حدیث نمبر: 4305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ، قَالَ : أَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ بِيَدِي ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَعَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کلمات تشہد سکھائے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ ، فَذَكَرَا عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَبْلَ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ " ، قَالَوا : ما الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے قریب جو زمانہ ہوگا اس میں جہالت کا نزول ہوگا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ”ہرج“ کی کثرت ہوگی“، ہم نے ”ہرج“ کا معنی پوچھا تو فرمایا: ”قتل۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2672.
حدیث نمبر: 4307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَرَيْنَا لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ امْتَسَسْنَا الْأَرْضَ فَنِمْنَا وَرَعَتْ رِكَابُنَا ؟ قَالَ : فَفَعَلَ ، قَالَ : فَقَالَ : " لِيَحْرُسْنَا بَعْضُكُمْ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَقُلْتُ : أَنَا أَحْرُسُكُمْ ، قَالَ : فَأَدْرَكَنِي النَّوْمُ فَنِمْتُ ، لَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ ، وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِكَلَامِنَا ، " فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر تھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو زمین پر پڑ کر سو جائیں اور ہماری سواریاں چر سکیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ ”تم میں سے کسی کو پہرہ داری کرنی چاہئے“، میں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا لیکن مجھے بھی نیند آ گئی، اور اس وقت آنکھ کھلی جب سورج طلوع ہو چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری باتوں کی آواز سن کر بیدار ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن إن ثبت سماع عبدالرحمن من أبيه فقد سمع من أبيه شيئا يسيرا.
حدیث نمبر: 4308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ أَبِي الْوَاصِلِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لُعِنَ الْمُحِلُّ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حلالہ کرنے اور کروانے والا دونوں ملعون ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 5948، م: 2125، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الواصل.
حدیث نمبر: 4309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانُوا يَقْرَءُونَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " خَلَطْتُمْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرأت کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھ پر قرآن کو مشتبہ کر دیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م:91.
حدیث نمبر: 4311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَا وَعَمِّي بِالْهَاجِرَةِ ، قَالَ : فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، فَقُمْنَا خَلْفَهُ ، قَالَ : فَأَخَذَنِي بِيَدٍ ، وَأَخَذَ عَمِّي بِيَدٍ ، قَالَ : ثُمَّ قَدَّمَنَا حَتَّى جَعَلَ كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى نَاحِيَةٍ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً " .
مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں اپنے چچا کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے چچا کو اور ہمیں آگے کھینچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہو گیا، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 534، ابن إسحاق صرح بالتحديث فى الرواية الآتية برقم: 4386.
حدیث نمبر: 4312
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، كَانَ فِي مَمْلَكَتِهِ ، فَتَفَكَّرَ ، فَعَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ ، وَأَنَّ مَا هُوَ فِيهِ قَدْ شَغَلَهُ عَنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ ، فَتَسَرَّبَ فَانْسَابَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ قَصْرِهِ ، فَأَصْبَحَ فِي مَمْلَكَةِ غَيْرِهِ ، وَأَتَى سَاحِلَ الْبَحْرِ ، وَكَانَ بِهِ يَضْرِبُ اللَّبِنَ بِالْأَجْرِ ، فَيَأْكُلُ وَيَتَصَدَّقُ بِالْفَضْلِ ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ ، حَتَّى رَقِيَ أَمْرُهُ إِلَى مَلِكِهِمْ ، وَعِبَادَتُهُ وَفَضْلُهُ ، فَأَرْسَلَ مَلِكُهُمْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ ، فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ ، فَأَعَادَ ثُمَّ أَعَادَ إِلَيْهِ ، فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ ، وَقَالَ : مَا لَهُ وَمَالِي ؟ ! قَالَ : فَرَكِبَ الْمَلِكُ ، فَلَمَّا رَآهُ الرَّجُلُ وَلَّى هَارِبًا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْمَلِكُ رَكَضَ فِي أَثَرِهِ ، فَلَمْ يُدْرِكْهُ ، قَالَ : فَنَادَاهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ ، فَأَقَامَ حَتَّى أَدْرَكَهُ ، فَقَالَ لَهُ : مَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، صَاحِبُ مُلْكِ كَذَا وَكَذَا ، تفكرت في أمري ، فعلمت أن ما أَنَا فِيهِ مُنْقَطِعٌ ، فَإِنَّهُ قَدْ شَغَلَنِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي ، فَتَرَكْتُهُ ، وَجِئْتُ هَاهُنَا أَعْبُدُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ : مَا أَنْتَ بِأَحْوَجَ إِلَى مَا صَنَعْتَ مِنِّي ، قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ ، فَسَيَّبَهَا ، ثُمَّ تَبِعَهُ ، فَكَانَا جَمِيعًا يَعْبُدَانِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَدَعَوَا اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمَا جَمِيعًا ، قَالَ : فَمَاتَا " ، قَالَ عَبْدُ الله : لَوْ كُنْتُ بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ ، لَأَرَيْتُكُمْ قُبُورَهُمَا بِالنَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ امتوں میں تم سے پہلے ایک بادشاہ گزرا ہے جو اپنی مملکت میں رہا کرتا تھا، ایک دن وہ غور و فکر کر رہا تھا تو اسے یہ بات سمجھ آئی کہ اس کی حکومت ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی اور وہ جن کاموں میں الجھا ہوا ہے ان کی وجہ سے وہ اپنے رب کی عبادت کرنے سے محروم ہے، یہ سوچ کر ایک دن وہ رات کے وقت چپکے سے اپنے محل سے نکلا اور دوسرے ملک چلا گیا، وہاں سمندر کے کنارے رہائش اختیار کر لی اور اپنا معمول یہ بنا لیا کہ اینٹیں ڈھوتا، جو مزدوری حاصل ہوتی، اس میں سے کچھ سے کھانے کا انتظام کر لیتا اور باقی سب اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتا۔ وہ اپنے اس معمول پر ثابت قدمی سے عمل کرتا رہا، یہاں تک کہ ہوتے ہوتے یہ خبر اس ملک کے بادشاہ کو ہوئی، اس کی عبادت اور فضیلت کا حال بھی اسے معلوم ہوا تو اس ملک کے بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلا بھیجا، لیکن اس نے جانے سے انکار کر دیا، بادشاہ نے دوبارہ اس کو پیغام بھیجا لیکن اس نے پھر انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ بادشاہ کو مجھ سے کیا کام؟ بادشاہ کو پتہ چلا تو وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کی طرف روانہ ہوا، جب اس شخص نے بادشاہ کو دیکھا تو بھاگنے لگا، بادشاہ نے یہ دیکھ کر اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا لیکن اسے نہ پا سکا، بالآخر اس نے دور ہی سے اسے آواز دی کہ اے اللہ کے بندے! آپ کو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں (میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا)، چنانچہ وہ اپنی جگہ کھڑا ہو گیا اور بادشاہ اس کے پاس پہنچ گیا، بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ کون ہیں؟ اس نے کہا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، فلاں ملک کا بادشاہ تھا، میں نے اپنے متعلق ایک مرتبہ غور و فکر کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میری حکومت تو ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی اور اس حکومت کی وجہ سے میں اپنے رب کی عبادت سے محروم ہوں، اس لئے میں اپنی حکومت چھوڑ چھاڑ کر یہاں آ گیا ہوں تاکہ اپنے رب کی عبادت کر سکوں۔ وہ بادشاہ کہنے لگا کہ آپ نے جو کچھ کیا، مجھے تو اس سے بھی زیادہ ایسا کرنے کی ضرورت ہے، چنانچہ وہ اپنی سواری سے اترا، اسے جنگل میں چھوڑا اور اس کی اتباع اختیار کر لی، اور وہ دونوں اکٹھے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگے، ان دونوں نے اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ ان دونوں کو موت اکٹھی آئے، چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مصر کے اس چھوٹے سے ٹیلے پر ہوتا تو تمہیں ان دونوں کی قبریں دکھاتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی علامات ذکر فرمائی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، يزيد سمع من المسعودي بعد الاختلاط ، وعبدالرحمن لم يسمع من أبيه إلا شيئا يسيرا.
حدیث نمبر: 4313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ لِمِيقَاتِهَا " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : فَسَكَتُّ ، وَلَوْ اسْتَزَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَزَادَنِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے وقت پر نماز پڑھنا“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں مجھ سے بیان فرمائیں، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 527، م: 85، المسعودي- و إن سمع منه يزيد وأبو النضر بعد الاختلاط - متابع بشعبة فى الرواية: 4186.
