حدیث نمبر: 4385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ أَمِيرٌ عَلَى الْكُوفَةِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ ، إِذْ نَظَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى الظِّلِّ ، فَرَآهُ قَدْرَ الشِّرَاكِ ، فَقَالَ : " إِنْ يُصِبْ صَاحِبُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجْ الْآنَ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى خَرَجَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، يَقُولُ : الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ ایک مرتبہ کوفہ کی جامع مسجد میں جمعہ کے دن لوگ اکٹھے تھے، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر تھے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وزیر خزانہ تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سائے کو دیکھا تو وہ تسمہ کے برابر ہو چکا تھا، وہ فرمانے لگے کہ اگر تمہارے ساتھی (گورنر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ابھی نکل آئیں گے، واللہ! سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نماز، نماز کہتے ہوئے باہر نکل آئے۔
حدیث نمبر: 4386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعَمِّي عَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ ، قَالَ : " فَأَقَامَ الظُّهْرَ لِيُصَلِّيَ ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَيَدِ عَمِّي ، ثُمَّ جَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَالْآخَرَ عَنْ يَسَارِهِ ، ثُمَّ قَامَ بَيْنَنَا ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفًّا وَاحِدًا ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً ، قَالَ : فَصَلَّى بِنَا ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ وَأَلْصَقَ ذِرَاعَيْهِ بِفَخِذَيْهِ ، وَأَدْخَلَ كَفَّيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں علقمہ کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے ساتھی کو اور ہمیں آگے کھینچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہو گیا اور وہ خود ہمارے درمیان کھڑے ہو گئے، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے، پھر ہمیں نماز پڑھا کر فرمایا: عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کر دیا کریں گے، تم ان کا انتظار مت کرنا، اور ان کے ساتھ نوافل کی نیت سے شریک ہو جایا کرنا۔
حدیث نمبر: 4387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : كَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَبِالْمَدِينَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : فَخَرَجَ عُثْمَانُ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ تِلْكَ الصَّلَاةَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ ، فَدَخَلَ دَارَهُ ، وَجَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدْ أَصَابَهُمَا ، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ، فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتْ الَّتِي تَحْذَرُونَ ، كَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلَى غَيْرِ غَفْلَةٍ ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ ، كُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا ، وَاكْتَسَبْتُمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوشریح خزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سورج گرہن ہوا، مدینہ منورہ میں اس وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نکلے اور لوگوں کو سورج گرہن کی نماز ہر رکعت میں دو رکوعوں اور دو سجدوں کے ساتھ پڑھائی، اور نماز پڑھا کر اپنے گھر واپس تشریف لے گئے جبکہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس ہی بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سورج اور چاند گرہن کے وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے، اس لئے جب تم ان دونوں کو گرہن لگتے ہوئے دیکھو تو فورا نماز کی طرف متوجہ ہو جایا کرو، اس لئے کہ اگر یہ وہی بات ہوئی جس سے تمہیں ڈرایا جاتا ہے (اور تم نماز پڑھ رہے ہو) تو تم غفلت میں نہ ہو گے، اور اگر یہ وہی علامت قیامت نہ ہوئی تب بھی تم نے نیکی کا کام کیا اور بھلائی کمائی۔
حدیث نمبر: 4388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ ، قَالَ سَعْدٌ : قُلْتُ لِأَبِي : حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ : حَتَّى يَقُومَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ فرمایا: ہاں!
حدیث نمبر: 4389
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ ، وَرُبَّمَا قَالَ : الْأُولَيَيْنِ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ : حَتَّى يَقُومَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ فرمایا: ہاں!
حدیث نمبر: 4390
(حديث مرفوع) قَالَ أَبِي : وحَدَّثَنَاه نُوحُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ : حَتَّى يَقُومَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ فرمایا: ہاں!
