حدیث نمبر: 4345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، وَمَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، أخبروني أنهم سمعوا أبا وائل يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " ، قَالَ زُبَيْدٌ : قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ مَرَّتَيْنِ : أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دو مرتبہ ابووائل سے پوچھا: کیا آپ نے یہ بات سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں!
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6044، م: 64.
حدیث نمبر: 4346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ ، وَقُلْتُ : إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا ؟ قَالَ : " إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ " ، قَالَ قُلْتُ ذَاكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ ؟ قَالَ " أَجَلْ ، مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُصِيبُهُ مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید بخار چڑھا ہوا تھا، میں نے ہاتھ لگا کر پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کو بھی ایسا شدید بخار ہوتا ہے؟ فرمایا: ”ہاں! مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے“، میں نے عرض کیا کہ پھر آپ کو اجر بھی دوہرا ملتا ہوگا؟ فرمایا: ”ہاں! اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، روئے زمین پر کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ جسے کوئی تکلیف پہنچے - خواہ وہ بیماری ہو یا کچھ اور - اور اللہ اس کی برکت سے اس کے گناہ اسی طرح نہ جھاڑ دے جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5647، م: 2571.
حدیث نمبر: 4347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ ، " فَلَمَّا مَالَتْ الشَّمْسُ ، أَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَقُمْنَا خَلْفَهُ ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ صَاحِبِي ، فَجَعَلَنَا عَنْ نَاحِيَتَيْهِ ، وَقَامَ بَيْنَنَا " ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا . فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا ، فَلَا تَنْتَظِرُوهُمْ بِهَا ، وَاجْعَلُوا الصَّلَاةَ مَعَهُمْ سُبْحَةً " .
مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں علقمہ کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے ساتھی کو اور ہمیں آگے کھینچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہو گیا اور وہ خود ہمارے درمیان کھڑے ہو گئے، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے، پھر ہمیں نماز پڑھا کر فرمایا: عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کر دیا کریں گے، تم ان کا انتظار مت کرنا اور ان کے ساتھ نوافل کی نیت سے شریک ہو جایا کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 534، وهذا إسناد حسن، ابن إسحاق صرح بالتحديث فى الرواية الآتية برقم: 4386.
حدیث نمبر: 4348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ ، فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ الصَّوَابَ ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں بھی انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول سکتا ہوں، اور تم میں سے کسی کو جب کبھی اپنی نماز میں شک پیدا ہو جائے تو وہ خوب غور کر کے محتاط رائے کو اختیار کر لے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 572.
حدیث نمبر: 4349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ ، فَقَالَ : أَوَلَيْسَ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ ؟ ! قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دس محرم کے دن اشعث بن قیس سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، کہنے لگے: اے ابومحمد! کھانے کے لئے آگے بڑھو، اشعث کہنے لگے کہ آج یوم عاشورہ نہیں ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں معلوم بھی ہے کہ یوم عاشورہ کیا چیز ہے؟ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا روزہ رکھتے تھے، جب رمضان میں روزوں کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ متروک ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4503، م: 1127.
حدیث نمبر: 4350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثِنْتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4996، م: 822.
حدیث نمبر: 4351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَلَيُخْتَلَجَنَّ رِجَالٌ دُونِي ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: ”پروردگار! میرے ساتھی؟“ ارشاد ہوگا کہ ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 6575، م: 2297، وهذا إسناده قوي.
حدیث نمبر: 4352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ نصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت کے ساتھ یوں کہنے لگے تھے: ” «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ» ”پاک ہے تیری ذات، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، اے اللہ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيْلَةَ الْجِنِّ خَطَّ حَوْلَهُ ، فَكَانَ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ مِثْلُ سَوَادِ النَّخْلِ ، وَقَالَ لِي : " لَا تَبْرَحْ مَكَانَكَ " ، فَأَقْرَأَهُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَمَّا رَأَى الزُّطَّ ، قَالَ : " كَأَنَّهُمْ هَؤُلَاءِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ " قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " أَمَعَكَ نَبِيذٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ " ، فَتَوَضَّأَ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ الجن کے موقع پر ان کے گرد ایک خط کھینچ دیا، جنات میں کا ایک آدمی کھجور کے کئی درختوں کی طرح آتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ ”اپنی جگہ سے نہ ہلنا“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قرآن کریم پڑھایا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب جاٹوں کو دیکھا تو فرمایا کہ وہ اسی طرح کے لوگ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر مجھ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ ”تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، فرمایا: ”نبیذ ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سے وضو کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد.
