حدیث نمبر: 4448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد ، حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا " ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لَهُ ، وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گھوڑے کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر فرمایا تھا ، دوسرے راوی کے مطابق تعبیر یہ ہے کہ مرد اور اس کے گھوڑے کے تین حصے مقرر فرمائے تھے جن میں سے ایک حصہ مرد کا اور دو حصے گھوڑے کے تھے ۔
حدیث نمبر: 4449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلًا جَاءَ ابْنَ عُمَرَ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ كُلَّ يَوْمِ أَرْبِعَاءَ ، فَأَتَى ذَلِكَ عَلَيَّ يَوْمِ أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ ، " وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھتے ہوئے دیکھا کہ میں نے یہ منت مان رکھی ہے کہ میں ہر بدھ کو روزہ رکھا کروں، اب اگر بدھ کے دن عیدالاضحیٰ یا عیدالفطر آ جائے تو کیا کروں ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ نے منت پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 4450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو ۔“
حدیث نمبر: 4451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ ، كُلِّفَ أَنْ يُتِمَّ عِتْقَهُ بِقِيمَةِ عَدْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو اسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ عادل آدمیوں کی مقرر کردہ قیمت کے مطابق اس غلام کو مکمل آزاد کرے ۔
حدیث نمبر: 4452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى جَمْعٍ ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ، وَمَضَى ، ثُمَّ قَالَ : الصَّلَاةَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ كَمَا فَعَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانگی کے وقت ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے انہوں نے مغرب کی نماز مکمل پڑھائی پھر «الصلوة» کہہ کر (عشاء کی) دو رکعتیں پڑھائیں اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس جگہ اسی طرح کیا تھا جیسے میں نے کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ " ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبَا هُرَيْرَةَ ، انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو هُرَيْرَةَ ، حَتَّى انْطَلَقَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ : ، فَقَالَ لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ ، أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ ؟ " فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَشْغَلُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرْسُ الْوَدِيِّ ، وَلَا صَفْقٌ بِالْأَسْوَاقِ ، إِنِّي إِنَّمَا كُنْتُ أَطْلُبُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً يُعَلِّمُنِيهَا ، وَأُكْلَةً يُطْعِمُنِيهَا ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : أَنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَعْلَمَنَا بِحَدِيثِهِ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا ، اس وقت وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور اگر وہ دفن کے موقع پر بھی شریک رہا تو اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط جبل احد سے بڑا ہو گا۔“ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے، ابوہریرہ ! غور کر لیجئے کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا بیان کر رہے ہیں ، اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہیں لے کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور ان سے عرض کیا : اے ام المومنین ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور اگر وہ دفن کے موقع پر بھی شریک رہا تو اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا ؟ انہوں نے فرمایا : ” بخدا ! ہاں۔ اس کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کھجور کے پودے گاڑنا یا بازاروں میں معاملات کرنا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہونے کا سبب نہیں بنتا تھا (کیونکہ میں یہ کام کر تا ہی نہیں تھا) میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو چیزوں کو طلب کیا کرتا تھا ایک وہ بات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سکھاتے تھے اور دوسرا وہ لقمہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کھلاتے تھے ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ ابوہریرہ ہم سے زیادہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹے رہتے تھے اور ان کی حدیث کے ہم سے بڑے عالم ہیں۔
حدیث نمبر: 4454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے ۔“
حدیث نمبر: 4455
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، وغير واحد ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ يُحْرِمُ ؟ قَالَ : " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " ، وقَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَقَاسَ النَّاسُ ذَاتَ عِرْقٍ بِقَرْنٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ انسان احرام کہاں سے باندھے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے ذات عرق کو قرن پر قیاس کر لیا ۔“
حدیث نمبر: 4456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے ۔“
حدیث نمبر: 4457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَر ، قَالَ : كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " ، وَزَادَ فِيهَا ابْنُ عُمَرَ : لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا ۔ میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں یہ اضافہ فرماتے تھے کہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں تیری خدمت میں آ گیا ہوں، ہر قسم کی خیر آپ کے ہاتھ میں ہے، میں حاضر ہوں تمام رغبتیں اور عمل آپ ہی کے لئے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَرَفَاتٍ ، مِنَّا الْمُكَبِّرُ ، وَمِنَّا الْمُلَبِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض لوگ تکبیر کہہ رہے تھے اور بعض تلبیہ پڑھ رہے تھے ۔
