حدیث نمبر: 3786
قَالَ يَحْيَى : وحَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3787
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : إِنَّ أُمَّنَا كَانَتْ تُكْرِمُ الزَّوْجَ ، وَتَعْطِفُ عَلَى الْوَلَدِ ، قَالَ : وَذَكَرَ الضَّيْفَ غَيْرَ أَنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : " أُمُّكُمَا فِي النَّارِ " ، فَأَدْبَرَا ، وَالشَّرُّ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا ، فَأَمَرَ بِهِمَا ، فَرُدَّا ، فَرَجَعَا وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا ، رَجِيَا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ شَيْءٌ ، فَقَالَ : " أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ : وَمَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ شَيْئًا ، وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَيْهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَكْثَرَ سُؤَالًا مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ وَعَدَكَ رَبُّكَ فِيهَا أَوْ فِيهِمَا ؟ قَالَ : فَظَنَّ أَنَّهُ مِنْ شَيْءٍ قَدْ سَمِعَهُ ، فَقَالَ : " مَا سَأَلْتُهُ رَبِّي ، وَمَا أَطْمَعَنِي فِيهِ ، وَإِنِّي لَأَقُومُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : وَمَا ذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ ؟ قَالَ : " ذَاكَ إِذَا جِيءَ بِكُمْ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا ، فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، يَقُولُ : اكْسُوا خَلِيلِي ، فَيُؤْتَى بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ ، فَلَيَلْبِسْهُمَا ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَسْتَقْبِلُ الْعَرْشَ ، ثُمَّ أُوتَى بِكِسْوَتِي ، فَأَلْبَسُهَا ، فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِهِ مَقَامًا لَا يَقُومُهُ أَحَدٌ غَيْرِي ، يَغْبِطُنِي بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ " ، قَالَ : " وَيُفْتَحُ نَهَرٌ مِنَ الْكَوْثَرِ إِلَى الْحَوْضِ " ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ : فَإِنَّهُ مَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ إِلَّا عَلَى حَالٍ ، أَوْ رَضْرَاضٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ ؟ قَالَ : " حَالُهُ الْمِسْكُ ، وَرَضْرَاضُهُ التُّومُ " . قَالَ الْمُنَافِقُ : لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ ، قَلَّمَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبْتَةٌ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لَهُ نَبْتٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، قُضْبَانُ الذَّهَبِ " ، قَالَ الْمُنَافِقُ : لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ ، فَإِنَّهُ قَلَّمَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا أَوْرَقَ ، وَإِلَّا كَانَ لَهُ ثَمَرٌ ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ مِنْ ثَمَرٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَلْوَانُ الْجَوْهَرِ ، وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، إِنَّ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ ، وَإِنْ حُرِمَهُ لَمْ يُرْوَ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملیکہ کے دونوں بیٹے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہماری والدہ اپنے شوہر کی بڑی عزت کرتی تھیں، بچوں پر بڑی مہربان تھیں، ان کی مہمان نوازی کا بھی انہوں نے تذکرہ کیا، البتہ زمانہ جاہلیت میں انہوں نے ایک بچی کو زندہ درگور کر دیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ماں جہنم میں ہے“، یہ سن کر وہ دونوں واپس جانے لگے اور ان دونوں کے چہروں سے ناگواری کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان دونوں کو واپس بلایا گیا، چنانچہ جب وہ واپس آئے تو ان کے چہرے پر خوشی کے اثرات دیکھے جا سکتے تھے، کیونکہ انہیں یہ امید ہو چلی تھی کہ شاید ان کی والدہ کے متعلق کوئی نیا حکم نازل ہو گیا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”میری ماں بھی تمہاری ماں کے ساتھ ہو گی۔“ ایک منافق یہ سن کر چپکے سے کہنے لگا کہ ہم ان کی پیروی یوں ہی کر رہے ہیں، یہ تو اپنی ماں کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے؟ ایک انصاری - جس سے زیادہ سوال کرنے والا میں نے نہیں دیکھا - کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے رب نے اس عورت یا ان دنوں کے بارے کوئی وعدہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے پروردگار سے اس کا سوال کیا ہے اور نہ ہی اس نے مجھے کوئی امید دلائی ہے، البتہ میں قیامت کے دن مقام محمود پر فائز کیا جاؤں گا“، اس انصاری نے پوچھا: مقام محمود کیا چیز ہے؟ فرمایا: ”جس وقت قیامت کے دن تم سب کو برہنہ جسم، برہنہ پا اور غیر مختون حالت میں لایا جائے گا، اور سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ”میرے خلیل کو لباس پہناؤ،“ چنانچہ دو سفید چادریں لائی جائیں گی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں زیب تن فرما لیں گے، پھر وہ بیٹھ جائیں گے اور عرش الٰہی کی طرف رخ کر لیں گے۔ اس کے بعد میرے لئے لباس لایا جائے گا اور میں بھی اسے پہن لوں گا، پھر میں اپنی دائیں جانب ایک ایسے مقام پر کھڑا ہو جاؤں گا جہاں میرے علاوہ کوئی اور کھڑا نہ ہو سکے گا اور اولین و آخرین اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کریں گے، پھر جنت کی نہر کوثر میں سے حوض کوثر تک ایک نہر نکالی جائے گی۔“ یہ سن کر منافقین کہنے لگے کہ پانی تو ہمیشہ مٹی پر یا چھوٹی اور باریک کنکریوں پر بہتا ہے، اس انصاری نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ پانی کسی مٹی پر بہتا ہو گا یا کنکریوں پر؟ فرمایا: ”اس کی مٹی مشک ہو گی اور اس کی کنکریاں موتی جیسے چاندی کے دانے ہوں گے“، ایک منافق آہستہ سے کہنے لگا کہ یہ بات تو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنی، جب بھی کسی مٹی یا کنکریوں پر پانی بہتا ہے تو وہاں کچھ چیزیں یقینا اگتی ہیں، اس منافق کی بات سن کر اس انصاری نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا وہاں کچھ چیزیں بھی اگتی ہوں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! سونے کی شاخیں“، وہ منافق پھر کہنے لگا کہ یہ بات تو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنی، جہاں شاخیں اگتی ہیں وہاں پتے اور پھل بھی ہوتے ہیں، اس انصاری نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا وہاں پھل بھی ہوں گے؟ فرمایا: ”ہاں! جواہرات کے رنگ جیسے، اور حوض کوثر کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا، جو شخص اس کا ایک گھونٹ پی لے گا، اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی اور جو شخص اس سے محروم رہ جائے گا وہ کبھی سیراب نہ ہوگا۔“
حدیث نمبر: 3788
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : قَالَ أَبِي : حَدَّثَنِي أَبُو تَمِيمَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ قَالَ : الْبِكَالِيَّ يُحَدِّثُهُ عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ عَمْرٌو إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ : اسْتَبْعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، حَتَّى أَتَيْتُ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَخَطَّ لِي خِطَّةً ، فَقَالَ لِي : " كُنْ بَيْنَ ظَهْرَيْ هَذِهِ لَا تَخْرُجْ مِنْهَا ، فَإِنَّكَ إِنْ خَرَجْتَ هَلَكْتَ " ، قَالَ : فَكُنْتُ فِيهَا ، قَالَ : فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَذَفَةً ، أَوْ أَبْعَدَ شَيْئًا ، أَوْ كَمَا قَالَ : ثُمَّ إِنَّهُ ذَكَرَ هَنِينًا كَأَنَّهُمْ الزُّطُّ قَالَ عَفَّانُ : أَوْ كَمَا قَالَ عَفَّانُ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ ، وَلَا أَرَى سَوْآتِهِمْ ، طِوَالًا ، قَلِيلٌ لَحْمُهُمْ ، قَالَ : فَأَتَوْا ، فَجَعَلُوا يَرْكَبُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَجَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : وَجَعَلُوا يَأْتُونِي ، فَيُخَيِّلُونَ أَوْ يَمِيلُونَ حَوْلِي ، وَيَعْتَرِضُونَ لِي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَأُرْعِبْتُ مِنْهُمْ رُعْبًا شَدِيدًا ، قَالَ : فَجَلَسْتُ أَوْ كَمَا قَالَ ، قَالَ : فَلَمَّا انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ جَعَلُوا يَذْهَبُونَ أَوْ كَمَا قَالَ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ثَقِيلًا وَجِعًا ، أَوْ يَكَادُ أَنْ يَكُونَ وَجِعًا مِمَّا رَكِبُوهُ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَجِدُنِي ثَقِيلًا " أَوْ كَمَا قَالَ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي أَوْ كَمَا قَالَ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ هَنِينًا أَتَوْا ، عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ طِوَالٌ أَوْ كَمَا قَالَ ، وَقَدْ أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَأُرْعِبْتُ مِنْهُمْ أَشَدَّ مِمَّا أُرْعِبْتُ الْمَرَّةَ الْأُولَى ، قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا الْعَبْدُ خَيْرًا ، أَوْ كَمَا قَالُوا : إِنَّ عَيْنَيْهِ نَائِمَتَانِ ، أَوْ قَالَ : عَيْنَهُ أَوْ كَمَا قَالُوا : وَقَلْبَهُ يَقْظَانُ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ عَارِمٌ وَعَفَّانُ : قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : هَلُمَّ فَلْنَضْرِبْ لَهُ مَثَلًا أَوْ كَمَا قَالُوا ، قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : اضْرِبُوا لَهُ مَثَلًا وَنُؤَوِّلُ نَحْنُ ، أَوْ نَضْرِبُ نَحْنُ وَتُؤَوِّلُونَ أَنْتُمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مَثَلُهُ كَمَثَلِ سَيِّدٍ ابْتَنَى بُنْيَانًا حَصِينًا ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّاسِ بِطَعَامٍ أَوْ كَمَا قَالَ ، فَمَنْ لَمْ يَأْتِ طَعَامَهُ أَوْ قَالَ : لَمْ يَتْبَعْهُ عَذَّبَهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ كَمَا قَالُوا ، قَالَ الْآخَرُونَ : أَمَّا السَّيِّدُ : فَهُوَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ، وَأَمَّا الْبُنْيَانُ : فَهُوَ الْإِسْلَامُ ، وَالطَّعَامُ : الْجَنَّةُ ، وَهُوَ الدَّاعِي ، فَمَنْ اتَّبَعَهُ كَانَ فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ أَوْ كَمَا قَالُوا : وَمَنْ لَمْ يَتَّبِعْهُ عُذِّبَ أَوْ كَمَا قَالَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : " مَا رَأَيْتَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ؟ " فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : رَأَيْتُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا خَفِيَ عَلَيَّ مِمَّا قَالُوا شَيْءٌ " ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، أَوْ قَالَ : هُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے ساتھ کہیں لے کر گئے، ہم چلتے رہے یہاں تک کہ جب ایک مقام پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر ایک خط کھینچا اور مجھ سے فرمایا کہ ”اس خط سے پیچھے رہنا، اس سے آگے نہ نکلنا، اگر تم اس سے آگے نکلے تو ہلاک ہو جاؤ گے“، چنانچہ میں وہیں رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دور گئے جہاں تک انسان کی پھینکی ہوئی کنکری جا سکتی ہے یا اس سے کچھ آگے، وہاں کچھ لوگ محسوس ہوئے جو ہندوستان کی ایک قوم ”جاٹ“ لگتے تھے، انہوں نے کپڑے بھی نہیں پہن رکھے تھے اور مجھے ان کی شرمگاہ بھی نظر نہیں آتی تھی، ان کے قد لمبےاور گوشت بہت تھوڑا تھا، وہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سوار ہونے کی کوشش کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے کچھ پڑھتے رہے، وہ میرے پاس بھی آئے اور میرے ارد گرد گھومنے اور مجھے چھیڑنے کی کوشش کرنے لگے جس سے مجھ پر شدید قسم کی دہشت طاری ہو گئی اور میں اپنی جگہ پر ہی بیٹھ گیا۔ جب پو پھٹی تو وہ لوگ جانا شروع ہو گئے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس آ گئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بوجھل محسوس ہو رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم میں درد ہو رہا تھا، اس لئے مجھ سے فرمانے لگے کہ ”مجھے طبیعت بوجھل لگ رہی ہے“، پھر اپنا سر میری گود میں رکھ دیا، اسی اثناء میں کچھ لوگ اور آ گئے جنہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور ان کے قد بھی لمبے لمبے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو چکے تھے اس لئے مجھ پر پہلی مرتبہ سے بھی زیادہ شدید دہشت طاری ہوگئی۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اس بندے کو خیر عطا کی گئی ہے، اس کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے، آؤ، ہم ان کے لئے کوئی مثال دیتے ہیں، تم مثال بیان کرو، ہم اس کی تاویل بتائیں گے یا ہم مثال بیان کرتے ہیں، تم اس کی تاویل بتانا، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ کہنے لگے کہ ان کی مثال اس سردار کی سی ہے جس نے کوئی بڑی مضبوط عمارت بنوائی، پھر لوگوں کو دعوت پر بلایا، اور جو شخص دعوت میں شریک نہ ہوا، اس نے اسے بڑی سخت سزا دی، دوسروں نے اس کی تاویل بیان کرتے ہوئے کہا کہ سردار سے مراد تو اللہ رب العالمین ہے، عمارت سے مراد اسلام ہے، کھانے سے مراد جنت ہے، اور یہ داعی ہیں، جو ان کی اتباع کرے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو ان کی اتباع نہیں کرے گا اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیدار ہو گئے اور فرمانے لگے: اے ابن ام عبد! تم نے کیا دیکھا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ یہ چیز دیکھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے جو کچھ کہا، مجھ پر اس میں سے کچھ بھی پوشیدہ اور مخفی نہیں، یہ فرشتوں کی جماعت تھی۔“
حدیث نمبر: 3789
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي غَسِيلًا ، وَرَأْسِي دَهِينًا ، وَشِرَاكُ نَعْلِي جَدِيدًا ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ ، حَتَّى ذَكَرَ عِلَاقَةَ سَوْطِهِ ، أَفَمِنْ الْكِبْرِ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، ذَاكَ الْجَمَالُ ، إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ ، وَازْدَرَى النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جہنم میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا، اور وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا“، ایک شخص نے یہ سن کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے یہ چیز اچھی لگتی ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں، میرے سر میں تیل لگا ہوا ہو اور میرے جوتوں کا تسمہ نیا ہو، اس نے کچھ اور چیزیں بھی ذکر کیں حتی کہ اپنے کوڑے کی رسی کا بھی ذکر کیا اور کہا: یا رسول اللہ! کیا یہ بھی تکبر میں شامل ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو خوبصورتی ہے، اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر تو یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔“
حدیث نمبر: 3790
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ ، وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا " ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ بِي إِذَا أَدْرَكْتُهُمْ ؟ قَالَ : " لَيْسَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ طَاعَةٌ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ " ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قال عبد الله بن أحمد : وسَمِعْت أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بعد حکومت کی باگ دوڑ کچھ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں بھی آئے گی جو سنت کو مٹا دیں گے اور بدعت کو جلاء دیں گے، اور نماز کو اس کے وقت مقررہ سے ہٹا دیں گے“، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں ایسے لوگوں کو پاؤں تو ان کے ساتھ میرا رویہ کیسا ہونا چاہئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن ام عبد! اللہ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں کی جاتی“، یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرایا۔
حدیث نمبر: 3791
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَحَمْزَةَ ابني عبد الله بن عتبة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يَمَسُّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گوشت تناول فرماتے، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہو جاتے۔
حدیث نمبر: 3792
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ اللَّحْمَ ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَمَا يَمَسُّ قَطْرَةَ مَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت تناول فرمایا، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہو گئے۔
حدیث نمبر: 3793
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ لَحْمًا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت تناول فرمایا، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہو گئے۔
حدیث نمبر: 3794
