حدیث نمبر: 3746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزيِدَ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ الْفُرَاتِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ ، فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ ، ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ ، أَوْ بِقَصَبَةٍ قَالَ يُونُسُ : بِقَضِيبِهِ حَتَّى قَتَلَهَا ، ثُمّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَتَلَ حَيَّةً ، فَكَأَنَّمَا قَتَلَ رَجُلًا مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالاحوص جشمی کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اچانک ان کی نظر ایک سانپ پر پڑی جو دیوار پر چل رہا تھا، انہوں نے اپنی تقریر روکی اور اسے اپنی چھڑی سے مار دیا، یہاں تک کہ وہ مر گیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص کسی سانپ کو مارے، گویا اس نے کسی مباح الدم مشرک کو قتل کیا۔“
حدیث نمبر: 3747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ ، أَهِيَ مِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ ، فَمَسَخَهُمْ ، فَكَانَ لَهُمْ نَسْلٌ حِينَ يُهْلِكُهُمْ ، وَلَكِنْ هَذَا خَلْقٌ كَانَ ، فَلَمَّا غَضِبَ اللَّهُ عَلَى الْيَهُودِ ، مَسَخَهُمْ ، فَجَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یہ بندر اور خنزیر کیا یہودیوں کی نسل میں سے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جس قوم کو بھی ملعون قرار دے کر ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ہلاک کرنے کے بعد ان کی نسل کو باقی نہیں رکھا، لیکن یہ مخلوق پہلے سے موجود تھی، جب یہودیوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور اس نے ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ان جیسا بنا دیا۔“
حدیث نمبر: 3748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ ، وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ، كُلُّ جَنَاحٍ مِنْهَا قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ ، يَسْقُطُ مِنْ جَنَاحِهِ مِنَ التَّهَاوِيلِ وَالدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ مَا اللَّهُ بِهِ عَلِيمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل و صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے اور ہر پر نے افق کو گھیر رکھا تھا، اور ان کے پروں سے اتنے پھول، موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے جن کی مقدار اللہ ہی جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 3749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ فِي قَوْلِهِ : وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا سورة النساء آية 125 ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا ، يَعْنِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے پیغمبر کو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔
حدیث نمبر: 3750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”تمہارے پیغمبر کو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْأَسَدِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”تمہارے پیغمبر کو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے پیغمبر کو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے پیغمبر کو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔
حدیث نمبر: 3754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ ، فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ تَصِيرُ إِلَى قُلٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سود جتنا مرضی بڑھتا جائے اس کا انجام ہمیشہ قلت کی طرف ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 17 ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُدَّكِرٍ أَوْ مُذَّكِّرٍ ؟ قَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّكِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت اس طرح پڑھائی ہے: « ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ [القمر : 17]» ایک آدمی نے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! ”مدکر“ کا لفظ دال کے ساتھ ہے یا ذال کے ساتھ؟ فرمایا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دال کے ساتھ پڑھایا ہے۔
حدیث نمبر: 3756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ : فَفَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ ، وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ ، وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ ، فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ : فَالَّذِي يُرْبَطُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَعَلَفُهُ وَرَوْثُهُ وَبَوْلُهُ ، وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ : فَالَّذِي يُقَامَرُ أَوْ يُرَاهَنُ عَلَيْهِ ، وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ : فَالْفَرَسُ يَرْتَبِطُهَا الْإِنْسَانُ يَلْتَمِسُ بَطْنَهَا ، فَهِيَ تَسْتُرُ مِنْ فَقْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں، بعض گھوڑے تو رحمان کے ہوتے ہیں، بعض انسان کے اور بعض شیطان کے، رحمان کا گھوڑا تو وہ ہوتا ہے جسے اللہ کے راستہ میں باندھا جائے، اس کا چارہ، اس کی لید اور اس کا پیشاب اور دوسری چیزیں (سب اللہ کے لئے ہوتی ہیں اور ان پر انسان کو ثواب ملتا ہے)، شیطان کا گھوڑا وہ ہوتا ہے جس پر جوا لگایا جائے یا اسے گروی کے طور پر رکھا جائے، اور انسان کا گھوڑا وہ ہوتا ہے جسے انسان اپنا پیٹ بھرنے کے لئے روزی کی تلاش میں باندھتا ہے اور وہ اسے فقر و فاقہ سے بچاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3757