حدیث نمبر: 4354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ : عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 4355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا ، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ سُنَنَ الْهُدَى لِنَبِيِّهِ ، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى ، وَإِنِّي لَا أَحْسِبُ مِنْكُمْ أَحَدًا إِلَّا لَهُ مَسْجِدٌ يُصَلِّي فِيهِ فِي بَيْتِهِ ، فَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ ، وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ کل قیامت کے دن اللہ سے اس کی ملاقات اسلام کی حالت میں ہو تو اسے ان فرض نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے، جب بھی ان کی طرف پکارا جائے، کیونکہ یہ سنن ہدی میں سے ہیں، اور اللہ نے تمہارے پیغمبر کے لئے سنن ہدی کو مشروع قرار دیا ہے، تم میں سے ہر ایک کے گھر میں مسجد ہوتی ہے، اگر تم اپنے گھروں میں اس طرح نماز پڑھنے لگے جیسے یہ پیچھے رہ جانے والے اپنے گھروں میں پڑھ لیتے ہیں تو تم اپنے نبی کی سنت کے تارک ہو گے، اور جب تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 654.
حدیث نمبر: 4356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ نصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت کے ساتھ یوں کہنے لگے تھے: ” «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ» ”پاک ہے تیری ذات، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، اے اللہ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود، أبو قطن سماعه من المسعودي قبل اختلاطه.
حدیث نمبر: 4357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ، قَالَ : فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً ، إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهَا " ، قَالَ : فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا فَسَبَقَتْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ ، كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہو گئی، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2234.
حدیث نمبر: 4358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَهَا فِي الصَّلَاةِ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ الْكَلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں سہو لاحق ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کلام کرنے کے بعد کر لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م 572 .
حدیث نمبر: 4359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : " رَمَى عَبْدُ اللَّهِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا ، فَقَالَ : هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے، کسی نے ان سے کہا کہ لوگ تو اسے اوپر سے کنکریاں مار رہے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1296.
حدیث نمبر: 4360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ ، وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًي ، حَتَّى ذَهَبَتْ فِرْقَةٌ مِنْهُ خَلْفَ الْجَبَلِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْهَدُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، اس وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں تھے، حتیٰ کہ چاند کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ رہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2800.
حدیث نمبر: 4361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ ، أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے رخساروں کو پیٹے، گریبانوں کو پھاڑے اور جاہلیت کی سی پکار لگائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 103.
حدیث نمبر: 4362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي نَهْشَلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " فَضَلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِأَرْبَعٍ : بِذِكْرِ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ ، أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 68 ، وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ ، أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ ، فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ : وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الأحزاب آية 53 ، وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ : " اللَّهُمَّ أَيِّدْ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ " ، وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ ، كَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَايَعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تمام لوگوں پر چار چیزوں میں فضیلت رکھتے ہیں: ① غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ نے ان کی موافقت میں یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ » [الأنفال : 68] ② حجاب کے بارے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کو پردہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، سیدنا زینب رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: اے ابن خطاب! تم ہم پر حکم چلاتے ہو جب کہ ہمارے گھروں میں وحی نازل ہوتی ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾ » [الأحزاب : 53] ”جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔“ ③ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے حق میں دعا کے بارے کہ ”اے اللہ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت عطا فرما۔“ ④ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے رائے کے اعتبار سے کہ انہوں نے ہی سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، هاشم بن القاسم سمع من المسعودي بعد اختلاطه، وأبو نهشل مجهول.
حدیث نمبر: 4363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي ، يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب میرے بعد ایسے امراء بھی آئیں گے جو ایسی باتیں کہیں گے جو کریں گے نہیں، اور کریں گے وہ کام جن کا انہیں حکم نہ دیا گیا ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 50.
