حدیث نمبر: 4146
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرٌ إِلَّا : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، جَاءَتْ السَّاعَةُ ! ! قَالَ : وَكَانَ مُتَّكِئًا ، فَجَلَسَ ، فَقَالَ : إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ ، قَالَ : عَدُوًّا يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ ، وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ ، وَنَحَّى بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ ، قُلْتُ : الرُّومَ تَعْنِي ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَيَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمْ الْقِتَالِ رِدَّةٌ شَدِيدَةٌ ، قَالَ : فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجِزَ بَيْنَهُمْ اللَّيْلُ ، فَيَفِيءَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ، ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجِزَ بَيْنَهُمْ اللَّيْلُ ، فَيَفِيءَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ، ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا ، فَيَفِيءَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ، فَإِذَا كَانَ الْيَوْمُ الرَّابِعُ ، نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ ، فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً إِمَّا قَالَ : لَا يُرَى مِثْلُهَا ، وَإِمَّا قَالَ : لَمْ نَرَ مِثْلَهَا ، حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ ، فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيِّتًا ، قَالَ : فَيَتَعَادُّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً ، فَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ ، فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ ؟ أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ ؟ ! قَالَ : بَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ ، إِذْ سَمِعُوا بِنَاسٍ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : جَاءَهُمْ الصَّرِيخُ أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَ فِي ذَرَارِيِّهِمْ ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ ، وَيُقْبِلُونَ ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَسْمَاءَهُمْ ، وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ ، هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
یسیر بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی، ایک آدمی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جس کی پکار صرف یہی تھی کہ اے عبداللہ بن مسعود! قیامت قریب آ گئی؟ اس وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہ سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میراث کی تقسیم رک نہ جائے اور مال غنیمت پر کوئی خوشی نہ ہو، ایک دشمن ہو گا جو اہل اسلام کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کرے گا اور اہل اسلام ان کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کریں گے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا، میں نے پوچھا کہ آپ کی مراد رومی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! اور اس وقت نہایت سخت جنگ ہو گی اور مسلمانوں کی ایک جماعت یہ عہد کر کے نکلے گی کہ ہم لوگ مر جائیں گے لیکن غالب آئے بغیر واپس نہ آئیں گے، چنانچہ وہ جنگ کریں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان رات حائل ہو جائے گی اور دونوں لشکر واپس آ جائیں گے، جبکہ مسلمانوں کی وہ جماعت کام آ چکی ہو گی، تاہم کسی ایک لشکر کو غلبہ حاصل نہیں ہو گا۔ تین دن تک اسی طرح ہوتا رہے گا، چوتھے دن باقی ماندہ تمام مسلمان دشمن پر حملہ کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ دشمن پر شکست مسلط کر دیں گے اور اتنے آدمی قتل ہوں گے کہ اس کی نظیر نہیں ملے گی، حتی کہ اگر کوئی پرندہ ان کی نعشوں پر گزرے گا تو انہیں عبور نہیں کر سکے گا اور گر کر مر جائے گا، اس وقت اگر ایک آدمی کے سو بیٹے ہوئے تو واپسی پر ان میں سے صرف ایک باقی بچا ہو گا، تو کون سی غنیمت پر خوشی ہو گی اور کون سی میراث تقسیم ہو گی؟ اسی دوران وہ اس سے بھی ایک ہولناک خبر سنیں گے اور ایک چیخنے والا آئے گا اور کہے گا کہ ان کے پیچھے دجال ان کی اولاد میں گھس گیا، چنانچہ وہ لوگ یہ سنتے ہی اپنے پاس موجود تمام چیزوں کو پھینک دیں گے اور دجال کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس سواروں کو ہر اول دستہ کے طور پر بھیج دیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”میں ان کے اور ان کے باپوں کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتا ہوں، وہ اس وقت زمین پر بہترین شہسوار ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 4147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ أَوْ قَالَ : نِدَاءُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ قَالَ : يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ ، وَلِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ ، ثُمَّ لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا أَوْ قَالَ : هَكَذَا حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے کیونکہ وہ اس لئے جلدی اذان دے دیتے ہیں کہ قیام اللیل کرنے والے واپس آجائیں اور سونے والے بیدار ہو جائیں (اور سحری کھا لیں)، صبح صادق اس طرح نہیں ہوتی - راوی نے اپنا ہاتھ ملا کر بلند کیا - بلکہ اس طرح ہوتی ہے۔“ راوی نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے دکھایا۔
حدیث نمبر: 4148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، أَمَا لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قُلْتَ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ ، وَقَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى ، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں، ایک انصاری کہنے لگا کہ یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضا حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے اس سے کہا: اے اللہ کے دشمن! تو نے جو بات کہی ہے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ضرور دوں گا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کر دی، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو گیا، پھر فرمایا: ”موسیٰ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔“