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ . . . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ الْكَاهِلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامِ سَتَزُولُ بِخَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ ، أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ ، فَإِنْ يَهْلَكْ ، فَكَسَبِيلِ مَنْ أُهْلِكَ ، وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ ، يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا " ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبِمَا مَضَى أَمْ بِمَا بَقِيَ ؟ قَالَ : " بَلْ بِمَا بَقِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام کی چکی پئنتیس (35)، چھتیس (36) یا سئنتیس (37) سال تک گھومتی رہے گی، اس کے بعد اگر مسلمان ہلاک ہوئے تو ہلاک ہونے والوں کی راہ پر چلے جائیں گے، اور اگر باقی بچ گئے تو ستر سال تک ان کا دین باقی رہے گا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس کا تعلق ماضی کے ایام سے ہے یا مستقبل سے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مستقبل سے۔“
حدیث نمبر: 3759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِسْرَائِيلَ بْنَ يُونُسَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ مَوْلَى الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " لَا يُبَلِّغْنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا ، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ " ، قَالَ : وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالٌ ، فَقَسَمَهُ ، قَالَ : فَمَرَرْتُ بِرَجُلَيْنِ ، وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ ، فَتَثَبَّتُّ ، حَتَّى سَمِعْتُ مَا قَالَا ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا : " لَا يُبَلِّغْنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا " ، وَإِنِّي مَرَرْتُ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ ، وَهُمَا يَقُولَانِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَشَقَّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " دَعْنَا مِنْكَ ، فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ صَبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”کوئی شخص مجھے میرے کسی صحابی کے متعلق آ کر خبریں نہ دیا کرے کیونکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ جب تمہارے پاس آؤں تو میرا دل ہر ایک کی طرف سے مکمل طور پر صاف ہو“، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے مال آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقسیم فرما دیا، میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے یہ کہا کہ واللہ! یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضا یا آخرت کا گھر حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے خوب غور سے ان کی بات سنی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے یہ فرما رکھا ہے کہ ”کوئی شخص مجھے میرے کسی صحابی کے متعلق آ کر خبریں نہ دیا کرے“، ابھی فلاں فلاں آدمی کے پاس سے میرا گزر ہوا تھا، وہ دونوں یہ کہہ رہے تھے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو گیا، پھر فرمایا: ”موسیٰ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔“
حدیث نمبر: 3760
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ " ، قَالَ : وَأَنْزَلَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ : لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَتَّى بَلَغَ وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ سورة آل عمران آية 113 - 115 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشا میں کافی تاخیر کر دی، پھر جب باہر مسجد کی طرف نکلے تو لوگوں کو نماز کا منتظر پایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت روئے زمین پر کسی دین سے تعلق رکھنے والے اللہ کو یاد نہیں کر رہے سوائے تمہارے“، اور اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں: «﴿لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ . . . . . وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ﴾ [آل عمران : 113-115]» ”سب اہل کتاب برابر نہیں . . . . . اور تم جو نیکی کرو گے اس کا انکار نہیں کیا جائے گا اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ ، وَابْنُ أُثَالٍ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمَا : " أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالَا : نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ ! ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ، لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَقَتَلْتُكُمَا " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ : فَمَضَتْ السُّنَّةُ أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابن نواحہ اور ابن اثال، مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بن کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا تھا: ”کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ انہوں نے کہا کہ ہم تو مسیلمہ کو اللہ کا پیغمبر ہونے کی گواہی دیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں قاصدوں کو قتل کرتا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا“، اس وقت سے یہ رواج ہو گیا کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جاتا۔
