حدیث نمبر: 3866
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنِّي سَأُنَازَعُ رِجَالًا فَأُغْلَبُ عَلَيْهِمْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ أَصْحَابِي ، فَيَقُولُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: ”پروردگار! میرے ساتھی؟“ ارشاد ہوگا کہ ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6576، م: 2297.
حدیث نمبر: 3867
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ ، وَيُفْطِرُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ لَا يَدَعُهُمَا " ، يَقُولُ : لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا ، يَعْنِي الْفَرِيضَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں روزہ بھی رکھتے تھے اور افطار بھی فرماتے تھے، دوران سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازوں کی دو رکعتیں پڑھتے تھے، ان پر اضافہ نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، عبدالسلام ضعيف جدا، منكر الحديث.
حدیث نمبر: 3868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ قَتَلَهُ نَبِيٌّ ، أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا ، وَإِمَامُ ضَلَالَةٍ ، وَمُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہو گا جسے کسی نبی نے قتل کیا ہو، یا اس نے کسی نبی کو شہید کیا ہو، یا گمراہی کا پیشوا ہو، یا لاشوں کا مثلہ کرنے والا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ كَانَ يَنْزِلُ فِي مَسْجِدِ الْمَطْمُورَةِ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ ، فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ ، وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا أَجَلٌ عَاجِلٌ ، أَوْ غِنًى عَاجِلٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کو کوئی ضرورت پیش آئے اور وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کر دے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا کام آسان نہ ہو، اور جو شخص اسے اللہ کے سامنے بیان کرے تو اللہ اسے فوری رزق یا تاخیر کی موت عطا فرما دے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، سيار هذا هو أبو حمزة الكوفي وليس أبا الحكم.
حدیث نمبر: 3870
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : قَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ ، رَأَيْنَا النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ ، وَرَكَعْنَا ، ثُمَّ مَشَيْنَا ، وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ ، فَمَرَّ رَجُلٌ يُسْرِعُ ، فَقَالَ : عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَلَمَّا صَلَّيْنَا وَرَجَعْنَا ، دَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ ، جَلَسْنَا ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّهُ عَلَى الرَّجُلِ : صَدَقَ اللَّهُ ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ ، أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ ؟ فَقَالَ طَارِقٌ : أَنَا أَسْأَلُهُ ، فَسَأَلَهُ حِينَ خَرَجَ ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ ، وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ ، حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ ، وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ ، وَشَهَادَةَ الزُّورِ ، وَكِتْمَانَ شَهَادَةِ الْحَقِّ ، وَظُهُورَ الْقَلَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مسجد میں نماز کھڑی ہو گئی، ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفوں میں شامل ہونے کے لئے چلے جا رہے تھے، جب لوگ رکوع میں گئے تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی رکوع میں چلے گئے، انہیں دیکھ کر ہم نے بھی رکوع کر لیا، اس وقت بھی ہم لوگ چل رہے تھے، ایک آدمی اسی اثنا میں سامنے سے گزرا اور کہنے لگا: السلام علیک یا ابا عبدالرحمن! انہوں نے رکوع کی حالت میں فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے گھر چلے گئے اور ہم آپس میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے یہ باتیں کرنے لگے کہ تم نے سنا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے کیا جواب دیا؟ اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے پیغام پہنچا دیا، تم میں سے کون یہ سوال ان سے پوچھے گا؟ طارق نے کہا کہ میں ان سے پوچھوں گا، چنانچہ جب وہ باہر آئے تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ جب فلاں شخص نے آپ کو سلام کیا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؟ انہوں نے یہ جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”یہ بات علامات قیامت میں سے ہے کہ سلام صرف پہچان کے لوگوں کو کیا جانے لگے گا، تجارت پھیل جائے گی، حتی کہ عورت بھی تجارتی معاملات میں اپنے خاوند کی مدد کرنے لگے گی، قطع رحمی ہونے لگے گی، جھوٹی گواہی دی جانے لگے گی، سچی گواہی کو چھپایا جائے گا اور قلم کا چرچا ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3871
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : " مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ انتیس (29) کبھی نہیں رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة دينار والد عيسي.