حدیث نمبر: 4459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَال : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمِنًى ، فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَةً وَهِيَ بَارِكَةٌ ، فَقَالَ : " ابْعَثْهَا ، قِيَامًا مُقَيَّدَةً ، سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں میدان منیٰ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا راستے میں ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جس نے اپنی اونٹنی کو گھٹنوں کے بل بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنا چاہتا تھا ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : اسے کھڑا کر کے اس کے پاؤں باندھ لو اور پھر اسے ذبح کرو ، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔
حدیث نمبر: 4460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَيْثُ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، ثُمَّ أَتَى جَمْعًا ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ، قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً : فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : " الصَّلَاةَ ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا فَعَلَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانگی کے وقت ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے ، انہوں نے مغرب کی نماز مکمل پڑھائی پھر «الصلوة» کہہ کر (عشاء کی) دو رکعتیں پڑھائیں اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس جگہ اسی طرح کیا تھا جیسے میں نے کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وابن عون ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ ؟ قَالَ : " يَقْتُلُ الْعَقْرَبَ ، وَالْفُوَيْسِقَةَ ، وَالْحِدَأَةَ ، وَالْغُرَابَ ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا کہ محرم کون سے جانور کو قتل کر سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچھو ، چوہے ، چیل ، کوے اور باؤلے کتے کو مار سکتا ہے ۔
حدیث نمبر: 4462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ : مَا لِي لَا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ ، الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ ؟ فَقَال ابْنُ عُمَرَ : إِنْ أَفْعَلْ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ " اسْتِلَامَهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ طَافَ أُسْبُوعًا يُحْصِيهِ ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ " . قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَا رَفَعَ رَجُلٌ قَدَمًا ، وَلَا وَضَعَهَا ، إِلَّا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبید بن عمیر رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں آپ کو صرف ان دو رکنوں حجر اسود اور رکن یمانی ہی کا استلام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں اس کی کیا وجہ ہے ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان دونوں کا استلام انسان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ جو شخص گن کر طواف کے سات چکر لگائے اور اس کے بعد دوگانہ طواف پڑھ لے تو یہ ایک غلام آزاد کر نے کے برابر ہے ۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک قدم بھی اٹھاتا یا رکھتا ہے اس پر اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں دس گناہ مٹائے جاتے ہیں اور دس درجات بلند کئے جاتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ ، فَلَا أَدَعُ اسْتِلَامَهُ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا ۔
حدیث نمبر: 4464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ ، وابن عون ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، وَبِلَالٌ ، فَأَمَرَ بِلَالًا ، فَأَجَافَ عَلَيْهِمْ الْبَابَ ، فَمَكَثَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ مِنْهُمْ بِلَالًا ، فَقُلْتُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : هَاهُنَا ، بَيْنَ الأُسْطُوَانَتَينٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس ، اسامہ بن زید ، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر دیا ، اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں ، ان دو ستونوں کے درمیان ۔
حدیث نمبر: 4465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْقَرْعِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو یا لکڑی کو کھوکھلا کر کے اس میں نبیذ بنانے ( اور اسے پینے ) سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 4466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ ، فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے ۔ “
حدیث نمبر: 4467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ہم پر اسلحہ تان لے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔“
حدیث نمبر: 4468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُعَرِّضُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَيُصَلِّي إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو سامنے رکھ کر اسے بطور سترہ آگے کر لیتے اور نماز پڑھ لیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ بُرْدًا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَبِيتُ أَحَدٌ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ " ، قَالَ : فَمَا بِتُّ مِنْ لَيْلَةٍ بَعْدُ إِلَّا وَوَصِيَّتِي عِنْدِي مَوْضُوعَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کسی شخص پر تین راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کی پاس لکھی ہوئی نہ ہو ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس دن کے بعد سے اب تک میری کوئی ایسی رات نہیں گزری جس میں میرے پاس میری وصیت لکھی ہوئی نہ ہو ۔“
