حدیث نمبر: 4265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَتَّقِ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں اپنے چہرے کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہئے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 4266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ ، أَوْ لِيُنَاوِلْهُ مِنْهُ ، فَإِنَّهُ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ ”جب تم میں سے کسی کا خادم اور نوکر کھانا لے کر آئے تو اسے چاہئے کہ سب سے پہلے اسے کچھ کھلا دے، یا اپنے ساتھ بٹھا لے، کیونکہ اس نے اس کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4267
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَقَدْ أَنْزَلَ مَعَهُ دَوَاءً ، جَهِلَهُ مِنْكُمْ مَنْ جَهِلَهُ ، وَعَلِمَهُ مِنْكُمْ مَنْ عَلِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ”اللہ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، اس کی شفا بھی اتاری ہے، جو جان لیتا ہے سو جان لیتا ہے، اور جو ناواقف رہتا ہے سو ناواقف رہتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4268
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَفْتَحُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ ثُلُثَ اللَّيْلِ الْبَاقِي ، ثُمَّ يَهْبِطُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَلَا عَبْدٌ يَسْأَلُنِي ، فَأُعْطِيَهُ ؟ حَتَّى يَسْطَعَ الْفَجْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر فرماتے ہیں: ”ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کی درخواست پوری کی جائے؟“ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا عَالَ مَنْ اقْتَصَدَ " . قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : إِلَى هُنَا قَرَأْتُ عَلَى أَبِي ، وَمِنْ هُنَا حَدَّثَنِي أَبِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میانہ روی سے چلنے والا کبھی محتاج اور تنگدست نہیں ہوتا۔“
فائدہ: امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ نے حدیث 4255 سے 4269 تک کی احادیث کے بارے فرمایا ہے کہ میں نے والد صاحب کو یہ احادیث پڑھ کر سنائی ہیں، اور اس سے آگے کی احادیث انہوں نے مجھے خود سنائی ہیں۔
فائدہ: امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ نے حدیث 4255 سے 4269 تک کی احادیث کے بارے فرمایا ہے کہ میں نے والد صاحب کو یہ احادیث پڑھ کر سنائی ہیں، اور اس سے آگے کی احادیث انہوں نے مجھے خود سنائی ہیں۔
حدیث نمبر: 4270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ سورة القمر آية 1 ، فَقَالَ : قَدْ " انْشَقَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ ، أَوْ فِلْقَتَيْنِ شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ ، فَكَانَ فِلْقَةٌ مِنْ وَرَاءِ الْجَبَلِ ، وَفِلْقَةٌ عَلَى الْجَبَلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی: «﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾» [القمر : 1] کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“
حدیث نمبر: 4271
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بِعَرَفَاتٍ ، فَخَلَا بِهِ ، فَحَدَّثَهُ ، ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا ؟ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلْقَمَةَ ، فَحَدَّثَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، فَلْيَصُمْ ، فَإِنَّ الصَّوْمَ وِجَاؤُهُ ، أَوْ وِجَاءَةٌ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عرفات کے میدان میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہو گئی، وہ ان کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ابوعبدالرحمن! کیا ہم آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کرا دیں؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بلا کر یہ حدیث بیان کی کہ ہم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”اے گروہ نوجواناں! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کر لینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ الْأَسْوَدَ ، وَعَلْقَمَةَ كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فِي الدَّارِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى هَؤُلَاءِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَصَلَّى بِهِمْ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، وَقَامَ وَسَطَهُمْ ، وَقَالَ : إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا ، فَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، وَلْيَضَعْ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ بَيْنَ فَخِذَيْهِ إِذَا رَكَعَ ، فَلْيَحْنَأْ . فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں اسود اور علقمہ تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی اور خود ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: جب تم تین آدمی ہوا کرو تو اسی طرح کیا کرو، اور جب تم تین سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک آدمی کو امامت کرنی چاہئے، اور رکوع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھ کر جھکنا چاہئے، کیونکہ وہ منطر میرے سامنے اب تک موجود ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں منتشر دیکھ رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 4273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَعَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ ، فَقَالَ : كَأَنَّكِ تُحَدِّثِينَ نَفْسَكِ بِالْبَاءَةِ ؟ ! مَا لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَنْقَضِيَ أَبْعَدُ الْأَجَلَيْنِ . فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ ، إِذَا أَتَاكِ أَحَدٌ تَرْضَيْنَهُ ، فَأْتِينِي بِهِ أَوْ قَالَ : فَأَنْبِئِينِي " ، " فَأَخْبَرَهَا أَنَّ عِدَّتَهَا قَدْ انْقَضَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سبیعہ بنت حارث کے یہاں ان کے شوہر کی وفات کے صرف پندرہ دن بعد بچے کی ولادت ہو گئی، اس دوران ابوالسنابل ان کے یہاں گئے تو کہنے لگے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تم دوسری شادی کرنا چاہتی ہو؟ جب تک تم لمبی مدت والی عدت نہیں گذار لیتیں، تمہارے لئے دوسری شادی کرنا جائز نہیں، سبیعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہیں ابوالسنابل کی بات بتائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالسنابل سے غلطی ہوئی، اگر تمہارے پاس کوئی ایسا رشتہ آئے جو تمہیں پسند ہو تو مجھے آ کر بتانا۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ ان کی عدت پوری ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 4274
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ ، وَقَالَ فِيهِ : " وَإِذَا أَتَاكِ كُفُؤٌ ، فَأْتِينِي ، أَوْ أَنْبِئِينِي " ، وَلَيْسَ فِيهِ ابْنُ مَسْعُودٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4275
وقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنِ ابْنِ عُتْبَةَ ، مُرْسَلٌ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلاً بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : الرَّجُلُ يَتَزَوَّجُ وَلَا يَفْرِضُ لَهَا ، يَعْنِي : ثُمَّ يَمُوتُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ وأَبي حسَّان الأَعرج ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : اخْتَلَفُوا إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فِي ذَلِكَ شَهْرًا أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالُوا : لَا بُدَّ مِنْ أَنْ تَقُولَ فِيهَا ؟ قَالَ : فَإِنِّي أَقْضِي لَهَا مِثْلَ صَدُقَةِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا ، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ " ، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا ، فَمِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً ، فَمِنِّي وَمِنْ الشَّيْطَانِ ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ . فَقَامَ رَهْطٌ مِنْ أَشْجَعَ ، فِيهِمْ الْجَرَّاحُ ، وَأَبُو سِنَانٍ ، فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا : بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ ، بِمِثْلِ الَّذِي قَضَيْتَ . فَفَرِحَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِذَلِكَ فَرَحًا شَدِيدًا ، حِينَ وَافَقَ قَوْلُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگوں نے آ کر یہ مسئلہ پوچھا (کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہو جائے تو کیا حکم ہے؟) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس وہ لوگ تقریبا ایک مہینے تک آتے رہے، ان کا یہی کہنا تھا کہ آپ کو اس مسئلے کا جواب ضرور دینا ہو گا، انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کر کے جس نتیجے تک پہنچا ہوں، وہ آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں، اگر میرا جواب صحیح ہوا تو اللہ کی توفیق سے ہو گا، اور اگر غلط ہوا تو وہ میری جانب سے ہو گا، اللہ، اس کے رسول اس سے بری ہیں، فیصلہ یہ ہے کہ اس عورت کو اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہو سکتا ہے، وہ دیا جائے گا، اسے میراث بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی واجب ہو گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ سن کر قبیلہ اشجع کا ایک گروہ کھڑا ہوا جن میں سیدنا جراح اور سیدنا ابوسنان رضی اللہ عنہما بھی تھے، اور کہنے لگا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسہلم نے ہماری ایک عورت کے متعلق یہی فیصلہ فرمایا ہے جس کا نام بروع بنت واشق تھا، اس پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے کہ ان کا فیصلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موافق ہو گیا۔
حدیث نمبر: 4277
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ أَبِي : وَقَرَأْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ : ح عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَعَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ فَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا ، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، قَالَ : فَاخْتَلَفُوا إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كَانَ زَوْجُهَا هِلَالَ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : ابْنَ مُرَّةَ . قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : وَكَانَ زَوْجُهَا هِلَالَ بْنَ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيَّ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگوں نے آ کر یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ . . . . . پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور اس کے شوہر کا نام ہلال بتایا۔
