حدیث نمبر: 3628
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . . . مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6308، م: 2744
حدیث نمبر: 3629
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ والأعمش ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَا : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ فِي أَصْلِ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ وَقَعَ عَلَى أَنْفِهِ " ، فَقَالَ بِهِ هَكَذَا ، فَطَارَ . قَالَ : قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ ، مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ ثُمَّ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدِيثَيْنِ : أَحَدَهُمَا عَنْ نَفْسِهِ ، وَالْآخَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْلَكَةٍ ، مَعَهُ رَاحِلَتُهُ ، عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ ، فَأَضَلَّهَا ، فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا ، حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ ، قَالَ : أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي أَضْلَلْتُهَا فِيهِ ، فَأَمُوتُ فِيهِ ، قَالَ : فَرَجَعَ ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ ، فَاسْتَيْقَظَ ، فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے کہ گویا وہ کسی پہاڑ کی کھوہ میں ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ کہیں پہاڑ اس پر گر نہ پڑے، اور فاجر آدمی اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی بیٹھ گئی ہو، اس نے اسے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو سفر کے دوران کسی سنسان اور مہلک علاقے سے گزرے، اس کے ساتھ سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا پینا ہو، زاد راہ ہو اور ضرورت کی چیزیں ہوں اور وہ اچانک گم ہو جائیں، وہ ان کی تلاش میں نکلے اور جب اسے محسوس ہو کہ اب اس کی موت کا وقت قریب ہے لیکن سوای نہ ملے تو وہ اپنے دل میں کہے کہ میں اسی جگہ واپس چلتا ہوں جہاں سے اونٹنی گم ہوئی تھی، وہیں جا کر مروں گا، چنانچہ وہ اپنی جگہ آ جائے، وہاں پہنچ کر اسے نیند آ جائے، جب وہ بیدار ہو تو اس کی سواری اس کے سرہانے کھڑی ہوئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا، زاد راہ اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی موجود ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، وهما مكرر ما قبلهما
حدیث نمبر: 3630
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا ، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا ، لِأَنَّهُ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دنیا میں جو بھی ناحق قتل ہوتا ہے، اس کا گناہ حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) کو بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل کا رواج اسی نے ڈالا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3335، م: 1677
حدیث نمبر: 3631
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وَيَحْيَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ الْمَعْنَى ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : لَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا ، لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ " أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ لَعَلَى يَسَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص شیطان کو اپنی ذات پر ایک حصہ کے برابر بھی قدرت نہ دے اور یہ نہ سمجھے کہ اس کے ذمے دائیں طرف سے ہی واپس جانا ضروری ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 852، م: 707
حدیث نمبر: 3632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأَسْرَى ؟ " قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ ، اسْتَبْقِهِمْ ، وَاسْتَأْنِ بِهِمْ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْرَجُوكَ وَكَذَّبُوكَ ، قَرِّبْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ ، قَالَ : وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْظُرْ وَادِيًا كَثِيرَ الْحَطَبِ ، فَأَدْخِلْهُمْ فِيهِ ، ثُمَّ أَضْرِمْ عَلَيْهِمْ نَارًا ، قَالَ : فَقَالَ الْعَبَّاسُ : قَطَعْتَ رَحِمَكَ ، قَالَ : فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا ، قَالَ : فَقَالَ نَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ ، وَقَالَ نَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ ، وَقَالَ نَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، قَالَ : فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيُلِينُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ ، حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنَ اللَّبَنِ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيَشُدُّ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ ، حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَةِ ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ : فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ، وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة إبراهيم آية 36 ، وَمَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى ، قَالَ : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118 ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ ، قَالَ : رَبِّ لا تَذَرْ عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا سورة نوح آية 26 ، وَإِنَّ مِثْلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ مُوسَى ، قَالَ : رَبِّ اشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوْا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ، أَنْتُمْ عَالَةٌ ، فَلَا يَنْفَلِتَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بِفِدَاءٍ ، أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ ، فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ ، قَالَ : فَسَكَتَ ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ ، أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى قَالَ : " إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ " ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 67 - 68 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر ہو چکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ ”ان قیدیوں کے بارے تمہاری کیا رائے ہے؟