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا ، فَنَزَلَ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ ، وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَى الشَّامِ ، فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ ، نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ ، فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ : انْتَظِرْ ، حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ ، وَغَفَلَ النَّاسُ ، انْطَلَقْتَ فَطُفْتَ ، فَبَيْنَمَا سَعْدٌ يَطُوفُ ، إِذْ أَتَاهُ أَبُو جَهْلٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا ؟ قَالَ سَعْدٌ : أَنَا سَعْدٌ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : تَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا ، وَقَدْ آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ؟ فَتَلَاحَيَا ، فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ : لَا تَرْفَعَنَّ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ ، فَإِنَّهُ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : وَاللَّهِ إِنْ مَنَعْتَنِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، لَأَقْطَعَنَّ إِلَيْكَ مَتْجَرَكَ إِلَى الشَّأْمِ ، فَجَعَلَ أُمَيَّةُ يَقُولُ : لَا تَرْفَعَنَّ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ ، وَجَعَلَ يُمْسِكُهُ ، فَغَضِبَ سَعْدٌ ، فَقَالَ : دَعْنَا مِنْكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ مُحَمَّدًا " يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلُكَ " ، قَالَ : إِيَّايَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ ، فَلَمَّا خَرَجُوا ، رَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ لِي الْيَثْرِبِيُّ ؟ فَأَخْبَرَهَا به ، فَلَمَّا جَاءَ الصَّرِيخُ ، وَخَرَجُوا إِلَى بَدْرٍ ، قَالَتْ امْرَأَتُهُ : أَمَا تَذْكُرُ مَا قَالَ أَخُوكَ الْيَثْرِبِيُّ ؟ فَأَرَادَ أَنْ لَا يَخْرُجَ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ : إِنَّكَ مِنْ أَشْرَافِ الْوَادِي ، فَسِرْ مَعَنَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ ، فَسَارَ مَعَهُمْ ، فَقَتَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچے اور امیہ بن خلف ابوصفوان کے مہمان بنے، امیہ کی بھی یہی عادت تھی کہ جب وہ شام جاتے ہوئے مدینہ منورہ سے گزرتا تھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان بنتا تھا، بہرحال! امیہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا کہ آپ تھوڑا سا انتظار کر لیں، جب دن خوب نکل آئے گا اور لوگ غافل ہو جائیں گے تب آپ جا کر طواف کر لیجئے گا۔ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ طواف کر رہے تھے تو اچانک ابوجہل آ گیا اور کہنے لگا کہ یہ کون شخص خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں سعد ہوں، ابوجہل کہنے لگا کہ تم کتنے اطمینان سے طواف کر رہے ہو حالانکہ تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دے رکھی ہے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! ہم نے انہیں پناہ دے رکھی ہے، اس پر دونوں میں تکرار ہونے لگی۔ امیہ بن خلف سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا کہ آپ ابوالحکم یعنی ابوجہل پر اپنی آواز کو بلند نہ کریں کیونکہ وہ اس علاقے کا سردار ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ واللہ! اگر تو نے مجھے طواف کرنے سے روکا تو میں تیری شام کی تجارت کا راستہ بند کر دوں گا، امیہ بار بار یہی کہے جاتا تھا کہ آپ اپنی آواز اونچی نہ کریں اور انہیں روکے جاتا تھا، اس پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور فرمایا کہ ہمارے درمیان سے ہٹ جاؤ، کیونکہ تمہارے بارے بھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ تمہیں قتل کر دیں گے، امیہ نے پوچھا: مجھے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! امیہ نے کہا کہ واللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کبھی جھوٹ نہیں بولتے، بہرحال! جب وہ لوگ چلے گئے تو امیہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہنے لگا: تمہیں پتہ چلا کہ اس یثربی نے مجھ سے کیا کہا ہے؟ پھر اس نے اپنی بیوی کو سارا واقعہ بتایا، ادھر جب منادی آیا اور لوگ بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو امیہ کی بیوی نے اس سے کہا: تمہیں یاد نہیں ہے کہ تمہارے یثربی دوست نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس پر امیہ نے نہ جانے کا ارادہ کر لیا، لیکن ابوجہل اس سے کہنے لگا کہ تم ہمارے اس علاقے کے معزز آدمی ہو، ایک دو دن کے لئے ہمارے ساتھ چلے چلو، چنانچہ وہ ان کے ساتھ چلا گیا اور اللہ نے اسے قتل کروا دیا۔
حدیث نمبر: 3795
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفِ بْنِ صَفْوَانَ ، وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَى الشَّامِ ، وَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى أُمِّ صَفْوَانَ ، فَقَالَ : أَمَا تَعْلَمِي مَا قَالَ أَخِي الْيَثْرِبِيُّ ؟ قَالَتْ : وَمَا قَالَ ؟ قَالَ : زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلِي ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ ، فَلَمَّا خَرَجُوا إِلَى بَدْرٍ وَسَاقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ " إِذَا نَامَ ، وَضَعَ يَمِينَهُ تَحْتَ خَدِّهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ ، يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کے لئے اپنے بستر پر آ کر لیٹتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا فرماتے: «اَللّٰهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ» ”پروردگار! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔“
حدیث نمبر: 3797
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ يَدْعُو ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَدْعُو ، فَقَالَ : " سَلْ تُعْطَهْ " ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ ، وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ ، جَنَّةِ الْخُلْدِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دور ہی سے فرمایا: ”مانگو تمہیں دیا جائے گا“، وہ یہ دعا کر رہے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں آپ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جس میں کبھی ارتداد نہ آئے، ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 3798