حدیث نمبر: 4391
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَان ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ : اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى ، فَيَرْجِعُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَجَدْتُهَا مَلْأَى ، فَيَقُولُ : اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ ، فَيَأْتِيهَا ، فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى ، فَيَرْجِعُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ وَجَدْتُهَا مَلْأَى ، فَيَقُولُ : اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ ، فَيَأْتِيهَا ، فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى ، فَيَرْجِعُ إِلَيْهِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَجَدْتُهَا مَلْأَى ، ثَلَاثًا ، فَيَقُولُ : اذْهَبْ ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا ، أَوْ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا ، قَالَ : يَقُولُ : يا رَبِّ ، أَتَضْحَكُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟ قَالَ : وَكَانَ يُقَالُ : هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا وہ شخص ہو گا جو جہنم میں سے سب سے آخر میں نکلے گا، وہ ایک شخص ہو گا جو اپنی سرین کے بل گھستا ہوا جہنم سے نکلے گا، اس سے کہا جائے گا کہ ”جا، جنت میں داخل ہو جا“، وہ جنت میں داخل ہو گا تو اسے خیال آئے گا کہ سب لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں میں پہنچ چکے اور جنت تو بھر چکی، وہ لوٹ کر عرض کرے گا: پروردگار! جنت تو بھر چکی ہے (میں کہاں جاؤں؟) اس سے کہا جائے گا کہ ”جا، جنت میں داخل ہو جا“، تین مرتبہ اسی طرح ہو گا، پھر اللہ اس سے فرمائے گا کہ ”جا، تجھے دنیا اور اس سے دس گنا زیادہ عطا کیا جاتا ہے“، وہ عرض کرے گا: پروردگار! تو بادشاہ ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ یہ شخص تمام اہل جنت میں سب سے کم تر درجہ کا آدمی ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4392
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ " ، قَالُوا : وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَأَنَا ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ ، فَلَيْسَ يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک ہم نشین مقرر کیا گیا ہے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اس لئے اب وہ مجھے صرف حق بات کا ہی حکم دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وَسَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بِخَسْفٍ ، قَالَ : كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُدُّ الْآيَاتِ بَرَكَةً ، وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَهَا تَخْوِيفًا ، إِنَّا بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اطْلُبُوا مَنْ مَعَهُ " ، يَعْنِي مَاءً ، فَفَعَلْنَا ، فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِي إِنَاءٍ ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّيْهِ فِيهِ ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ ، وَالْبَرَكَةُ مِنَ اللَّهِ " ، فَمَلَأْتُ بَطْنِي مِنْهُ ، وَاسْتَسْقَى النَّاسُ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں معجزات کو برکات سمجھتے تھے اور تم ان سے خوف محسوس کرتے ہو، دراصل سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دشمن کے زمین میں دھنسنے کی خبر سنی تھی، وہ مزید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، پانی نہیں مل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کا ایک برتن پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس میں ڈالا اور انگلیاں کشادہ کر کے کھول دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی کے چشمے بہہ پڑے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے: ”وضو کے لئے آؤ، یہ برکت اللہ کی طرف سے ہے“، میں نے اس سے اپنا پیٹ بھرا اور لوگوں نے بھی اسے پیا، وہ مزید فرماتے ہیں کہ ہم لوگ کھانے کی تسبیح سنتے تھے حالانکہ لوگ اسے کھا رہے ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 4394
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قِتَالُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ كُفْرٌ ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔“
حدیث نمبر: 4395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا ، أَوْ تَصِفُهَا لِزَوْجِهَا ، أَوْ لِلرَّجُلِ ، كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) " وَإِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ " . " وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَخِيهِ أَوْ قَالَ : مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، قَالَ : فَسَمِعَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ابْنَ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ هَذَا ، فَقَالَ : فِيَّ قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رَجُلٍ اخْتَصَمْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِئْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔ جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہوگا، اور جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے، وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا۔“ یہ سن کر سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ یہ ارشاد میرے واقعے میں نازل ہوا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک کنواں مشترک تھا، ہم اس کا مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 4396
