حدیث نمبر: 4226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آ کر لیٹتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا فرماتے: «اللّٰهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ» ”پروردگار! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ الْأَعْمَشُ : عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی شخص کے لئے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3406.
حدیث نمبر: 4228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ ، مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وعظ و نصیحت میں بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2821.
حدیث نمبر: 4229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ تَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا حَتَّى ، كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5241.
حدیث نمبر: 4230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَوَشِّمَاتِ ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ " . فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، يُقَالُ لَهَا : أُمُّ يَعْقُوبَ ، فَأَتَتْهُ ، فَقَالَتْ : قَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ ، مَا وَجَدْتُ مَا قُلْتَ ! قَالَ : مَا وَجَدْتِ : وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 ؟ فَقَالَتْ : إِنِّي لَأُرَاهُ فِي بَعْضِ أَهْلِكَ ؟ قَالَ : اذْهَبِي فَانْظُرِي ، قَالَ : فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ ، ثُمَّ جَاءَتْ ، فَقَالَتْ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ كَانَ لَهَا مَا جَامَعْنَاهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی اور نچوانے والی، جسم گودنے والی اور حسن کے لئے دانتوں کو باریک کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو، ام یعقوب نامی بنو اسد کی ایک عورت کو یہ بات پتہ چلی تو وہ ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ واللہ! میں تو دو گتوں کے درمیان جو مصحف ہے اسے خوب اچھی طرح کھنگال چکی ہوں، مجھے تو اس میں یہ حکم کہیں نہیں ملا؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس میں تمہیں یہ آیت ملی: «﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾» [الحشر : 7] ”اللہ کے پیغمبر تمہیں جو حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ“؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ وہ عورت کہنے لگے کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آکر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، انہوں نے فرمایا: اگر ایسا ہوتا تو میری بیوی میرے ساتھ نہ رہ سکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
حدیث نمبر: 4231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً ، وَقُلْتُ أُخْرَى ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ ، شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ " .وَقُلْتُ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ ”جو شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔“ اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1238، م: 92.
حدیث نمبر: 4232
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : . . . فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يَجْعَلُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نِدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1238، م: 92.
حدیث نمبر: 4233
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَإِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى ، وَالتُّقَى ، وَالْعِفَّةَ ، وَالْغِنَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالْغِنَى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غنا (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2721.
حدیث نمبر: 4234
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ الْكَاهِلِيِّ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ ، فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جائیداد نہ بنایا کرو، ورنہ تم دنیا ہی میں منہمک ہو جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف.
حدیث نمبر: 4235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ النَّجْمَ ، فَسَجَدَ فِيهَا وَمَنْ مَعَهُ " ، إِلَّا شَيْخٌ كَبِيرٌ ، أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى ، أَوْ تُرَابٍ ، قَالَ : فَقَالَ بِهِ هَكَذَا ، وَضَعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ قُتِلَ كَافِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم کے آخر میں سجدہ تلاوت کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے قریش کے ایک آدمی کے جس نے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی کی طرف بڑھا کر اس پر سجدہ کر لیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعد میں میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1067، م: 576.
حدیث نمبر: 4236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً ، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ”اللہ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، اس کی شفا بھی اتاری ہے، جو جان لیتا ہے سو جان لیتا ہے اور جو ناواقف رہتا ہے سو ناواقف رہتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، سفيان الثوري سمع من عطاء بن السائب قبل اختلاطه.
حدیث نمبر: 4237
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَقِيلَ لَهُ : زِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ ! قَالَ " وَمَا ذَاكَ ؟ " قَالُوا : صَلَّيْتَ خَمْسًا ، قَالَ : " فَثَنَى رِجْلَهُ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، اور اس کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، کسی نے پوچھا: کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، کیا ہوا؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1226، م: 572.
