حدیث نمبر: 4808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بَنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا ، فَلْيَتَحَرَّهَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " ، وَقَالَ : " تَحَرَّوْهَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْر " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے وہ اسے ستائیسویں رات میں تلاش کرے اور فرمایا کہ شب قدر کو ستائیسویں رات میں تلاش کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4809
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمَةِ ، قِيلَ : وَمَا الْحَنْتَمَةِ ؟ قَال : الْجَرَّةُ ، يَعْنِي : النَّبِيذَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «حنتمه» سے منع فرمایا ہے کسی نے پوچھا: وہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا : وہ مٹکا جو نبیذ (یا شراب کشید کرنے کے لئے ) استعمال ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1997
حدیث نمبر: 4810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعَ فِيهَا ، إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ ، أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ ، قَاءَ ، ثُمَّ رَجَعَ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی شخص کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی ہدیہ پیش کرے اور اس کے بعد اسے واپس مانگ لے، البتہ باپ اپنے بیٹے کو کچھ دے کر اگر واپس لیتا ہے تو وہ مستثنی ہے جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ دے اور پھر واپس مانگ لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو کوئی چیز کھائے جب اچھی طرح سیراب ہو جائے تو اسے قے کر دے اور پھر اسی قے کو چاٹنا شروع کر دے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا نَافِعِ بْنِ عَمْرِو الْجُمَحِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي بْنِ مُوسَى ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَمَرَّتْ رُفْقَةٌ لِأُمِّ الْبَنِينَ فِيهَا أَجْرَاسٌ ، فَحَدَّثَ سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رَكْباً مَعَهُمْ الْجُلْجُلُ " ، فَكَمْ تَرَى فِي هَؤُلَاءِ مِنْ جُلْجُلٍ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سالم کے ساتھ تھا وہاں سے ام البنین کا ایک قافلہ گزرا جس میں گھنٹیاں بھی تھیں، اس موقع پر سالم نے اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے جس میں گھنٹیاں ہوں اور تم ان لوگوں کے پاس کتنی گھنٹیاں دیکھ رہے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو بكر تفرد بالرواية عنه نافع بن عمر الجمحي، وقال الذهبي فى «الميزان» 503/4 : لا يعرف
حدیث نمبر: 4812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ هُوَ النَّاجِيُّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي الْقَبْرِ ، فَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم اپنے مردوں کو قبر میں اتارو تو کہو «بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه وسلم» ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4813
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الْبَجَلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِ زَرْعٍ أَوْ ضَرْعٍ أَوْ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " ، فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : إِنْ كَانَ فِي دَارٍ وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ ، قَالَ : هُوَ عَلَى رَبِّ الدَّارِ الَّذِي يَمْلِكُهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ایسا کتا رکھے جو کھیت کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو ، جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ ایک قیراط کمی ہوتی رہے گی۔ “ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر کسی کے گھر میں کتا ہو اور میں وہاں جانے پر مجبور ہوں تو کیا حکم ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کا گناہ گھر کے مالک پر ہو گا جو کتے کا مالک ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1574
حدیث نمبر: 4814
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّاسَ قَدْ اجْتَمَعُوا ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ نَزَعَ عُمَرُ ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَمَا رَأَيْتُ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ خواب میں سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا فرمایا : ”میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں ابوبکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے، لیکن اس میں کچھ کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے۔ پھر عمر نے ڈول کھینچے اور وہ ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا میں نے کسی عبقری انسان کو ان کی طرح ڈول بھرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کر دیا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3633
حدیث نمبر: 4815
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہینہ بعض اوقات اتنا ، اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس انگلیوں میں سے ایک انگوٹھا بند کر لیا (٢٩ دن) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080
حدیث نمبر: 4816
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3644، م: 1871
حدیث نمبر: 4817
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ولاء اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے ۔“ (ولاء سے مراد غلام کا ترکہ ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6759، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريح مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 4818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا " ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ " يَتَوَضَّأُ مَرَّةً " ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے اور وہ بھی اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو حديثان : حديث ابن عمر: وإسناده ضعيف، وروي موقوفا، وهو الصحيح، وقد سلف برقم: 4534، وحديث ابن عباس: صحيح لغيره، وقد سلف برقم: 1889
حدیث نمبر: 4819
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَصَلَّى بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1532، م: 1257
حدیث نمبر: 4820
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكَادُ يَلْعَنُ الْبَيْدَاءَ ، وَيَقُولُ : " إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام بیداء کے متعلق لعنت فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے۔ (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور کر رکھا ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1541، م: 1187
