حدیث نمبر: 3826
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ طَلْقٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، إِمَّا قَالَ : شَقِيقٌ ، وَإِمَّا قَالَ : زِرٌّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لِهَذَا الْحَيِّ مِنَ النَّخَعِ ، أَوْ قَالَ : يُثْنِي عَلَيْهِمْ ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي رَجُلٌ مِنْهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نخع کے اس قبیلے کے لئے دعا یا تعریف فرما رہے تھے حتی کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش! میں بھی ان ہی میں سے ہوتا۔
حدیث نمبر: 3827
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ اللَّحْمَ ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَمَا يَمَسُّ قَطْرَةً مِنْ مَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت تناول فرماتے ہوئے دیکھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہو گئے۔
حدیث نمبر: 3828
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، مِنْ هَمْزِهِ ، وَنَفْثِهِ ، وَنَفْخِهِ " ، قَالَ : وَهَمْزُهُ : الْمُوتَةُ ، وَنَفْثُهُ : الشِّعْرُ ، وَنَفْخُهُ : الْكِبْرِيَاءُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شیطان کے بھینچنے سے، اس کے تھوک اور اس کی پھونک سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ بھینچنے سے مراد موت ہے، تھوک سے مراد شعر اور پھونک سے مراد تکبر ہے۔
حدیث نمبر: 3829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَوْ احْمَرَّتْ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى ، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ أَوْ حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز عصر پڑھنے کی مہلت نہ دی، حتی کہ سورج غروب ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 3830
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، ، قال عبد الله بنُ أَحمد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، مِنْ هَمْزِهِ ، وَنَفْثِهِ ، وَنَفْخِهِ " ، فَهَمْزُهُ : الْمُوتَةُ ، وَنَفْثُهُ : الشِّعْرُ ، وَنَفْخُهُ : الْكِبْرُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شیطان کے بھینچنے سے، اس کے تھوک اور اس کی پھونک سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ بھینچنے سے مراد موت ہے، تھوک سے مراد شعر اور پھونک سے مراد تکبر ہے۔
حدیث نمبر: 3831
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ، أَحْدَاثٌ أَوْ قَالَ : حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ النَّاسِ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فَمَنْ أَدْرَكَهُمْ ، فَلْيَقْتُلْهُمْ ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا عِنْدَ اللَّهِ ، لِمَنْ قَتَلَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آخر زمانے میں ایک ایسی قوم کا خروج ہو گا جو بیوقوف اور نوعمر ہو گی، یہ لوگ انسانوں میں سے سب سے بہتر انسان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات کریں گے اور اپنی زبانوں سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جاتی ہو گی، یہ لوگ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، جو شخص انہیں پائے تو انہیں قتل کر دے کیونکہ ان کے قتل کرنے پر قاتل کے لئے اللہ کے یہاں بڑا ثواب ہے۔“
حدیث نمبر: 3832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعَمَّارٌ ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ ، وَصُهَيْبٌ ، وَبِلَالٌ ، وَالْمِقْدَادُ ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ ، فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمْ الْمُشْرِكُونَ ، فَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ ، وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ ، فَمَا مِنْهُمْ إِنْسَانٌ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا ، إِلَّا بِلَالٌ ، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ ، وَأَخَذُوا يَطُوفُونَ بِهِ شِعَابَ مَكَّةَ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَحَدٌ ، أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اپنے اسلام کا اظہار کرنے والے سات افراد تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہم، جن میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اللہ نے ان کے چچا ابوطالب کے ذریعے کروائی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ان کی قوم کے ذریعے اور جو باقی بچے انہیں مشرکین نے پکڑ لیا، وہ انہیں لوہے کی زرہیں پہناتے اور دھوپ میں تپنے کے لئے چھوڑ دیتے، ان میں سے سوائے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو ان کی خواہش کے مطابق نہ چلا ہو، کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے تو اپنی ذات کو اللہ کے معاملے میں فنا کر دیا تھا اور انہیں ان کی قوم کی وجہ سے ذلیل کیا جاتا تھا، قریش انہیں بچوں کے حوالے کر دیتے، اور وہ انہیں مکہ مکرمہ کی گلیوں میں لئے پھرتے تھے لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پھر بھی احد، احد کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 3833