حدیث نمبر: 3872
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ عَامَّةً مَا يَنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى يَسَارِهِ إِلَى الْحُجُرَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بعد اپنے حجرے کی طرف واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 852، م: 707، محمد بن إسحاق - وإن عنعن- صرح بالتحديث.
حدیث نمبر: 3873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قُتِلَ قَتْلًا ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا ، وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا " ، قَالَ الْأَعْمَشُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ ، وَأَبَا بَكْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے نو مرتبہ اس بات پر قسم کھانا زیادہ پسند ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے، بہ نسبت اس کے کہ میں ایک مرتبہ قسم کھاؤں کہ وہ شہید نہیں ہوئے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا نبی بھی بنایا ہے اور انہیں شہید بھی قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنَ الْمَسِيلِ ، فَقُلْتُ : أَمِنْ هَاهُنَا تَرْمِيهَا ؟ فَقَالَ : مِنْ هَاهُنَا ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، " رَمَاهَا الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ 65 " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ یہاں سے رمی کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں سے اس ذات نے رمی کی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح. خ: 1747، م: 1296.
حدیث نمبر: 3875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : إِنِّي لَمُسْتَتِرٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، إِذْ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ، ثَقَفِيٌّ وَخَتْنَاهُ قُرَشِيَّانِ ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ ، قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ ، فَتَحَدَّثُوا بَيْنَهُمْ بِحَدِيثٍ ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمْ تُرَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْمَعُ مَا قُلْنَا ؟ قَالَ الْآخَرُ : أُرَاهُ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا ، وَلَا يَسْمَعُ إِذَا خَفَضْنَا ، قَالَ الْآخَرَ : إِنْ كَانَ يَسْمَعُ شَيْئًا مِنْهُ ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُهُ كُلَّهُ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ حَتَّى الْخَاسِرِينَ سورة فصلت آية 22 - 23 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں غلاف کعبہ سے چمٹا ہوا تھا کہ تین آدمی آئے، ان میں سے ایک ثقفی تھا اور دو قریشی کے جو اس کے داماد تھے، ان کے پیٹ میں چربی زیادہ تھی لیکن دلوں میں سمجھ بوجھ بہت کم تھی، وہ چپکے چپکے باتیں کرنے لگے جنہیں میں نہ سن سکا، اتنی دیر میں ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، کیا اللہ ہماری ان باتوں کو سن رہا ہے؟ دوسرا کہنے لگا: میرا خیال ہے کہ جب ہم اونچی آواز سے باتیں کرتے ہیں تو وہ انہیں سنتا ہے، اور جب ہم اپنی آوازیں بلند نہیں کرتے تو وہ انہیں نہیں سن پاتا، تیسرا کہنے لگا: اگر وہ کچھ سن سکتا ہے تو سب کچھ بھی سن سکتا ہے، میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ . . . . . وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾» [فصلت:22-23] ”اور تم جو چیزیں چھپاتے ہو کہ تمہارے کان، آنکھیں اور کھالیں تم پر گواہ نہ بن سکیں . . . . . یہ اپنے رب کے ساتھ تمہارا گھٹیا خیال ہے اور تم نقصان اٹھانے والے ہو گئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4817، م: 2775، وفي هذا الإسناد وهب بن ربيعة مجهول.
حدیث نمبر: 3876
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ زَارَهُ فِي أَهْلِهِ ، فَلَمْ يَجِدْهُ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ عَلَى أَهْلِهِ ، وَسَلَّمَ ، فَاسْتَسْقَى ، قَالَ : فَبَعَثَتْ الْجَارِيَةَ تَجِيئُهُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِيرَانِ ، فَأَبْطَأَتْ ، فَلَعَنَتْهَا ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ ، فَجَاءَ أَبُو عُمَيْرٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لَيْسَ مِثْلُكَ يُغَارُ عَلَيْهِ ، هَلَّا سَلَّمْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيكَ ، وَجَلَسْتَ وَأَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ ؟ قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ ، فَأَرْسَلَتْ الْخَادِمَ ، فَأَبْطَأَتْ ، إِمَّا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ ، وَإِمَّا رَغِبُوا فِيمَا عِنْدَهُمْ ، فَأَبْطَأَتْ الْخَادِمُ ، فَلَعَنَتْهَا ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّعْنَةَ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ إِلَيْهِ ، فَإِنْ أَصَابَتْ عَلَيْهِ سَبِيلًا ، أَوْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا ، وَإِلَّا قَالَتْ : يَا رَبِّ ، وُجِّهْتُ إِلَى فُلَانٍ ، فَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا ، وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا ، فَيُقَالُ لَهَا : ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ " ، فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ الْخَادِمُ مَعْذُورَةً ، فَتَرْجِعَ اللَّعْنَةُ ، فَأَكُونَ سَبَبَهَا .
مولانا ظفر اقبال
ابوعمیر کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک دوست تھا، ایک مرتبہ وہ اس سے ملنے کے لئے اس کے گھر گئے، لیکن وہاں اس سے ملاقات نہ ہو سکی، انہوں نے اس کے اہل خانہ سے اجازت لی اور سلام کیا اور ان سے پینے کے لئے پانی منگوایا، گھر والوں نے ہمسایوں سے پانی لینے کے لئے باندی کو بھیجا، اس نے آنے میں تاخیر کر دی تو اس عورت نے اس پر لعنت بھیجی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسی وقت اس گھر سے نکل آئے، اتنی دیر میں ابوعمیر آ گئے اور کہنے لگے: اے ابوعبدالرحمن! آپ جیسے شخص کے گھر میں آنے پر غیرت مندی نہیں دکھائی جا سکتی (کیونکہ آپ کی طرف سے ہمیں مکمل اطمینان ہے) آپ اپنے بھائی کے گھر میں داخل ہو کر بیٹھے کیوں نہیں، اور پانی وغیرہ بھی نہیں پیا؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ایسا ہی کیا تھا، اہل خانہ نے ایک نوکرانی کو پانی لانے کے لئے بھیجا، اسے آنے میں دیر ہو گئی، یا تو اس وجہ سے کہ اسے جن لوگوں کے پاس بھیجا گیا تھا ان کے پاس بھی پانی نہیں ہو گا، یا تھوڑا ہونے کی وجہ سے وہ خود اس کے ضرورت مند ہوں گے، ادھر اہل خانہ نے اس پر لعنت بھیجی اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”جس شخص پر لعنت بھیجی گئی ہو، لعنت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اگر وہاں تک پہنچنے کا راستہ مل جائے تو وہ اس پر واقع ہو جاتی ہے ورنہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتی ہے کہ پروردگار! مجھے فلاں شخص کی طرف متوجہ کیا گیا لیکن میں نے اس تک پہنچنے کا راستہ نہ پایا، اب کیا کروں؟ اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آئی ہے وہیں واپس چلی جا۔“ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں خادمہ کو کوئی عذر پیش آگیا ہو اور وہ لعنت واپس پلٹ کر یہیں آ جائے اور میں اس کا سبب بن جاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين.
حدیث نمبر: 3877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ أَوْ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَفَوَاتِحَهُ وَإِنَّا كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي صَلَاتِنَا ، حَتَّى عُلِّمْنَا ، فَقَالَ : قُولُوا : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا ، وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خیر و بھلائی سے متعلق افتتاحی اور جامع چیزیں سکھائی گئی تھیں، مثلا ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمیں نماز میں کیا پڑھنا چاہئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ یوں کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 402.
حدیث نمبر: 3878
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا أَحَدًا خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2383 .