حدیث نمبر: 3762
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نَرَى الْآيَاتِ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَاتٍ ، وَأَنْتُمْ تَرَوْنَهَا تَخْوِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں معجزات کو برکات سمجھتے تھے اور تم ان سے خوف محسوس کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 3763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا ، فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ ، فَجَاءَ وَقَدْ أَوْقَدَ رَجُلٌ عَلَى قَرْيَةِ نَمْلٍ ، إِمَّا فِي الْأَرْضِ ، وَإِمَّا فِي شَجَرَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّكُمْ فَعَلَ هَذَا ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اطْفُهَا ، اطْفُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جگہ پر پڑاؤ کیا اور قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے، واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ زمین پر یا کسی درخت پر ایک شخص نے چیونٹیوں کے ایک بل کو آگ لگا رکھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کس نے کیا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے کیا ہے، فرمایا: ”اس آگ کو بجھاؤ، اس آگ کو بجھاؤ۔“
حدیث نمبر: 3764
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّكُمْ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الصَّهْبَاوَاتِ ؟ " فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَا وَاللَّهِ أَذْكُرُهَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، وَإِنَّ فِي يَدَيَّ لَتَمَرَاتٍ أَتَسَحَّرُ بِهِنَّ ، مُسْتَتِرًا بِمُؤْخِرَةِ رَحْلِي مِنَ الْفَجْرِ ، وَذَلِكَ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے آ کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ شب قدر کب ہو گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے وہ رات کسے یاد ہے جو سرخ و سفید ہو رہی تھی؟“ میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے یاد ہے، میرے ہاتھ میں اس وقت کچھ کھجوریں تھیں اور میں چھپ کر اپنے کجاوے کے پچھلے حصے میں ان سے سحری کر رہا تھا، اور اس وقت چاند نکلا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 3765
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ : مِنَّا أَمِيرٌ ، وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ، قَالَ : فَأَتَاهُمْ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ بِالنَّاسِ ؟ " فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ ؟ فَقَالُوا : نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا تو انصار کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے ہو گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور فرمایا: گروہ انصار! کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم خود دیا تھا؟ آپ میں سے کون شخص اپنے دل کی بشاشت کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھ سکتا ہے؟ اس پر انصار کہنے لگے: اللہ کی پناہ! کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں۔
حدیث نمبر: 3766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سُوءٍ ، قَالَ : قُلْنَا : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : هَمَمْتُ أَنْ أَقْعُدَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا کہ میں اپنے دل میں برا ارادہ کرنے لگا، ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: آپ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ فرمایا کہ میں بیٹھ جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا چھوڑ دوں۔
حدیث نمبر: 3767
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الظُّلْمِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ ، فَلَيْسَتْ حَصَاةٌ مِنَ الْأَرْضِ أَخَذَهَا إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ ، وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا الَّذِي خَلَقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے بڑا ظلم کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین کا وہ ایک گز جو کوئی آدمی اپنے بھائی کے حق کو کم کر کے لے لے، زمین کی گہرائی تک اس کی ایک ایک کنکری کو قیامت کے دن اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا، اور زمین کی گہرائی کا علم صرف اسی ذات کو ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3768
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ هو مولى بني هاشم ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ ، أَمِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ ، فَمَسَخَهُمْ وَكَانَ لَهُمْ نَسْلٌ حَتَّى يُهْلِكَهُمْ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، غَضِبَ عَلَى الْيَهُودِ ، فَمَسَخَهُمْ ، وَجَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یہ بندر اور خنزیر کیا یہودیوں کی نسل میں سے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جس قوم کو بھی ملعون قرار دے کر ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ہلاک کرنے کے بعد ان کی نسل کو باقی نہیں رکھا، لیکن یہ مخلوق پہلے سے موجود تھی، جب یہودیوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور اس نے ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ان جیسا بنا دیا۔“