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ ، وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي ، حَتَّى أَنْهَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما رکھا تھا: ”میری طرف سے تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ میرے گھر کا پردہ اٹھا کر اندر آ جاؤ اور میری راز کی باتوں کو سن لو، تاآنکہ میں خود تمہیں منع کر دوں۔“
حدیث نمبر: 3834
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : قَالَ سُلَيْمَانُ سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَكْشِفَ السِّتْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا رکھا تھا: ”میری طرف سے تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ میرے گھر کا پردہ اٹھا کر اند آ جاؤ۔“
حدیث نمبر: 3835
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا ، فَانْطَلَقَ إِنْسَانٌ إِلَى غَيْضَةٍ ، فَأَخْرَجَ مِنْهَا بَيْضَ حُمَرَةٍ ، فَجَاءَتْ اَلْحُمَرَةُ تَرِفُّ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُءُوسِ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ فَجَعَ هَذِهِ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا أَصَبْتُ لَهَا بَيْضًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْدُدْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، اس دوران ایک شخص ایک جھاڑی کی طرف چلا گیا، وہاں اسے ”لال“ (ایک پرندہ کا گھونسلہ نظر آیا)، اس نے اس کے انڈے نکال لئے، اتنی دیر میں وہ چڑیا آئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سروں پر منڈلانے اور چلانے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کس نے اسے تنگ کیا ہے؟“ وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس کے انڈے لے آیا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں واپس کر دو۔“
حدیث نمبر: 3836
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَنْزِلًا . . . فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَقَالَ " رُدَّهُ رَحْمَةً لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اپنی شفقت کی وجہ سے دیا تھا۔
حدیث نمبر: 3837
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَسْقِي فَرَسًا لِي فِي السَّحَرِ ، فَمَرَرْتُ بِمَسْجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : إِنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَبَعَثَ الشُّرْطَةَ ، فَجَاءُوا بِهِمْ ، فَاسْتَتَابَهُمْ ، فَتَابُوا ، فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ ، وَضَرَبَ عُنُقَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ ، فَقَالُوا : آخَذْتَ قَوْمًا فِي أَمْرٍ وَاحِدٍ ، فَقَتَلْتَ بَعْضَهُمْ ، وَتَرَكْتَ بَعْضَهُمْ ، قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدِمَ عَلَيْهِ هَذَا وَابْنُ أُثَالِ بْنِ حَجَرٍ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " فَقَالَا : نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ، ولَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا ، لَقَتَلْتُكُمَا " ، قال : فَلِذَلِكَ قَتَلْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابن معیز سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں صبح کے وقت اپنے گھوڑے کو پانی پلانے کے لئے نکلا تو بنو حنیفہ کی مسجد کے پاس سے میرا گزر ہوا، وہ لوگ کہہ رہے تھے کہ مسیلمہ اللہ کا پیغمبر ہے، میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے یہ بات ذکر کی، انہوں نے سپاہیوں کو بھیج کر انہیں بلوا لیا، ان سے توبہ کروائی، انہوں نے توبہ کر لی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا البتہ عبداللہ بن نواحہ کی گردن اڑا دی، لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ایک ہی معاملے میں ایک قوم کو پکڑا اور ان میں سے کچھ کو قتل کر دیا اور کچھ کو چھوڑ دیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ اور ابن اثال، مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بن کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا تھا: ”کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ انہوں نے کہا کہ ہم تو مسیلمہ کے اللہ کے پیغمبر ہونے کی گواہی دیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں قاصدوں کو قتل کرتا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا“، اس وجہ سے میں نے اسے قتل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجِيبُوا الدَّاعِيَ ، وَلَا تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ ، وَلَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرو، ہدیہ مت لوٹاؤ اور مسلمانوں کو مت مارو۔“
حدیث نمبر: 3839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِطَعَّانٍ ، وَلَا بِلَعَّانٍ ، وَلَا الْفَاحِشِ الْبَذِيءِ " ، وَقَالَ ابْنُ سَابِقٍ مَرَّةً : بِالطَّعَّانِ ، وَلَا بِاللَّعَّانِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مؤمن لعن طعن کرنے والا یا فحش گو اور بیہودہ گو نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 3840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : " مَا صُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ انتیس کبھی نہیں رکھے۔
حدیث نمبر: 3841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ ، فَقَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَنْزِلُ فِيهِنَّ الْجَهْلُ ، وَيَظْهَرُ فِيهِنَّ الْهَرْجُ " ، وَالْهَرْجُ : الْقَتْلُ .
مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے قریب جو زمانہ ہو گا اس میں جہالت کا نزول ہو گا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ہرج کی کثرت ہو گی، اور ہرج کا معنی ہے قتل۔“
حدیث نمبر: 3842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ : مِنَّا أَمِيرٌ ، وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ، فَأَتَاهُمْ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ النَّاسَ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ ؟ قَالَتْ الْأَنْصَارُ : نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا تو انصار کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے ہو گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور فرمایا: گروہ انصار! کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم خود دیا تھا؟ آپ میں سے کون شخص اپنے دل کی بشاشت کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھ سکتا ہے؟ اس پر انصار کہنے لگے: اللہ کی پناہ! کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں۔
حدیث نمبر: 3843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَسْوَدُ فَمَاتَ ، فَأُوذِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْظُرُوا هَلْ تَرَكَ شَيْئًا ؟ " ، فَقَالُوا : تَرَكَ دِينَارَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيَّتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گیا، کچھ عرصے بعد اس کا انتقال ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ دیکھو کہ اس نے کچھ چھوڑا بھی ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ اس نے ترکہ میں دو دینار چھوڑے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔“
حدیث نمبر: 3844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ ، وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو اپنی زندگی میں قیامت کا زمانہ پائیں گے یا وہ جو قبرستان کو سجدہ گاہ بنا لیں۔“
حدیث نمبر: 3845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ ، جَمَعَ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَصْبَحَ الْيَوْمَ فِيكُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا أَصْبَحَ فِي أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الدِّينِ وَالْفِقْهِ وَالْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى حُرُوفٍ ، وَاللَّهِ إِنْ كَانَ الرَّجُلَانِ لَيَخْتَصِمَانِ أَشَدَّ مَا اخْتَصَمَا فِي شَيْءٍ قَطُّ ، فَإِذَا قَالَ الْقَارِئُ : هَذَا أَقْرَأَنِي ، قَالَ : أَحْسَنْتَ ، وَإِذَا قَالَ الْآخَرُ : قَالَ : كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ ، فَأَقْرَأَنَا : إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَالْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَاعْتَبِرُوا ذَاكَ بِقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ : كَذَبَ وَفَجَرَ ، وَبِقَوْلِهِ إِذَا صَدَّقَهُ : صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ ، لَا يَخْتَلِفُ وَلَا يُسْتَشَنُّ ، وَلَا يَتْفَهُ لِكَثْرَةِ الرَّدِّ ، فَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى حَرْفٍ ، فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ ، وَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ الْحُرُوفِ ، الَّتِي عَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَجْحَدْ بِآيَةٍ مِنْهُ ، يَجْحَدْ بِهِ كُلِّهِ ، فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ : اعْجَلْ ، وَحَيَّ هَلًا ، وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ رَجُلًا أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي لَطَلَبْتُهُ ، حَتَّى أَزْدَادَ عِلْمَهُ إِلَى عِلْمِي ، إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَارَضُ بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَمَضَانَ ، وَإِنِّي عَرَضْتُ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ ، فَأَنْبَأَنِي أَنِّي مُحْسِنٌ ، وَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ایک شاگرد - جن کا تعلق ہمدان سے ہے - کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ تشریف آوری کا ارادہ کیا تو اپنے شاگردوں کو جمع کیا اور فرمایا: مجھے امید ہے کہ تمہارے پاس دین، علم قرآن اور فقہ کی جو دولت ہے، وہ عساکر مسلمین میں سے کسی پاس نہیں ہے، یہ قرآن کئی حروف (متعدد قراءتوں پر) نازل ہوا ہے، واللہ! دو آدمی بعض اوقات اس معاملے میں اتنا شدید جھگڑا کرتے تھے جو لوگ کسی معاملے میں کر سکتے ہیں، ایک قاری کہتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یوں پڑھایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تحسین فرماتے، اور جب دوسرا یہ کہتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ ”تم دونوں ہی درست ہو“، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پڑھایا۔ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے، جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی راہ دکھاتا ہے، تم اسی سے اندازہ لگا لو کہ تم میں سے بھی بعض لوگ اپنے ساتھی کے متعلق کہتے ہیں: کذب و فجر، اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا، اور سچ بولنے پر کہتے ہو کہ تم نے سچ بولا اور نیکی کا کام کیا۔ یہ قرآن بدلے گا اور نہ پرانا ہو گا، اور نہ کوئی شخص بار بار پڑھنے سے اس سے اکتائے گا، جو شخص اس کی تلاوت کسی ایک قراءت کے مطابق کرتا ہے وہ دوسری قراءتوں کو بےرغبتی کی وجہ سے نہ چھوڑے، کیونکہ جو شخص اس کی کسی آیت کا انکار کرتا ہے گویا وہ پورے قرآن کا انکار کرتا ہے، اور یہ ایسے ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ جلدی کرو، ادھر آؤ۔ واللہ! اگر میرے علم میں ہوتا کہ کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے قرآن کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو میں اس سے علم حاصل کرتا تاکہ اس کا علم بھی میرے علم میں شامل ہو جائے، عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو نماز کو مار دیں گے، اس لئے تم وقت پر نماز ادا کیا کرو اور اس کے ساتھ نفلی نماز بھی شامل کیا کرو، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں قرآن کریم کا دور کرتے تھے لیکن جس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ قرآن سنایا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تحسین فرمائی تھی، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سن کر ستر سورتیں یاد کیں تھیں۔