حدیث نمبر: 4364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ الْهِلَالِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آيَةً ، قَدْ سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا ، فَأَخَذْتُهُ ، فَجِئْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرَاهِيَةَ ، قَالَ : " كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ ، لَا تَخْتَلِفُوا " ، أَكْبَرُ عِلْمِي ، قَالَ مِسْعَرٌ : قَدْ ذَكَرَ فِيهِ : " لَا تَخْتَلِفُوا ، إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا یا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار محسوس ہوئے، اور انہوں نے فرمایا کہ ”تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے، اس لئے تم اختلاف نہ کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2610.
حدیث نمبر: 4365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ ، أَوْ احْمَرَّتْ ، فَقَالَ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " ، أَوْ " حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز عصر پڑھنے کی مہلت نہ دی، حتی کہ سورج غروب ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 628، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 4366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعِرَّانَةِ ، ازْدَحَمُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى قَوْمِهِ فَضَرَبُوهُ وَشَجُّوهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبْهَتِهِ ، وَيَقُولُ : رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي إِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبْهَتِهِ ، يَحْكِي الرَّجُلَ ، وَيَقُولُ : " رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي إِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کے متعلق بیان فرما رہے تھے جنہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ پروردگار! میری قوم کو معاف فرما دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنی پیشانی کو صاف فرما رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فَوَجَدُوا فِي شَمْلَتِهِ دِينَارَيْنِ ، فَذَكَرُوا ذَاكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَيَّتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، لوگوں کو ان کی چادر میں دو دینار ملے، انہوں نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4368
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ حَبْرٌ إِلَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَوْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ ، يَهُزُّهُنَّ ، فَيَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ . قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، تَصْدِيقًا لِقَوْلِ الْحَبْرِ ، ثُمَّ قَرَأَ : وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . . . سورة الزمر آية 67 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر، تمام درختوں کو ایک انگلی پر اور ساری نمناک مٹی کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا اور فرمائے گا کہ میں ہی حقیقی بادشاہ ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات سن کر اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . . . . .﴾» [الزمر : 67] ”انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی . . . . . ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4811، م 2786.
حدیث نمبر: 4369
حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ . . . فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ ، وَمَعْنَاهُ ، وَقَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَا نَاجِذُهُ ، تَصْدِيقًا لِقَوْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7414.
حدیث نمبر: 4370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : " رَمَى عَبْدُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ فِي بَطْنِ الْوَادِي ، قُلْتُ : إِنَّ النَّاسَ لَا يَرْمُونَ مِنْ هَاهُنَا ؟ قَالَ : هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کی، میں نے ان سے عرض کیا کہ لوگ تو یہاں سے رمی نہیں کرتے، انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1296.
حدیث نمبر: 4371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْشِي ، إِذْ مَرَّ بِصِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ ، فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرِبَتْ يَدَاكَ ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " فَقَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ : دَعْنِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ بچوں پر گزر ہوا جو کھیل رہے تھے، ان میں ابن صیاد بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں؟“ اس نے پلٹ کر پوچھا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن ماروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو تم اسے قتل کرنے پر قادر نہ ہو سکو گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2924.
حدیث نمبر: 4372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً لَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں، ان میں کوئی شخص مجھ سے جھگڑا نہیں کر سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، وَإِيَّاكُمْ وَهَوْشَاتِ الْأَسْوَاقِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو عقلمند اور معاملہ فہم لوگ ہیں انہیں نماز میں میرے قریب رہنا چاہیے، اس کے بعد ان سے ملے ہوئے لوگوں کو، اس کے بعد ان سے ملے ہوئے لوگوں کو (درجہ بدرجہ)، اور صفوں میں اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور بازاروں کی طرح مسجد میں شور و غل کرنے سے بچو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 432.