حدیث نمبر: 4278
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وأَبي حسَّان ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُ اخْتُلِفَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ فَمَاتَ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ : فَقَامَ الْجَرَّاحُ ، وَأَبُو سِنَانٍ ، فَشَهِدَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِيهِمْ ، فِي الْأَشْجَعِ بْنِ رَيْثٍ ، فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ الْأَشْجَعِيَّةِ وَكَانَ اسْمُ زَوْجِهَا هِلَالَ بْنَ مَرْوَانَ . قَالَ عَفَّانُ : قَضَى بِهِ فِيهِمْ ، فِي الْأَشْجَعِ بْنِ رَيْثٍ ، فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ الْأَشْجَعِيَّةِ ، وَكَانَ زَوْجُهَا هِلَالَ بْنَ مَرْوَانَ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگوں نے آ کر یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہوجائے تو کیا حکم ہے؟ . . . . . پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور اس کے شوہر کا نام ہلال بتایا۔
حدیث نمبر: 4279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنْقَضِي الْأَيَّامُ ، وَلَا يَذْهَبُ الدَّهْرُ ، حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا، یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آ جائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ ، حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ ، يَقُولُ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ ، يَقُولُ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حدیث نمبر: 4281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عَبْد الله بْنِ أَحْمَد : قَالَ أَبِي : وَقَالَ غَيْرُهُ : عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَاللَّهِ لَئِنْ وَجَدَ رَجُلٌ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِهِ فَتَكَلَّمَ لَيُجْلَدَنَّ ، وَإِنْ قَتَلَهُ لَيُقْتَلَنَّ ، وَلَئِنْ سَكَتَ لَيَسْكُتَنَّ عَلَى غَيْظٍ ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَصْبَحْتُ ، لَآتِيَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَئِنْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ لَيُجْلَدَنَّ ، وَإِنْ قَتَلَهُ لَيُقْتَلَنَّ ، وَإِنْ سَكَتَ لَيَسْكُتَنَّ عَلَى غَيْظٍ ؟ وَجَعَلَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ افْتَحْ ، اللَّهُمَّ افْتَحْ ، قَالَ : " فَنَزَلَتْ الْمُلَاعَنَةُ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ . . . سورة النور آية 6 " الْآيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعہ کے دن شام کے وقت مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری کہنے لگا: اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے اور اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کر دیتے ہو، اگر وہ زبان ہلاتا ہے تو تم اسے کوڑے مارتے ہو، اور اگر وہ سکوت اختیار کرتا ہے تو غصے کی حالت میں سکوت کرتا ہے، واللہ! اگر میں صبح کے وقت صحیح ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھ کر رہوں گا۔ چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے تو بدلے میں آپ اسے قتل کر دیتے ہیں، اگر وہ بولتا ہے تو آپ اسے کوڑے لگاتے ہیں، اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو غصے کی حالت میں خاموش رہتا ہے؟ اے اللہ! تو فیصلہ فرما، چنانچہ آیت لعان نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 4282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا ، ثُمَّ انْفَتَلَ ، فَجَعَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ يُوَشْوِشُ إِلَى بَعْضٍ ، فَقَالُوا لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْتَ خَمْسًا . فَانْفَتَلَ ، فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ، وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور فراغت کے بعد رخ پھیر لیا، لوگوں کو تشویش ہونے لگی چنانچہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا کر منہ پھیر دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر دیا اور فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہی ہوں اور جیسے تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 4283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ الْهُزَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ ، وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتوں، بال ملانے اور ملوانے والی عورتوں، حلالہ کرنے والے اور کروانے والوں، سود کھانے اور کھلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 4284
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُتَوَشِّمَةَ ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ ، وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُطْعِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتوں، بال ملانے اور ملوانے والی عورتوں، حلالہ کرنے والے اور کروانے والوں، سود کھانے اور کھلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 4285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلَوَاتُ لِوَقْتِهَا ، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک، اللہ کے راستے میں جہاد۔“