حدیث نمبر: 3846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً ، وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَةٌ فِي الْكُتَّابِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کاتبان وحی میں سے تھے جن کی مینڈھیاں تھیں۔
حدیث نمبر: 3847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ " ، قَالَ أَحَدُهُمْ : مِنَ النَّارِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“
حدیث نمبر: 3848
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ ، لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات قیامت کی علامات میں سے ہے کہ انسان صرف اپنی جان پہچان کے آدمی کو سلام کیا کرے۔“
حدیث نمبر: 3849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحُسَيْنٌ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، وَأَبُو أَحْمَدُ ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ ، وَعَنْ يَسَارِهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حدیث نمبر: 3850
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَلَأُنَازَعَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِي ، وَلَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ لَيُقَالَنَّ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: ”پروردگار! میرے ساتھی؟“ ارشاد ہوگا کہ ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
حدیث نمبر: 3851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ مُسَيْلِمَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " فَقَالَ لَهُ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنِّي لَا أَقْتُلُ الرُّسُلَ أَوْ لَوْ قَتَلْتُ أَحَدًا مِنَ الرُّسُلِ لَقَتَلْتُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد آیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تھا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا کہ ہم تو مسیلمہ کے اللہ کے پیغمبر ہونے کی گواہی دیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں قاصدوں کو قتل کرتا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا۔“
حدیث نمبر: 3852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ نُعِتَ لَهُ الْكَيُّ ، فَقَالَ : " اكْوُوهُ أَوْ ارْضِفُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی کو لے کر حاضر ہوئے جس کا علاج داغنا تجویز کیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو داغ دو اور پتھر گرم کر کے لگاؤ۔“
حدیث نمبر: 3853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " كَانَ يَقْرَأُ : فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے: « ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ » ۔
حدیث نمبر: 3854
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، مِنْ أَهْلِ مَرْوٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ مِنَ امْرَأَةٍ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا ، قَالَ : " فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں نے ایک عورت کے ساتھ سوائے مباشرت کے سب ہی کچھ کر لیا ہے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: «﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾» [هود : 114] ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں۔“
حدیث نمبر: 3855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِرَجُلٍ : " لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔“
حدیث نمبر: 3856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَصَرَ عَبْدَهُ ، وَأَعَزَّ دِينَهُ " ، وَقَالَ مَرَّةً ، يَعْنِي أُمَيَّةَ : " صَدَقَ عَبْدَهُ ، وَأَعَزَّ دِينَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اللہ کا شکر جس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت بخشی۔“
حدیث نمبر: 3857
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي الْيَعْفُورِ ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ ، قَالَ : غَدَوْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ذَاتَ غَدَاةٍ فِي رَمَضَانَ ، فَوَجَدْتُهُ فَوْقَ بَيْتِهِ جَالِسًا ، فَسَمِعْنَا صَوْتَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ ، فَقُلْنَا : سَمِعْنَاكَ تَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ ، فَقَالَ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنَ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاةٍ إذٍ صَافِيَةً ، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ " ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَوَجَدْتُهَا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعقرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں صبح کے وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے ہوئے پایا، ہم نے ان کی آواز سنی کہ وہ کہہ رہے تھے: اللہ نے سچ کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا، ہم نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے پوچھا کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ نے سچ کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا، اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں کے نصف میں ہوتی ہے، اور اس رات کے بعد جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ بالکل صاف ہوتا ہے، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔“ میں ابھی یہی دیکھ رہا تھا تو میں نے اسے بعینہ اسی طرح پایا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 3858
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : غَدَوْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ يُقْرِئُنَا ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، هَلْ حَدَّثَكُمْ نَبِيُّكُمْ ، كَمْ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِ خَلِيفَةً ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں قرآن پڑھا رہے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی آ کر کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا تھا کہ اس امت میں کتنے خلفاء ہوں گے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! (ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا اور) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”بارہ خلفاء ہوں گے، نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کی طرح۔“
حدیث نمبر: 3860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ هِلَالٍ ، وَقَلَّمَا كَانَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نئے مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھا کرتے تھے اور جمعہ کے دن بہت کم روزہ چھوڑا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ . ح وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى الْفِطْرَةِ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجَ مِنَ النَّارِ " ، قَالَ : فَابْتَدَرْنَاهُ ، فَإِذَا هُوَ صَاحِبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ ، فَنَادَى بِهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو ہم نے ایک منادی کو یہ کہتے ہوئے سنا: «الله اكبر الله اكبر» ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: ”یہ شخص فطرت سلیمہ پر ہے“، پھر اس نے کہا: «أشهد أن لا إلٰه إلا الله» ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ آگ سے نکل گیا“، ہم جلدی سے اس کی جانب لپکے تو وہ ایک بکریوں والا تھا جس نے نماز کو پا لیا تھا اور اسی نے یہ نداء لگائی تھی۔
حدیث نمبر: 3862
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " ، قَالَ : سَأَلْتُ عَاصِمًا عَنِ الْأَجْنِحَةِ ؟ فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَنِي ، قَالَ : فَأَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَنَّ الْجَنَاحَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر جبرئیل کو ان کی اصلی شکل و صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔“ راوی نے اپنے استاذ عاصم سے اس کی وضاحت معلوم کی تو انہوں نے بتانے سے انکار کر دیا، ان کے کسی دوسرے شاگرد نے بتایا کہ ایک پر مشرق اور مغرب کے درمیانی فاصلے کو پر کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 3863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٌ بِهِ الدُّرُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس جبرئیل علیہ السلام ایک سبز لباس میں آئے جس پر موتی لٹکے ہوئے تھے۔“
حدیث نمبر: 3864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْكَهْتَلَةِ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : أَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ مُحَمَّداً لَمْ يَرَ جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ ، أَمَّا مَرَّةٌ ، فَإِنَّهُ سَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ نَفْسَهُ فِي صُورَتِهِ ، فَأَرَاهُ صُورَتَهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ ، وَأَمَّا الْأُخْرَى ، فَإِنَّهُ صَعِدَ مَعَهُ حِينَ صَعِدَ بِهِ " ، وَقَوْلُهُ : وَهُوَ بِالأُفُقِ الأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى سورة النجم آية 7 - 10 ، قَالَ : فَلَمَّا أَحَسَّ جِبْرِيلُ رَبَّهُ ، عَادَ فِي صُورَتِهِ ، وَسَجَدَ ، فَقَوْلُهُ : وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى ، إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى ، مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ، لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 13 - 18 ، قَالَ : خَلْقَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام .
مولانا ظفر اقبال
غالبا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل و صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، ایک مرتبہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان سے اپنی اصل شکل و صورت دکھانے کی فرمائش کی تھی، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اصلی شکل دکھائی جس نے پورے افق کو گھیر رکھا تھا، اور دوسری مرتبہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر لے گئے تھے، یہی مراد ہے اس آیت کی: « ﴿وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى o ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى o فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى o فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى﴾ » [النجم : 7-10] پھر جب جبرئیل امین علیہ السلام کو اپنے پروردگار کا احساس ہوا تو وہ اپنی اصلی شکل میں آ کر سجدہ ریز ہو گئے، یہی مراد ہے اس آیت کی: «﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى o عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى o عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى o إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى o مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى o لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى﴾» [النجم : 13-18] یعنی اس سے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی خلقت اور جسم دیکھنا مراد ہے۔
حدیث نمبر: 3865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ جَعَلَ لِلَّهِ نِدًّا ، جَعَلَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَأُخْرَى أَقُولُهَا ، لَمْ أَسْمَعْهَا مِنْهُ : وَمَنْ مَاتَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ ، وَإِنَّ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَ الْمَقْتَلُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ ”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“ اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا، اور یہ نمازیں اپنے درمیانی وقت کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں بشرطیکہ آدمی قتل و قتال سے بچتا رہے۔
…