حدیث نمبر: 4149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ : هَلْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ ؟ فَقَالَ : مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ ، وَلَكِنَّا قَدْ فَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقُلْنَا : اغْتِيلَ ؟ اسْتُطِيرَ ؟ مَا فَعَلَ ؟ قَالَ : فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ ، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَوْ قَالَ : فِي السَّحَرِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَذَكَرُوا الَّذِي كَانُوا فِيهِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ ، فَأَتَيْتُهُمْ ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ بِنَا ، فَأَرَانِي آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ . قَالَ : وَقَالَ الشَّعْبِيُّ : سَأَلُوهُ الزَّادَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ : قَالَ عَامِرٌ : فَسَأَلُوهُ لَيْلَتَئِذٍ الزَّادَ ، وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَقَالَ : " كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا كَانَ عَلَيْهِ لَحْمًا ، وَكُلُّ بَعْرَةٍ ، أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ ، فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا ، فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا لیلۃ الجن کے موقع پر آپ میں سے کوئی صاحب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، ہم میں سے ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا، بلکہ ایک مرتبہ رات کو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا، ہم فکر مند ہو گئے کہ کہیں کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکے سے کہیں لے تو نہیں گیا؟ اور ہم پریشان تھے کہ یہ کیا ہو گیا؟ ہم نے وہ ساری رات - جو کسی بھی قوم کے لئے انتہائی پریشان کن ہو سکتی ہے - اسی طرح گذاری، جب صبح کا چہرہ دکھائی دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیں غار حراء کی جانب سے آتے ہوئے نظر آئے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی فکرمندی اور پریشانی کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میرے پاس جنات میں سے ایک جن دعوت لے کر آیا تھا، میں ان کے پاس چلا گیا اور انہیں قرآن کریم پڑھ کر سنایا، وہ مجھے لے گیا اور اس نے مجھے اپنے آثار اور اپنی آگ کے اثرات دکھائے، (امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے توشہ کی درخواست کی تھی)، وہ جزیرہ عرب کے جنات تھے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور وہ تمہارے ہاتھوں میں آ جائے، اس پر جنات کے لئے پہلے سے زیادہ گوشت آ جاتا ہے، اور ہر وہ مینگنی یا لید جو تمہارے جانور کریں، ان سے استنجا نہ کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہے۔“
حدیث نمبر: 4150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَّهُ " رَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، قَالَ : وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ ، وَمِنًي عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَالَ : هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ کو اپنے بائیں ہاتھ رکھا اور منیٰ کو دائیں ہاتھ اور فرمایا: یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 4151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَرًّا يُحَدِّثُ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِلنِّسَاءِ : " تَصَدَّقْنَ ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ : لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ أَوْ مِنْ أَعْقَلِهِنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِيمَ ؟ أَوْ لِمَ ؟ أَوْ بِمَ ؟ قَالَ : " إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو، کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو۔“ ایک عورت - جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی - کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی کرتی ہو۔“
حدیث نمبر: 4152
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، مِنْ تَيْمِ الرِّبَابِ ، مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِلنِّسَاءِ " تَصَدَّقْنَ ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " فَقَالَتْ امْرَأَةٌ ، لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فِيمَ ؟ وَبِمَ ؟ وَلِمَ ؟ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو، کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو۔“ ایک عورت - جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی - کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 4153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ : قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَقَدْ رَفَعَهُ ، قَالَ : " لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیرت مند نہیں ہو سکتا، اسی لئے اس نے ظاہری اور باطنی فحش کاموں سے منع فرمایا ہے، اور اللہ سے زیادہ تعریف کو پسند کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے، اسی لئے اس نے اپنی تعریف خود کی ہے۔“
حدیث نمبر: 4154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ ؟ لَقَدْ " عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ ، قَالَ : فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ ، سُورَتَيْنِ ، سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابووائل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) - جس کا نام نہیک بن سنان تھا - سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گھٹیا اشعار کی طرح؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں، پھر انہوں نے مفصلات کی بیس رکعتیں ذکر کیں، ہر رکعت میں دو دو سورتیں۔
حدیث نمبر: 4155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ ، قُلْتُ لِسَعْدٍ : حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ : حَتَّى يَقُومَ " . قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبَةُ : كَانَ سَعْدٌ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ ، فَقُلْتُ : حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ : حَتَّى يَقُومَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا کھڑے ہونے تک؟ فرمایا: ہاں!