حدیث نمبر: 4470
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ " يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ التَّطَوُّعَ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَفْعَلُهُ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے کہ وہ سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کر تے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو میں نے ایک مرتبہ ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 4471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُحْلَبَ مَوَاشِي النَّاسِ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کے جانوروں کا دودھ دوہ کر اپنے استعمال میں لانے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 4472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، إِذَا غَابَ الشَّفَقُ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غروب شفق کے بعد مغرب اور عشاء دونوں کو اکٹھا کر لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تھی تو وہ بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي الْغَطَفَانِيَّ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ " وَالْقَزَعُ أَنْ يُحْلَقَ الصَّبِيُّ ، فَيُتْرَكَ بَعْضُ شَعَرِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قزع“ سے منع فرمایا ہے ”قزع“ کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں ۔
حدیث نمبر: 4474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ : كَتَبَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مَرْوَانَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَنْ ارْفَعْ إِلَيَّ حَاجَتَكَ ، قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَلَسْتُ أَسْأَلُكَ شَيْئًا ، وَلَا أَرُدُّ رِزْقًا رَزَقَنِيهِ اللَّهُ مِنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
قعقاع بن حکیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالعزیز بن مروان نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ آپ کی جو ضروریات ہوں وہ میرے سامنے پیش کر دیجئے (تاکہ میں انہیں پورا کر نے کا حکم دوں) ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور دینے میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جن کی پرورش تمہاری ذمہ داری ہے، میں تم سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ ہی اس رزق کو لوٹاؤں گا جو اللہ مجھے تمہاری طرف سے عطاء فرمائے گا ۔
حدیث نمبر: 4475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ " المُصَوِّريُنَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَيُقَالُ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مصوروں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو ۔“
حدیث نمبر: 4476
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتر نَزَلَ ، فَأَوْتَرَ عَلَى الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نوافل تو سواری پر ہی پڑھ لیتے تھے لیکن جب وتر پڑھنا چاہتے تو زمین پر اتر کر وتر پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ ، قُلْتُ لِابْنِ عُمَر رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ ؟ فَقَال : فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ ، وَقَالَ : " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ فَأَبَيَا ، فَرَدَّدَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَأَبَيَا ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والے کے متعلق مسئلہ پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ جانتا ہے تم میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے کے لئے تیار ہے ؟ لیکن ان میں سے کوئی بھی تیار نہ ہوا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ان کے سامنے یہ بات دہرائی اور ان کے انکار پر ان کے درمیان تفریق کرا دی ۔
حدیث نمبر: 4478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : نَادَى ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ ، ثُمَّ نَادَى أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ ، فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يُنَادِي ، أَنْ " صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ، فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ ، وَفِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ ، فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وادی ضجنان میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز کا اعلان کروایا ، پھر یہ منادی کر دی کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی دوران سفر سردی کی راتوں میں یا بارش والی راتوں میں نماز کا اعلان کر کے یہ منادی کر دیتے تھے کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو ۔
حدیث نمبر: 4479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ اتَّخَذَ أَوْ قَالَ : اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِضَارٍ ، وَلَا كَلْبَ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : وَكَلْبَ حَرْثٍ ؟ فَقَالَ : إِنَّ لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَرْثاً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ایسا کتا رکھے جو حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ ایک قیراط کمی ہوتی رہے گی“ ان سے کسی نے عرض کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو کھیت کی حفاظت کرنے والے کتے کا بھی ذکر کرتے ہیں ؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا کھیت ہے ، (اس لئے وہ اس استثناء کو خوب اچھی طرح یاد رکھ سکتے ہیں ) ۔
