حدیث نمبر: 4425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً ، وَأَنَا أَقُولُ أُخْرَى : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ ”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا“، اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 92.
حدیث نمبر: 4426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ جُزْءًا ، يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ الِانْصِرَافُ عَنْ يَمِينِهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی شخص شیطان کو اپنی ذات پر ایک حصہ کے برابر بھی قدرت نہ دے، اور یہ نہ سمجھے کہ اس کے ذمے دائیں طرف سے ہی واپس جانا ضروری ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 852.
حدیث نمبر: 4427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، أَوْ إِبْرَاهِيمَ شُعْبَةُ شَكَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ " ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ .
مولانا ظفر اقبال
(عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے میدان منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، اے کاش! مجھے چار رکعتوں کی بجائے دو مقبول رکعتوں کا ہی حصہ مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1084، م: 695.
حدیث نمبر: 4428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " آكِلُ الرِّبَا ، وَمُوكِلُهُ ، وَشَاهِدَاهُ ، وَكَاتِبُهُ إِذَا عَلِمُوا ، وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُوتَشِمَةُ ، لِلْحُسْنِ ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا، اسے تحریر کرنے والا اور اس کے گواہ جب کہ وہ جانتے بھی ہوں، اور حسن کے لئے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں، زکوٰۃ چھپانے والے اور ہجرت کے بعد مرتد ہو جانے والے دیہاتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قیامت کے دن تک کے لئے ملعون قرار دئیے گئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، الحارث الأعور ضعيف، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 4429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالتَّارِكُ دِينَهُ ، الْمُفَارِقُ أَوْ الْفَارِقُ الْجَمَاعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے، سوائے تین میں سے کسی ایک صورت کے، یا تو شادی شدہ ہو کر بدکاری کرے، یا قصاصا قتل کرنا پڑے، یا وہ شخص جو اپنے دین کو ہی ترک کر دے اور جماعت سے جدا ہو جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6778، م: 1676.
حدیث نمبر: 4430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " . قَالَ سُلَيْمَانُ : وَأَحْسَبُهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے رخساروں کو پیٹے، گریبانوں کو پھاڑے اور جاہلیت کی سی پکار لگائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1294.
حدیث نمبر: 4431
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَقِيلَ لَهُ : أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " فَقَالُوا : إِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا ، " فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ " . قَالَ شُعْبَةُ : وَسَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، وَحَمَّادًا يُحَدِّثَانِ : أَنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ لَا يَدْرِي أَثَلَاثًا صَلَّى ، أَمْ خَمْسًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور اس کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، کیا ہوا؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1226، م: 572.
حدیث نمبر: 4432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَدّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَسْلِيمَتِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک رخسار کی جو سفیدی دکھائی دیتی تھی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی میری نگاہوں کے سامنے موجود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا الإسناد ضعيف، مغيرة الضبي ضعيف فى حديثه عن إبراهيم النخعي إذا عنعن ولم يصرح بالسماع، وهذا إسناد ظاهرة الانقطاع، إبراهيم النخعي لم يلق ابن مسعود، لكن أخرج المزي فى تهذيب الكمال بإسناده إلى إبراهيم، قال: إذا حدثتكم عن رجل، عن عبد الله فهو الذى سمعت، وإذا قلت: قال عبد الله، فهو عن غير واحد، عن عبد الله.
حدیث نمبر: 4433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُفَضِّلُ صَلَاةَ الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ ضِعْفًا ، كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے، اور ہر درجہ اس کی نماز کے برابر ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة بن دعامة لم يسمع من أبى الأحوص، ومحمد بن جعفر سمع من سعيد ابن أبى عروبة بعد الاختلاط.