حدیث نمبر: 4156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَيَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ حَجَّاجٌ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ قَالَ يَزِيدُ : جَمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ ، فَكُنْتُ فِي آخِرِ مَنْ أَتَاهُ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ ، وَمُصِيبُونَ ، وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، قَالَ يَزِيدُ : " وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جمع فرمایا، اس وقت ہم لوگ چالیس افراد تھے، میں ان میں سب سے آخر میں آیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ فتح و نصرت حاصل کرنے والے ہو، تم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے، اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرے، اچھی باتوں کا حکم کرے اور بری باتوں سے روکے، اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لینا چاہئے۔“ یزید کے بقول یہ اضافہ بھی ہے کہ ”اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔“
حدیث نمبر: 4157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَحْفَظُ لَهُ مِنْ سَامِعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو تر و تازہ رکھے جو ہم سے حدیث سن کر اسے یاد کرے، اور اسے آگے پہنچا دے، کیونکہ بہت سے سننے والوں سے زیادہ اسے محفوظ کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن تک وہ حدیث پہنچائی جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 4158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قال : حدثني شعبة ، قال حجاج ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ وَسَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " فَضْلُ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ ، خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً " ، قَالَ حَجَّاجٌ : وَلَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ لِي ، وَقَدْ رَفَعَهُ لِغَيْرِي ، قَالَ : أَنَا أَهَابُ أَنْ أَرْفَعَهُ ، لِأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَلَّمَا كَانَ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔“
حدیث نمبر: 4159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِيهِ بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُفَضِّلُ صَلَاةَ الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً ، كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے، اور ان میں سے ہر ایک درجہ اس کی نماز کی طرح ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ وَخَوَاتِمَهُ " .(حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَقَالَ : " إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، فَقُولُوا : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ ، فَلْيَدْعُ بِهِ رَبَّهُ ، عَزَّ وَجَلَّ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ ؟ " قَالَ : " هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا ، وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خیر کے جامع، افتتاحی اور اختتامی کلمات عطا فرمائے گئے تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم دو رکعتوں پر بیٹھا کرو تو یوں کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، اور اس کے بعد جو دعا اسے اچھی لگے وہ مانگے۔“ اور ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ «عضه» کیا چیز ہوتی ہے؟ اس سے مراد وہ چغلی ہوتی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے «صديق» لکھ دیا جاتا ہے، اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں اسے «كذاب» لکھ دیا جاتا ہے۔“ اور ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ '' عضہ " کیا چیز ہوتی ہے ؟ اس سے مراد وہ چغلی ہوتی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي أَحَدًا خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔“
حدیث نمبر: 4162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى ، وَالتُّقَى ، وَالْعَفَافَ ، وَالْغِنَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غنا (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 4163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ " يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ : هَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے: « ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ » [القمر : 17]۔
حدیث نمبر: 4164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ . قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ وَقَالَ مُحَمَّدٌ : عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " قَرَأَ النَّجْمَ ، فَسَجَدَ بِهَا ، وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهُ " ، غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى ، أَوْ تُرَابٍ ، فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ ، وَقَالَ : يَكْفِينِي هَذَا ! ! قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم کے آخر میں سجدہ تلاوت کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے قریش کے ایک آدمی کے جس نے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی کی طرف بڑھا کر اس پر سجدہ کر لیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعد میں، میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حدیث نمبر: 4165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا أُصَلِّي ، فَقَالَ : " سَلْ تُعْطَهْ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ " ، فَقَالَ عُمَرُ : فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، فَسَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ، وَمَا اسْتَبَقْنَا إِلَى خَيْرٍ ، إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دور ہی سے فرمایا: ”اے ابن ام عبد! مانگو تمہیں دیا جائے گا“، یہ خوشخبری مجھ تک پہنچانے میں حضرات شیخین کے درمیان مسابقت ہوئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے جس معاملے میں بھی مسابقت کی وہ اس میں سبقت لے گئے، بہرحال! انہوں نے بتایا کہ میں اس دعا کو کبھی ترک نہیں کرتا: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں آپ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی فنا نہ ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 4166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَيَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ ، قَالَ : " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قَالَ : قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " فَقُلْنَا : نَعَمْ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَمَا أَنْتُمْ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ، أَوْ الشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں چالیس کے قریب افراد بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں! پھر پوچھا: ”کیا ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو؟“ ہم نے پھر اثبات میں جواب دیا، فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہو گے، کیونکہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو مسلمان ہو، اور شرک کے ساتھ تمہاری نسبت ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال، یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بال ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 4167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : " أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرَ الْخَمْسِ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 " . قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، أَكْثَرَ مِنْ خَمْسِينَ مَرَّةً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز کی کنجیاں دے دی گئی ہیں سوائے پانچ چیزوں کے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿إِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ » [لقمان : 34] ”قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟ بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔“
حدیث نمبر: 4168
رقم الحديث: 4027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْمُجَبِّرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَاجِدٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ ، أُتِيَ بِسَارِقٍ ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ ، وَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَأَنَّكَ كَرِهْتَ قَطْعَهُ ؟ قَالَ : " وَمَا يَمْنَعُنِي ، لَا تَكُونُوا عَوْنًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ ، إِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ أَنْ يُقِيمَهُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ : وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22 " .
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْمُجَبِّرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَاجِدٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ ، أُتِيَ بِسَارِقٍ ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ ، وَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَأَنَّكَ كَرِهْتَ قَطْعَهُ ؟ قَالَ : " وَمَا يَمْنَعُنِي ، لَا تَكُونُوا عَوْنًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ ، إِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ أَنْ يُقِيمَهُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ : وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22 " .
مولانا ظفر اقبال
ابوماجد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، جس نے چوری کی تھی، لوگ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس نے چوری کی ہے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ اڑ گیا، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہوا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کے متعلق شیطان کے مددگار ثابت ہوئے، جبکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند فرماتا ہے، اور کسی حاکم کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس کے پاس حد کا کوئی مقدمہ آئے اور وہ اسے نافذ نہ کرے“، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾» [النور : 22] ”انہیں معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے تھا، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ “
حدیث نمبر: 4169
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : وَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : ذُرَّ عَلَيْهِ رَمَادٌ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر راکھ بکھری ہوئی ہو۔
حدیث نمبر: 4170
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، وَكَانَ إِمَامَ مَسْجِدِ عَلْقَمَةَ بَعْدَ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ ، فَلَا أَدْرِي أَصَلَّى ثَلَاثًا أَمْ خَمْسًا ، فَقِيلَ لَهُ : فَقَالَ : وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " ، ثُمَّ حَدَّثَ عَلْقَمَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن سوید - جو علقمہ کے بعد ان کی مسجد کے امام تھے - کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھائی، مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے تین رکعتیں پڑھائیں یا پانچ، لوگوں نے ان سے کہا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: اے اعور! تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ لوگ ٹھیک کہتے ہیں، اس پر انہوں نے سجدہ سہو کر لیا اور اس کے بعد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث سنائی۔
حدیث نمبر: 4171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عِيسَى الْأَسَدِيِّ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ ، وَمَا مِنَّا إِلَّا ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بدشگونی شرک ہے، ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے، لیکن یہ کہ اللہ اسے توکل کے ذریعے ختم کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 4172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، حَتَّى أَرَى بَيَاضَ وَجْهِهِ ، فَمَا نَسِيتُ بَعْدُ فِيمَا نَسِيتُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جو باتیں بھول گیا، سو بھول گیا، لیکن یہ بات نہیں بھولا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اختتام نماز پر دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حدیث نمبر: 4173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وسليمان ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " خَيْرُكُمْ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جس کی گواہی قسم سے آگے بڑھ جائے گی اور قسم گواہی سے آگے بڑھ جائے گی۔“
حدیث نمبر: 4174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ ، إِبْرَاهِيمُ الْقَائِلُ : لَا يَدْرِي ، عَلْقَمَةُ ، قَالَ : زَادَ أَوْ نَقَصَ ، أَوْ عَبْدُ اللَّهِ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَنَا ، فَحَدَّثْنَاهُ بِصَنِيعِهِ ، فَثَنَى رِجْلَهُ ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمُوهُ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِنْ نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي ، وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ ، فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ لِلصَّوَابِ ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيُسَلِّمْ ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس میں کچھ کمی ہو گئی یا بیشی؟ بہرحال! جب سلام پھیرا تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہو کے دو سجدے کر لئے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اگر نماز کے حوالے سے کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں ضرور متنبہ کرتا، بات یہ ہے کہ میں بھی انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول سکتا ہوں، اگر میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد کرا دیا کرو، اور تم میں سے کسی کو جب کبھی اپنی نماز میں شک پیدا ہو جائے تو وہ خوب غور کر کے محتاط رائے کو اختیار کر لے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لے۔“
حدیث نمبر: 4175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، ، أَجْلَ يُحْزِنُهُ ، وَلَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، أَجْلَ تَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا، اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔“
حدیث نمبر: 4176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَوْ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ ، وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ بِعُقُلِهِ ، أَوْ مِنْ عُقُلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی آدمی کی یہ بات انتہائی بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ اسے یوں کہنا چاہئے کہ اسے فلاں آیت بھلا دی گئی، اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا۔“
حدیث نمبر: 4177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَقُولُ : السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُولُوا : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ : السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي الْأَرْضِ وَفِي السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”یوں کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ جب تم یہ جملہ کہو گے: ”ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو“، تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شامل ہو جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَزُبَيْدٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " سِبَابُ الْمُؤْمِنِ فِسْقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " . قَالَ فِي حَدِيثِ زُبَيْدٍ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔“
حدیث نمبر: 4179
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي رُكَيْنٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ حَسَّانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَكْرَهُ عَشْرًا : الصُّفْرَةَ ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ ، وَجَرَّ الْإِزَارِ ، وَخَاتَمَ الذَّهَبِ ، أَوْ قَالَ : حَلْقَةَ الذَّهَبِ ، وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ فِي غَيْرِ مَحِلِّهَا ، وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَالتَّمَائِمَ ، وَعَزْلَ الْمَاءِ ، وَإِفْسَادَ الصَّبِيِّ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحَرِّمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے: سونے کی انگوٹھی پہننے کو، تہبند زمین پر کھینچنے کو، زرد رنگ کی خوشبو کو، سفید بالوں کے اکھیڑنے کو، پانی (مادہ منویہ) کو اس کی جگہ سے ہٹانے کو، معوذات کے علاوہ دوسری چیزوں سے جھاڑ پھونک کرنے کو، رضاعت کے ایام میں بیوی سے قربت کر کے بچے کی صحت خراب کرنے کو، لیکن ان چیزوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار نہیں دیا، نیز تعویذ لٹکانے کو اور اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے بناؤ سنگھار کرنے کو اور گوٹیوں سے کھیلنے کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 4180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَلَيُرْفَعَنَّ لِي رِجَالٌ مِنْكُمْ ، ثُمَّ لَيُخْتَلَجُنَّ دُونِي ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: ”پروردگار! میرے ساتھی؟“ ارشاد ہو گا کہ ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
حدیث نمبر: 4181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ طَيِّئٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " التَّبَقُّرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " ، فَقَالَ أَبُو جَمْرَةَ ، وَكَانَ جَالِسًا عِنْدَهُ : نَعَمْ ، حَدَّثَنِي أَخْرَمُ الطَّائِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَكَيْفَ بِأَهْلٍ بِرَاذَانَ وَأَهْلٍ بِالْمَدِينَةِ وَأَهْلِ كَذَا ؟ قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِأَبِي التَّيَّاحِ : مَا التَّبَقُّرُ ؟ فَقَالَ : الْكَثْرَةُ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ بنو طئی کے ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لوگوں میں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل و عیال اور مال کی کثرت سے منع فرمایا ہے، تو ابوحمزہ - جو اس وقت وہاں موجود اور بیٹھے ہوئے تھے - نے اس کی تصدیق کی اور اپنی سند سے بھی یہ روایت سنائی، اور آخر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ نقل کیا کہ اس شخص کا کیا ہو گا جس کے اہل خانہ «بريدان» میں رہتے ہیں، کچھ اہل خانہ مدینہ میں رہتے ہیں اور کچھ کہیں اور۔
حدیث نمبر: 4182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، وَلَكِنَّهُ أَخِي وَصَاحِبِي ، وَقَدْ اتَّخَذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں، اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔“
حدیث نمبر: 4183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامُ الْهَرْجِ ، أَيَّامٌ يَزُولُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرُ فِيهَا الْجَهْلُ " ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : الْهَرْجُ بِلِسَانِ الْحَبَشِ : الْقَتْلُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ قیامت کے قریب «هرج» کے ایام آئیں گے جن میں علم پر زوال آ جائے گا اور جہالت غالب آ جائی گی، سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ «هرج» اہل حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنِ ابْنِ الْأَخْرَمِ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ " التَّبَقُّرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ بنو طئی کے ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لوگوں میں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل و عیال اور مال کی کثرت سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 4185
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وقَالَ عَبْد اللَّهِ : كَيْفَ مَنْ لَهُ ثَلَاثَةُ أَهْلِينَ : أَهْلٌ بِالْمَدِينَةِ ، وَأَهْلٌ بِكَذَا ، وَأَهْلٌ بِكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اس شخص کا کیا ہو گا جس کے اہل خانہ تین جگہوں میں رہتے ہیں، کچھ اہل خانہ مدینہ میں رہتے ہیں، اور کچھ کہیں، اور کچھ کہیں اور۔
…