حدیث نمبر: 4238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ، ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ ، قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ ، قَالَ : فَتَحَدَّثُوا بَيْنَهُمْ بِحَدِيثٍ ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمْ : أَتُرَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ ؟ ! قَالَ الْآخَرُ : يَسْمَعُ مَا رَفَعْنَا ، وَمَا خَفَضْنَا لَا يَسْمَعُ ! ! قَالَ الْآخَرُ : إِنْ كَانَ يَسْمَعُ شَيْئًا ، فَهُوَ يَسْمَعُهُ كُلَّهُ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَنَزَلَتْ : وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سورة فصلت آية 22 إِلَى قَوْلِهِ فَمَا هُمْ مِنَ الْمُعْتَبِينَ سورة فصلت آية 24 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں غلاف کعبہ سے چمٹا ہوا تھا کہ تین آدمی آئے، ان میں سے ایک ثقفی تھا اور دو قبیلہ قریش کے جو اس کے داماد تھے، ان کے پیٹ میں چربی زیادہ تھی لیکن دلوں میں سمجھ بوجھ بہت کم تھی، وہ چپکے چپکے باتیں کرنے لگے جنہیں میں نہ سن سکا، اتنی دیر میں ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، کیا اللہ ہماری ان باتوں کو سن رہا ہے؟ دوسرا کہنے لگا: میرا خیال ہے کہ جب ہم اونچی آواز سے باتیں کرتے ہیں تو وہ انہیں سنتا ہے اور جب ہم اپنی آوازیں بلند نہیں کرتے تو وہ انہیں نہیں سن پاتا، تیسرا کہنے لگا: اگر وہ کچھ سن سکتا ہے تو سب کچھ بھی سن سکتا ہے، میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ . . . . . فَمَا هُمْ مِنَ الْمُعْتَبِينَ﴾ » [فصلت : 22-24] ”اور تم جو چیزیں چھپاتے ہو کہ تمہارے کان، آنکھیں اور کھالیں تم پر گواہ نہ بن سکیں . . . . . تو وہ معاف کیے گئے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4817، م: 2775.
حدیث نمبر: 4238M
قَالَ : وَحَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه . . . نَحْوَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4238M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4817، م: 2775.
حدیث نمبر: 4239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمِعْتُهُ مَرَّةً رَفَعَهُ ، ثُمَّ تَرَكَهُ ، رَأَى أَمِيرًا أَوْ رَجُلًا " سَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ ، فَقَالَ : أَنَّى عَلِقَهَا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
ابومعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کسی گورنر یا عام آدمی کو دو مرتبہ سلام پھیرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تو نے اسے کہاں لٹکا دیا؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 581.
حدیث نمبر: 4240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 ، شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالُوا : أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ كَمَا تَظُنُّونَ ، إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ : يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: «﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ . . . . .﴾» [الأنعام : 82] ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا . . . . .“ تو لوگوں پر یہ بات بڑی شاق گزری اور وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے کون شخص ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا وہ مطلب نہیں ہے جو تم مراد لے رہے ہو، کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو عبد صالح (حضرت لقمان علیہ السلام) نے فرمائی تھی کہ ”پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“ اس آیت میں بھی شرک ہی مراد ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6937، م: 124.
حدیث نمبر: 4241
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ " . وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : حَتَّى نَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا ، وَنَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " امْشُوا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَإِنَّهُ مِنَ الْهَدْيِ ، وَسُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسجد کی طرف پیدل چل کر جایا کرو کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ان کا طریقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام شيخ الأعمش.
حدیث نمبر: 4243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے وقت پر نماز پڑھنا“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد“، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 527، م: 85.
حدیث نمبر: 4244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز عشا کے بعد باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، سوائے دو آدمیوں کے، جو نماز پڑھ رہا ہو یا جو مسافر ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا أَحَدَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو مسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، سوائے تین میں سے کسی ایک صورت کے، یا تو شادی شدہ ہو کر بدکاری کرے، یا قصاصا قتل کرنا پڑے، یا وہ شخص جو اپنے دین کو ہی ترک کر دے اور جماعت سے جدا ہو جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1676.