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ ، فَقَدْ رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ عَلَى صُورَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہو جائے، اسے یقین کر لینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔“
حدیث نمبر: 3799
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ الْنَبِيين وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي إِبْرَاهِيمُ " قَالَ : ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ سورة آل عمران آية 68 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کا دوسرے انبیاء علیہم السلام میں سے کوئی نہ کوئی ولی ہوا ہے، اور میرے ولی میرے والد (جد امجد) اور میرے رب کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت مکمل تلاوت فرمائی: «﴿إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ . . . . .﴾ [آل عمران : 68]»۔
حدیث نمبر: 3801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَمُؤَمَّلٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : مِنْ أَدَمٍ فِي نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ مَفْتُوحٌ عَلَيْكُمْ ، مَنْصُورُونَ ، وَمُصِيبُونَ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . " وَمَثَلُ الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ ، كَمَثَلِ بَعِيرٍ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ ، فَهُوَ يَنْزِعُ مِنْهَا بِذَنَبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جمع فرمایا، اس وقت ہم لوگ چالیس افراد تھے، میں ان میں سب سے آخر میں آیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ فتح و نصرت حاصل کرنے والے ہو، تم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے، اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرے، اچھی باتوں کا حکم کرے اور بری باتوں سے روکے، اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لینا چاہئے۔ جو شخص اپنے قبیلے والوں کی کسی ایسی بات پر مدد اور حمایت کرتا ہے جو ناحق ہو اور غلط ہو، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنوئیں میں گر پڑے، پھر اپنی دم کے سہارے کنوئیں سے باہر نکلنا چاہے۔“
حدیث نمبر: 3802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيِه ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ " ، قَالُوا : وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَإِيَّايَ ، لَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ ، فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک ہم نشین اور ایک ہم نشین ملائکہ میں سے مقرر کیا گیا ہے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اس لئے اب وہ مجھے صرف حق بات کا ہی حکم دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ حم الثَّلَاثِينَ يَعْنِي الْأَحْقَافَ فَقَرَأَ حَرْفًا ، وَقَرَأَ رَجُلٌ آخَرُ حَرْفًا ، لَمْ يَقْرَأْهُ صَاحِبُهُ ، وَقَرَأْتُ أَحْرُفًا ، فَلَمْ يَقْرَأْهَا صَاحِبَيَّ ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : " لَا تَخْتَلِفُوا ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " انْظُرُوا أَقْرَأَكُمْ رَجُلًا ، فَخُذُوا بِقِرَاءَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سورہ احقاف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ ایک مختلف طریقے سے اس کی قراءت کر رہا تھا، دوسرا آدمی دوسرے طریقے سے اسے پڑھ رہا تھا جو اس کے ساتھی سے مختلف تھا، اور میں اسے تیسرے طریقے سے پڑھ رہا تھا جس پر وہ دونوں نہ پڑھ رہے تھے، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور انہیں اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے“، پھر فرمایا: ”یہ دیکھ لیا کرو کہ تم میں زیادہ بڑا قاری کون ہے، اس کی تلاوت اپنا لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 3804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي الْكَنُودِ ، قَالَ : أَصَبْتُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي بَعْضِ الْمَغَازِي ، فَلَبِسْتُهُ ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، فَأَخَذَهُ ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ لَحْيَيْهِ ، فَمَضَغَهُ ، وَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " يُتَخَتَّمَ بِخَاتَمِ الذَّهَبِ " أَوْ قَالَ : بِحَلَقَةِ الذَّهَبِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالکنود کہتے ہیں کہ کسی غزوے میں مجھے سونے کی ایک انگوٹھی ملی، میں اسے پہن کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے اسے اپنے دو جبڑوں کے درمیان رکھ کر چبایا اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے چھلے اور انگوٹھی سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 3805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُورَةِ النَّجْمِ " ، فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ ، إِلَّا شَيْخٌ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى ، فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ ، وَقَالَ : يَكْفِينِي هَذَا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ قُتِلَ كَافِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم کے آخر میں سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے قریش کے ایک آدمی کے جس نے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی کی طرف بڑھا کر اس پر سجدہ کر لیا اور کہنے لگا کہ مجھے یہی کافی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعد میں، میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حدیث نمبر: 3806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَكْثَرْنَا الْحَدِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَاتَ لَيْلَةٍ ، ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأُمَمِهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ ، وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى مَعَهُ كَبْكَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَأَعْجَبُونِي ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَقِيلَ لِي : هَذَا أَخُوكَ مُوسَى ، مَعَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ أُمَّتِي ؟ فَقِيلَ لِيَ : انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ ، ثُمَّ قِيلَ لِيَ : انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ ، فَقِيلَ لِي : أَرَضِيتَ ؟ فَقُلْتُ : رَضِيتُ يَا رَبِّ ، رَضِيتُ يَا رَبِّ ، قَالَ : فَقِيلَ لِي : إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِدًا لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي ، إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ ، فَافْعَلُوا ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ ، فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ ، فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ " ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ يَجْعَلَنِي مِنَ السَّبْعِينَ ، فَدَعَا لَهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " ، قَالَ : ثُمَّ تَحَدَّثْنَا ، فَقُلْنَا : مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعُونَ الْأَلْفُ ؟ قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ ، لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا حَتَّى مَاتُوا ؟ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں دیر تک باتیں کرتے رہے، جب صبح کو حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میرے سامنے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کو ان کی امتوں کے ساتھ پیش کیا گیا، چنانچہ ایک نبی گزرے تو ان کے ساتھ صرف تین آدمی تھے، ایک نبی گزرے تو ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت تھی، ایک نبی گزرے تو ان کے ساتھ ایک گروہ تھا، اور کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا، حتی کہ میرے پاس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا گزر ہوا جن کے ساتھ بنی اسرائیل کی بہت بڑی تعداد تھی، جسے دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور میں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے لوگ ہیں، میں نے پوچھا کہ پھر میری امت کہاں ہے؟ مجھ سے کہا گیا کہ اپنی دائیں جانب دیکھئے، میں نے دائیں جانب دیکھا تو ایک ٹیلہ لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا کہ اپنی بائیں جانب دیکھئے، میں نے بائیں جانب دیکھا تو افق لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے کہا: پروردگار! میں راضی ہوں، میں خوش ہوں، پھر مجھ سے کہا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار ایسے بھی ہوں گے جو بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اگر تم ستر ہزار والے افراد میں شامل ہو سکو تو ایسا ہی کرو، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو ٹیلے والوں میں شامل ہو جاؤ، اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو افق والوں میں شامل ہو جاؤ، کیونکہ میں نے وہاں بہت سے لوگوں کو ملتے ہوئے دیکھا ہے۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! تم ان میں شامل ہو“، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم پر سبقت لے گئے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہو گئے اور لوگ یہ بحث کرنے لگے کہ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہونے والے یہ لوگ کون ہوں گے؟ بعض کہنے لگے کہ ہو سکتا ہے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہوں، بعض نے کہا کہ شاید اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے ہوں اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کیا ہو، اسی طرح کچھ اور آراء بھی لوگوں نے دیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 3807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً ، فَأُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَهُ ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " حَيَّ عَلَى الْوُضُوءِ ، وَالْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ " ، قَالَ الْأَعْمَشُ : فَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : كَمْ كَانَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، پانی نہیں مل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کا ایک برتن پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس میں ڈالا اور انگلیاں کشادہ کر کے کھول دیں، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی کے چشمے بہہ پڑے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے: ”وضو کے لئے آؤ، یہ برکت اللہ کی طرف سے ہے۔“ اعمش کہتے ہیں کہ مجھے سالم بن ابی الجعد نے بتایا کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس دن کتنے لوگ تھے؟ فرمایا: ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار افراد پر مشتمل تھی۔
حدیث نمبر: 3808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ ، وَإِذَا أَسَأْتُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ : قَدْ أَحْسَنْتَ ، فَقَدْ أَحْسَنْتَ ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ : قَدْ أَسَأْتَ ، فَقَدْ أَسَأْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنی نیکی اور برائی کا کیسے پتہ چلے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے پڑوسیوں کو اپنے متعلق یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا تو واقعی تم نے اچھا کام کیا، اور جب تم لوگوں کو اپنے متعلق یہ کہتے ہوئے سنو کہ تو نے برا کام کیا تو تم نے واقعی برا کام کیا۔“
حدیث نمبر: 3809