حدیث نمبر: 4374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الَّذِي كَانَ يَكُونُ فِي بَنِي دَالَانَ يَزِيدُ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى إِنْجَارٍ لَهُ يَعْنِي سَطْحًا ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : صدق الله ورسوله ، صدق الله ورسوله ، فصعدت إليه ، فقلت : يا أبا عبد الرحمن ، مالك قُلْتَ : صدق الله ورسوله ، صدق الله ورسوله ؟ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَبَّأَنَا أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنَ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، وَإِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ صَبِيحَتَهَا لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ " ، قَالَ : فَصَعِدْتُ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا ، فَقُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعقرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں صبح کے وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے ہوئے پایا، میں نے ان کی آواز سنی کہ وہ کہہ رہے تھے: اللہ نے سچ کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا، میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے پوچھا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ نے سچ کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا، اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں کے نصف میں ہوتی ہے، اور اس رات کے بعد جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ بالکل صاف ہوتا ہے، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔“ میں ابھی یہی دیکھ رہا تھا تو میں نے اسے بعینہ اسی طرح پایا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، اس لئے میں نے یہ کہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى عقرب الأسدي.
حدیث نمبر: 4375
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ . ح وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ وَمَعَهُ عَظْمٌ حَائِلٌ وَبَعْرَةٌ وَفَحْمَةٌ ، فَقَالَ : " لَا تَسْتَنْجِيَنَّ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا إِذَا خَرَجْتَ إِلَى الْخَلَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ الجن کے موقع پر جب ان کے پاس واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہڈی، کالی مٹی، مینگنی اور کوئلہ بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بیت الخلا جاؤ تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ استنجا نہ کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 45.
حدیث نمبر: 4376
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْمُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَحْمَسِيِّ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : لَقَدْ شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ أَنَا صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ رَجُلًا فَارِسًا ، قَالَ : فَقَالَ : أَبْشِرْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُون سورة المائدة آية 24 ، وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَنَكُونَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ ، وَعَنْ يَمِينِكَ ، وَعَنْ شِمَالِكَ ، وَمِنْ خَلْفِكَ ، حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا - اور مجھے ان کا ہم نشین ہونا دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب تھا - وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرکین کو بد دعائیں دے کر کہنے لگے: یا رسول اللہ! واللہ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے لڑیں گے، یہاں تک کہ اللہ آپ کو فتح عطا فرما دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3952.
حدیث نمبر: 4377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : نَزَلَتْ عَلَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا لَيْلَةَ الْحَيَّةِ ، قَالَ : فَقُلْنَا لَهُ : وَمَا لَيْلَةُ الْحَيَّةِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءٍ لَيْلًا ، خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ مِنَ الْجَبَلِ ، " فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا ، فَطَلَبْنَاهَا ، فَأَعْجَزَتْنَا ، فَقَالَ : دَعُوهَا عَنْكُمْ ، فَقَدْ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ ، كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات کا نزول سانپ والی رات میں ہوا تھا، ہم نے ان سے پوچھا کہ سانپ والی رات سے کیا مرا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غار حراء میں تھے کہ اچانک ایک سانپ پہاڑ سے نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے مار ڈالنے کا حکم دیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، ابن إسحاق صرح بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
حدیث نمبر: 4378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : وَقَفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ يَدَيْ الْجَمْرَةِ ، فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهَا ، قَالَ : هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، مَوْقِفُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَوْمَ رَمَاهَا ، قَالَ : ثُمَّ " رَمَاهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ رَمَى بِهَا ، ثُمَّ انْصَرَفَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جمرہ عقبہ کے سامنے پہنچ کر کھڑا ہو گیا، انہوں نے وہاں کھڑے ہو کر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اسی جگہ وہ ذات کھڑی ہوئی تھی جس پر رمی کرتے ہوئے سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے رہے، پھر واپس لوٹ گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق.
حدیث نمبر: 4379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، أَظُنُّهُ يَعْنِي ابْنَ فُضَيْلٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ؛ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ ، يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ ، وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ ، يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے پہلے اللہ نے جس امت میں بھی کسی نبی کو مبعوث فرمایا ہے، اس کی امت میں سے ہی اس کے حواری اور اصحاب بھی بنائے جو اس نبی کی سنت پر عمل کرتے اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے، لیکن ان کے بعد کچھ ایسے ناہل آ جاتے جو وہ بات کہتے جس پر خود عمل نہ کرتے، اور وہ کام کرتے جن کا انہیں حکم نہ دیا گیا ہوتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 50.