حدیث نمبر: 4246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ ، وَهُوَ صَرِيعٌ ، وَهُوَ يَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ بِسَيْفٍ لَهُ ، فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ! فَقَالَ : هَلْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ؟ ! قَالَ : فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُهُ بِسَيْفٍ لِي غَيْرِ طَائِلٍ ، فَأَصَبْتُ يَدَهُ ، فَنَدَرَ سَيْفُهُ ، فَأَخَذْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِهِ ، حَتَّى قَتَلْتُهُ ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّمَا أُقَلُّ مِنَ الْأَرْضِ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ؟ " قَالَ : فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا ، قَالَ : قُلْتُ : آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ . قَالَ : فَخَرَجَ يَمْشِي مَعِي ، حَتَّى قَامَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، هَذَا كَانَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . قَالَ : وَزَادَ فِيهِ أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَنَفَّلَنِي سَيْفَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ بدر میں ابوجہل کے پاس پہنچا تو وہ زخمی پڑا ہوا تھا اور اس کی ٹانگ کٹ چکی تھی، اور وہ لوگوں کو اپنی تلوار سے دور کر رہا تھا، میں نے اس سے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اے اللہ کے دشمن! اس نے تجھے رسوا کر دیا، وہ کہنے لگا کہ کیا کسی شخص کو کبھی اس کی اپنی قوم نے بھی قتل کیا ہے؟ میں اسے اپنی تلوار سے مارنے لگا جو کند تھی، وہ اس کے ہاتھ پر لگی اور اس کی تلوار گر پڑی، میں نے اس کی تلوار پکڑ لی اور اس سے اس پر وار کیا یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کر دیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم کھا کر کہو جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں“، میں نے قسم کھا لی، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے اس کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے کہ اے اللہ کے دشمن! اس نے تجھے رسوا کر دیا، یہ اس امت کا فرعون تھا۔“ اور دوسری سند سے یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلوار مجھے انعام میں دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقُلْتُ : قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ ، قَالَ : " آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، انْطَلِقْ فَأَرِنِيهِ " ، فَانْطَلَقْنَا ، فَإِذَا بِهِ ، فَقَالَ : " هَذَا فِرْعَوْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم کھا کر کہو جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں“، میں نے قسم کھا لی، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تن تنہا تمام لشکروں کو شکست دے دی، میرے ساتھ چلو تاکہ میں بھی دیکھوں۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی لاش کے پاس تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس امت کا فرعون تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَسْأَلُوهُ ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، مَا الرُّوحُ ؟ قَالَ : فَقَامَ ، وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى عَسِيبٍ ، وَأَنَا خَلْفَهُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 " ، قَالَ : فَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَدْ قُلْنَا : لَا تَسْأَلُوهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی کھیت میں چل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لاٹھی ٹیکتے جا رہے تھے، چلتے چلتے یہودیوں کی ایک جماعت پر سے گزر ہوا، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے متعلق سوال کرو، لیکن کچھ لوگوں نے انہیں سوال کرنے سے منع کیا، الغرض! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق دریافت کیا اور کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! روح کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اپنی لاٹھی سے ٹیک لگا لی، میں سمجھ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے، چنانچہ وہ کیفیت ختم ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ » [الإسراء : 85] ”یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح تو میرے رب کا حکم ہے، اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔“ یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ہم نے کہا تھا ناں کہ ان سے مت پوچھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7456، م: 2794.
حدیث نمبر: 4249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ سُمَيَّةَ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابن سمیہ کے سامنے جب بھی دو چیزیں پیش ہوئیں تو اس نے ان دونوں میں سے اس چیز کو اختیار کیا جو زیادہ رشد و ہدایت والی ہوتی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سالم الأشجعي لم يسمع من ابن مسعود .
حدیث نمبر: 4250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَقِيتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ ، فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ وَبَاشَرْتُهَا وَقَبَّلْتُهَا ، وَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ ، غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا ؟ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : " إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 ، قَالَ : فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَهُ خَاصَّةً ، أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً ؟ فَقَالَ : " بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے باغ میں ایک عورت مل گئی، میں نے اسے اپنی طرف گھسیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور اسے بوسہ دے دیا اور خلوت کے علاوہ اس کے ساتھ سب ہی کچھ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: «﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾» [هود : 114] ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں۔یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے؟ فرمایا: ”نہیں! بلکہ میری امت کے ہر اس شخص کے لئے یہی حکم ہے جس سے ایسا عمل سرزد ہو جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2763، وهذا إسناد حسن من أجل ابن حرب.
حدیث نمبر: 4251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةٍ حَمْرَاءَ ، قَالَ : " أَلَمْ تَرْضَوْا أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " أَلَمْ تَرْضَوْا أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، عَنْ قِلَّةِ الْمُسْلِمِينَ فِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ ، مَا هُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ ، وَلَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ منیٰ کے میدان میں ہم لوگوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ رنگ کے ایک خیمے کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں! پھر پوچھا: ”کیا ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو؟“ ہم نے پھر اثبات میں جواب دیا، فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہو گے اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس دن مسلمانوں کی تعداد کم کیوں ہو گی؟ دراصل مسلمان اس دن لوگوں میں ایسے ہوں گے جیسے سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال، یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بال ہوتے ہیں، اور جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو مسلمان ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6642، م: 221.