“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ آپ ہی کی قوم اور گھرانے کے لوگ ہیں، انہیں زندہ رہنے دیجئے اور ان سے مانوس ہونے کی کوشش کیجئے، شاید اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو جائے، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان لوگوں نے آپ کو نکالا اور آپ کی تکذیب کی، انہیں قریب بلا کر ان کی گردنیں اتار دیجئے، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! کوئی ایسی وادی تلاش کیجئے جہاں لکڑیاں زیادہ ہوں، انہیں اس وادی میں داخل کر کے ان لکڑیوں کو آگ لگا دیں، اس پر عباس کہنے لگے کہ تم نے رشتہ داری کو ختم کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی جواب دیئے بغیر اندر چلے گئے۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کریں گے، کچھ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور کچھ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دیئے جانے کی رائے ظاہر کی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ اپنے معاملے میں بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کر دیتا ہے حتی کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں، اور بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا سخت کر دیتے ہیں کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں، اور ابوبکر! آپ کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا: جو میری پیروی کرے گا وہ مجھ سے ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا تو آپ بڑے بخشنے والے مہربان ہیں، اور ابوبکر! آپ کی مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا: اگر آپ انہیں سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر آپ انہیں معاف کر دیں تو آپ بڑے غالب، حکمت والے ہیں، اور عمر! تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا: پروردگار! زمین پر کافروں کا کوئی گھر بھی باقی نہ چھوڑ، اور عمر! تمہاری مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سی ہے جنہوں نے دعا کی تھی: پروردگار! ان کے دلوں کو سخت کر دے تاکہ یہ ایمان ہی نہ لا سکیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں۔ تم لوگ ضرورت مند ہو اور ان میں سے کوئی شخص فدیہ یا قتل کے بغیر واپس نہیں جائے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے منہ سے نکل گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سوائے سہیل بن بیضاء کے، کیونکہ میں نے انہیں اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، مجھے اس دن سے زیادہ کبھی اس بات کا خوف محسوس نہیں ہوا کہ کہیں آسمان سے مجھ پر کوئی پتھر نہ گر پڑے، یہاں تک کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرما دیا: ”سوائے سہیل بن بیضاء کے“، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللّٰهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ o لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [الأنفال : 67-68]» ”نبی کے لئے یہ بات مناسب نہ تھی کہ اپنے پاس قیدی رکھیں، یہاں تک کہ زمین میں خون ریزی نہ کر لیں، تم دنیا کا ساز و سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ بڑا غالب، حکمت والا ہے، اگر اللہ کے یہاں پہلے سے فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو تمہارے فدیہ لینے کے معاملے میں تم پر بڑا سخت عذاب آ جاتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله
حدیث نمبر: 3633
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ . . . فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ " ، وَقَالَ فِي قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ : قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِتْرَتُكَ وَأَصْلُكَ وَقَوْمُكَ ، تَجَاوَزْ عَنْهُمْ ، يَسْتَنْقِذْهُمْ اللَّهُ بِكَ مِنَ النَّارِ ، قَالَ : وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ ، فَأَضْرِمْهُ نَارًا ، ثُمَّ أَلْقِهِمْ فِيهِ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : قَطَعَ اللَّهُ رَحِمَكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 3634
حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . . . فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْدَاءُ اللَّهِ ، كَذَّبُوكَ ، وَآذَوْكَ ، وَأَخْرَجُوكَ ، وَقَاتَلُوكَ ، وَأَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ ، فَاجْمَعْ لَهُمْ حَطَبًا كَثِيرًا ، ثُمَّ أَضْرِمْهُ عَلَيْهِمْ ، وَقَالَ : سَهْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 3635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ الدِّيَةَ فِي الْخَطَإِ أَخْمَاسًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت پانچ حصوں پر تقسیم کر کے مقرر فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، و خشف مجهول
حدیث نمبر: 3636
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ ، وَلَا بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَلَا التَّمْرَتَانِ ، وَلَا اللُّقْمَةُ وَلَا اللُّقْمَتَانِ ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گلی گلی پھرنے والا، ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لے کر لوٹنے والا مسکین نہیں ہوتا، اصل مسکین وہ عفیف آدمی ہوتا ہے جو لوگوں سے نہ کچھ مانگتا ہے اور نہ ہی لوگوں کو اپنے ضرورت مند ہونے کا احساس ہونے دیتا ہے کہ کوئی اسے خیرات دے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف للين إبراهيم الهجري
حدیث نمبر: 3637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا ، إِلَّا صَلَاتَيْنِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ ، وَصَلَاةَ الْفَجْرِ يَوْمَئِذٍ ، قَبْلَ مِيقَاتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بےوقت نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کو اور اسی دن کی فجر کو اپنے وقت سے آگے پیچھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289
حدیث نمبر: 3638
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِدِّيقًا ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ ، وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَذَّابًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سچائی کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے اور انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے ”صدیق“ لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی راہ دکھاتا ہے اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اسی میں غور و فکر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے ”کذاب“ لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6094، م: 2607
حدیث نمبر: 3639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَلَأُنَازَعَنَّ أَقْوَامًا ، ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ أَصْحَابِي ، فَيَقُولُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! میرے ساتھی؟ ارشاد ہوگا کہ ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6576 ، م: 2297
حدیث نمبر: 3640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ ، وَتَرَوْنَ أَثَرَةً " ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا يَصْنَعُ مَنْ أَدْرَكَ ذَاكَ مِنَّا ؟ قَالَ : " أَدُّوا الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ ، وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب تم میرے بعد ترجیحات اور ناپسندیدہ امور دیکھو گے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے؟ فرمایا: ”اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7052 ، م : 1843
حدیث نمبر: 3641
(حديث مرفوع) سَمِعْت يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا " ، قَالَ : قُلْنَا : مَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب تم میرے بعد ترجیحات اور ناپسندیدہ امور دیکھو گے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے؟ فرمایا: ”اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7052، م: 1843
حدیث نمبر: 3642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِابْنِ النَّوَّاحَةِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ " ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَسْتَ بِرَسُولٍ ، يَا خَرَشَةُ ، قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ ، قَالَ : فَقَامَ إِلَيْهِ ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ سے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا“، آج تو قاصد نہیں ہے، خرشہ! اٹھ اور اس کی گردن اڑا دے، چنانچہ خرشہ نے اٹھ کر اس کی گردن اڑا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلَّا : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، جَاءَتْ السَّاعَةُ ! قَالَ : وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ ، فَقَالَ : إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ ، حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ ، قَالَ : عَدُوًّا يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ ، وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : جَاءَهُمْ الصَّرِيخُ : أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَ فِي ذَرَارِيِّهِمْ ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ ، وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ ، هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهَرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ " ، أَوْ قَالَ " هُمْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهَرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
یسیر بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی، ایک آدمی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جس کی پکار صرف یہی تھی کہ اے عبداللہ بن مسعود! قیامت قریب آ گئی؟ اس وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہ سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میراث کی تقسیم رک نہ جائے اور مال غنیمت پر کوئی خوشی نہ ہو، ایک دشمن ہو گا جو اہل اسلام کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کرے گا اور اہل اسلام ان کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کریں گے . . . . . ، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا کہ ایک چیخنے والا آئے گا اور کہے گا کہ ان کے پیچھے دجال ان کی اولاد میں گھس گیا، چنانچہ وہ لوگ یہ سنتے ہی اپنے پاس موجود تمام چیزوں کو پھینک دیں گے اور دجال کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس سواروں کو ہر اول دستہ کے طور پر بھیج دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”میں ان کے اور ان کے باپوں کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتا ہوں، وہ اس وقت زمین کے بہترین شہسوار ہوں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2899
حدیث نمبر: 3644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : كُنْتُ لَا أُحْجَبُ عَنِ النَّجْوَى ، وَلَا عَنْ كَذَا ، وَلَا عَنْ كَذَا ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَنَسِيَ وَاحِدَةً ، وَنَسِيتُ أَنَا وَاحِدَةً ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ وَعِنْدَهُ مَالِكُ بْنُ مُرَارَةَ الرَّهَاوِيُّ ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ آخِرِ حَدِيثِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ قُسِمَ لِي مِنَ الْجِمَالِ مَا تَرَى ، فَمَا أُحِبُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ فَضَلَنِي بِشِرَاكَيْنِ فَمَا فَوْقَهَما ، أَفَلَيْسَ ذَلِكَ هُوَ الْبَغْيُ ؟ قَالَ : " لَا ، لَيْسَ ذَلِكَ بِالْبَغْيِ ، وَلَكِنَّ الْبَغْيَ مَنْ بَطِرَ قَالَ : أَوْ قَالَ : سَفِهَ الْحَقَّ ، وَغَمَطَ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سرگوشی سے کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، راوی کہتے ہیں کہ ایک چیز میرے استاذ بھول گئے اور ایک میں بھول گیا، میں ایک مرتبہ استاذ صاحب کے پاس آیا تو وہاں مالک بن مرارہ رہاوی بھی موجود تھے، میں نے انہیں حدیث کے آخر میں یہ بیان کرتے ہوئے پایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ملاحظہ فرما ہی رہے ہیں کہ میرے حصے میں کتنے اونٹ آئے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اس تعداد میں مجھ سے دو چار تسمے بھی آگے بڑھے، کیا یہ تکبر نہیں ہے؟ فرمایا: ”یہ تکبر نہیں ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات قبول کرنے سے انکار کر دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح إن ثبت سماع حميد بن عبدالله
حدیث نمبر: 3645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْيَاهُ ، وَأَهْدَاهُ ، وَأَتْقَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ گمان کرو جو درستگی، ہدایت اور تقوی پر مبنی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عون لم يسمع من عم أبيه عبدالله
حدیث نمبر: 3646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا ، حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرٍ سُوءٍ ، قُلْنَا : وَمَا هَمَمْتَ بِهِ ؟ قَالَ : هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا کہ میں اپنے دل میں برا ارادہ کرنے لگا، ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: آپ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ فرمایا کہ میں بیٹھ جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا چھوڑ دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1135، م : 773
حدیث نمبر: 3647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ : أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے“، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا آپ نے یہ بات سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 48، م: 64
حدیث نمبر: 3648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ ، وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ " ، قَالُوا : وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَإِيَّايَ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ ، فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِحَقٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک ہم نشین اور ایک ہم نشین ملائکہ میں سے مقرر کیا گیا ہے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اس لئے اب وہ مجھے صرف حق بات کا ہی حکم دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2814
حدیث نمبر: 3649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ ، إِذْ سَمِعْنَا حِسَّ الْحَيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا " ، قَالَ : فَقُمْنَا ، قَالَ : فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ ، فَأُتِيَ بِسَعَفَةٍ فَأُضْرِمَ فِيهَا نَارًا ، وَأَخَذْنَا عُودًا ، فَقَلَعْنَا عَنْهَا بَعْضَ الْجُحْرِ ، فَلَمْ نَجِدْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهَا ، وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ ، كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ شب عرفہ میں - جو یوم عرفہ سے پہلے تھی - مسجد خیف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمیں سانپ کی آواز محسوس ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“، ہم کھڑے ہوئے تو وہ ایک بل کے سوراخ میں گھس گیا، ایک چنگاری لا کر اس بل کو آگ لگا دی گئی، پھر ہم نے ایک لکڑی لے کر اس سے اس بل کو کریدنا شروع کیا تو وہ سانپ ہمیں نہ ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو، اللہ نے اسے تمہارے شر سے بچا لیا جیسے تمہیں اس کے شر سے بچا لیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1830 ، م : 2234
حدیث نمبر: 3650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا " نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَسْتَخْصِي ؟ ! فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5071، م : 1404
حدیث نمبر: 3651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً ، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا ، وَيُعَلِّمُهَا النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ ”سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطا فرمایا ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو، اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے دانائی عطا فرمائی ہو اور وہ اس کے ذریعے لوگوں کے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1409، م: 816
حدیث نمبر: 3652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي يَعْلَى ، عَنْ رَبِيْعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا ، وَخَطَّ خَطًّا وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ ، وَخُطُوطًا إِلَى جَنْبِ الْخَطِّ الَّذِي وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ ، وَخَطٌّ خَارِجٌ مِنَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " هَذَا الْإِنْسَانُ ، الْخَطُّ الْأَوْسَطُ ، وَهَذِهِ الْخُطُوطُ الَّتِي إِلَى جَنْبِهِ الْأَعْرَاضُ تَنْهَشُهُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ ، إِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا ، أَصَابَهُ هَذَا ، وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ الْأَجَلُ الْمُحِيطُ بِهِ ، وَالْخَطُّ الْخَارِجُ الْأَمَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوکور خط کھینچا، اس کے درمیان ایک اور لکیر کھینچی اور اس درمیان والی لکیر کے دائیں بائیں کچھ اور لکیریں کھینچیں اور ایک لکیر اس چوکور خط کے باہر کھینچی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، فرمایا: ”اس درمیان والی لکیر سے مراد انسان ہے، اس کے دائیں بائیں جو لکیریں ہیں، وہ بیماریاں ہیں جو انسان کو ڈستی رہتی ہیں، اگر یہ چوک جائے تو وہ نشانے پر لگ جاتی ہے اور چوکور خط سے مراد انسان کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور بیرونی لکیر سے مراد امید ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6417
حدیث نمبر: 3653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114 ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلِي هَذِهِ ؟ فَقَالَ : " لِمَنْ عَمِلَ كَذَا مِنْ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے کسی اجنبی عورت کو بوسہ دے دیا، پھر نادم ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کفارہ دریافت کرنے کے لئے آیا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: « ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ [هود : 114]» ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں“، اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ حکم میرے ساتھ خاص ہے؟ فرمایا: ”نہیں، بلکہ میری امت کے ہر اس شخص کے لئے یہی حکم ہے جس سے ایسا عمل سرزد ہو جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 526، م: 2763
حدیث نمبر: 3654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ عَنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ قَالَ : يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ ، وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ ، لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَضَمَّ يَدَهُ وَرَفَعَهَا ، وَلَكِنْ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا " ، وَفَرَّقَ يَحْيَى بَيْنَ السَّبَّابَتَيْنِ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَحَدٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے کیونکہ وہ اس لئے جلدی اذان دے دیتے ہیں کہ قیام اللیل کرنے والے واپس آ جائیں اور سونے والے بیدار ہو جائیں (اور سحری کھا لیں) صبح صادق اس طرح نہیں ہوتی، (راوی نے اپنا ہاتھ ملا کر بلند کیا)، بلکہ اس طرح ہوتی ہے“، راوی نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے دکھایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 621، م: 1093
حدیث نمبر: 3655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ " ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ يَحْيَى : فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو، بہت زیادہ بحث مباحثہ کرنے والے ہلاک ہو گئے“، یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2670
حدیث نمبر: 3656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ ، قُلْتُ : حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ : حَتَّى يَقُومَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا کھڑے ہونے تک؟ فرمایا: ہاں!
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 3657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ لَيْلًا ، فَنَزَلْنَا دَهَاسًا مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : " مَنْ يَكْلَؤُنَا ؟ " ، فَقَالَ بِلَالٌ : أَنَا ، قَالَ : " إِذًا تَنَامَ " ، قَالَ : لَا ، فَنَامَ حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ ، فَاسْتَيْقَظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، فِيهِمْ عُمَرُ ، فَقَالَ : اهْضِبُوا ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " افْعَلُوا مَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ " ، فَلَمَّا فَعَلُوا ، قَالَ : " هَكَذَا ، فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ مِنْكُمْ أَوْ نَسِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے رات کو واپس آ رہے تھے، ہم نے ایک نرم زمین پر پڑاؤ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری خبر گیری کون کرے گا؟ (فجر کے لئے کون جگائے گا؟)“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم بھی سو گئے تو؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں سوؤں گا، اتفاق سے ان کی بھی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور فلاں فلاں صاحب بیدار ہو گئے، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے سب کو اٹھایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیدار ہو گئے اور فرمایا: ”اسی طرح کرو جیسے کرتے تھے“ (نماز حسب معمول پڑھ لو)، جب لوگ ایسا کر چکے تو فرمایا کہ ”اگر تم میں سے کوئی شخص سو جائے یا بھول جائے تو ایسے ہی کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3658
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے رخساروں کو پیٹے، گریبانوں کو پھاڑے اور جاہلیت کی سی پکار لگائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1294،م: 103
حدیث نمبر: 3659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرَ خَمْسٍ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز کی کنجیاں دے دی گئی ہیں سوائے پانچ چیزوں کے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿إِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ [لقمان : 34]» ”قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟ بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد يحتمل التحسين
حدیث نمبر: 3660
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ ، وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ أَوْ خَدِّهِ ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ ہر مرتبہ جھکتے اٹھتے، کھڑے اور بیٹھے ہوتے تکبیر کہتے تھے اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی اور میں نے سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زهير سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد اختلاطه
حدیث نمبر: 3661
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعِينَ ، فَقَالَ : " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَمَا أَنْتُمْ فِي الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ ، أَوْ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَحْمَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں چالیس کے قریب افراد بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں! پھر پوچھا: ”کیا ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو؟“ ہم نے پھر اثبات میں جواب دیا، فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہو گے، کیونکہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو مسلمان ہو اور شرک کے ساتھ تمہاری نسبت ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بال ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6528، م: 221
حدیث نمبر: 3662
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي ، فَقَالَ : " سَلْ تُعْطَهْ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ " ، فَابْتَدَرَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ عُمَرُ : مَا بَادَرَنِي أَبُو بَكْرٍ إِلَى شَيْءٍ ، إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَسَأَلَاهُ عَنْ قَوْلِهِ ، فَقَالَ : مِنْ دُعَائِي الَّذِي لَا أَكَادُ أَدَعُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ ، وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ ، جَنَّةِ الْخُلْدِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دور ہی سے فرمایا: ”اے ابن ام عبد! مانگو تمہیں دیا جائے گا“، یہ خوشخبری مجھ تک پہنچانے میں حضرات شیخین کے درمیان مسابقت ہوئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے جس معاملے میں بھی مسابقت کی وہ اس میں سبقت لے گئے، بہرحال! ان دونوں حضرات نے ان سے ان کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں اس دعا کو کبھی ترک نہیں کرتا: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں آپ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی فنا نہ ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 3663
(حديث مرفوع) سَمِعْت يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا " ، قَالَ : قُلْنَا : وَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب تم میرے بعد ترجیحات اور ناپسندیدہ امور دیکھو گے“، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے؟ فرمایا: ”اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7052، م : 1843
حدیث نمبر: 3664
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَجِئْنَا نَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَلَمَّا رَكَعَ النَّاسُ ، رَكَعَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَكَعْنَا مَعَهُ ، وَنَحْنُ نَمْشِي ، فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ رَاكِعٌ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، سَأَلَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ : لِمَ قُلْتَ حِينَ سَلَّمَ عَلَيْكَ الرَّجُلُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ، إِذَا كَانَتْ التَّحِيَّةُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد میں نماز کھڑی ہو گئی، ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفوں میں شامل ہونے کے لئے چلے جا رہے تھے، جب لوگ رکوع میں گئے تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی رکوع میں چلے گئے، انہیں دیکھ کر ہم نے بھی رکوع کر لیا، اس وقت بھی ہم لوگ چل رہے تھے، ایک آدمی اسی اثنا میں سامنے سے گزرا اور کہنے لگا: السلام علیک یا ابا عبدالرحمن! انہوں نے رکوع کی حالت میں فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد کسی نے ان سے پوچھا کہ جب فلاں شخص نے آپ کو سلام کیا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”یہ بات علامات قیامت میں سے ہے کہ سلام صرف جان پہچان کے لوگوں کو کیا جانے لگے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 3665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، إِلَيْهَا يُنْتَهَ مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنَ الْأَرْضِ ، فَيُقْبَضُ مِنْهَا ، وَإِلَيْهَا يُنْتَهَ مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا ، فَيُقْبَضُ مِنْهَا ، قَالَ : إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى سورة النجم آية 16 ، قَالَ : فِرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا : أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَغُفِرَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہی بھی لے جایا گیا جو کہ چھٹے آسمان میں ہے، اور زمین سے اوپر چڑھنے والی چیزوں کی آخری حد یہی ہے، یہاں سے ان چیزوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور آسمان سے اترنے والی چیزیں بھی یہیں آ کر رکتی ہیں اور یہاں سے انہیں اٹھا لیا جاتا ہے، اور فرمایا کہ ”جب سدرہ المنتہی کو ڈھانپ رہی تھی وہ چیز جو ڈھانپ رہی تھی“ اس سے مراد سونے کے پروانے ہیں، بہرحال! اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں عطا ہوئیں: پانچ نمازیں، سورہ بقرہ کی اختتامی آیات اور یہ خوشخبری کہ ان کی امت کے ہر اس شخص کی بخشش کر دی جائے گی جو اللہ کے ساتھ کسی اور چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 173.
حدیث نمبر: 3666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ سَيَّاحِينَ ، يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمین میں اللہ کے کچھ فرشتے گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر:
عربی حدیث ابھی نہیں ملی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 0