حدیث نمبر: 4314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّد مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا مُسْلِمَيْنِ مَضَى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ أَوْلَادِهِمَا ، لَمْ يَبْلُغُوا حِنْثًا ، كَانُوا لَهُمَا حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : مَضَى لِي اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَاثْنَانِ " ، قَالَ : فَقَالَ أُبَيٌّ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ : مَضَى لِي وَاحِدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَوَاحِدٌ ، وَذَلِكَ فِي الصَّدْمَةِ الْأُولَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں، وہ ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ بن جائیں گے“، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے تو دو بچے آ گے بھیجے ہیں؟ فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ - جو سید القراء کے نام سے مشہور ہیں - عرض کرنے لگے کہ میرا صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب بھی یہی حکم ہے، البتہ اس چیز کا تعلق تو صدمہ کے ابتدائی لمحات سے ہے“ (کہ اس وقت کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع؟ کیونکہ بعد میں تو سب ہی صبر کر لیتے ہیں)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، ولجهالة حال أبى محمد.
حدیث نمبر: 4315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَزُولُ رَحَى الْإِسْلَامِ عَلَى رَأْسِ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ ، أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ ، فَإِنْ هَلَكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ ، وَإِنْ بَقُوا بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ سَبْعِينَ عَامًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام کی چکی پئنتیس (35)، چھتیس (36) یا سئنتیس (37) سال تک گھومتی رہے گی، اس کے بعد اگر مسلمان ہلاک ہوئے تو ہلاک ہونے والوں کی راہ پر چلے جائیں گے اور اگر باقی بچ گئے تو ستر سال تک ان کا دین باقی رہے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 4316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَبِي شُعْبَةُ رَفَعَهُ ، وَأَنَا لَا أَرْفَعُهُ لَكَ ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ سورة الحج آية 25 ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا هَمَّ فِيهِ بِإِلْحَادٍ وَهُوَ بِعَدَنِ أَبْيَنَ ، لَأَذَاقَهُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی: «﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾» [الحج : 25] کی تفسیر میں منقول ہے کہ جو شخص حرم مکہ میں الحاد کا ارادہ کرے خواہ وہ ”عدن ابین“ میں رہتا ہو اللہ اسے دردناک عذاب ضرور چکھائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، روي مرفوعا وموقوفا، والموقوف أصح.
حدیث نمبر: 4317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ ، بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے جن امتیوں کو نہیں دیکھا، انہیں آپ کیسے پہچانیں گے؟ فرمایا: ”ان کی پیشانیاں وضو کے آثار کی وجہ سے انتہائی روشن اور چمکدار ہوں گی جیسے چتکبرا گھوڑا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قَالَ عَبْدٌ قَطُّ إِذَا أَصَابَهُ هَمٌّ وَحَزَنٌ : اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، وَابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجِلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي ، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّهُ ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ؟ قَالَ : " أَجَلْ ، يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کو جب کبھی کوئی مصیبت یا غم لاحق ہو اور وہ یہ کلمات کہہ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت اور غم کو دور کر کے اس کی جگہ خوشی عطاء فرمائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي» ”اے اللہ! میں آپ کا غلام ابن غلام ہوں، آپ کی باندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میری ذات پر آپ ہی کا حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق آپ کا فیصلہ عدل و انصاف والا ہے، میں آپ کو آپ کے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو آپ نے اپنے لئے خود تجویز کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ آپ قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور، غم میں روشنی اور پریشانی کی دوری کا ذریعہ بنا دیں“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم اس دعا کو سیکھ لیں؟ فرمایا: ”کیوں نہیں، جو بھی اس دعا کو سنے اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے سیکھ لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كما قال الدارقطني فى العدل 5 / 201 ، أبو سلمة الجهني لم يتبين لأئمة الجرح والتعديل من هو، فهو فى عداد المجهولين.