حدیث نمبر: 4252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ فُلْفُلَةَ الْجُعْفِيِّ ، قَالَ : فَزِعْتُ فِيمَنْ فَزِعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فِي الْمَصَاحِفِ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّا لَمْ نَأْتِكَ زَائِرِينَ ، وَلَكِنْ جِئْنَاكَ حِينَ رَاعَنَا هَذَا الْخَبَرُ ! ! فَقَالَ : إِنَّ " الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ ، عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، أَوْ قَالَ : حُرُوفٍ ، وَإِنَّ الْكِتَابَ قبله كان ينزل من باب واحد ، على حرف واحد " .
مولانا ظفر اقبال
فلفلہ جعفی کہتے ہیں کہ مصاحف قرآنی کے حوالے سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گھبرا کر جو لوگ حاضر ہوئے تھے، ان میں میں بھی تھا، ہم ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ہم میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ ہم اس وقت آپ کی زیارت کے لئے حاضر نہیں ہوئے، ہم تو یہ خبر سن کر (کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے تیار کردہ نسخوں کے علاوہ قرآن کریم کے باقی تمام نسخے تلف کر دئیے جائیں) گھبرائے ہوئے آپ کے پاس آئے ہیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ قرآن تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سات دروازوں سے سات حروف (قراءتوں) پر اترا ہے، جبکہ اس سے پہلے کی کتابیں ایک دروازے سے ایک حرف پر نازل ہوتی تھیں (اس لئے ہماری کتاب میں وہ گنجائش ہے جو دوسری کتابوں میں نہ تھی، لہٰذا ہمیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف.
حدیث نمبر: 4253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مَفَاتِيحَ الْغَيْبِ الْخَمْسِ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ سورة لقمان آية 34 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز کی کنجیاں دے دی گئی ہیں، سوائے پانچ چیزوں کے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿إِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ . . . . .﴾» [لقمان : 34] ”قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے . . . . .“۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد يحتمل التحسين.
حدیث نمبر: 4254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعَوْتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ ، وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ ، لَا يَتَقَدَّمُ مِنْهَا شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ ، وَلَا يَتَأَخَّرُ مِنْهَا ، لَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُنْجِيَكِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ النَّارِ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ : هُمْ مِمَّا مُسِخَ ، أَوْ شَيْءٌ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : " لَا ، بَلْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا ، فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا وَلَا عَاقِبَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا یہ دعا کر رہی تھیں کہ اے اللہ! مجھے اپنے شوہر نامدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اپنے والد ابوسفیان اور اپنے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ دعا سن لی اور فرمایا کہ ”تم نے اللہ سے طے شدہ مدت، گنتی کے چند دن اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے وقت سے پہلے تمہیں نہیں مل سکتی اور اپنے وقت مقررہ سے مؤخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے محفوظ فرما دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2663.
حدیث نمبر: 4255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي مِنْ هَاهُنَا إِلَى الْبَلَاغِ ، فَأَقَرَّ بِهِ . حَدَّثَكُمْ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي ، فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَسَحَلَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَسْأَلُ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَلْ تُعْطَهْ ، سَلْ تُعْطَهْ ، سَلْ تُعْطَهْ " ، فَقَالَ فِيمَا سَأَلَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ . قَالَ : فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَبْدَ اللَّهِ لِيُبَشِّرَهُ ، فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ قَدْ سَبَقَهُ ، فَقَالَ : إِنْ فَعَلْتَ ، لَقَدْ كُنْتَ سَبَّاقًا بِالْخَيْرِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی اور مہارت کے ساتھ اسے پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن کو اس طرح مضبوطی کے ساتھ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا تو اسے ابن ام عبد کی طرح پڑھنا چاہیے۔“ پھر وہ بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگو تمہیں دیا جائے گا“، انہوں نے یہ دعا مانگی: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں آپ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی فنا نہ ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں خوشخبری دینے کے لئے پہنچے تو پتہ چلا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان پر سبقت لے گئے ہیں، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ نے یہ کام کیا ہے تو آپ ویسے بھی نیکی کے کاموں میں بہت زیادہ سبقت لے جانے والے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4256
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَكُمْ عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ أَبُو الْمُنْذِرِ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ حَسَنَةَ ابْنِ آدَمَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصَّوْمَ ، وَالصَّوْمُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ ، وَفَرْحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ابن آدم کی ایک نیکی کو دس گنا سے بڑھا کر سات سو گنا تک کر دے گا سوائے روزے کے کہ (اللہ فرماتا ہے) ”روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کا بدلہ خود دوں گا“، اور روزہ دار کو دو وقتوں میں زیادہ خوشی ہوتی ہے، ایک روزہ افطار کرتے وقت ہوتی ہے اور ایک خوشی قیامت کے دن ہو گی، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن مجمع ولين إبراهيم الهجري.