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ آكِلَ الرِّبَا ، وَمُوكِلَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَكَاتِبَهُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : وَقَالَ : " مَا ظَهَرَ فِي قَوْمٍ الرِّبَا وَالزِّنَا ، إِلَّا أَحَلُّوا بِأَنْفُسِهِمْ عِقَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملے پر گواہ بننے والے اور اسے تحریر کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو“، نیز یہ کہ ”جس قوم میں سود اور زنا کا غلبہ ہو جائے، وہ لوگ اپنے اوپر اللہ کے عذاب کو حلال کر لیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 3810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ لَقِيَ الْجِنَّ ، فَقَالَ : " أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ " فَقُلْتُ : لَا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا فِي الْإِدَاوَةِ ؟ " قُلْتُ : نَبِيذٌ ، قَالَ : " أَرِنِيهَا ، تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ ، وَمَاءٌ طَهُورٌ " ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں لیلۃ الجن کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”عبداللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس برتن میں کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نبیذ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اسے میرے ہاتھوں پر ڈالو“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا اور فرمایا: ”اے عبداللہ بن مسعود! یہ پینے کی چیز بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی سے وضو کر کے نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 3811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ جَعَلَ لِلَّهِ نِدًّا ، جَعَلَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ : وقَالَ : وَأُخْرَى أَقُولُهَا ، لَمْ أَسْمَعْهَا مِنْهُ : " مَنْ مَاتَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ ، وَإِنَّ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَ الْمَقْتَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ ”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا“، اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا، اور یہ نمازیں اپنے درمیانی وقت کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں بشرطیکہ آدمی قتل و قتال سے بچتا رہے۔
حدیث نمبر: 3812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنِّي سَأُنَازَعُ رِجَالًا ، فَأُغْلَبُ عَلَيْهِمْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! میرے ساتھی؟ ارشاد ہوگا کہ ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
حدیث نمبر: 3813
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ ، وَيُفْطِرُ ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، لَا يَدَعُهُمَا " ، يَقُولُ : لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا يَعْنِي الْفَرِيضَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں روزہ بھی رکھتے تھے اور افطار بھی فرماتے تھے، دوران سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازوں کی دو رکعتیں پڑھتے تھے، ان پر اضافہ نہیں فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 3814
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمًا يُحَدِّثُ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“
حدیث نمبر: 3815
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“
حدیث نمبر: 3816
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ " ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقُ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْأَحْوَصِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ میں شریک نہ ہونے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے، اور جو لوگ نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔“
حدیث نمبر: 3817
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي موسى الأشعري ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامًا ، يُرْفَعُ فِيهِنَّ الْعِلْمُ ، وَيَنْزِلُ فِيهِنَّ الْجَهْلُ ، وَيَكْثُرُ فِيهِنَّ الْهَرْجُ " ، قَالَ : وَالْهَرْجُ : الْقَتْلُ .
مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے قریب جو زمانہ ہو گا اس میں جہالت کا نزول ہو گا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ہرج کی کثرت ہو گی“، ہم نے ”ہرج“ کا معنی پوچھا تو فرمایا: ”قتل۔“
حدیث نمبر: 3818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ ، فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ " ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلَاةٍ ، فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ ، فَيَجِيءُ بِالْعُودِ ، وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ ، حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا ، فَأَجَّجُوا نَارًا ، وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ بعض اوقات بہت سے چھوٹے گناہ بھی اکٹھے ہو کر انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں“، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال اس قوم سے دی جنہوں نے کسی جنگل میں پڑاؤ ڈالا، کھانے کا وقت آیا تو ایک آدمی جا کر ایک لکڑی لے آیا، دوسرا جا کر دوسری لکڑی لے آیا یہاں تک کہ بہت سی لکڑیاں جمع ہو گئیں اور انہوں نے آگ جلا کر جو اس میں ڈالا تھا وہ پکا لیا۔
حدیث نمبر: 3819
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ الْأُمَمَ بِالْمَوْسِمِ ، فَرَاثَتْ عَلَيْهِ أُمَّتُهُ ، قَالَ : " فَأُرِيتُ أُمَّتِي ، فَأَعْجَبَنِي كَثْرَتُهُمْ ، قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ ، فَقِيلَ لِي : إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " ، فَقَالَ عُكَّاشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَدَعَا لَهُ ، ثُمَّ قَامَ يَعْنِي آخَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَهُمْ ، قَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف امتیں دکھائی گئیں، آپ کی امت کے آنے میں تاخیر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”پھر مجھے میری امت دکھائی گئی، جس کی کثرت پر مجھے بہت تعجب ہوا کہ انہوں نے ہر ٹیلے اور پہاڑ کو بھر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں“، یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کردی، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔“