حدیث نمبر: 3879
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 3880
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا ، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ہر دوست کی دوستی سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 3881
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ وَكَاتِبُهُ وَشَاهِدَاهُ ، إِذَا عَلِمُوا بِهِ ، وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ ، وَلاوِي الصَّدَقَةِ ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ : مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : آكِلُ الرِّبَا ، وَمُوكِلُهُ سَوَاءٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا، اسے تحریر کرنے والا اور اس کے گواہ جب کہ وہ جانتے بھی ہوں، اور حسن کے لئے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں، زکوٰۃ چھپانے والے اور ہجرت کے بعد مرتد ہوجانے والے دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قیامت کے دن تک کے لئے ملعون قرار دیئے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے علقمہ کے حوالے سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا دونوں برابر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، الحارث بن عبدالله، وإن كان ضعيفا قد توبع، وأصله فى م: 1597.
حدیث نمبر: 3882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَفَّ صَفَّا خَلْفَهُ ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ ، قَالَ : وَهُمْ فِي صَلَاةٍ كُلُّهُمْ ، قَالَ : وَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا ، فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ ، قَالَ : ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ صَلَّى بِهِمْ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ ، فَقَضَوْا مَكَانَهُمْ ، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَضَوْا رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو صفوں میں کھڑے ہو گئے، ایک صف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، اور دوسری صف دشمن کے سامنے، مجموعی طور پر وہ سب نماز ہی میں تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ان کے ساتھ سب لوگوں نے تکبیر کہی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ کھڑے ہو کر چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے، اور دوسری صف والے آگئے اور پہلی صف والوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور خود سلام پھیر دیا، پھر ان لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر کر پہلی صف والوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے، اور پہلی صف والوں نے اپنی جگہ واپس آ کر ایک رکعت پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله.
حدیث نمبر: 3883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ ، أَوْ الْعَصْرَ خَمْسًا ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ زَادَ ، أَوْ نَقَصَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، پھر معلوم ہونے پر سہو کے دو سجدے کر لئے اور فرمایا کہ ”یہ دو سجدے اس شخص کے لئے ہیں جسے نماز میں کسی کمی بیشی کا اندیشہ ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 3884
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ، حَتَّى رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا ، وَقَالَ : " إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدا میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز سلام کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دے دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس آئے اور انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا اور فرمایا: ”دراصل نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1199، م: 538، وهذا إسناد ظاهرة الانقطاع، إبراهيم النخعي لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ أَبِي الرَّضْرَاضِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ، فَيَرُدُّ عَلَيَّ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ ، سَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي إِذَا كُنْتُ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ رَدَدْتَ عَلَيَّ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز سلام کرتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دے دیتے تھے، لیکن ایک دن میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے اس کا بڑا رنج ہوا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پہلے تو میں دوران نماز آپ کو سلام کرتا تھا تو آپ سلام کا جواب دے دیتے تھے؟ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں جس طرح چاہتا ہے، نیا حکم بھیج دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات. وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 3886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُؤَاخَذُ أَحَدُنَا بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ ، أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! (اگر میں اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لوں تو) کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر میرا مؤاخذہ ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6921، م: 120.
حدیث نمبر: 3887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَا نَسِيتُ فِيمَا نَسِيتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ ، وَعَنْ يَسَارِهِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ أَيْضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جو باتیں بھول گیا، سو بھول گیا، لیکن یہ بات نہیں بھولا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اختتام نماز پر دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے «السلام عليكم ورحمة الله» کہتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 3888
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي الضُّحَى .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَيْفَ بِكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُضَيِّعُونَ السُّنَّةَ ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا ؟ " قَالَ : كَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَسْأَلُنِي ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، كَيْفَ تَفْعَلُ ؟ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہو گی جب تمہاری حکومت کی باگ دوڑ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے گی جو سنت کو مٹا دیں گے اور نماز کو اس کے وقت مقررہ سے ہٹا دیں گے؟“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے اس وقت کے لئے کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن ام عبد! تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا کرنا چاہئے؟ یاد رکھو! اللہ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں کی جاتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، القاسم لم يسمع من جده ، عبدالله بن مسعود.