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى ، عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى سورة النجم آية 13 - 14 ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ، يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ الدُّرُّ وَالْيَاقُوتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی: «﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى o عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى﴾» [النجم : 13-14] کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سدرۃ المنتہی کے پاس جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے جن سے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔“
حدیث نمبر: 4397
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ حَدِيثِ عَلْقَمَةَ فَهُوَ هَذَا الْحَدِيثُ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَى أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ فِي مَنْزِلِهِ ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَإِنَّكَ أَقْدَمُ سِنًّا وَأَعْلَمُ ، قَالَ : لَا ، بَلْ تَقَدَّمْ أَنْتَ ، فَإِنَّمَا أَتَيْنَاكَ فِي مَنْزِلِكَ وَمَسْجِدِكَ ، فَأَنْتَ أَحَقُّ ، قَالَ : فَتَقَدَّمَ أَبُو مُوسَى ، فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : مَا أَرَدْتَ إِلَى خَلْعِهِمَا ؟ أَبِالْوَادِي الْمُقَدَّسِ أَنْتَ ؟ ! لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي الْخُفَّيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر تشریف لے گئے، نماز کا وقت آیا تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابوعبدالرحمن! آگے بڑھیے کیونکہ آپ ہم سے علم میں بھی بڑے ہیں اور عمر میں بھی بڑے ہیں، انہوں نے فرمایا: نہیں! آپ آگے بڑھیے، ہم آپ کے گھر اور آپ کی مسجد میں آئے ہیں، اس لئے آپ ہی کا زیادہ حق بنتا ہے، چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے اور جوتے اتار دیئے، جب نماز ختم ہونے پر انہوں نے سلام پھیرا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: جوتے اتارنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا وادی مقدس میں تھے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 4398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ أَبِي الْأَحْوَصِ ، سَمِعَهُ مِنْهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ میں شریک نہ ہونے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔“
حدیث نمبر: 4399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، قَالَ : حَجَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَأَمَرَنِي عَلْقَمَةُ أَنْ أَلْزَمَهُ ، فَلَزِمْتُهُ فَكُنْتُ مَعَهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، قَالَ : أَقِمْ ، فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ فِيهَا ؟ ! قَالَ : قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " لَا يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ ، إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِنْ هَذَا الْيَوْمِ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " هُمَا صَلَاتَانِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتَيْهِمَا ، صَلَاةُ الْمَغْرِبِ بَعْدَ مَا يَأْتِي النَّاسُ الْمُزْدَلِفَةَ ، وَصَلَاةُ الْغَدَاةِ حِينَ يَبْزُغُ الْفَجْرُ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ حج پر روانہ ہوئے، علقمہ نے مجھے ان کے ساتھ رہنے کا حکم دیا، چنانچہ میں ان کے ساتھ ہی رہا . . . . . پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور کہا کہ جب طلوع صبح صادق ہوئی تو انہوں نے فرمایا: اقامت کہو، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ تو فجر کی نماز اس وقت نہیں پڑھتے؟ (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوب روشن کر کے نماز فجر پڑھتے تھے)، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ نماز اس وقت نہیں پڑھتے تھے لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن، اس جگہ میں یہ نماز اسی وقت پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، یہ دو نمازیں ہیں جو اپنے وقت سے تبدیل ہو گئیں ہیں، ایک تو مغرب کی نماز کہ یہ لوگوں کے مزدلفہ میں آنے کے بعد ہوتی ہے اور دوسرے فجر کی نماز جو طلوع صبح صادق کے وقت ہوتی ہے، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 4400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ حُدَيْجًا أَخَا زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ ، وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا ، فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَجَعْفَرٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، فَأَتَوْا النَّجَاشِيَّ ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ ، فَلَمَّا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَجَدَا لَهُ ، ثُمَّ ابْتَدَرَاهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَا لَهُ : إِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عَمِّنَا نَزَلُوا أَرْضَكَ ، وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا ، قَالَ : فَأَيْنَ هُمْ ؟ قَالَ : هُمْ فِي أَرْضِكَ ، فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : أَنَا خَطِيبُكُمْ الْيَوْمَ ، فَاتَّبَعُوهُ ، فَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْجُدْ ، فَقَالُوا لَهُ : مَالَكَ لَا تَسْجُدُ لِلْمَلِكِ ؟ ! قَالَ : إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ : وَمَا ذَلكَ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " وَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْجُدَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : فَإِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ! قَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأُمِّهِ ؟ قَالُوا : نَقُولُ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، هُوَ كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ ، أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ الَّتِي لَمْ يَمَسَّهَا بَشَرٌ ، وَلَمْ يَفْرِضْهَا وَلَدٌ " . قَالَ : فَرَفَعَ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مَعْشَرَ الْحَبَشَةِ وَالْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ ، وَاللَّهِ مَا يَزِيدُونَ عَلَى الَّذِي نَقُولُ فِيهِ مَا يَسْوَى هَذَا ، مَرْحَبًا بِكُمْ ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ الَّذِي نَجِدُ فِي الْإِنْجِيلِ ، وَإِنَّهُ الرَّسُولُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، انْزِلُوا حَيْثُ شِئْتُمْ ، وَاللَّهِ لَوْلَا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَحْمِلُ نَعْلَيْهِ ، وَأُوَضِّؤُهُ . وَأَمَرَ بِهَدِيَّةِ الْآخَرِينَ فَرُدَّتْ إِلَيْهِمَا ، ثُمَّ تَعَجَّلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَدْرًا ، وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لَهُ حِينَ بَلَغَهُ مَوْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تقریبا اسی آدمیوں کو - جن میں سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا جعفر، سیدنا عبداللہ بن عفطہ، سیدنا عثمان بن مظعون اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے - نجاشی کے یہاں بھیج دیا، یہ لوگ نجاشی کے پاس پہنچے تو قریش نے بھی عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کو تحائف دے کر بھیج دیا، انہوں نے نجاشی کے دربار میں داخل ہو کر اسے سجدہ کیا اور دائیں بائیں جلدی سے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے بنوعم میں سے کچھ لوگ بھاگ کر آپ کے علاقے میں آ گئے ہیں، اور ہم سے اور ہماری ملت سے بےرغبتی ظاہر کرتے ہیں، نجاشی نے پوچھا: وہ لوگ کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ آپ کے علاقے میں ہیں، آپ انہیں اپنے پاس بلائیے، چنانچہ نجاشی نے انہیں بلا بھیجا، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: آج کے دن تمہارا خطیب میں بنوں گا، وہ سب راضی ہو گئے۔ انہوں نے نجاشی کے یہاں پہنچ کر اسے سلام کیا لیکن سجدہ نہیں کیا، لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ بادشاہ سلامت کو سجدہ کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا: ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے سامنے سجدہ نہیں کرتے، نجاشی نے پوچھا: کیا مطلب؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنا پیغمبر مبعوث فرمایا ہے، انہوں نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کے سامنے سجدہ نہ کریں، نیز انہوں نے ہمیں زکوٰۃ اور نماز کا حکم دیا ہے۔ عمرو بن عاص نے نجاشی سے کہا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بابت آپ کی مخالفت کرتے ہیں، نجاشی نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے بارے کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم وہی کہتے ہیں جو اللہ فرماتا ہے کہ وہ روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں جسے اللہ نے اس کنواری دوشیزہ کی طرف القاء فرمایا تھا جسے کسی انسان نے چھوا تھا اور نہ ہی ان کے یہاں اولاد ہوئی تھی، اس پر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر کہا: اے گروہ حبشہ! پادریو! اور راہبو! واللہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس تنکے سے بھی کوئی بات زیادہ نہیں کہتے، میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور اس شخص کو بھی جس کی طرف سے تم آئے ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور انجیل میں ہم ان ہی کا ذکر پاتے ہیں، اور یہ وہی پیغمبر ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی، تم جہاں چاہو رہ سکتے ہو، اگر امور سلطنت کا معاملہ نہ ہوتا تو واللہ! میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا، ان کے نعلین اٹھاتا اور انہیں وضو کراتا۔ پھر اس نے عمرو بن عاص اور عمارہ کا ہدیہ واپس لوٹا دینے کا حکم دیا جو انہیں لوٹا دیا گیا، اس کے بعد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وہاں سے جلدی واپس آ گئے تھے اور انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی اور ان کا یہ کہنا تھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نجاشی کی موت کی اطلاع ملی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے استغفار کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ، وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : كَيْفَ نَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ : فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 : أَذَالٌ أَمْ دَالٌ ؟ فَقَالَ : لَا ، بَلْ دَالٌ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَؤُهَا مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 دَالًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو اسود بن یزید سے - جو کہ لوگوں کو مسجد میں قرآن پڑھا رہے تھے - یہ پوچھتے ہوئے دیکھا کہ آپ اس حرف «فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ» کو دال کے ساتھ پڑھتے ہیں یا ذال کے ساتھ؟ انہوں نے فرمایا: دال کے ساتھ، میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ لفظ دال کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 4402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْرَمِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَطُّ إِلَّا وَلَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ حَوَارِيٌّ وَأَصْحَابٌ يَتَّبِعُونَ أَثَرَهُ وَيَقْتَدُونَ بِهَدْيِهِ ، ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ خَوَالِفُ أُمَرَاءُ ، يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے پہلے اللہ نے جس امت میں بھی کسی نبی کو مبعوث فرمایا ہے، اس کی امت میں سے ہی اس کے حواری اور اصحاب بھی بنائے جو اس نبی کی سنت پر عمل کرتے اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے، لیکن ان کے بعد کچھ ایسے نا اہل آ جاتے جو وہ بات کہتے جس پر خود عمل نہ کرتے، اور وہ کام کرتے جن کا انہیں حکم نہ دیا گیا ہوتا۔“