حدیث نمبر: 3820
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ : كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَرَكَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے جن امتیوں کو نہیں دیکھا، انہیں آپ کیسے پہچانیں گے؟ فرمایا: ”ان کی پیشانیاں وضو کے آثار کی وجہ سے انتہائی روشن اور چمکدار ہوں گی جیسے چتکبرا گھوڑا ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3821
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْبَاقِي يَهْبِطُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، ثُمَّ يَفْتَحُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ ، فَيَقُولُ : هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى سُؤْلَهُ ؟ وَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَسْطَعَ الْفَجْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر فرماتے ہیں: ”ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کی درخواست پوری کی جائے؟“ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3822
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ كَرِيمِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى بِنْتِ جَابِرٍ ، أَنَّ زَوْجَهَا اسْتُشْهِدَ ، فَأَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ اسْتُشْهِدَ زَوْجِي ، وَقَدْ خَطَبَنِي الرِّجَالُ ، فَأَبَيْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ حَتَّى أَلْقَاهُ ، فَتَرْجُو لِي إِنْ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَهُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَزْوَاجِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَا رَأَيْنَاكَ نَقَلْتَ هَذَا مُذْ قَاعَدْنَاكَ ! قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِي بِي لُحُوقًا فِي الْجَنَّةِ ، امْرَأَةٌ مِنْ أَحْمَسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمی بنت جابر کہتی ہیں کہ ان کے شوہر شہید ہو گئے، وہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ میرے شوہر شہید ہو گئے ہیں، مجھے کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا ہے لیکن میں نے اب مرنے تک شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے، کیا آپ کو امید ہے کہ اگر میں اور وہ جنت میں اکٹھے ہو گئے تو میں ان کی بیویوں میں شمار ہوں گی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! ایک آدمی یہ سن کر کہنے لگا کہ ہم نے جب سے آپ کو یہاں بیٹھے ہوئے دیکھا ہے، کبھی اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا (کہ کسی کو آپ نے اس طرح یقین دلایا ہو)؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جنت میں میری امت میں سے مجھے سب سے پہلے ملنے والی ایک عورت ہو گی جس کا تعلق قریش سے ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3823
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي ، فَأَحْسِنْ خُلُقِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئینہ دیکھتے ہوئے یہ دعا پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي» ”اے اللہ! جس طرح آپ نے میری صورت اچھی بنائی ہے، میری سیرت بھی اچھی کر دے۔“
حدیث نمبر: 3824
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا جَهْلٍ وَقَدْ جُرِحَ ، وَقُطِعَتْ رِجْلُهُ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ بِسَيْفِي ، فَلَا يَعْمَلُ فِيهِ شَيْئًا قِيلَ لِشَرِيكٍ : فِي الْحَدِيثِ : وَكَانَ يَذُبُّ بِسَيْفِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى أَخَذْتُ سَيْفَهُ ، فَضَرَبْتُهُ بِهِ ، حَتَّى قَتَلْتُهُ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : قَدْ قُتِلَ أَبُو جَهْلٍ رُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ : قَدْ قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ ، قَالَ : " أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " آللَّهِ " مَرَّتَيْنِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاذْهَبْ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ " ، قال فَذَهَبَ ، فَأَتَاهُ ، وَقَدْ غَيَّرَتْ الشَّمْسُ مِنْهُ شَيْئًا ، فَأَمَرَ بِهِ وَبِأَصْحَابِهِ ، فَسُحِبُوا حَتَّى أُلْقُوا فِي الْقَلِيبِ ، قَالَ : وَأُتْبِعَ أَهْلُ الْقَلِيبِ لَعْنَةً ، وَقَالَ : " كَانَ هَذَا فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ بدر میں ابوجہل کے پاس پہنچا تو وہ زخمی پڑا ہوا تھا اور اس کی ٹانگ کٹ چکی تھی، میں اسے اپنی تلوار سے مارنے لگا لیکن تلوار نے اس پر کچھ اثر نہ کیا، میں اسے مسلسل تلوار مارتا رہا یہاں تک کہ میں نے اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے خود اسے دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، دو مرتبہ اسی طرح سوال و جواب ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ چلو تاکہ میں بھی دیکھوں“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی لاش کے پاس تشریف لائے، سورج کی تمازت کی وجہ سے اس کی لاش سڑنے لگی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اور اس کے ساتھیوں کو کھینچ کر کنوئیں میں ڈال دو“، اور ان کنوئیں والوں کے پیچھے پیچھے لعنت کو لگا دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس امت کا فرعون تھا۔“
حدیث نمبر: 3825
حَدَّثَنَا أَسْودُ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " هَذَا فِرْعَوْنُ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کے متعلق فرمایا: ”یہ میری امت کا فرعون ہے۔“
…