حدیث نمبر: 4286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنِّي بِالْكُوفَةِ فِي دَارِي ، إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَأَلِجُ ؟ قُلْتُ : عَلَيْكُمْ السَّلَامُ فَلِجْ ، فَلَمَّا دَخَلَ ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَيَّةُ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ ؟ ! وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ، قَالَ : طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ ، فَذَكَرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ . قَالَ : فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُحَدِّثُهُ ، قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَكُونُ فِتْنَةٌ ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ ، وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ ، وَالرَّاكِبُ خَيْرٌ مِنَ الْمُجْرِي ، قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَتَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ " ، قُلْتُ : وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ ؟ قَالَ : " حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " اكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَكَ ، وَادْخُلْ دَارَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَيَّ دَارِي ؟ قَالَ : " فَادْخُلْ بَيْتَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي ؟ قَالَ : فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ ، وَاصْنَعْ هَكَذَا ، وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ ، وَقُلْ : رَبِّيَ اللَّهُ ، حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
وابصہ اسدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ کوفہ میں اپنے گھر میں تھا کہ گھر کے دروازے پر آواز آئی: السلام علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ میں نے کہا: وعلیکم السلام! آ جائیے، دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے، میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! اس وقت ملاقات کے لئے تشریف آوری؟ وہ دوپہر کا وقت تھا (اور گرمی خوب تھی)، انہوں نے فرمایا کہ آج کا دن میرے لئے بڑا لمبا ہو گیا، میں سوچنے لگا کہ کس کے پاس جا کر باتیں کروں (تمہاے بارے خیال آیا اس لئے تمہاری طرف آ گیا)۔ پھر وہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنانے لگے اور میں انہیں سنانے لگا، اس دوران انہوں نے یہ حدیث بھی سنائی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب فتنہ کا زمانہ آنے والا ہے، اس زمانے میں سویا ہوا شخص لیٹے ہوئے سے بہتر ہو گا، لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا، چلنے والا سوار سے بہتر ہو گا اور سوار دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، اس زمانے کے تمام مقتولین جہنم میں جائیں گے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایسا کب ہو گا؟ فرمایا: ”وہ ہرج کے ایام ہوں گے“، میں نے پوچھا کہ ہرج کے ایام سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”جب انسان کو اپنے ہم نشین سے اطمینان نہ ہو“، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا زمانہ پاؤں تو آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: ”اپنے نفس اور اپنے ہاتھ کو روک لو اور اپنے گھر میں گھس جاؤ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص میرے گھر میں آ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: ”اپنے کمرے میں چلے جاؤ“، میں نے عرض کیا کہ اگر وہ میرے کمرے میں آ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: ”اپنی مسجد میں چلے جاؤ اور اس طرح کرو“، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ کی مٹھی بنا کر انگوٹھے پر رکھی اور فرمایا: ”یہ کہتے رہو کہ میرا رب اللہ ہے یہاں تک کہ اسی ایمان و عقیدے پر تمہیں موت آجائے۔“
حدیث نمبر: 4287
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بِئْسَمَا لِلرَّجُلِ أَوْ لِلْمَرْءِ أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ سُورَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، أَوْ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی آدمی کی یہ بات انتہائی بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ اسے یوں کہنا چاہئے کہ اسے فلاں آیت بھلا دی گئی ہے۔“
حدیث نمبر: 4289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 18 ، قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : " رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفْرَفًا أَخْضَرَ مِنَ الْجَنَّةِ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ " . ذَكَرَهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی: « ﴿لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى﴾ » [النجم : 18] ”بلاشبہ یقیناً اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔“ کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا ایک سبز ریشمی لباس دیکھا (جو جبرئیل علیہ السلام نے پہن رکھا تھا) اور جس نے افق کو گھیر رکھا تھا۔