حدیث نمبر: 4403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ ، وَالْمَوْصُولَةَ ، وَالْمُحِلَّ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ، وَالْوَاشِمَةَ ، وَالْمَوْشُومَةَ ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُطْعِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتوں، بال ملانے اور ملوانے والی عورتوں، حلالہ کرنے والے اور کروانے والوں، سود کھانے اور کھلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 4404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ، فَقَرَأْتُهَا قَرِيبًا مِمَّا أَقْرَأَنِي ، غَيْرَ أَنِّي لَسْتُ أَدْرِي بِأَيِّ الْآيَتَيْنِ خَتَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غار میں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہوئی، جسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلتے ہی یاد کر لیا، البتہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی آیت ختم کی «﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾» یا «﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ﴾»۔
حدیث نمبر: 4405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ " ، وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ ، إِلَّا رَجُلًا رَفَعَ كَفًّا مِنْ حَصًى ، فَوَضَعَهُ عَلَى وَجْهِهِ ، وَقَالَ : يَكْفِينِي هَذَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم کے آخر میں سجدہ تلاوت کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے قریش کے ایک آدمی کے جس نے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی کی طرف بڑھا کر اس پر سجدہ کر لیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعد میں میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حدیث نمبر: 4406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً ، وَأَنَا أَقُولُ أُخْرَى : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ ”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا،“ اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 4407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ ، وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، ثُمَّ تَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا ، حَتَّى كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا، اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔“
حدیث نمبر: 4408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا عَمِلْنَا فِي الشِّرْكِ ، نُؤَاخَذُ بِهِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الشِّرْكِ ، وَمَنْ أَسَاءَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، أُخِذَ بِمَا عَمِلَ فِي الشِّرْكِ وَالْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنِّي لَأُخْبَرُ بِجَمَاعَتِكُمْ ، فَيَمْنَعُنِي الْخُرُوجَ إِلَيْكُمْ خَشْيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَخَوَّلُنَا فِي الْأَيَّامِ بِالْمَوْعِظَةِ ، خَشْيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4410
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ ، فَأُذِنَ لَنَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ ، فَقَالَ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ ! إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَةَ ، " وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ ، وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم " .
مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ فجر کی نماز کے بعد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر انہیں سلام کیا، ہمیں اجازت مل گئی، ایک آدمی کہنے لگا کہ میں ایک رات میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اشعار کی طرح؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں، جن میں سے اٹھارہ سورتیں مفصلات میں ہیں اور دو سورتیں آل حم میں ہیں۔
حدیث نمبر: 4411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْإِثْمِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے“، میں نے کہا: اس کے بعد کونسا گناہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا: ”اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔“
حدیث نمبر: 4412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ غُلَامًا يَافِعًا أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، وَقَدْ فَرَّا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَا : يَا غُلَامُ ، هَلْ عِنْدَكَ مِنْ لَبَنٍ تَسْقِينَا ؟ قُلْتُ : إِنِّي مُؤْتَمَنٌ ، وَلَسْتُ سَاقِيَكُمَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ جَذَعَةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَتَيْتُهُمَا بِهَا ، " فَاعْتَقَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ الضَّرْعَ ، وَدَعَا ، فَحَفَلَ الضَّرْعُ ، ثُمَّ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِصَخْرَةٍ مُنْقَعِرَةٍ ، فَاحْتَلَبَ فِيهَا ، فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ شَرِبْتُ ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ : " اقْلِصْ " . فَقَلَصَ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَأَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ ؟ قَالَ : " إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ " ، قَالَ : " فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً ، لَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشرکین سے بچ کر نکلتے ہوئے میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”اے لڑکے! کیا تمہارے پاس دودھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں اس پر امین ہوں، لہذا میں آپ کو کچھ پلا نہیں سکوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی ایسی بکری تمہارے پاس ہے جس پر نر جانور نہ کودا ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسی بکری لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی تو اس میں دودھ اتر آیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر سے کھوکھلا ایک پتھر لے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس میں دوہا، خود بھی پیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا، اور میں نے بھی پیا، پھر تھن سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”سکڑ جاؤ“، چنانچہ وہ تھن دوبارہ سکڑ گئے، تھوڑی دیر بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے بھی یہ بات سکھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے دعا دی کہ ”اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، تم سمجھدار بچے ہو“، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک منہ سے ستر سورتیں یاد کی ہیں جن میں مجھ سے کوئی جھگڑا نہیں کر سکتا۔
حدیث نمبر: 4413
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي ، وَقَدْ اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، لیکن وہ میرے بھائی اور ساتھی ہیں، اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔“
حدیث نمبر: 4414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النِّسَاءَ كُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ خَلْفَ الْمُسْلِمِينَ ، يُجْهِزْنَ عَلَى جَرْحَى الْمُشْرِكِينَ ، فَلَوْ حَلَفْتُ يَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يُرِيدُ الدُّنْيَا ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ سورة آل عمران آية 152 ، " فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَصَوْا مَا أُمِرُوا بِهِ ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِسْعَةٍ ، سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَهُوَ عَاشِرُهُمْ ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ ، قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا ، رَدَّهُمْ عَنَّا " قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَاتَلَ سَاعَةً حَتَّى قُتِلَ ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ أَيْضًا ، قَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا " ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَا ، حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ : " مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا " ، فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ ، فَقَالَ : اعْلُ هُبَلُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا : اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ " ، فَقَالُوا : اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَنَا عُزَّى ، وَلَا عُزَّى لَكُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا ، وَالْكَافِرُونَ لَا مَوْلَى لَهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ ، يَوْمٌ لَنَا ، وَيَوْمٌ عَلَيْنَا ، وَيَوْمٌ نُسَاءُ ، وَيَوْمٌ نُسَرُّ ، حَنْظَلَةُ بِحَنْظَلَةَ ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَوَاءً ، أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْيَاءٌ يُرْزَقُونَ ، وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ يُعَذَّبُونَ " . قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : قَدْ كَانَتْ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةٌ ، وَإِنْ كَانَتْ لَعَنْ غَيْرِ مَلَإٍ مِنَّا ، مَا أََمَرْتُ وَلَا نَهَيْتُ ، وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا كَرِهْتُ ، وَلَا سَاءَنِي وَلَا سَرَّنِي ، قَالَ : فَنَظَرُوا ، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُهُ ، وَأَخَذَتْ هِنْدُ كَبِدَهُ فَلَاكَتْهَا ، فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْكُلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَأَكَلَتْ مِنْهُ شَيْئًا ؟ " قَالُوا : لَا ، قَالَ : " مَا كَانَ اللَّهُ لِيُدْخِلَ شَيْئًا مِنْ حَمْزَةَ النَّارَ " . فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَجِيءَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَوُضِعَ إِلَى جَنْبِهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَرُفِعَ الْأَنْصَارِيُّ ، وَتُرِكَ حَمْزَةُ ، ثُمَّ جِيءَ بِآخَرَ فَوَضَعَهُ إِلَى جَنْبِ حَمْزَةَ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِكَ حَمْزَةُ ، حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ صَلَاةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں اور مشرکین کے زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں، اگر میں قسم کھا کر کہوں تو میری قسم صحیح ہو گی (اور میں اس میں حانث نہیں ہوں گا) کہ اس دن ہم میں سے کوئی شخص دنیا کا خواہش مند نہ تھا، یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: «﴿مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ﴾» [آل عمران : 152] ”تم میں سے بعض لوگ دنیا چاہتے ہیں اور بعض لوگ آخرت، پھر اللہ نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے۔“ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے حکم نبوی کی مخالفت کرتے ہوئے اس کی تعمیل نہ کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف نو افراد کے درمیان تنہا رہ گئے، جن میں سات انصاری اور دو قریشی تھے، دسویں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جب مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجوم کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس شخص پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے جو انہیں ہم سے دور کرے“، یہ سن کر ایک انصاری آگے بڑھا، کچھ دیر قتال کیا اور شہید ہو گیا، اسی طرح ایک ایک کر کے ساتوں انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔“ تھوڑی دیر بعد ابوسفیان آیا (جنہوں نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا) اور ہبل کی جے کاری کا نعرہ لگانے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے جواب دو کہ اللہ ہی بلند و برتر اور بزرگ ہے“، ابوسفیان کہنے لگا کہ ہمارے پاس عزی ہے، تمہارا کوئی عزی نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے جواب دو کہ اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں“، پھر ابوسفیان نے کہا کہ آج کا دن جنگ بدر کا بدلہ ہے، ایک دن ہمارا اور ایک دن ہم پر، ایک دن ہمیں تکلیف ہوئی اور ایک دن ہم خوش ہوئے، حنظلہ حنظلہ کے بدلے، فلاں فلاں کے بدلے، اور فلاں فلاں کے بدلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں اور ہم میں پھر بھی کوئی برابری نہیں، ہمارے مقتولین زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں جبکہ تمہارے مقتولین جہنم کی آگ میں سزا پاتے ہیں۔“ پھر ابوسفیان نے کہا کہ کچھ لوگوں کی لاشوں کا مثلہ کیا گیا ہے، یہ ہمارے سرداروں کا کام نہیں ہے، میں نے اس کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے روکا، میں اسے پسند کرتا ہوں اور نہ ہی ناگواری ظاہر کرتا ہوں، مجھے یہ برا لگا اور نہ ہی خوشی ہوئی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب دیکھا تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا، اور ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے ان کا جگر نکال کر اسے چبایا تھا لیکن اسے کھا نہیں سکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی لاش دیکھ کر پوچھا: ”کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا بھی ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسم کے کسی حصے کو آگ میں داخل نہیں کرنا چاہتا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی لاش کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھ دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بھی نماز جنازہ پڑھائی، پھر انصاری کا جنازہ اٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ یہیں رہنے دیا گیا، پھر ایک اور جنازہ لا کر سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی نماز جنازہ پڑھائی، پھر اس کا جنازہ اٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ یہیں رہنے دیا گیا، اس طرح اس دن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ستر مرتبہ ادا کی گئی۔
حدیث نمبر: 4415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَتَدْرُونَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " الْمَنِيحَةُ ، أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الدِّرْهَمَ ، أَوْ ظَهْرَ الدَّابَّةِ ، أَوْ لَبَنَ الشَّاةِ ، أَوْ لَبَنَ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہدیہ جو تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو پیش کرے، خواہ وہ روپیہ پیسہ ہو، خواہ جانور کی پشت (سواری) ہو، خواہ بکری کا دودھ ہو، یا گائے کا دودھ۔“
حدیث نمبر: 4416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَوْ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ ، وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا " ، قَالَ : أَوْ قَالَ : " مِنْ عُقُلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی آدمی کی یہ بات انتہائی بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ اسے یوں کہنا چاہئے کہ اسے فلاں آیت بھلا دی گئی، اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا۔“
حدیث نمبر: 4417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ لِنَبِيِّهِ مَا شَاءَ قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ : مِمَّا شَاءَ ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدا میں ہم لوگ نماز کے دوران بات چیت اور سلام کر لیتے تھے اور ایک دوسرے کو ضرورت کے مطابق بتا دیتے تھے، ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، مجھے نئے پرانے خیالات نے گھیر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ جو نیا حکم دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ دوران نماز بات چیت نہ کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 4418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَقَالُوا : أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، لوگوں نے پوچھا کہ کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حدیث نمبر: 4419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا سَمَرَ إِلَّا لِرَجُلَيْنِ ، أَوْ لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ : لِمُصَلٍّ وَلِمُسَافِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز عشا کے بعد باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، سوائے دو آدمیوں کے، جو نماز پڑھ رہا ہو یا جو مسافر ہو۔“