حدیث نمبر: 4319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَسْرُوقًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، وَنَهَيْتُكُمْ أَنْ تَحْبِسُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ فَانْبِذُوا فِيهَا ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تمہیں پہلے قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اجازت دیتا ہوں لہذا تم قبرستان جایا کرو، میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع کیا تھا، اب رکھ سکتے ہو، نیز میں نے تمہیں مختلف برتنوں کے استعمال سے روکا تھا، اب تم اسے نبیذ پینے کے لئے استعمال کر سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے بچتے رہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف فرقد، وجابر بن يزيد، لعله الجعفي، وهو ضعيف أيضا، وله شاهد من حديث بريدة عند مسلم: 1977.
حدیث نمبر: 4320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ ، يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمین میں اللہ کے کچھ فرشتے گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ . ح وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ الْبَطِينُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : مَا أَخْطَأَنِي ، أَوْ قَلَّمَا أَخْطَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ خَمِيسًا قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ : عَشِيَّةَ خَمِيسٍ ، إِلَّا أَتَيْتُهُ ، قَالَ : فَمَا سَمِعْتُهُ لِشَيْءٍ قَطُّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فَنَكَسَ ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ ، مَحْلُولٌ أَزْرَارُ قَمِيصِهِ ، قَدْ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ ، فَقَالَ : أَوْ دُونَ ذَاكَ ، أَوْ فَوْقَ ذَاكَ ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَاكَ ، أَوْ شَبِيهًا بِذَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوا کہ جمعرات کا دن آیا ہو اور میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر نہ ہوا ہوں، اس مجلس میں میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو کبھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اس مجلس میں وہ حدیث بیان نہیں کرتے تھے)، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ اس مجلس میں ان کے منہ سے نکل گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ کہہ کر انہوں نے سر جھکا لیا، میں نے دیکھا تو وہ کھڑے ہوگئے تھے، قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے، آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور رگیں پھول گئیں اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کم فرمایا، یا زیادہ فرمایا، یا اس کے قریب قریب فرمایا، یا اس کے مشابہہ کوئی جملہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْأَحْقَافِ ، وَأَقْرَأَهَا آخَرَ ، فَخَالَفَنِي فِي آيَةٍ مِنْهَا ، فَقُلْتُ : مَنْ أَقْرَأَكَ ، قَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : لَقَدْ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تُقْرِئْنِي كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " بَلَى " ، قَالَ الْآخَرُ : أَلَمْ تُقْرِئْنِي كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " بَلَى " ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ الَّذِي عِنْدَهُ : لِيَقْرَأْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا كَمَا سَمِعَ ، فَإِنَّمَا " هَلَكَ أَوْ أُهْلِكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالِاخْتِلَافِ " ، فَمَا أَدْرِي ، أَأَمَرَهُ بِذَاكَ ، أَوْ شَيْءٍ قَالَهُ مِنْ قِبَلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورہ احقاف پڑھائی اور ایک دوسرے آدمی کو بھی پڑھائی، اس نے ایک آیت میں مجھ سے اختلاف کیا، میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، میں نے کہا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اس اس طرح پڑھائی ہے، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ نے مجھے اس اس طرح نہیں پڑھایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“، اس دوسرے آدمی نے بھی یہی پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی یہی جواب دیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ تم میں سے ہر شخص اس طرح پڑھا کرے جیسے اس نے سنا ہو کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے، مجھے معلوم نہیں کہ اسے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی تھی یا اس نے اپنے پاس سے کہی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الْجَمِيعِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلَاةً ، كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ " . قَالَ عَفَّانُ : بَلَغَنِي أَنَّ أَبَا الْعَوَّامِ وَافَقَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے، اور ہر درجہ اس کی نماز کے برابر ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4324
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ . . . مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة السدوسي لم يسمع من أبى الأحوص.
حدیث نمبر: 4325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقِيتُ امْرَأَةً فِي حُشٍّ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ ، " فَنَزَلَتْ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا سورة هود آية 114 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مدینہ منورہ کے ایک باغ میں ایک عورت سے میرا آمنا سامنا ہو گیا، میں نے مباشرت کے علاوہ اس کے ساتھ سب ہی کچھ کیا ہے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: «﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾» [هود : 114] ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2763، وهذا إسناد حسن من أجل سماك.
حدیث نمبر: 4326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : " مَنْ يَذْكُرُ مِنْكُمْ لَيْلَةَ الصَّهْبَاوَاتِ ؟ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَا ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، وَإِنَّ فِي يَدِي لَتَمَرَاتٍ أَسْتَحِرُ بِهِنَّ ، مُسْتَتِرًا مِنَ الْفَجْرِ بِمُؤْخِرَةِ رَحْلِي ، وَذَلِكَ حِينَ طَلَعَ الْقُمَيْرُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے آ کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ شب قدر کب ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے وہ رات کسے یاد ہے جو سرخ و سفید ہو رہی تھی؟“ میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے یاد ہے، میرے ہاتھ میں اس وقت کچھ کھجوریں تھیں اور میں چھپ کر اپنے کجاوے کے پچھلے حصے میں ان سے سحری کر رہا تھا اور اس وقت چاند نکلا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبن مسعود.
حدیث نمبر: 4327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ عَفَّانُ : سَمِعَهُ منْهُ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَكَاتِبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملے پر گواہ بننے والے اور اسے تحریر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ وَرُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، لَكُمْ رُبُعُهَا ، وَلِسَائِرِ النَّاسِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِهَا ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَثُلُثَهَا ؟ " قَالُوا : فَذَاكَ أَكْثَرُ ! قَالَ : " فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَالشَّطْرَ ؟ " قَالُوا : فَذَلِكَ أَكْثَرُ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ أَنْتُمْ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ ”اگر تم لوگ اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو اور باقی ساری امتیں تین چوتھائی تو کیسا رہے گا؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”اگر تم اہل جنت کا ایک تہائی ہو تو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: پہلے کی نسبت یہ تعداد زیادہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اہل جنت کا نصف ہو تو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یہ پہلے سے بھی زیادہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، جن میں سے صرف تمہاری اسی صفیں ہوں گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، عبدالرحمن - وإن لم يسمع من أبيه إلا شيئا يسيرا - متابع.
حدیث نمبر: 4329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " غُرٌّ مُحَجَّلُونَ ، بُلْقٌ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے جن امتیوں کو نہیں دیکھا، انہیں آپ کیسے پہچانیں گے؟ فرمایا: ”ان کی پیشانیاں وضو کے آثار کی وجہ سے انتہائی روشن اور چمکدار ہوں گی جیسے چتکبرا گھوڑا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً ، وَلَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں، ان میں کوئی شخص مجھ سے جھگڑا نہیں کر سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : تَكَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلِمَةً فِيهَا مَوْجِدَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ تُقِرَّنِي نَفْسِي أَنْ أَخْبَرْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَوَدِدْتُ أَنِّي افْتَدَيْتُ مِنْهَا بِكُلِّ أَهْلٍ وَمَالٍ ، فَقَالَ : " قَدْ آذَوْا مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ، أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) ثُمَّ أَخْبَرَ " أَنَّ نَبِيًّا كَذَّبَهُ قَوْمُهُ ، وَشَجُّوهُ حِينَ جَاءَهُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ ، فَقَالَ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری آدمی نے ایسی بات کہی جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غصہ کا اظہار ہوتا تھا، میرا دل نہیں مانا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دوں، کاش! میں اس بات کے بدلے اپنے اہل خانہ اور تمام مال و دولت کو فدیے کے طور پر پیش کر سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔“ پھر فرمایا کہ ”ایک نبی کو ان کی قوم نے جھٹلایا اور انہیں زخمی کیا کیونکہ وہ اللہ کے احکامات لے کر آئے تھے، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ ”پروردگار! میری قوم کو معاف فرما دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں۔“ (واقعہ طائف کی طرف اشارہ ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4332
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَسَأُنَازَعُ رِجَالًا ، فَأُغْلَبُ عَلَيْهِمْ ، فَلَأَقُولَنَّ : رَبِّ أُصَيْحَابِي ، أُصَيْحَابِي ، فَلَيُقَالَنَّ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: ”پروردگار! میرے ساتھی؟“ ارشاد ہوگا کہ ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4333
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رُبَّمَا حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَيَكْبُو ، وَيَتَغَيَّرُ لَوْنُهُ ، وَهُوَ يَقُولُ هَكَذَا ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اتنا کہتے ہی ان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور کہنے لگے: اسی طرح فرمایا، یا اس کے قریب قریب فرمایا۔ (احتیاط کی دلیل)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4334
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ دَاءٍ إِلَّا أَنْزَلَ مَعَهُ شِفَاءً وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً ، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، اس کی شفا بھی اتاری ہے، جو جان لیتا ہے سو جان لیتا ہے، اور جو ناواقف رہتا ہے سو ناواقف رہتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهمام العوذي و إن سمع من عطاء بن السائب بعد اختلاطه - متابع.