حدیث نمبر: 3769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا ، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ دعا مانگنا اور تین مرتبہ استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔
حدیث نمبر: 3770
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا ، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ دعا مانگنا اور تین مرتبہ استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔
حدیث نمبر: 3771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح پڑھائی تھی: «﴿إِنِّيْ أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾»۔
حدیث نمبر: 3772
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ عِنْدَهُ الشُّهَدَاءَ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَكْثَرَ شُهَدَاءِ أُمَّتِي أَصْحَابُ الْفُرُشِ ، وَرُبَّ قَتِيلٍ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ ، اللَّهُ أَعْلَمُ بِنِيَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابومحمد - جو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے ہیں - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ شہداء کا تذکرہ ہوا تو فرمایا کہ ”میری امت کے اکثر شہداء بستر پر مرنے والے ہوں گے اور میدان جنگ میں دو صفوں کے درمیان مقتول ہونے والے بہت کم ہوں گے جن کی نیتوں کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3773
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الظُّلْمِ أَظْلَمُ ؟ قَالَ : " ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ ، فَلَيْسَ حَصَاةٌ مِنَ الْأَرْضِ يَأْخُذُهَا أَحَدٌ إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ ، وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي خَلَقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے بڑا ظلم کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین کا وہ ایک گز جو کوئی آدمی اپنے بھائی کے حق کو کم کر کے لے لے، زمین کی گہرائی تک اس کی ایک ایک کنکری کو قیامت کے دن اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا، اور زمین کی گہرائی کا علم صرف اسی ذات کو ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3774
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ : الصُّفْرَةُ ، وَتَغْيِيرُ الشَّيْبِ ، وَتَخَتُّمُ الذَّهَبِ ، وَجَرُّ الْإِزَارِ ، وَالتَّبَرُّجُ بِالزِّينَةِ بِغَيْرِ مَحِلِّهَا ، وَضَرْبُ الْكِعَابِ ، وَعَزْلُ الْمَاءِ عَنْ مَحَلِّهِ ، وَفَسَادُ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ ، وَعَقْدُ التَّمَائِمِ ، وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، تہبند زمین پر کھینچنے کو، زرد رنگ کی خوشبو کو، سفید بالوں کے اکھیڑنے کو، پانی (مادہ منویہ) کو اس کی جگہ سے ہٹانے کو، معوذات کے علاوہ دوسری چیزوں سے جھاڑ پھونک کرنے کو، رضاعت کے ایام میں بیوی سے قربت کر کے بچے کی صحت خراب کرنے کو، نیز تعویذ لٹکانے کو، اور اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے بناؤ سنگھار کرنے کو اور گوٹیوں سے کھیلنے کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 3775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ ، فَدَعَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَبْعَةٍ ، فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ، َعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَشَيْبَةُ بنُ ربيعة ، وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ ، وَقَدْ غَيَّرَتْهُمْ الشَّمْسُ ، وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا رخ کر کے قریش کے سات آدمیوں کا نام لے کر بد دعا فرمائی جن میں ابوجہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط بھی شامل تھے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کو دیکھا کہ یہ غزوہ بدر کے موقع پر مارے گئے اور انہیں گھسیٹ کر ایک کنوئیں میں ڈال دیا گیا، چونکہ وہ گرمی کے دن تھے اس لئے سورج کی حرارت سے ان کی لاشیں بگڑ گئیں تھیں۔
حدیث نمبر: 3776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ انتیس (29) کبھی نہیں رکھے۔
حدیث نمبر: 3777
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعْدِ أَوْ سَعِيدِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ " أَحَبَّ الْعَرْقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِرَاعُ الشَّاةِ ، وَكَانَ يَرَى أَنَّهُ سُمَّ فِي ذِرَاعِ الشَّاةِ ، وَكُنَّا نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ الَّذِينَ سَمُّوهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہڈی والے گوشت میں بکری کی دستی کا گوشت زیادہ پسند تھا اور دستی ہی کے گوشت میں زہر ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلایا گیا تھا، اور عام خیال یہی تھا کہ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں زہر ملایا ہے۔
حدیث نمبر: 3778
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا . قَالَ : قَالَ : وَكُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سُمَّ فِي ذِرَاعِ شَاةٍ " ، سَمَّتْهُ الْيَهُودُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں، اور ہمارا خیال یہی تھا کہ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں زہر ملایا ہے۔