حدیث نمبر: 4257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَكَ عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ ، فَلْيُدْنِهِ ، فَلْيُقْعِدْهُ عَلَيْهِ ، أَوْ لِيُلْقِمْهُ ، فَإِنَّهُ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ ”جب تم میں سے کسی کا خادم اور نوکر کھانا لے کر آئے تو اسے چاہئے کہ سب سے پہلے اسے کچھ کھلا دے یا اپنے ساتھ بٹھا لے کیونکہ اس نے اس کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن مجمع السكوني و إبراهيم الهجري.
حدیث نمبر: 4258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَكَ عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ ، وَعَبَدَ الْأَصْنَامَ أَبُو خُزَاعَةَ عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جانوروں کو سب سے پہلے «سائبه» بنا کر چھوڑنے والا، اور بتوں کی پوجا کرنے والا شخص ابوخزاعہ عمرو بن عامر ہے، اور میں نے اسے جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن مجمع السكوني ولين إبراهيم الهجري.
حدیث نمبر: 4259
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَكَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : " وَعَبَدَ الْأَصْنَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى إسحاق إبراهيم بن مسلم الهجري.
حدیث نمبر: 4260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَكَ عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيْسَ بِالطَّوَّافِ الَّذِي تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، أَوْ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنْ الْمِسْكِينُ ؟ قَالَ : " الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ ، وَلَا يَجِدُ مَا يُغْنِيهِ ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ ، فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گلی گلی پھرنے والا، ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لے کر لوٹنے والا مسکین نہیں ہوتا، اصل مسکین وہ عفیف آدمی ہوتا ہے جو لوگوں سے نہ کچھ مانگتا ہے اور نہ ہی لوگوں کو اپنے ضرورت مند ہونے کا احساس ہونے دیتا ہے کہ کوئی اسے خیرات دے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن مجمع و إبراهيم الهجري.
حدیث نمبر: 4261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَكُمْ الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ : فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا ، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا ، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاتھ تین طرح کے ہوتے ہیں، اللہ کا ہاتھ سب سے اوپر ہوتا ہے، دینے والے کا ہاتھ اس کے بعد ہوتا ہے، اور لینے والے کا ہاتھ نیچے ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد، إبراهيم الهجري لين الحديث.
حدیث نمبر: 4262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَكَ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ، وَحُرْمَةُ مَالِهِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق، اور اس سے قتال کرنا کفر ہے، اور اس کے مال کی حرمت بھی ایسے ہی ہے جیسے جان کی حرمت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم الهجري لين الحديث، وعلي بن عاصم صدوق يخطئ ويصر على الخطأ.
حدیث نمبر: 4263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَهَاتَانِ الْكَعْبَتَانِ الْمَوْسُومَتَانِ ، اللَّتَانِ تُزْجَرَانِ زَجْرًا ، فَإِنَّهُمَا مَيْسِرُ الْعَجَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان گوٹیوں کے کھیلنے سے اپنے آپ کو بچاؤ (جنہیں نرد شیر، شطرنج یا بارہ ٹانی کہا جاتا ہے) جس میں علامات ہوتی ہیں اور انہیں زجر کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اہل عجم کا جوا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف.
حدیث نمبر: 4264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّوْبَةُ مِنَ الذَّنْبِ أَنْ يَتُوبَ مِنْهُ ، ثُمَّ لَا يَعُودَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گناہ سے توبہ یہ ہے کہ انسان توبہ کرنے کے بعد دوبارہ وہ گناہ نہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وقد روي مرفوعا وموقوفا، والصحيح وقفه، إبراهيم الهجري لين الحديث ، وعلي بن عاصم صدوق يخطئ ويصر على الخطأ.