حدیث نمبر: 4434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جسم گدوانے والی، موچنے سے بالوں کو نچوانے والی اور دانتوں کو باریک کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو جو اللہ کی تخلیق کو بدل دیتی ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
حدیث نمبر: 4435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَرَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَقَالَ لِي : " الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ " ، قَالَ : فَوَجَدْتُ لَهُ حَجَرَيْنِ وَرَوْثَةً ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ ، وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ ، وَقَالَ : " هَذِهِ رِكْسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ ”میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ“، میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لا سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا: ”یہ ناپاک ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4436
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْتَجِي اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 2184، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ مُسْتَقِيمًا " ، قَالَ : ثُمَّ خَطَّ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذِهِ السُّبُلُ ، وَلَيْسَ مِنْهَا سَبِيلٌ إِلَّا عَلَيْهِ شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ سورة الأنعام آية 153 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا کہ ”یہ اللہ کا راستہ ہے“، پھر اس کے دائیں بائیں کچھ اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا کہ ”یہ مختلف راستے ہیں، جن میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہے اور ان راستوں پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے“، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾» [الأنعام : 153] ”یہ میرا سیدھا راستہ ہے سو اس کی پیروی کرو، دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ تم اللہ کے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4438
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : يَا يَهُودِيُّ ، إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ! فَقَالَ : لَأَسْأَلَنَّهُ عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا نَبِيٌّ ، قَالَ : فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مِمَّ يُخْلَقُ الْإِنْسَانُ ؟ قَالَ " يَا يَهُودِيُّ ، مِنْ كُلٍّ يُخْلَقُ : مِنْ نُطْفَةِ الرَّجُلِ ، وَمِنْ نُطْفَةِ الْمَرْأَةِ ، فَأَمَّا نُطْفَةُ الرَّجُلِ فَنُطْفَةٌ غَلِيظَةٌ ، مِنْهَا الْعَظْمُ وَالْعَصَبُ ، وَأَمَّا نُطْفَةُ الْمَرْأَةِ فَنُطْفَةٌ رَقِيقَةٌ مِنْهَا اللَّحْمُ وَالدَّمُ " ، فَقَامَ الْيَهُودِيُّ ، فَقَالَ : هَكَذَا كَانَ يَقُولُ مَنْ قَبْلَكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی گزرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے گفتگو فرما رہے تھے، قریش کہنے لگے کہ اے یہودی! یہ شخص اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے، وہ کہنے لگا کہ میں ان سے ایک ایسی بات پوچھوں گا جو کسی نبی کے علم میں ہی ہو سکتی ہے، چنانچہ وہ آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! انسان کی تخلیق کن چیزوں سے ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے یہودی! مرد کے نطفہ سے بھی ہوتی ہے اور عورت کے نطفہ سے بھی، مرد کا نطفہ تو گاڑھا ہوتا ہے جس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں، اور عورت کا نطفہ پتلا ہوتا ہے جس سے گوشت اور خون بنتا ہے۔“ یہ سن کر وہ یہودی کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ آپ سے پہلے پیغمبر بھی یہی فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حسين بن الحسن .
حدیث نمبر: 4439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ كُلَّ خَمِيسٍ أَوْ اثْنَيْنِ ، الْأَيَّامَ ، قَالَ : فَقُلْنَا : أَوْ فَقِيلَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّا لَنُحِبُّ حَدِيثَكَ ، وَنَشْتَهِيهِ ، وَوَدِدْنَا أَنَّكَ تُذَكِّرُنَا كُلَّ يَوْمٍ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي مِنْ ذَاكَ إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، وَإِنِّي " لَأَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ ، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو وعظ فرمایا کرتے تھے، ان سے کسی نے کہا: ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ فرمایا کریں، انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 70، م: 2821.
حدیث نمبر: 4440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ الْحَجَّاجِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً ، وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ ، جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ ، وَلَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِمَنْ لَهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا ، أَوْ عِوَضُهَا مِنَ الذَّهَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ضرورت کے بقدر موجود ہوتے ہوئے بھی دست سوال دراز کرے، قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ نوچا گیا ہوا محسوس ہو گا، اور اس شخص کے لئے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے جس کے پاس بچاس درہم یا اس کے برابر سونا موجود ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، نصر ضعيف، والحجاج مدلس وقد عنعن.
حدیث نمبر: 4441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ ، وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ ، لَا يُعَجَّلُ مِنْهَا شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ ، وَلَا يُؤَخَّرُ مِنْهَا شَيْءٌ بَعْدَ حِلِّهِ ، وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ، كَانَ خَيْرًا لَكِ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ ، هِيَ مِمَّا مُسِخَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَمْسَخْ قَوْمًا ، أَوْ يُهْلِكْ قَوْمًا ، فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا وَلَا عَاقِبَةً ، وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ قَدْ كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا یہ دعا کر رہی تھیں کہ اے اللہ! مجھے اپنے شوہر نامدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اپنے والد ابوسفیان اور اپنے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ دعا سن لی اور فرمایا کہ ”تم نے اللہ سے طے شدہ مدت، گنتی کے چند دن اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے وقت سے پہلے تمہیں نہیں مل سکتی اور اپنے وقت مقررہ سے مؤخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے محفوظ فرما دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا کہ بندر اور خنزیر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آرہے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تذکرہ ہوا کہ بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آرہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2663.