حدیث نمبر: 3779
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَمَعَهُ قَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَمِنْ الْجِنِّ " ، قَالُوا : وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَنَا ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ ، وَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک ہم نشین اور ایک ہم نشین ملائکہ میں سے مقرر کیا گیا ہے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اس لئے اب وہ مجھے صرف حق بات کا ہی حکم دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، وَعَلَيَّ دَرْبَانِ ، فَأُلْقِيَتْ عَلَيَّ مَحَبَّةٌ مِنْهُ ، وَعِنْدَهُ شَبَابٌ ، فَقَالُوا لِي : سَلْهُ : فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سورة النجم آية 9 ؟ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق شیبانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت زر بن حبیش کے پاس آیا، ان کے دروازے پر دربان مقرر تھا، اس کے دل میں میری محبت پیدا ہوئی (اور اس نے مجھے اندر جانے دیا)، ان کے پاس کچھ نوجوان بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ ان سے «﴿فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى﴾ [النجم : 9]» کی تفسیر پوچھو، چنانچہ میں نے ان سے اس کی تفسیر پوچھی تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا تھا جن کے چھ سو پر تھے۔
حدیث نمبر: 3781
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَهُوَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هَلْ سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمْ تَمْلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ خَلِيفَةٍ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَكَ ، ثُمَّ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اثْنَا عَشَرَ ، كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں قرآن پڑھا رہے تھے، اسی اثنا میں ایک آدمی آ کر کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا تھا کہ اس امت میں کتنے خلفاء ہوں گے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جب سے عراق آیا ہوں، تم سے پہلے آج تک مجھ سے کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا، پھر فرمایا: ہاں! ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”بارہ خلفاء ہوں گے، نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کی طرح۔“
حدیث نمبر: 3782
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ " قَالَ : مَعِي نَبِيذٌ فِي إِدَاوَةٍ ، فَقَالَ : " اصْبُبْ عَلَيَّ " ، فَتَوَضَّأَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، شَرَابٌ وَطَهُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لیلۃ الجن کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”عبداللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک برتن میں نبیذ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اسے میرے ہاتھوں پر ڈالو“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا اور فرمایا: ”اے عبداللہ بن مسعود! یہ پینے کی چیز بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے۔“
حدیث نمبر: 3783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، وأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ " قَالَ أَسْوَدُ قَالَ شَرِيكٌ : قَالَ سِمَاكٌ : الرَّجُلُ يَبِيعُ الْبَيْعَ ، فَيَقُولُ هُوَ بِنَسَاءٍ بِكَذَا وَكَذَا ، وَهُوَ بِنَقْدٍ بِكَذَا وَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاملے میں دو معاملوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی شخص یوں کہے کہ یہ چیز ادھار میں اتنے کی ہے اور نقد ادائیگی کی صورت میں اتنے کی۔
حدیث نمبر: 3784
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قال عبد الله بن أَحمد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " ، قِيلَ : وَمَنْ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام کی ابتدا بھی اجنبیت میں ہوئی اور عنقریب یہ اسی حال پر لوٹ جائے گا جیسے اس کا آغاز ہوا تھا، سو خوشخبری ہے غربا کے لئے“، کسی نے پوچھا: غربا سے کون لوگ مراد ہیں؟ فرمایا: ”قبائل سے کھینچ کر لائے جانے والے لوگ۔“
حدیث نمبر: 3785
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، قَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مِتُّ ، فَخُذُونِي وَاحْرُقُونِي ، حَتَّى تَدَعُونِي حُمَمَةً ، ثُمَّ اطْحَنُونِي ، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ رَاحٍ ، قَالَ : فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ ، قَالَ : فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : مَخَافَتُكَ ، قَالَ : فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا جس نے توحید یعنی اللہ کو ایک ماننے کے علاوہ کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے پکڑ کر جلا دینا حتی کہ جب میں جل کر کوئلہ بن جاؤں تو اسے پیسنا، پھر جس دن تیز ہوا چل رہی ہو، مجھے سمندر میں بہا دینا، اس کے اہل خانہ نے ایسا ہی کیا، لیکن وہ پھر بھی اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے اس کام پر کس چیز نے مجبور کیا؟ اس نے عرض کیا: آپ کے خوف نے، اس پر اللہ نے اس کی بخشش فرما دی۔
…