلَ شَيْئًا ؟ ! وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّلاَثَةَ : " لَا يَنْتَجِي اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان سے فتنہ کے بارے میں ارشاد فرما رہے تھے کہ تم لوگ کسی کو قتل کرنے کی کوئی اہمیت ہی نہیں سمجھتے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین آدمیوں کے بارے میں ہدایت دی تھی کہ اپنے ایک ساتھی کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی میں باتیں نہ کر یں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 6288، م: 2183، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى رواه عن يحيي، ولجهالة حال يحيي بن حبان فلم يروي عنه سوي ابنه محمد
حدیث نمبر: 4872
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : بَيْنَمَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ يَقُصُّ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَشَاةٍ مِنْ بَيْنِ رَبِيضَيْنِ ، إِذَا أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحْنَهَا ، وَإِذَا أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحْنَهَا " ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَيْسَ كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَشَاةٍ بَيْنَ غَنَمَيْنِ " ، قَالَ : فَاحْتَفَظَ الشَّيْخُ ، وَغَضِبَ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَمَا إِنِّي لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ لَمْ أَرُدَّ ذَلِكَ عَلَيْكَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوجعفر محمد بن علی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی وہاں تشریف فرما تھے عبید بن عمیر کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو ریوڑوں کے درمیان ہو اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں اور اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر «ربيضين» کے بجائے «غنمين» کا لفظ استعمال کیا تھا ، اس پر سیدنا عبید بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ فرمایا : اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو نہ سنا ہوتا تو میں آپ کی بات کی تردید نہ کرتا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، المسعودي اختلط و سماع يزيد منه بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 4873
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ ، مَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْغَزْوِ ؟ أَو عَنِ الْقَوْمِ إِذَا غَزَوْا ، بِمَا يَدْعُونَ الْعَدُوَّ قَبْلَ أَنْ يُقَاتِلُوهُمْ ؟ وَهَلْ يَحْمِلُ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِي الْكَتِيبَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ إِمَامِهِ ؟ فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ ابْنَ عُمَر قَدْ كَانَ يَغْزُو وَلَدُهُ ، وَيَحْمِلُ عَلَى الظَّهْرِ ، وَكَانَ يَقُولُ : إِنَّ " أَفْضَلَ الْعَمَلِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى " ، وَمَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْغَزْوِ إِلَّا وَصَايَا لِعُمَرَ وَصِبْيَانٌ صِغَارٌ وَضَيْعَةٌ كَثِيرَةٌ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَدْ " أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ يَسْقُونَ عَلَى نَعَمِهِمْ ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ ، وَسَبَى سَبَايَاهُمْ ، وَأَصَابَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنُ عُمَرَ ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ ، وَإِنَّمَا كَانُوا يُدْعَوْنَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ، وَأَمَّا الرَّجُلُ فَلَا يَحْمِلُ عَلَى الْكَتِيبَةِ إِلَّا بِإِذْنِ إِمَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن عون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خط لکھ کر سیدنا نافع رحمہ اللہ سے یہ سوال پوچھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جہاد میں شرکت کیوں چھوڑ دی ہے ، جبکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے وہ اس کی دعا کرتے تھے اور کیا کوئی شخص اپنے امیر کی اجازت کے بغیر لشکر پر حملہ کر سکتا ہے ؟ انہوں نے مجھے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تو ہر جہاد میں شریک ہوئے ہیں اور جانور کی پشت پر سوار رہے ہیں اور وہ تو خود فرماتے تھے کہ نماز کے بعد سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے، اب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جہاد میں شریک نہ ہونا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کچھ وصیتوں کو پورا کرنے میں مصروفیت، چھوٹے بچوں اور زیادہ زمینوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنومصطلق پر اس وقت حملہ کیا تھا جبکہ وہ غافل تھے اور اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جنگجو افراد کو قتل کروا دیا، ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں سیدہ جویرہ رضی اللہ عنہ آ گئیں ۔ یہ حدیث مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتائی ہے جو کہ اس لشکر میں شریک تھے اور وہ لوگ پہلے اسلام کی دعوت دیتے تھے باقی کوئی شخص اپنے امیر کی اجازت کے بغیر کسی لشکر پر حملہ نہیں کر سکتا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2541، م: 1730
حدیث نمبر: 4874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ، إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : " وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْلُفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي مَجْلِسِهِ " ، وَقَالَ : " إِذَا رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : " وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْلُفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي مَجْلِسِهِ " ، وَقَالَ : " إِذَا رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 6288، م: 2183، وهذا إسند ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن .
حدیث نمبر: 4875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے اونگھ آ جائے تو اسے اپنی جگہ بدل لینی چاہئے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف مرفوعا، و الصحيح وقفه كما سلف برقم: 4741
حدیث نمبر: 4876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حدثاه عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى أَحَدٍ فِي قَتْلِهِنَّ الْغُرَابُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ قسم کے جانور ایسے ہیں جہنیں قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے بچھو ، چوہے ، چیل، کوے اور باؤلے کتے کو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1199، محمد ابن إسحاق. مدلس، وقد عنعن. لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 4877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِبْلَةِ نُخَامَةً ، فَأَخَذَ عُودًا أَوْ حَصَاةً ، فَحَكَّهَا بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقْ فِي قِبْلَتِهِ ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے ناراض ہو کر فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق . وإن كان مدلسا وقد عنعن. قد صرح بالسماع فيما يأتي برقم: 6306، وهو متابع
حدیث نمبر: 4878
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رات کی دو دو رکعت ہوتی ہے اور وتر رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 473، م: 729
حدیث نمبر: 4879
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ ، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دجال کانا ہو گا اس کی دائیں آنکھ انگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی ہو گی ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 3439، م: 169
حدیث نمبر: 4880
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى ، وَبَرِئَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْهُ ، وَأَيُّمَا أَهْلُ عَرْصَةٍ أَصْبَحَ فِيهِمْ امْرُؤٌ جَائِعٌ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص چالیس دن تک غذائی ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، وہ اللہ سے بری ہے اور اللہ اس سے بری ہے اور جس خاندان میں ایک آدمی بھی بھوکا رہا، ان سب سے اللہ کا ذمہ بری ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى بشر
حدیث نمبر: 4881
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ ، وَيَقُولُ : أَمَا حَسْبُكُمْ بسُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ إِنَّهُ لَمْ يَشْتَرِطْ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانے کو مکروہ خیال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ کیا تمہارے لئے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے ؟ کہ انہوں نے بھی شرط نہیں لگائی تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1810
حدیث نمبر: 4882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : " لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کرتا ہوں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث له إسنادان: الأول: عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن نافع عن ابن عمر، وهو صحيح. والثاني: عبد الرزاق عن عبد الله عن نافع عن ابن عمر، وهو ضعيف لضعف عبد الله العمري، وقد غيره الشيخ أحمد شاكر إلى عبيد الله وهو خطأ، هو فى «مصنف عبد الرزاق» برقم: 8672، بإسناديه
حدیث نمبر: 4883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِي الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ ؟ فَقَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا ، فَلَا يُفَارِقْكَ صَاحِبُكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا میں چاندی کے بدلے سونا خرید سکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب بھی ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز لو تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان معمولی سا بھی اشتباہ ہو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانفراد سماك بن حرب برفعه، قال النسائي: إذا انفرد بأصل لم يكن حجة، لأنه كان ربما يلقن فيتلقن
حدیث نمبر: 4884
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : أَأَدْخُلُ ؟ فَعَرَفَ صَوْتِي ، فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ ، " إِذَا أَتَيْتَ إِلَى قَوْمٍ ، فَقُلْ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَإِنْ رَدُّوا عَلَيْكَ ، فَقُلْ : أَأَدْخُلُ ؟ " . قَالَ : ثُمَّ رَأَى ابْنَهُ وَاقِدًا يَجُرُّ إِزَارَهُ ، فَقَالَ : ارْفَعْ إِزَارَكَ ، فَإِنِّي قَالَ : ثُمَّ رَأَى ابْنَهُ وَاقِدًا يَجُرُّ إِزَارَهُ ، فَقَالَ : ارْفَعْ إِزَارَكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد اسلم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا میں نے ان کے گھر پہنچ کر کہا کیا میں اندر آ سکتا ہوں ؟ انہوں نے میری آواز پہچان لی اور فرمانے لگے، بیٹا جب کسی کے پاس جاؤ تو پہلے السلام علیکم کہو اگر وہ سلام کا جواب دے دے، تو پھر پوچھو ، کیا میں اندر آ سکتا ہوں ؟ اسی اثنا میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نظر اپنے بیٹے پر پڑ گئی ، جو اپنا ازار زمین پر کھینچتا چلا آ رہا تھا، انہوں نے اس سے فرمایا کہ اپنی شلوار اوپر کرو ، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر کھینچتا ہوا چلتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085
حدیث نمبر: 4885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَحَرَّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 585، م: 828
حدیث نمبر: 4886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ ، وَإِذَا شَرِبَ ، فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہئے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2020.
حدیث نمبر: 4887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ فِي رَخَاءٍ وَلَا شِدَّةٍ ، مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما بعده.