حدیث نمبر: 4821
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے، «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» میں حاضر ہوں اے اللہ ! ”میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1184، ابن جريج صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 4822
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَأَصْحَابُهُ مُلَبِّينَ ، وَقَالَ عَفَّانُ : مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً ، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًي وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ ، وَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " قَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَوْحٌ : فَإِنَّ لَكَ مَعَنَا هَدْيًا ، قَالَ حُمَيْدٌ : فَحَدَّثْتُ بِهِ طَاوُسًا ، فَقَالَ : هَكَذَا فَعَلَ الْقَوْمُ ، قَالَ عَفَّانُ : اجْعَلْهَا عُمْرَةً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ”جو شخص چاہتا ہے، اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا لے، سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی کا جانور ہو“، لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ! کیا ہم منٰی کے میدان میں اس حال میں جائیں گے کہ ہماری شرمگاہ سے آب حیات کے قطرے ٹپکتے ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! پھر انگیٹھیاں خوشبو اڑانے لگیں، اسی اثنا میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یمن سے آ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس چیز کا احرام باندھا ؟ انہوں نے عرض کیا اس نیت سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو احرام ہے وہی میرا بھی احرام ہے ۔ روح اس سے آگے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آپ کے ہدی کے جانور ہیں۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث طاؤس سے بیان کی تو وہ کہنے لگے کہ لوگوں نے اسی طرح کیا تھا ، اور عفان کہتے ہیں کہ آگے یہ ہے کہ اسے عمرہ کا احرام بنا لو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232
حدیث نمبر: 4823
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ ، إِلَّا أَنْ يَتُوبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص دنیا میں شراب پیئے اور اس سے توبہ نہ کرے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اور وہاں اسے شراب نہیں پلائی جائے گی ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003
حدیث نمبر: 4824
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003
حدیث نمبر: 4825
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا يَعْنِي ضَنَّ النَّاسُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ ، وَتَبَايَعُوا بِالْعَيْنِ ، وَاتَّبَعُوا أَذْنَابَ الْبَقَرِ ، وَتَرَكُوا الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَنْزَلَ اللَّهُ بِهِمْ بَلَاءً ، فَلَمْ يَرْفَعْهُ عَنْهُمْ حَتَّى يُرَاجِعُوا دِينَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ دینار و درہم میں بخل کر نے لگیں ، عمدہ اور بڑھیا چیزیں خریدنے لگیں، گائے کی دموں کی پیروی کرنے لگیں اور جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیں تو اللہ ان پر مصائب کو نازل فرمائے گا اور اس وقت تک انہیں دور نہیں کرے گا جب تک لوگ دین کی طرف واپس نہ آ جائیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع من ابن عمر
حدیث نمبر: 4826
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلُ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَسَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ، حَتَّى صَلَّى الْمُصَلِّي ، وَاسْتَيْقَظَ الْمُسْتَيْقِظُ ، وَنَامَ النَّائِمُونَ ، وَتَهَجَّدَ الْمُتَهَجِّدُونَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَذَا الْوَقْتَ " ، أَوْ هَذِهِ الصَّلَاةَ ، أَوْ نَحْوَ ذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کر دی کہ نماز پڑھنے والوں نے نماز پڑھ لی، جاگنے والے جاگتے رہے، سونے والے سو گئے اور تہجد پڑھنے والوں نے تہجد پڑھ لی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا : ”اگر مجھے اپنی امت پر تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں حکم دیتا کہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں“ یا اس کے قریب کوئی جملہ فرمایا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى إسرائيل، وأصل الحديث الصحيح، وهو قوله: «لو لا أن أشق على أمتي ......» أخرجه مسلم : 639
حدیث نمبر: 4827
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، أَنَّ الْعَبَّاسَ " اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَبِيتَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ بِمَكَّةَ مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ ، فَأَذِنَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت سرانجام دینے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منٰی کے ایام میں مکہ مکرمہ میں ہی رہنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1634، م: 1315
حدیث نمبر: 4828
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ ، وَذَكَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں رات گزارتے تھے اور ذکر کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یوں ہی کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1310
حدیث نمبر: 4829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ادَّهَنَ بِزَيْتٍ غَيْرِ مُقَتَّتٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے وقت زیتون کا وہ تیل استعمال فرماتے تھے جس میں پھول ڈال کر انہیں جوش نہ دیا گیا ہوتا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي
حدیث نمبر: 4830
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2003
حدیث نمبر: 4831
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2003، وهذا إسناد حسن، عمرو بن علقمة صدوق حسن الحديث
حدیث نمبر: 4832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ " ، قَالَ : وَحَرَّكَ أِصْبَعَيْهِ يَلْوِيهِمَا هَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گی جب تک دو آدمی (متفق و متحد) رہیں گے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اپنی دو انگلیوں کو حرکت دی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3501، م: 1820
حدیث نمبر: 4833