حدیث نمبر: 3890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يُسَمِّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ ، وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي .
مولانا ظفر اقبال
ابوعمرو شیبانی کہتے ہیں کہ ہم سے اس گھر میں رہنے والے نے یہ حدیث بیان کی ہے، یہ کہہ کر انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور ادب کی وجہ سے ان کا نام نہیں لیا کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے وقت پر نماز پڑھنا“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں مجھ سے بیان فرمائیں، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 527، م: 85.
حدیث نمبر: 3891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " ، فَلَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، قَالَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ» پڑھتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ نصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں کہنے لگے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ» اے اللہ! ”مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ ، عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے پیغمبر کو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف.
حدیث نمبر: 3893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خِلاَفَةِ عُثْمَانَ ، قَالَ : فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ ، قَالَ : فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ ، قَالَ : ابْنُ مَسْعُودٍ : لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ ، كَانَ قَدْ أَصَابَ ، قَالَ : فََلاَ أَدْرِي كَلِمَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَتْ أَسْرَعَ ، أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ ، قَالَ : فَأَوْضَعَ النَّاسُ ، وَلَمْ يَزِدْ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى الْعَنَقِ ، حَتَّى أَتَيْنَا جَمِيعًا ، فَصَلَّى بِنَا ابْنُ مَسْعُودٍ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ، ثُمَّ تَعَشَّى ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، ثُمَّ رَقَدَ ، حَتَّى إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ ، قَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : مَا كُنْتَ تُصَلِّي الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ قَالَ : وَكَانَ يُسْفِرُ بِالصَّلَاةِ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ ، وَهَذَا الْمَكَانِ ، يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کرنے کا شرف حاصل ہوا، جب ہم نے عرفات کے میدان میں وقوف کیا اور سورج غروب ہو گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اگر امیر المومنین اس وقت روانہ ہو جاتے تو بہت اچھا اور صحیح ہوتا، میں نہیں سمجھتا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا جملہ پہلے پورا ہوا یا سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی واپسی پہلے شروع ہوئی، لوگوں نے تیز رفتاری سے جانوروں کو دوڑانا شروع کر دیا لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو صرف تیز چلانے پر اکتفا کیا (دوڑایا نہیں) یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، پھر کھانا منگوا کر کھایا اور کھڑے ہو کر نماز عشا ادا کی اور سو گئے، جب طلوع فجر کا ابتدائی وقت ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور منہ اندھیرے ہی فجر کی نماز پڑھ لی، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ تو فجر کی نماز اس وقت نہیں پڑھتے؟ (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوب روشن کر کے نماز فجر پڑھتے تھے) انہوں نے فرمایا: جی! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن، اس جگہ میں یہ نماز اسی وقت پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1683.
حدیث نمبر: 3894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " جَدَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَاءِ " ، قَالَ خَالِدٌ : مَعْنَى جَدَبَ إِلَيْنَا ، يَقُولُ : عَابَهُ ، ذَمَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشا کے بعد قصہ گوئی کو ہمارے لئے معیوب قرار دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، خالد الواسطي سمع من عطاء بن السائب بعد الاختلاط.
حدیث نمبر: 3895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوَلَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ ، قُلْتُ : حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ : حَتَّى يَقُومَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ فرمایا: ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3896
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ : " إِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ مِنْهُ جِدٌّ وَلَا هَزْلٌ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : جِدٌّ وَلَا يَعِدُ الرَّجُلُ صَبِيًّا ، ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ " . قَالَ : وَإِنَّ مُحَمَّدًا قَالَ لَنَا : " لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا ، وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ سنجیدگی یا مذاق کسی صورت میں بھی جھوٹ بولنا صحیح نہیں ہے، اور کوئی شخص کسی بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے جسے وہ پورا نہ کرے، اور ہم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے، اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، المرفوع منه أخرجه مسلم: 2606، وأبو يعلى بقسميه الموقوف والمرفوع مطولا: 5363.
حدیث نمبر: 3897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تلبیہ پڑھا کرتے تھے: «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ» ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبان بن تغلب لا تعلم روايته عن أبى إسحاق السبيعي هل كانت قبل التغير أو بعده ، وقد خالفه شعبة فرواه عن أبى إسحاق موقوفا، وهذا أصح.
حدیث نمبر: 3898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قال عبد الله بن أحمد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ ، مُتَوَكِّئًا عَلَى عَسِيبٍ ، فَقَامَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ الْيَهُودِ ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ؟ فَسَكَتَ ، ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآَيَةَ عَلَيْهِمْ : " وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی کھیت میں چل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لاٹھی ٹیکتے جا رہے تھے، چلتے چلتے یہودیوں کی ایک جماعت پر سے گزر ہوا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾» [الإسراء : 85] ”یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح تو میرے رب کا حکم ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2794.
حدیث نمبر: 3899
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ ، فَهُوَ يَمْشِي مَرَّةً ، وَيَكْبُو مَرَّةً ، وَتَسْقَفُهُ النَّارُ مَرَّةً ، فَإِذَا جَاوَزَهَا ، الْتَفَتَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : تَبَارَكَ الَّذِي أَنْجَانِي مِنْكِ ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، فَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ لَهُ اللَّهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، فَلَعَلِّي إِذَا أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، قَالَ : وَرَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْذُرُهُ ، لَأنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، هَذِهِ فَلَأَشْرَبْ مِنْ مَائِهَا ، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ فَيَقُولُ : لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا ؟ فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، وَرَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْذُرُهُ ، لِأنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ ، هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ قَالَ : بَلَى ، أَيْ رَبِّ ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا ، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا ، سَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ ؟ أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا ، وَمِثْلَهَا مَعَهَا ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَتَسْتَهْزِئُ بِي ، وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ ؟ فَقَالُوا : مِمَّ تَضْحَكُ ؟ فَقَالَ : هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ ؟ " ، فَقَالُوا : مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مِنْ ضَحِكِ رَبِّي حِينَ قَالَ : أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ فَيَقُولُ : إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَدِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا وہ آدمی ہو گا جو پل صراط پر چلتے ہوئے کبھی اوندھا گر جاتا ہو گا، کبھی چلنے لگتا ہو گا اور کبھی آگ کی لپٹ اسے جھلسا دیتی ہو گی، جب وہ پل صراط کو عبور کر چکے گا تو اس کی طرف پلٹ کر دیکھے گا اور کہے گا کہ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی، اللہ نے یہ مجھے ایسی نعمت عطا فرمائی ہے جو اولین و آخرین میں سے کسی کو نہیں دی۔ اس کے بعد اس کی نظر ایک درخت پر پڑے گی جو اسی کی وجہ سے وہاں لایا گیا ہو گا، وہ اسے دیکھ کر کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور اس کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: ”اے میرے بندے! اگر میں نے تجھے اس درخت کے قریب کر دیا تو تو مجھ سے کچھ اور بھی مانگے گا؟“ وہ عرض کرے گا: نہیں، پروردگار! اور اللہ سے کسی اور چیز کا سوال نہ کرنے کا وعدہ کرے گا حالانکہ پروردگار کے علم میں یہ بات ہو گی کہ وہ اس سے مزید کچھ اور بھی مانگے گا، کیونکہ اس کے سامنے چیزیں ہی ایسی آئیں گی جن پر صبر نہیں کیا جا سکتا، تاہم اسے اس درخت کے قریب کر دیا جائے گا۔ کچھ دیر بعد اس کی نظر اس سے بھی زیادہ خوبصورت درخت پر پڑے گی اور حسب سابق سوال جواب ہوں گے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ”بندے! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگے گا؟“ وہ عرض کرے گا: پروردگار! بس اس مرتبہ اور، اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگوں گا، تین مرتبہ اس طرح ہونے کے بعد وہ جنت کے دروازے کے قریب پہنچ چکا ہو گا، اور اس کے کانوں میں اہل جنت کی آوازیں پہنچ رہی ہوں گی، وہ عرض کرے گا: پروردگار! جنت، جنت، اللہ تعالی اس سے فرمائیں گے کہ ”اے بندے! کیا تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا کہ اب کچھ اور نہیں مانگے گا؟“ وہ عرض کرے گا: پروردگار! مجھے جنت میں داخلہ عطا فرما، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ ”اے بندے! تجھ سے میرا پیچھا کیا چیز چھڑائے گی؟ کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے جنت میں دنیا اور اس کے برابر مزید دے دیا جائے؟“ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار! تو رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے؟“ اتنا کہہ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اتنا ہنسے کہ ان کے دندان ظاہر ہو گئے، پھر کہنے لگے کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ خود ہی اپنے ہنسنے کی وجہ بتا دیجئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے کی وجہ سے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس موقع پر مسکرائے تھے اور ہم سے فرمایا تھا کہ ”تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ خود ہی اپنے مسکرانے کی وجہ بتا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پروردگار کے ہنسنے کی وجہ سے، جب اس نے یہ عرض کیا کہ پروردگار! آپ رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا، لیکن میں جو چاہوں، وہ کرنے پر قادر ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 187.
حدیث نمبر: 3900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر دھوکہ باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3186، م: 1736.
حدیث نمبر: 3901
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا يَوْمَ بَدْرٍ كُلُّ ثَلَاثَةٍ عَلَى بَعِيرٍ ، كَانَ أَبُو لُبَابَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكَانَتْ عُقْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَا : نَحْنُ نَمْشِي عَنْكَ ، فَقَالَ : " مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي ، وَلَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 3902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا يُرَادُ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ ، عَزَّ وَجَلَّ ! ! قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثْتُهُ ، قَالَ : فَغَضِبَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى ، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَصَبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں، ایک آدمی کہنے لگا کہ یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضا حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کر دی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو گیا، پھر فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3405.
حدیث نمبر: 3903
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : زُبَيْدٌ ، وَمَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ أخبروني ، أنهم سمعوا أبا وائل يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " ، قَالَ زُبَيْدٌ : فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ مَرَّتَيْنِ : أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق، اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا آپ نے یہ بات سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں!
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6044، م: 64.
حدیث نمبر: 3904
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ التُّقَى ، وَالْهُدَى ، وَالْعَفَافَ ، وَالْغِنَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ التُّقَى وَالْهُدَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غناء (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2721.
حدیث نمبر: 3905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَةِ الْبَقَرِ : " إِذَا بَلَغَ الْبَقَرُ ثَلَاثِينَ ، فَفِيهَا تَبِيعٌ مِنَ الْبَقَرِ ، جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ ، حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ ، فَفِيهَا بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ ، فَإِذَا كَثُرَتْ الْبَقَرُ ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْبَقَرِ ، بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط میں گائے کی زکوٰۃ کے متعلق تحریر فرمایا تھا کہ ”گائے کی تعداد جب تیس تک پہنچ جائے تو اس میں ایک سالہ مذکر یا مؤنث گائے بطور زکوٰۃ واجب ہو گی، اور یہ حکم اس وقت تک رہے گا جب تک ان کی تعداد چالیس تک نہ پہنچ جائے، جب یہ تعداد چالیس تک پہنچ جائے تو اس میں دو سالہ گائے واجب ہو گی، اس کے بعد ہر چالیس میں ایک ”دو سالہ گائے“ واجب ہو گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، وخصيف سيئ الحفظ.