حدیث نمبر: 4380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي قَرِيبٍ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ ، لَيْسَ فِيهِمْ إِلَّا قُرَشِيٌّ ، لَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ صَفْحَةَ وُجُوهِ رِجَالٍ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ وُجُوهِهِمْ يَوْمَئِذٍ ، فَذَكَرُوا النِّسَاءَ ، فَتَحَدَّثُوا فِيهِنَّ ، فَتَحَدَّثَ مَعَهُمْ ، حَتَّى أَحْبَبْتُ أَنْ يَسْكُتَ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، " فَإِنَّكُمْ أَهْلُ هَذَا الْأَمْرِ ، مَا لَمْ تَعْصُوا اللَّهَ ، فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَنْ يَلْحَاكُمْ كَمَا يُلْحَى هَذَا الْقَضِيبُ " لِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ لَحَا قَضِيبَهُ ، فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُ يَصْلِدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم اسی کے قریب قریشی افراد - جن میں قریش کے علاوہ کسی قبیلے کا کوئی فرد نہ تھا - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، واللہ! میں نے مردوں کے چہروں کا روشن رخ اس دن ان لوگوں سے زیادہ حسین کبھی نہیں دیکھا، دوران گفتگو عورتوں کا تذکرہ آیا اور لوگ خواتین کے متعلق گفتگو کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ گفتگو میں شریک رہے، پھر میں نے چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سکوت اختیار فرمائیں، چنانچہ میں ان کے سامنے آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا اور تشہد (کلمہ شہادت پڑھنے) کے بعد فرمایا: ”اما بعد! اے گروہ قریش! اس حکومت کے اہل تم لوگ ہی ہو بشرطیکہ اللہ کی نافرمانی نہ کرو، جب تم اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہو جاؤگے تو اللہ تم پر ایک ایسے شخص کو مسلط کر دے گا جو تمہیں اس طرح چھیل دے گا جیسے اس ٹہنی کو چھیل دیا جاتا ہے“ - اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک ٹہنی تھی - نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھیلا تو وہ اندر سے سفید، ٹھوس اور چکنی نکل آئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، عبيد الله بن عبد الله بن عتبة لم يسمع من عم أبيه عبد الله ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عُمَيْسٍ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ، وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، إِذْ قَالَ : " لِيَقُمْ مَعِي رَجُلٌ مِنْكُمْ ، وَلَا يَقُومَنَّ مَعِي رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْغِشِّ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ " ، قَالَ : فَقُمْتُ مَعَهُ ، وَأَخَذْتُ إِدَاوَةً ، وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً ، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَعْلَى مَكَّةَ رَأَيْتُ أَسْوِدَةً مُجْتَمِعَةً ، قَالَ : فَخَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ، ثُمَّ قَالَ : " قُمْ هَاهُنَا حَتَّى آتِيَكَ " ، قَالَ : فَقُمْتُ ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ، فَرَأَيْتُهُمْ يَتَثَوَّرُونَ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَسَمَرَ مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا طَوِيلًا ، حَتَّى جَاءَنِي مَعَ الْفَجْرِ ، فَقَالَ لِي : " مَا زِلْتَ قَائِمًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ؟ " قَالَ : فَقُلْتُ له : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَلَمْ تَقُلْ لِي : " قُمْ حَتَّى آتِيَكَ ؟ ! " قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : " هَلْ مَعَكَ مِنْ وَضُوءٍ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَفَتَحْتُ الْإِدَاوَةَ ، فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ ، وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً ، فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ ، قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ ، وَمَاءٌ طَهُورٌ " ، قَالَ : ثُمَّ تَوَضَّأَ مِنْهَا ، فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي أَدْرَكَهُ شَخْصَانِ مِنْهُمْ ، قَالَا لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تَؤُمَّنَا فِي صَلَاتِنَا ، قَالَ : " فَصَفَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قُلْتُ لَهُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هَؤُلَاءِ جِنُّ نَصِيبِينَ ، جَاءُوا يَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ فِي أُمُورٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ ، وَقَدْ سَأَلُونِي الزَّادَ فَزَوَّدْتُهُمْ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : وَهَلْ عِنْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ تُزَوِّدُهُمْ إِيَّاهُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " قَدْ زَوَّدْتُهُمْ الرَّجْعَةَ ، وَمَا وَجَدُوا مِنْ رَوْثٍ وَجَدُوهُ شَعِيرًا ، وَمَا وَجَدُوهُ مِنْ عَظْمٍ وَجَدُوهُ كَاسِيًا " ، قَالَ : وَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ يُسْتَطَابَ بِالرَّوْثِ وَالْعَظْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکی دور میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثنا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ایک آدمی میرے ساتھ چلے، لیکن وہ آدمی جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی تکبر نہ ہو“، یہ سن کر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے ساتھ ایک برتن لے لیا جس میں میرے خیال کے مطابق پانی تھا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا، چلتے چلتے ہم لوگ جب مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر پہنچے تو میں نے بہت سے سیاہ فام لوگوں کا ایک جم غفیر دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط کھینچ کر مجھ سے فرمایا کہ ”تم میرے آنے تک یہیں کھڑے رہنا۔