حدیث نمبر: 4290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي أَخَذْتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ ، فَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا ، قَبَّلْتُهَا وَلَزِمْتُهَا ، وَلَمْ أَفْعَلْ غَيْرَ ذَلِكَ ، فَافْعَلْ بِي مَا شِئْتَ ، فَلَمْ يَقُلْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَقَدْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، لَوْ سَتَرَ عَلَى نَفْسِهِ ! قَالَ : فَأَتْبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ ، فَقَالَ : " رُدُّوهُ عَلَيَّ " ، فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ ، " فَقَرَأَ عَلَيْهِ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114 إِلَى الذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : أَلَهُ وَحْدَهُ أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے باغ میں ایک عورت مل گئی، میں نے اسے اپنی طرف گھسیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور اسے بوسہ دے دیا، اور خلوت کے علاوہ اس کے ساتھ سب ہی کچھ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، وہ آدمی چلا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اگر یہ اپنا پردہ رکھتا تو اللہ نے اس پر اپنا پردہ رکھا ہی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہیں دوڑا کر اسے دیکھا اور فرمایا: ”اسے میرے پاس بلا کر لاؤ“، چنانچہ لوگ اسے بلا لائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾» [هود : 114] ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔“ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے؟ فرمایا: ”نہیں، بلکہ میری امت کے ہر اس شخص کے لئے یہی حکم ہے جس سے ایسا عمل سرزد ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 4291
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ . . . وذكر الحديث .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعَانَ قَوْمَهُ عَلَى ظُلْمٍ ، فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الْمُتَرَدِّي يَنْزِعُ بِذَنَبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے قبیلے والوں کی کسی ایسی بات پر مدد اور حمایت کرتا ہے جو ناحق اور غلط ہو، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنوئیں میں گر پڑے، پھر اپنی دم کے سہارے کنوئیں سے باہر نکلنا چاہے۔“
حدیث نمبر: 4293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ عَرَفَةَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ، وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا الْعَشَاءَ ، ثُمَّ نَامَ ، فَلَمَّا قَالَ قَائِلٌ : طَلَعَ الْفَجْرُ ، صَلَّى الْفَجْرَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أُخِّرَتَا عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ ، أَمَّا الْمَغْرِبُ ، فَإِنَّ النَّاسَ لَا يَأْتُونَ هَاهُنَا حَتَّى يُعْتِمُوا ، وَأَمَّا الْفَجْرُ فَهَذَا الْحِينُ " ، ثُمَّ وَقَفَ ، فَلَمَّا أَسْفَرَ ، قَالَ : إِنْ أَصَابَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، دَفَعَ الْآنَ ، قَالَ : فَمَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى دَفَعَ عُثْمَانُ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے میدان عرفات سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوچ کیا، جب وہ مزدلفہ پہنچے تو وہاں پہنچ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب اور عشا کی نماز اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھائی اور درمیان میں کھانا منگوا کر کھایا اور سو گئے، جب طلوع فجر کا ابتدائی وقت ہوا تو آپ بیدار ہوئے اور منہ اندھیرے ہی فجر کی نماز پڑھ لی، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ ان دو نمازوں کو ان کے وقت سے مؤخر کر دیا تھا، مغرب کو تو اس لئے کہ لوگ یہاں رات ہی کو پہنچتے ہیں، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے، پھر انہوں نے وقوف کیا اور جب روشنی پھیل گئی تو فرمانے لگے: اگر امیر المومنین اب روانہ ہو جائیں تو وہ صحیح کریں گے، چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو گئے۔
حدیث نمبر: 4294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ مِينَاءَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَفَّسَ ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ : " نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لیلۃ الجن کے ایک واقعے میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس پھولا ہوا تھا، میں نے پوچھا: خیر تو ہے؟ فرمایا: ”اے ابن مسعود! میری تو موت قریب آ گئی تھی۔“
حدیث نمبر: 4295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أَنْظُرَ ، فَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ بُيُوتَهُمْ ، لَا يَشْهَدُونَ الْجُمُعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ جمعہ میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔“
حدیث نمبر: 4296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْجِنِّ ، تَخَلَّفَ مِنْهُمْ رَجُلَانِ ، وَقَالَا : نَشْهَدُ الْفَجْرَ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ " قُلْتُ : لَيْسَ مَعِي مَاءٌ ، وَلَكِنْ مَعِي إِدَاوَةٌ فِيهَا نَبِيذٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ ، وَمَاءٌ طَهُورٌ " ، فَتَوَضَّأَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لیلۃ الجن کے موقع پر دو آدمی ان میں سے پیچھے رہ گئے اور کہنے لگے کہ ہم فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”عبداللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس پانی تو نہیں ہے، البتہ ایک برتن میں نبیذ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ پاکیزہ کھجور بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا۔