حدیث نمبر: 4442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي مِنْ هَاهُنَا ، فَأَقَرَّ بِهِ ، وَقَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ يَعْنِي الْقَدَّاحَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : حَضَرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَتَبَايَعَانِ سِلْعَةً ، فَقَالَ هَذَا : أَخَذْتُ بِكَذَا وَكَذَا ، وَقَالَ هَذَا : بِعْتُ بِكَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي مِثْلِ هَذَا ، فَقَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مِثْلِ هَذَا ، " فَأَمَرَ بِالْبَائِعِ أَنْ يُسْتَحْلَفَ ، ثُمَّ يُخَيَّرَ الْمُبْتَاعُ ، إِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " . حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي ، قَالَ : أُخْبِرْتُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ ، فِي الْبَيِّعَيْنِ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ . وقَالَ أَبِي : قَالَ حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ : عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُبَيْدَةَ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے کسی چیز کی خرید و فروخت کی تھی، مشتری (خریدنے والا) کہنے لگا کہ یہ چیز میں نے اتنے میں خریدی ہے، اور بائع (بیچنے والا) کہنے لگا کہ یہ چیز میں نے اتنے میں فروخت کی ہے، ابوعبیدہ کہنے لگے کہ ایسا ہی ایک مقدمہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھی آیا تھا اور انہوں نے یہ کہا تھا کہ ایسا ایک واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بھی پیش آیا تھا اور اس وقت میں وہاں موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بائع (بیچنے والے) کو حلف اٹھانے کا حکم دیا، پھر مشتری (خریدنے والے) کو اختیار دے دیا کہ ”چاہے تو اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4443
قَالَ : وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَيْسَ فِيهِ : عَنْ أَبِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم لم يدرك ابن مسعود، وابن أبى ليلي ضعيف.
حدیث نمبر: 4444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ ، وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر بائع اور مشتری (خریدنے والے اور بیچنے والے) کا اختلاف ہو جائے تو بائع (بیچنے والے) کی بات کا اعتبار ہو گا، اور مشتری (خریدنے والے) کو خریدنے یا نہ خریدنے کا اختیار ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، عون بن عبد الله لم يدرك عم أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِي ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ ، فَالْقَوْلُ مَا يَقُولُ صَاحِبُ السِّلْعَةِ ، أَوْ يَتَرَادَّانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر بائع اور مشتری (خریدنے والے اور بیچنے والے) کا اختلاف ہو جائے اور دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو بائع (بچنے والے) کی بات کا اعتبار ہو گا ورنہ دونوں اپنی اپنی چیزیں واپس لے لیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، القاسم لم يدرك جده، عبدالرحمن بن عبد الله المسعودي أختلط ، وسماع وكيع منه قبل الاختلاط.
حدیث نمبر: 4446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ ، وَالسِّلْعَةُ كَمَا هِيَ ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ ، أَوْ يَتَرَادَّانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر بائع اور مشتری (خریدنے والے اور بیچنے والے) کا اختلاف ہو جائے اور سامان اسی طرح موجود ہو تو بائع (بچنے والے) کی بات کا اعتبار ہو گا ورنہ دونوں اپنی اپنی چیزیں واپس لے لیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم لم يدرك جده ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَالْأَشْعَثُ ، فَقَالَ ذَا : بِعَشَرَةٍ ، وَقَالَ ذَا : بِعِشْرِينَ ، قَالَ : اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا ، قَالَ : أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ ، قَالَ : أَقْضِي بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ ، وَلَمْ تَكُنْ بَيِّنَةٌ ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " .
مولانا ظفر اقبال
قاسم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی چیز کی قیمت میں سیدنا ابن مسعود اور سیدنا اشعث رضی اللہ عنہما کا جھگڑا ہو گیا، ایک صاحب دس بتاتے تھے اور دوسرے بیس، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے اور میرے درمیان کسی کو ثالث مقرر کر لو، انہوں نے کہا کہ میں آپ ہی کو ثالث مقرر کرتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”اگر بائع اور مشتری (خریدنے والے اور بیچنے والے) کے درمیان اختلاف ہو جائے، گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو بائع (بچنے والے) کی بات کا اعتبار ہو گا، یا وہ دونوں نئے سرے سے بیع کر لیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم لم يدرك جده ابن مسعود .