“ چنانچہ میں اپنی جگہ کھڑا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے گئے، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑے جوش و خروش کے ساتھ بڑھ رہے تھے، رات بھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ طویل گفتگو فرمائی اور فجر ہوتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے اور مجھ سے فرمانے لگے: ”اے ابن مسعود! کیا تم اس وقت سے کھڑے ہوئے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہی نے تو فرمایا تھا کہ ”میرے آنے تک یہیں کھڑے رہنا۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ ”تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اب جو میں نے برتن کھولا تو اس میں نبیذ تھی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! واللہ! میں نے جب یہ برتن لیا تھا تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ اس میں پانی ہو گا لیکن اس میں تو نبیذ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمدہ کھجور اور طہارت بخش پانی ہی تو ہے“، اور اسی سے وضو فرما لیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو دو آدمی آ گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہماری خواہش ہے کہ آپ ہماری بھی امامت فرمائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اپنے پیچھے صف میں کھڑا کر لیا اور ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فراغت ہوئی تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ کون لوگ تھے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نصیبین کے جن تھے، میرے پاس اپنے کچھ جھگڑوں کا فیصلہ کرانے کے لئے آئے تھے، انہوں نے مجھ سے زاد سفر بھی مانگا تھا جو میں نے انہیں دے دیا“، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز تھی جو آپ انہیں زاد راہ کے طور پر دے سکتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے انہیں لید دی ہے، انہیں جو بھی مینگنی ملتی ہے وہ جو بن جاتی ہے اور جو بھی ہڈی ملتی ہے اس پر گوشت آجاتا ہے۔“ اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى زيد.
حدیث نمبر: 4382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا ، فَكُنَّا نَحْفَظُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ إِيَّاهُ ، قَالَ : فَكَانَ يَقُولُ إِذَا جَلَسَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُّدِهِ ، وَإِنْ كَانَ فِي آخِرِهَا ، دَعَا بَعْدَ تَشَهُّدِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ، ثُمَّ يُسَلِّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نماز کے درمیان اور اختتام کا تشہد سکھایا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب درمیان نماز یا اختتام نماز پر اپنے بائیں سرین پر بیٹھتے تو یوں کہتے تھے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ پھر اگر نماز کا درمیان ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشہد پڑھ کر کھڑے ہو جاتے تھے، اور اگر اختتام نماز ہوتا تو تشہد کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہتے دعا مانگتے، پھر سلام پھیر دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق وقد صرح بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه.
حدیث نمبر: 4383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَنِ انْصِرَافِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَنِ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ عَنْ يَمِينِهِ كَانَ يَنْصَرِفُ ، أَوْ عَنْ يَسَارِهِ ؟ قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ حَيْثُ أَرَادَ ، كَانَ " أَكْثَرُ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ إِلَى حُجْرَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ سوال پوچھتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس جاتے تھے یا بائیں جانب سے؟ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں سے چاہتے تھے واپس چلے جاتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی اکثر بائیں جانب سے اپنے حجرات کی طرف ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق.
حدیث نمبر: 4384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْأَسْوَدَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " عَامَّةَ مَا يَنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى يَسَارِهِ إِلَى الْحُجُرَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے حجرات کی طرف واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق.