حدیث نمبر: 3667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت تمہارے جوتوں کے تسموں سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، یہی حال جہنم کا بھی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6488.
حدیث نمبر: 3668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5240.
حدیث نمبر: 3669
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تسلسل کے ساتھ حج اور عمرہ کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر و فاقہ اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، اور حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " نَحْوًا مِنْ ذَا ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اتنا کہتے ہی ان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور کہنے لگے: اسی طرح فرمایا یا اس کے قریب قریب فرمایا (احتیاط کی دلیل)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أثر صحيح.
حدیث نمبر: 3671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ : " اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقَّ الْحَيَاءِ " ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَسْتَحِي ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، قَالَ : " لَيْسَ ذَلِكَ ، وَلَكِنْ مَنْ اسْتَحَيى مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ ، فَلْيَحْفَظْ الرَّأْسَ وَمَا حَوَى ، وَلْيَحْفَظْ الْبَطْنَ وَمَا وَعَى ، وَلْيَذْكُرْ الْمَوْتَ وَالْبِلَى ، وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ ، تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، فَقَدْ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقَّ الْحَيَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ سے اس طرح حیا کرو جیسے حیا کرنے کا حق ہے“، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! الحمدللہ، ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں، فرمایا: ”یہ مطلب نہیں، بلکہ جو شخص اللہ سے اس طرح حیا کرتا ہے جیسے حیا کرنے کا حق ہے تو اسے چاہئے کہ اپنے سر اور اس میں آنے والے خیالات، اپنے پیٹ اور اس میں بھرنے والی چیزوں کا خیال رکھے، موت کو اور بوسیدگی کو یاد رکھے، جو شخص آخرت کا طلب گار ہوتا ہے وہ دنیا کی زیب و زینت چھوڑ دیتا ہے، اور جو شخص یہ کام کر لے، درحقیقت اس نے صحیح معنی میں اللہ سے حیا کرنے کا حق ادا کر دیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الصباح بن محمد.
حدیث نمبر: 3672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ ، كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ ، وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا لِمَنْ أَحَبَّ ، فَمَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ الدِّينَ ، فَقَدْ أَحَبَّهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يَسْلَمَ قَلْبُهُ وَلِسَانُهُ ، وَلَا يُؤْمِنُ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " ، قَالُوا وَمَا بَوَائِقُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " غَشْمُهُ وَظُلْمُهُ ، وَلَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ ، فَيُنْفِقَ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلَ مِنْهُ ، وَلَا يَتْرُكُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيث " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ نے تمہارے درمیان جس طرح تمہارے رزق تقسیم فرمائے ہیں، اسی طرح اخلاق بھی تقسیم فرمائے ہیں، اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دے دیتے ہیں جس سے محبت کرتے ہیں اور اسے بھی جس سے محبت نہیں کرتے، لیکن دین اسی کو دیتے ہیں جس سے محبت کرتے ہیں، اس لئے جس شخص کو اللہ نے دین عطا فرمایا ہو، وہ سمجھ لے کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل اور زبان دونوں مسلمان نہ ہو جائیں، اور کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کے پڑوسی اس کے ”بوائق“ سے محفوظ و مامون نہ ہوں“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بوائق سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ظلم و زیادتی، اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو حرام مال کمائے اور اس میں سے خرچ کرے پھر اس میں برکت بھی ہو جائے، یا وہ صدقہ خیرات کرے تو وہ قبول بھی ہو جائے، اور وہ اپنے پیچھے جو کچھ بھی چھوڑ کر جائے گا اس سے جہنم کی آگ میں مزید اضافہ ہو گا، اللہ تعالیٰ گناہ کو گناہ سے نہیں مٹاتا، وہ تو گناہ کو اچھائی اور نیکی سے مٹاتا ہے، گندگی سے گندگی نہیں دور ہوتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الصباح بن محمد.
حدیث نمبر: 3673
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْبَاقِي ، يَهْبِطُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، ثُمَّ تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ ، فَيَقُولُ : هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى سُؤْلَهُ ؟ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ ، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر فرماتے ہیں: ”ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کی درخواست پوری کی جائے؟“ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات.
حدیث نمبر: 3674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے قتل کے مقدمات کا فیصلہ ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6533، م: 1678.
حدیث نمبر: 3675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ ، جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُدُوشًا أَوْ كُدُوشًا فِي وَجْهِهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا غِنَاهُ ؟ قَالَ : " خَمْسُونَ دِرْهَمًا ، وَحِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ضرورت کے بقدر موجود ہوتے ہوئے بھی دست سوال دراز کرے، قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ نوچا گیا ہوا محسوس ہو گا“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ضرورت سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف حكيم بن جبير.
حدیث نمبر: 3676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّمَّاكِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَشْتَرُوا السَّمَكَ فِي الْمَاءِ ، فَإِنَّهُ غَرَرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو مچھلی ابھی پانی میں ہی ہو، اسے مت خریدو کیونکہ یہ دھوکے کا سودا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وقد روي مرفوعا وموقوفا، والموقوف أصح، يزيد ضعيف، والمسيب لم يسمع من ابن مسعود، ومحمد بن السماك مختلف فيه.
حدیث نمبر: 3677
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُنَادِيًا يُنَادِي : يَا آدَمُ ، إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَبْعَثَ بَعْثًا مِنْ ذُرِّيَّتِكَ إِلَى النَّارِ ، فَيَقُولُ آدَمُ : يَا رَبِّ ، وَمِنْ كَمْ ؟ قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : مَنْ هَذَا النَّاجِي مِنَّا بَعْدَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ ؟ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي صَدْرِ الْبَعِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک منادی کو ندا لگانے کے لئے بھیجیں گے کہ اے آدم! اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی اولاد میں سے جہنم کے لئے لوگوں کو بھیجیں، وہ پوچھیں گے: پروردگار! کتنے میں سے کتنے؟ ارشاد ہوگا: ہر سو میں سے ننانوے“، ایک آدمی نے یہ سن کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تو اس کے بعد ہم میں سے بچے گا کون؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا خبر کہ لوگوں میں تمہاری مقدار کیا ہوگی؟ تم تو اونٹ کے سینے میں اس کے بلند حصے کی طرح ہو گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف للين إبراهيم الهجري، وعمار مختلف فيه.
حدیث نمبر: 3678
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَجَرِيِّ . . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : " فَيَقُولُ آدَمُ : يَا رَبِّ ، كَمْ أَبْعَثُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، هو مكرر ما قبله.
حدیث نمبر: 3679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَتَّقِ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ النَّارَ ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں اپنے چہرے کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہئے خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف للين إبراهيم الهجري.
حدیث نمبر: 3680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ ، فَلْيَبْدَأْ بِهِ فَلْيُطْعِمْهُ ، أَوْ لِيُجْلِسْهُ مَعَهُ ، فَإِنَّهُ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ ”جب تم میں سے کسی کا خادم اور نوکر کھانا لے کر آئے تو اسے چاہئے کہ سب سے پہلے اسے کچھ کھلا دے یا اپنے ساتھ بٹھا لے کیونکہ اس نے اس کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف للين الهجري، وهو إبراهيم بن مسلم ، وعمار بن محمد مختلف فيه.
حدیث نمبر: 3681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " فَصَلَّى ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھائی اور اس میں صرف ایک مرتبہ رفع یدین کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات ، لكنه ليس هو بصحيح علي هذا اللفظ كما قال أبوداود.
حدیث نمبر: 3682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ الْمُسْلِمُونَ ، إِلَّا رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ ، فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ ، فَسَجَدَ عَلَيْهِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَرَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم کے آخر میں سجدہ تلاوت کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے قریش کے ایک آدمی کے جس نے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی کی طرف بڑھا کر اس پر سجدہ کر لیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعد میں میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1067 ، م: 576.
حدیث نمبر: 3683
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 كَانَ يُكْثِرُ إِذَا قَرَأَهَا وَرَكَعَ أَنْ يَقُولَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ " ، ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ نصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اسے نماز میں پڑھتے تو اس کے رکوع میں تین مرتبہ یوں کہتے: ”«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» ”پاک ہے تیری ذات، اے اللہ! اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، اے اللہ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله.
حدیث نمبر: 3684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ ، وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي ، حَتَّى أَنْهَاكَ " ، قال أَبو عبد الرحمن : قال أَبي : سِوَادِي : سِرِّي ، قَالَ : أَذِنَ لَهُ أَنْ يَسْمَعَ سِرَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما رکھا تھا: ”میری طرف سے تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ میرے گھر کا پردہ اٹھا کر اندر آ جاؤ اور میری راز کی باتوں کو سن لو، تاآنکہ میں خود تمہیں منع کر دوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2169، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم لم يسمع من عبدالله.
حدیث نمبر: 3685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَهَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ، فَقَالَ : " الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ " ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ ، قَالَ : فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ ، وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ ، وَقَالَ : " إِنَّهَا رِكْسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ ”میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ“، میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لا سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا: ”یہ ناپاک ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 156، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله.
حدیث نمبر: 3686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْدِبُ لَنَا السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشا کے بعد قصہ گوئی کو ہمارے لئے معیوب قرار دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، والد وكيع مختلف فيه ، وقد سمع من عطاء بعد الاختلاط، لكنه متابع.
حدیث نمبر: 3687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطِّيَرَةُ شِرْكٌ " ، وَمَا مِنَّا إِلَّا ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بد شگونی شرک ہے، ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے، لیکن یہ کہ اللہ اسے توکل کے ذریعے ختم کر دے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ ، قَالَ : فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنَ الْيَهُودِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَسْأَلُوهُ ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، مَا الرُّوحُ ؟ فَقَامَ ، فَتَوَكَّأَ عَلَى الْعَسِيبِ ، قَالَ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 " ، قَالَ : فَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَدْ قُلْنَا لَكُمْ : لَا تَسْأَلُوهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی کھیت میں چل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لاٹھی ٹیکتے جا رہے تھے، چلتے چلتے یہودیوں کی ایک جماعت پر سے گزر ہوا، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے متعلق سوال کرو، لیکن کچھ لوگوں نے انہیں سوال کرنے سے منع کیا، الغرض! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق دریافت کیا اور کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! روح کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اپنی لاٹھی سے ٹیک لگا لی، میں سمجھ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے، چنانچہ وہ کیفیت ختم ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [الإسراء : 85]» ”یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح تو میرے رب کا حکم ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے“، یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ہم نے کہا تھا ناں کہ ان سے مت پوچھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7456، م: 2794.
حدیث نمبر: 3689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ ، وَلَوْ اتَّخَذْتُ خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ہر دوست کی دوستی سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 3690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُؤْتَى بِالسَّبْيِ ، فَيُعْطِي أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا ، كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہی خاندان کے کئی غلام آ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ سب اکٹھے ہی کسی ایک گھرانے والوں کو دے دیتے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں تفریق کرانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف، وعبدالرحمن بن عبدالله لم يسمع من أبيه إلا الشيء اليسير.
حدیث نمبر: 3691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَسَأَلَهُمَا عَنِ ابْنَةٍ ، وَابْنَةِ ابْنٍ ، وأخت لأب ، فقالا : للبنت النصف ، وللأخت النصف ، وأت ابن مسعود ، فإنه سيتابعنا ، قَالَ : فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَسَأَلَهُ ، وَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَا ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ! سَأَقْضِي بِمَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلِابْنَةِ النِّصْفُ ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ ، تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا ابوموسی اور سیدنا سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی شخص کے ورثا میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن ہو تو تقسیم وراثت کس طرح ہو گی؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ کل مال کا نصف بیٹی کو مل جائے گا اور دوسرا نصف بہن کو اور تم سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے بھی یہ مسئلہ پوچھ لو، وہ ہماری موافقت اور تائید کریں گے، چنانچہ وہ شخص سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا اور ان سے وہ مسئلہ پوچھا اور مذکورہ حضرات کا جواب بھی نقل کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں نے بھی یہی فتوی دیا تو میں گمراہ ہو جاؤں گا اور ہدایت یافتگان میں سے نہ رہوں گا، میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، بیٹی کو کل مال کا نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو ثلث مکمل ہو جائیں اور جو باقی بچے گا وہ بہن کو مل جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6742.
حدیث نمبر: 3692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى ، وَالتُّقَى ، وَالْعِفَّةَ ، وَالْغِنَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالْغِنَى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غناء (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2721.
حدیث نمبر: 3693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ سُمَيَّةَ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ قَطُّ ، إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب بھی دو چیزیں پیش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے اس چیز کو اختیار فرمایا جو زیادہ رشد و ہدایت والی ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، سالم لم يسمع من عبدالله.
حدیث نمبر: 3694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَكُنْتُ مِنْ آخِرِ مَنْ أَتَاهُ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ مُصِيبُونَ ، وَمَنْصُورُونَ ، وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جمع فرمایا، اس وقت ہم لوگ چالیس افراد تھے، میں ان میں سب سے آخر میں آیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ فتح و نصرت حاصل کرنے والے ہو، تم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے، اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرے، اچھی باتوں کا حکم کرے اور بری باتوں سے روکے، اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لینا چاہئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، عند من يصحح سماع عبدالرحمن بن عبدالله بن مسعود من أبيه مطلقاً ، وضعيف عند من يقول: إنه لم يسمع منه إلا اليسير.
حدیث نمبر: 3695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ " ، قَالَ : قُلْنَا : وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے قریب جو زمانہ ہو گا اس میں جہالت کا نزول ہو گا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ”ہرج“ کی کثرت ہوگی“، ہم نے ہرج کا معنی پوچھا تو فرمایا: ”قتل۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7062، م: 2672.
حدیث نمبر: 3696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَزَلَ بِهِ حَاجَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ ، كَانَ قَمِنًا مِنْ أَنْ لَا تَسْهُلَ حَاجَتُهُ ، وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ ، آتَاهُ بِرِزْقٍ عَاجِلٍ ، أَوْ بِمَوْتٍ آجِلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کو کوئی ضرورت پیش آئے اور وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کر دے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا کام آسان نہ ہو، اور جو شخص اسے اللہ کے سامنے بیان کرے تو اللہ اسے فوری رزق یا تاخیر کی موت عطا فرما دے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، سيار هذا هو أبو حمزة الكوفي وليس أبا الحكم.
حدیث نمبر: 3697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَةٌ فِي الْكُتَّابِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کاتبان وحی میں سے تھے جن کی مینڈھیاں تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5000، م: 2462، وهذا إسناد ضعيف، خمير مجهول.
حدیث نمبر: 3698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لقد شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ ابْنِ الْأَسْوَدِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ أَنَا صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى : اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ سورة المائدة آية 24 ، وَلَكِنْ نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ ، وَعَنْ يَسَارِكَ وَمِنْ بَيْنِ يَدَيْكَ ، وَمِنْ خَلْفِكَ ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْرِقُ ، وَسَرَّهُ ذَلِكَ ، قَالَ أَسْوَدُ : فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْرِقُ لِذَلِكَ ، وَسَرَّهُ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ ، وَسَرَّهُ ذَلكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا - اور مجھے ان کا ہم نشین ہونا دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب تھا - وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرکین کو بد دعائیں دے کر کہنے لگے: یا رسول اللہ! واللہ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے لڑیں گے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ انور خوشی سے تمتما رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3952.
حدیث نمبر: 3699
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3700
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ ابْنَةُ أَبِي سُفْيَانَ : اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ ، وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ ، لَنْ يُعَجَّلَ شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ ، أَوْ يُؤَخَّرَ شَيْءٌ عَنْ حِلِّهِ ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ، كَانَ أَخْيَرَ ، أَوْ أَفْضَلَ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَذُكِرَ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ قَالَ : وَذُكِرَ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ قَالَ مِسْعَرٌ : أُرَاهُ قَالَ : وَالْخَنَازِيرُ إِنَّهُ مِمَّا مُسِخَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَمْسَخْ شَيْئًا فَيَدَعَ لَهُ نَسْلًا أَوْ عَاقِبَةً ، وَقَدْ كَانَتْ الْقِرَدَةُ ، أَوْ الْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا یہ دعا کر رہی تھیں کہ اے اللہ! مجھے اپنے شوہر نامدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اپنے والد ابوسفیان اور اپنے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ دعا سن لی اور فرمایا کہ ”تم نے اللہ سے طے شدہ مدت، گنتی کے چند دن اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے وقت سے پہلے تمہیں نہیں مل سکتی اور اپنے وقت مقررہ سے مؤخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے محفوظ فرما دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آرہے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2663 .
حدیث نمبر: 3701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : صَاحِبٌ لَنَا يَشْتَكِي ، أَنَكْوِيهِ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالُوا : أَنَكْوِيهِ ؟ فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالَ : " اكْوُوهُ وَارْضِفُوهُ رَضْفًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی کو کچھ بیماری ہے، کیا ہم داغ کر اس کا علاج کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب دینے سے سکوت فرمایا، انہوں نے پھر پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا اور کچھ دیر بعد فرمایا: ”اسے داغ دو اور پتھر گرم کر کے لگاؤ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3701M
PAGE 281
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3701M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: م-هذا الحديث انفردت نسخة ظ 14 بايراده هنا ، وقد تقدم برقم : 3701
حدیث نمبر: 3702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَا نَسِيتُ فِيمَا نَسِيتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، حَتَّى يُرَى أَوْ نَرَى بَيَاضَ خَدَّيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جو باتیں بھول گیا، سو بھول گیا، لیکن یہ بات نہیں بھولا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اختتام نماز پر دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 3703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی شخص کے لئے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4804.
حدیث نمبر: 3704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَقَفِيِّ أَوْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ شَكَّ الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ ، أَلَا وَإِنِّي آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ ، أَوْ الذُّبَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ نے جس چیز کو بھی حرام قرار دیا ہے، وہ جانتا ہے کہ اسے تم میں سے جھانک کر دیکھنے والے دیکھیں گے، آگاہ رہو کہ میں تمہیں جہنم کی آگ میں گرنے سے بچانے کے لئے تمہاری کمر سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں ایسے گر رہے ہو جیسے پروانے گرتے ہیں یا مکھی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، سماع وكيع من المسعودي قبل الاختلاط.
حدیث نمبر: 3705
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ . . . فَذَكَرَهُ ، وَكَذَا قَالَ يَزِيدُ وَأَبَو كَامِلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، وَقَالَ : الْفَرَاشِ ، أَوْ الذُّبَابِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، سماع أبى قطن وروح من المسعودي قبل الاختلاط.