حدیث نمبر: 4480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَظَهْرُهُ فِي الدَّارِ ، فَقَالَ : إِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَكُونَ الْعَامَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ ، فَتُصَدّ عَنِ الْبَيْتِ ، فَلَوْ أَقَمْتَ ؟ فَقَالَ : قَدْ " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، فَإِنْ يُحَلْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، أَفْعَلْ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ، قَالَ : إِنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ ، قَالَ : مَا أَرَى أَمْرَهُمَا إِلَّا وَاحِدًا ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا ، ثُمَّ قَدِمَ ، فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے صاحبزادے عبداللہ آئے اور کہنے لگے کہ مجھے اندیشہ ہے اس سال لوگوں کے درمیان قتل و قتال ہو گا اور آپ کو حرم شریف پہنچنے سے روک دیا جائے گا، اگر آپ اس سال ٹھہر جاتے اور حج کے لئے نہ جاتے تو بہتر ہوتا ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے اور کفار قریش ان کے اور حرم شریف کے درمیان حائل ہو گئے تھے، اس لئے اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے اور فرمایا کہ میں عمرہ کی نیت کر چکا ہوں ۔ اس کے بعد وہ روانہ ہو گئے، چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا تو ہے، میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کر لی ہے چنانچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچے اور دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف کیا ۔
حدیث نمبر: 4481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ يَتَوَضَّئُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مردوں اور عورتوں کو اکٹھے ایک ہی برتن سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 4482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ ؟ أَوْ قَالَ : مَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ ؟ فَقَالَ : " لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَ ، وَلَا الْعِمَامَةَ ، وَلَا الْخُفَّيْنِ ، إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا الْبُرْنُسَ ، وَلَا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! ! محرم کون سا لباس پہن سکتا ہے ؟ یا یہ پوچھا کہ محرم کون سا لباس ترک کر دے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیض ، شلوار ، عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں ، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے، اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو، وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا۔
حدیث نمبر: 4483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَاشُورَاءَ : " صَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِكَ ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَصُومُهُ ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ عَلَى صَوْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عاشورہ کے روزے کے متعلق فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا ہے اور دوسروں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے، جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو یہ روزہ متروک ہو گیا، خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس دن کا روزہ نہیں رکھتے تھے الاّ یہ کہ وہ ان کے معمول کے روزے پر آ جاتے۔
حدیث نمبر: 4484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا ، أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ " ، قَالَ : وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ : " أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ : اخْتَرْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں، یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔“ نافع کبھی یوں بھی کہتے تھے یا یہ کہ ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ اختیار کر لو۔
حدیث نمبر: 4485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا ، وَمَاشِيًا ، يَعْنِي : مَسْجِدَ قُبَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔
حدیث نمبر: 4486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ ، عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى ، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ ، صَاعَ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ " ، قَالَ : فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍِ بُرٍّ . قَالَ أَيُّوبُ : وَقَالَ نَافِعٌ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي التَّمْرَ ، إِلَّا عَامًا وَاحِدًا أَعْوَزَ التَّمْرُ فَأَعْطَى الشَّعِيرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکر و مؤنث اور آزاد غلام سب پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا ہے ، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگ نصف صاع گندم پر آ گئے، نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر میں کھجور دیا کرتے تھے، اس معمول میں صرف ایک مرتبہ فرق پڑا تھا جبکہ کھجوروں کی قلت ہو گئی تھی اور اس سال انہوں نے جَو دئیے تھے۔
حدیث نمبر: 4487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال : " سَبَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ ، فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ أَوْ الحَيْفَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ ، وَأَرْسَلَ مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَكُنْتُ فَارِسًا يَوْمَئِذٍ ، فَسَبَقْتُ النَّاسَ ، طَفَّفَ بِيَ الْفَرَسُ مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ کروایا، ان میں سے جو گھوڑے چھریرے تھے انہیں ”حفیاء“ سے ثنیۃ الوداع تک مسابقت کے لئے مقرر فرمایا اور جو چھریرے بدن کے نہ تھے ان کی ریس ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کروائی، میں اس وقت گھڑ سواری کرنے لگا تھا اور میں اس مقابلے میں جیت گیا تھا، مجھے میرے گھوڑے نے مسجد بنی زریق کے قریب کر دیا تھا۔
…