حدیث نمبر: 4420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، عَنِ امْرَأَةٍ تَرَكَتْ ابْنَتَهَا ، وَابْنَةَ ابْنِهَا ، وَأُخْتَهَا ؟ فَقَالَ : النِّصْفُ لِلِابْنَةِ ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ ، وَقَالَ : ائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنِي ، قَالَ : فَأَتَوْا ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ، لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَرْفَ مَكْتُوبًا لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلِابْنَةِ النِّصْفُ ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ " . فَأَتَوْا أَبَا مُوسَى ، فَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی شخص کے ورثاء میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن ہو تو تقسیم وراثت کس طرح ہوگی؟ انہوں نے جواب دیا کہ کل مال کا نصف بیٹی کو مل جائے گا اور دوسرا نصف بہن کو، اور تم سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے بھی یہ مسئلہ پوچھ لو، وہ ہماری موافقت اور تائید کریں گے، نچانچہ وہ شخص سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا اور ان سے وہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کا جواب بھی نقل کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں نے بھی یہی فتوی دیا تو میں گمراہ ہو جاؤں گا اور ہدایت یافتگان میں سے نہ رہوں گا، میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”بیٹی کو کل مال کا نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو ثلث مکمل ہو جائیں اور جو باقی بچے گا وہ بہن کو مل جائے گا۔“ لوگوں نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر انہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے بتائی تو انہوں نے فرمایا: جب تک اتنے بڑے عالم تمہارے درمیان موجود ہیں تم مجھ سے سوال نہ پوچھا کرو۔
حدیث نمبر: 4421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَذَكَرُوا أَنَّهُمْ نَزَلُوا دَهَاسًا مِنَ الْأَرْضِ يَعْنِي الدَّهَاسَ : الرَّمْلَ ، فَقَالَ : " مَنْ يَكْلَؤُنَا ؟ " فَقَالَ بِلَالٌ : أَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَنْ تَنَمْ " . قَالَ : فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ ، فَاسْتَيْقَظَ نَاسٌ ، مِنْهُمْ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، فِيهِمْ عُمَرُ ، قَالَ : فَقُلْنَا : اهْضِبُوا يَعْنِي : تَكَلَّمُوا ، قَالَ : فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ " ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، قَالَ : وَقَالَ : " كَذَلِكَ فَافْعَلُوا ، لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ " ، قَالَ : وَضَلَّتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَبْتُهَا ، فَوَجَدْتُ حَبْلَهَا قَدْ تَعَلَّقَ بِشَجَرَةٍ ، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَكِبَ مَسْرُورًا " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ اشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَعَرَفْنَا ذَلِكَ فِيهِ ، قَالَ : فَتَنَحَّى مُنْتَبِذًا خَلْفَنَا ، قَالَ : فَجَعَلَ يُغَطِّي رَأْسَهُ بِثَوْبِهِ وَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، حَتَّى عَرَفْنَا أَنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ ، فَأَتَانَا ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے رات کو واپس آ رہے تھے، ہم نے ایک نرم زمین پر پڑاؤ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری خبر گیری کون کرے گا؟ (فجر کے لئے کون جگائے گا ؟)“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم بھی سو گئے تو؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں سوؤں گا، اتفاق سے ان کی بھی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور فلاں فلاں صاحب بیدار ہو گئے، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے سب کو اٹھایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیدار ہو گئے اور فرمایا: ”اسی طرح کرو جیسے کرتے تھے (نماز حسب معمول پڑھ لو)“ جب لوگ ایسا کر چکے تو فرمایا کہ ”اگر تم میں سے کوئی شخص سو جائے یا بھول جائے تو ایسے ہی کیا کرو۔“ اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کروایا تو وہ مجھے اس حال میں مل گئی کہ اس کی رسی ایک درخت سے الجھ گئی تھی، میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خوش و خرم سوار ہو گئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی کیفیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی شدید ہوتی تھی، اور ہم وہ کیفیت دیکھ کر پہچان لیتے تھے، چنانچہ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف کو ہو گئے اور اپنا سر مبارک کپڑے سے ڈھانپ لیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی کی کیفیت طاری ہو گئی جس سے ہم پہچان گئے کہ ان پر وحی نازل ہو رہی ہے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے تو ہمیں بتایا کہ ان پر سورہ فتح نازل ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 4422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يَقُولُ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا نَقُولُ فِي التَّحِيَّةِ : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُولُوا : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ ، وَلَكِنْ قُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے یہ کہنے کی بجائے یوں کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حدیث نمبر: 4423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ، وَأَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ، وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ أَجْلَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ ، أَوْ يَأْكُلَ طَعَامَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے، اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کر دینا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے لگے گا، اور اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔“
حدیث نمبر: 4424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ ، وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ تَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا ، كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا، اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔“
…