حدیث نمبر: 4297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ ! لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي ، فَيَحْزِمُوا حَطَبًا ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ بِالنَّاسِ ، فَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ بُيُوتَهُمْ ، لَا يَشْهَدُونَ الْجُمُعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ جمعہ کی نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔“
حدیث نمبر: 4298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ مَرَّةً ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ فِيمَا فَعَلْتَ ، أَمْ ابْتَدَعْتَ ؟ قَالَ : لَمْ يَأْتِنِي أَمْرٌ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَمْ أَبْتَدِعْ ، وَلَكِنْ " أَبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا وَرَسُولُهُ أَنْ نَنْتَظِرَكَ بِصَلَاتِنَا وَأَنْتَ فِي حَاجَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
قاسم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے نماز میں تاخیر کر دی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر کھڑے ہوئے، اقامت کہی اور لوگوں کو نماز پڑھا دی، ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ نے یہ کام کیوں کیا؟ کیا آپ کے پاس اس سلسلے میں امیر المومنین کی طرف سے کوئی حکم آیا ہے یا آپ نے کوئی نئی چیز ایجاد کر لی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہ تو میرے پاس امیر المومنین کا کوئی حکم آیا ہے، اور نہ میں نے کوئی نئی چیز ایجاد کی ہے، لیکن اللہ اور اس کے رسول یہ نہیں چاہتے کہ ہم اپنی نماز کے لئے آپ کا انتظار کریں اور آپ اپنے کاموں میں مصروف رہیں۔
حدیث نمبر: 4299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، فَأَمَرَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنْ يَأْتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ ، فَجَاءَهُ بِحَجَرَيْنِ وَبِرَوْثَةٍ ، فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ ، وَقَالَ : " إِنَّهَا رِكْسٌ ، ائْتِنِي بِحَجَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ ”میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ“، میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لا سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا: ”یہ ناپاک ہے۔“
حدیث نمبر: 4300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " مَا صُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ انتیس (29) کبھی نہیں رکھے۔
حدیث نمبر: 4301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَعَكَ طَهُورٌ ؟ " قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " فَمَا هَذَا فِي الْإِدَاوَةِ ؟ " قُلْتُ : نَبِيذٌ ، قَالَ " أَرِنِيهَا تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ ، وَمَاءٌ طَهُورٌ " ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وَصَلَّى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”عبداللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس برتن میں کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نبیذ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھے دکھاؤ، یہ پینے کی چیز بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے وضو کر کے نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 4302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَسْتَخْصِي ؟ " فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ سورة المائدة آية 87 . . . الْآيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ . . .﴾» [المائدة : 87] ”اے اہل ایمان! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ سمجھو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کر رکھی ہیں۔“
حدیث نمبر: 4303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ ، وَعِشْرِينَ ابْنَ مَخَاضٍ ، وَعِشْرِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ ، وَعِشْرِينَ حِقَّةً ، وَعِشْرِينَ جَذَعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت میں بیس بنت مخاض، بیس ابن مخاض مذکر، بیس بنت لبون، بیس حقے اور بیس جذعے مقرر فرمائے ہیں۔
فائدہ: یہ فقہا کی اصطلاحات ہیں جس کے مطابق بنت مخاض یا ابن مخاض اس اونٹ کو کہتے ہیں جو دوسرے سال میں لگ جائے، بنت لبون اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تیسرے سال میں لگ جائے، حقہ چوتھے سال والی کو اور جذعہ پانچویں سال والی اونٹنی کو کہتے ہیں۔
فائدہ: یہ فقہا کی اصطلاحات ہیں جس کے مطابق بنت مخاض یا ابن مخاض اس اونٹ کو کہتے ہیں جو دوسرے سال میں لگ جائے، بنت لبون اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تیسرے سال میں لگ جائے، حقہ چوتھے سال والی کو اور جذعہ پانچویں سال والی اونٹنی کو کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ ، فَأَنَا الَّذِي رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہو جائے، اسے یقین کر لینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے، کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے طاقت نہیں رکھتا۔“
…