حدیث نمبر: 4335
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْحِ جَبَلٍ ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي ، وَهُمْ نِيَامٌ ، قَالَ : إِذْ مَرَّتْ بِهِ حَيَّةٌ ، فَاسْتَيْقَظْنَا ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنَعَهَا مِنْكُمْ الَّذِي مَنَعَكُمْ مِنْهَا " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) " وَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ، فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا ، فَأَخَذْتُهَا وَهِيَ رَطْبَةٌ بِفِيهِ ، أَوْ فُوهُ رَطْبٌ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی پہاڑ کے غار میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ سو رہے تھے کہ اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک سانپ گزرا، ہم بیدار ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس ذات نے تمہیں اس سے محفوظ رکھا، اسی نے اسے تم سے محفوظ رکھا۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہوئی، جسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے نکلتے ہی یاد کر لیا، ابھی وہ سورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک پر تازہ ہی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهمام العوذي - و إن سمع من عطاء بن السائب بعد اختلاطه - متابع.
حدیث نمبر: 4336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : كُنْتُ مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، قَالَ : فَوَلَّى عَنْهُ النَّاسُ ، وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالْأَنْصَارِ ، فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا ، وَلَمْ نُوَلِّهِمْ الدُّبُرَ ، وَهُمْ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةَ ، قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا ، فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ ، فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ ، فَقُلْتُ لَهُ : ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : " نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ " ، فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ ، فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ ، وَالْأَنْصَارُ ؟ " قُلْتُ : هُمْ أُولَاءِ ، قَالَ : " اهْتِفْ بِهِمْ " ، فَهَتَفْتُ بِهِمْ ، فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ ، وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، لوگ ابتدائی طور پر پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار میں سے صرف اسی آدمی ثابت قدم رہے، ہم لوگ تقریبا اسی قدم پیچھے آ گئے، ہم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی، یہ وہی لوگ تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینہ نازل فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے خچر پر سوار تھے اور آگے بڑھ رہے تھے، خچر کی رفتار تیز ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی طرف جھک گئے، میں نے عرض کیا: سر اٹھائیے، اللہ آپ کو رفعتیں عطا فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ”مجھے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر دو“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی ان کے چہروں پر دے ماری اور مشرکین کی آنکھوں میں مٹی بھر گئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین و انصار کہاں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: وہ یہ رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں آواز دو“، میں نے آواز لگائی تو وہ ہاتھوں میں ستاروں کی طرح چمکتی تلواریں لئے حاضر ہو گئے اور مشرکین پشت پھیر کر بھاگ گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالرحمن يترجح عدم سماعه هذا الخبر من أبيه.
حدیث نمبر: 4337
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ حَسَنٌ : عَنْ عَطَاءٍ ، وَقَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ حَسَنٌ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَكُونُ قَوْمٌ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا ، ثُمَّ يَرْحَمُهُمْ اللَّهُ ، فَيُخْرِجُهُمْ مِنْهَا فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ : الْحَيَوَانُ ، يُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ : الْجَهَنَّمِيُّونَ ، لَوْ ضَافَ أَحَدُهُمْ أَهْلَ الدُّنْيَا لَفَرَشَهُمْ ، وَأَطْعَمَهُمْ ، وَسَقَاهُمْ ، وَلَحَفَهُمْ ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ : وَلَزَوَّجَهُمْ ، قَالَ حَسَنٌ : لَا يَنْقُصُهُ ذَلِكَ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہنم میں ایک قوم ہو گی جو جہنم میں اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ کی مشیت ہو گی، پھر اللہ کو ان پر ترس آئے گا اور وہ انہیں جہنم سے نکال لے گا، تو یہ لوگ جنت کے قریبی حصے میں ہوں گے، پھر وہ حیوان نامی ایک نہر میں غسل کریں گے، اہل جنت انہیں جہنمی کہہ کر پکارا کریں گے، اگر ان میں سے کوئی ایک شخص ساری دنیا کے لوگوں کی دعوت کرنا چاہے تو ان کے لئے بستروں کا بھی انتطام کر لے گا، کھانے پینے کا بھی انتظام کر لے گا، اور ان کے لئے رضائیوں کو بھی مہیا کر لے گا۔“ غالبا راوی نے یہ بھی کہا کہ ”اگر ان سب کی شادی کرنا چاہے تو یہ بھی کر لے گا اور اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، حماد بن سلمة سمع من عطاء بن السائب قبل الاختلاط، وللحديث أصل من حديث أنس عند البخاري: 6559. ومن حديث جابر أيضا : 6556 .
حدیث نمبر: 4338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہیے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ ، فَرَاثَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُمْ ، فَأَعْجَبَتْنِي كَثْرَتُهُمْ ، وَهَيْئَاتُهُمْ ، قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ ؛ قَالَ حَسَنٌ : فَقَالَ : أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ لَكَ مَعَ هَؤُلَاءِ ؛ قَالَ عَفَّانُ ، وَحَسَنٌ : فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَهُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَلَا يَكْتَوُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . فَدَعَا لَهُ ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف امتیں دکھائی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے آنے میں تاخیر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”پھر مجھے میری امت دکھائی گئی، جس کی کثرت پر مجھے بہت تعجب ہوا کہ انہوں نے ہر ٹیلے اور پہاڑ کو بھر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کر دی، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، وَهُوَ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَإِذَا ابْنُ مَسْعُودٍ يُصَلِّي ، وَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ النِّسَاءَ ، فَانْتَهَى إِلَى رَأْسِ الْمِائَةِ ، فَجَعَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَدْعُو ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْأَلْ تُعْطَهْ ، اسْأَلْ تُعْطَهْ " ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ ، فَلْيَقْرَأْهُ بِقِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رضِي الله عَنْهُ لِيُبَشِّرَهُ ، وَقَالَ لَهُ : مَا سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَارِحَةَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ " ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِي الله عَنْه ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَكَ ، قَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ ، مَا سَبَقْتُهُ إِلَى خَيْرٍ قَطُّ ، إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی اور مہارت کے ساتھ اسے پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن کو اس طرح مضبوطی کے ساتھ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا تو اسے ابن ام عبد کی طرح پڑھنا چاہیے“، پھر وہ بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگو تمہیں دیا جائے گا“، انہوں نے یہ دعا مانگی: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں آپ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی فنا نہ ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں خوشخبری دینے کے لئے پہنچے تو پتہ چلا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان پر سبقت لے گئے ہیں، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ نے یہ کام کیا ہے تو آپ ویسے بھی نیکی کے کاموں میں بہت زیادہ سبقت لے جانے والے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بشواهده ، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4341
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا . . . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ، وَشِرَارُ النَّاسِ الَّذِينَ تُدْرِكُهُمْ السَّاعَةُ أَحْيَاءً ، وَالَّذِينَ يَتَّخِذُونَ قُبُورَهُمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں، اور سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو اپنی زندگی میں قیامت کا زمانہ پائیں گے، یا وہ جو قبرستان کو سجدہ گاہ بنا لیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله: «إن من البيان سحرا» صحيح لغيره، وباقي الحديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قيس.
حدیث نمبر: 4343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ ، وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ " ، ثُمّ قَالَ : أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ : إِنِّي لَأَظُنُّهُ فِي أَهْلِكَ ! فَقَالَ : لَهَا اذْهَبِي فَانْظُرِي ، فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ ، فَقَالَتْ : مَا رَأَيْتُ فِيهِمْ شَيْئًا ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ ! قَالَ : بَلَى ، قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں کو باریک کرنے والی، دوسرے کے بالوں کو اپنے ساتھ ملانے والی اور جسم گودنے والی اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو، اور میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ اس پر بنو اسد کی ایک عورت کہنے لگی کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آ کر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، البتہ مجھے قرآن میں تو یہ حکم نہیں ملتا؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
حدیث نمبر: 4344
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.