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ أَبِي الْبَزَرِى ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھا لیتے تھے (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کے لئے وقت کہاں ؟ )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو البزري مجهول
حدیث نمبر: 4834
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ ، قَالَ مُعَاذٌ : كَانَ شُعْبَةُ يَقُولُ : الْقُرِّيِّ ، قَالَ : قَالَ : رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ أَرَأَيْتَ الْوِتْرَ ، أَسُنَّةٌ هُوَ ؟ قَالَ : مَا سُنَّةٌ ، " أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ " ، قَالَ : لَا ، أَسُنَّةٌ هُوَ ؟ ! قَالَ : مَهْ أََتَعْقِلُ ؟ ! أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ آپ کی رائے میں وتر سنت ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : سنت کا کیا مطلب ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور تمام مسلمانوں نے وتر پڑھے ہیں، اس نے کہا میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا، میں تو یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیا وتر سنت ہیں ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : رکو ! کیا تمہاری عقل کام کرتی ہے ؟ میں کہہ تو رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پڑھے ہیں اور مسلمانوں نے بھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4835
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ : " لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ ، وَلَا الْبَرَانِسَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ ، وَلَا الْخِفَافَ ، إِلَّا أَنْ لَا تَكُونَ نِعَالٌ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ نِعَالٌ فَخُفَّيْنِ دُونَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ " ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : إِمَّا قَالَ : " مَصْبُوغٌ " ، وَإِمَّا قَالَ : " مَسَّهُ وَرْسٌ وَزَعْفَرَانٌ " ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَفِي كِتَابِ نَافِعٍ : " مَسَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! ! محرم کون سا لباس پہن سکتا ہے ؟ یا یہ پوچھا کہ محرم کون سا لباس ترک کر دے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قمیض شلوار عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا ، الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو، وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5794
حدیث نمبر: 4836
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَذَكَرْتُ لِابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَدْ كَانَ يَصْنَعُ ذَاكَ ، ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُرَخِّصُ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مکہ مکرمہ کے راستے میں کوئی باندی خریدی اسے اپنے ساتھ حج پر لے گئے وہاں جوتی تلاش کی لیکن مل نہ سکی انہوں نے موزے نیچے سے کاٹ کر ہی اسے پہنا دیئے) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی طرح کرتے تھے پھر صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کو موزے پہننے کی رخصت دے دیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، محمد بن إسحاق قد ذكر هنا سماعه من الزهري، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 4837
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : " أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، " قَالَ : وَقَالَ طَاوُسٌ : وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں !، طاؤس کہتے ہیں : بخدا ! یہ بات میں نے خود سنی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1997
حدیث نمبر: 4838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، فَهُوَ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1395
حدیث نمبر: 4839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، رُفِعَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ ، فَقِيلَ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو جمع کرے گا تو ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6177، م: 1735
حدیث نمبر: 4840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَا يَتَحَيَّنَنَّ أَحَدُكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 582، م: 828
حدیث نمبر: 4841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَتَّهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے، اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 547
حدیث نمبر: 4842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً ، أَهَلَّ مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے پاؤں رکاب میں ڈال لیتے اور اونٹنی انہیں لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4842
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2865، م: 1187
حدیث نمبر: 4843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ ، وَكَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا ، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طریق شجرہ سے نکلتے تھے اور جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو ”ثنیہ علیا“ سے داخل ہوتے اور جب باہر جاتے تو ”ثنیہ سفلیٰ“ سے باہر جاتے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4843
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ ، خَبَّ ثَلَاثَةً ، وَمَشَى أَرْبَعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چار چکروں میں عام رفتار سے چلتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1617، م: 1261
حدیث نمبر: 4845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّمَا مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا بِعُقُلِهَا ، أَمْسَكَهَا عَلَيْهِ ، وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ، ذَهَبَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”حامل قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے جسے اس کا مالک باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلاچھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 789
حدیث نمبر: 4846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4846
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1191، م: 1399
حدیث نمبر: 4847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ النَّهَارِ ، فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں، سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4847
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح