حدیث نمبر: 4106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6290، م: 2184.
حدیث نمبر: 4107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ ، فَهُوَ يَنْضَحُ الدَّمَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ ، وَيَقُولُ : " رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آج بھی وہ منظر میری نگاہوں میں محفوظ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کے متعلق بیان فرما رہے تھے جنہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ پروردگار! میری قوم کو معاف فرما دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں۔ (واقعہ طائف کی طرف اشارہ ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1792.
حدیث نمبر: 4108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا " ، وَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ يَعْنِي الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا " . قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ ، وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جھوٹ سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی راہ دکھاتا ہے، اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اسی میں غور و فکر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے «كذاب» لکھ دیا جاتا ہے، اور سچائی کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے، اور انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے «صديق» لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2607.
حدیث نمبر: 4109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً ، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا ، وَيُعَلِّمُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ ”سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطا فرمایا ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو، اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے دانائی عطا فرمائی ہو اور وہ اس کے ذریعے لوگوں کے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1409، م: 816.
حدیث نمبر: 4110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ ؟ فَقَالَ : " مَا دُونَ الْخَبَبِ ، الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَيْسَتْ بِتَابِعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دوڑنے سے کم رفتار ہو، اور جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي، وضعف يحيي بن الحارث.
حدیث نمبر: 4111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ ، وَلَطَمَ الْخُدُودَ ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے رخساروں کو پیٹے، گریبانوں کو پھاڑے اور جاہلیت کی سی پکار لگائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1298، م: 103.
حدیث نمبر: 4112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ نو جواناں! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کر لینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5066، م: 1400.
حدیث نمبر: 4113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَابٌ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَلَا نَسْتَخْصِي ؟ فَنَهَانَا ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا فِي أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى الْأَجَلِ " ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ سورة المائدة آية 87 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مخصوص وقت کے لئے کپڑوں کے عوض بھی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی تھی، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾» [المائدة : 87] ”اے اہل ایمان! اللہ نے تمہارے لئے جو پاکیزہ چیزیں حلال کر رکھی ہیں تم انہیں حرام نہ کرو، اور حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1404.
حدیث نمبر: 4114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلَالِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَوَلَدَتْ امْرَأَتُهُ ، فَاحْتُبِسَ لَبَنُهَا ، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ ، فَدَخَلَ حَلْقَهُ ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى ، فَقَالَ : فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَسَأَلَهُ ؟ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ ، إِلَّا مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ ، وَأَنْشَزَ الْعَظْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوموسی ہلالی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی سفر میں تھا، اس کی بیوی کے یہاں بچہ پیدا ہوا، اس کی چھاتیوں میں دودھ اکٹھا ہو گیا، شوہر نے اسے چوسنا شروع کر دیا اور اسی اثنا میں وہ دودھ اس کے حلق میں بھی چلا گیا، وہ شخص سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا، انہوں نے فرمایا کہ تیری بیوی تجھ پر حرام ہو گئی، پھر اس نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہی رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے جو گوشت اگائے اور ہڈیوں کو جوڑ دے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاع بين والد أبى موسى الهلالي وعبدالله بن مسعود.
حدیث نمبر: 4115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ : إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ ، فَلَا هَادِيَ لَهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ : اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102 ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1 ، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا ہے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، پھر حسب ذیل تین آیات پڑھیں: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾» [آل عمران : 102] ”اے اہل ایمان! اللہ سے اسی طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہونے کی حالت میں۔“ «﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾» [النساء : 1] ”اور اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کے بارے ڈرو، بیشک اللہ تمہارے اوپر نگران ہے۔“ «﴿اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾» [الأحزاب : 70] ”اے اہل ایمان! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود وهو متابع.
حدیث نمبر: 4116
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وأبي عُبَيْدَة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خُطْبَةَ الْحَاجَةِ . . . . فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ : " إِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4116
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه، قد تابعه أبو الأحوص.
حدیث نمبر: 4117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ ، وَاسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ ، وَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، ثُمَّ قَالَ : مِنْ هَاهُنَا ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے، اس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو دائیں جانب اور بیت اللہ کی طرف اپنا رخ کر رکھا تھا، پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: «واستقبل البيت» ، وهو شاذ الفتح: 3/ 582، والصحيح أنه جعل البيت عن يساره كما تقدم برقم: 3941.
حدیث نمبر: 4118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَقْرَأُ عَلَيْكَ ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي " ، قَالَ : فَافْتَتَحْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 ، قَالَ : نَظَرْتُ إِلَيْهِ ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے؟ فرمایا: ”ایسا ہی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں“، چنانچہ میں نے تلاوت شروع کر دی اور جب میں اس آیت پر پہنچا: «﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾» [النساء : 41] ”وہ کیسا وقت ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔“ تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4582، م: 800.
حدیث نمبر: 4119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَأَلْتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ ، وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ ، لَنْ يُعَجِّلَ شَيْئًا قَبْلَ حِلِّهِ ، أَوْ يُؤَخِّرَ شَيْئًا عَنْ حِلِّهِ ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ ، أَوْ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ، كَانَ خَيْرًا وَأَفْضَلَ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : وَذُكِرَ عِنْدَهُ أَنَّ الْقِرَدَةَ ، قَالَ مِسْعَرٌ : أُرَاهُ قَالَ : وَالْخَنَازِيرَ مِمَّا مُسِخَ ؟ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَجْعَلْ لِمَسِيخٍ نَسْلًا ، وَلَا عَقِبًا ، وَقَدْ كَانَتْ الْقِرَدَةُ أُرَاهُ قَالَ : وَالْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا یہ دعا کر رہی تھیں کہ اے اللہ! مجھے اپنے شوہر نامدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اپنے والد ابوسفیان اور اپنے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ دعا سن لی اور فرمایا کہ ”تم نے اللہ سے طے شدہ مدت، گنتی کے چند دن اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے وقت سے پہلے تمہیں نہیں مل سکتی اور اپنے وقت مقررہ سے مؤخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے محفوظ فرما دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2663.
حدیث نمبر: 4120
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ ، وَلَمْ يَشُكَّ فِي الْخَنَازِيرِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2663.
حدیث نمبر: 4121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّةٍ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ، إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ہر دوست کی دوستی سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 4122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، تَصَدَّقْنَ ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ : وَمَا لَنَا أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو۔“ ایک عورت کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو، اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی کرتی ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين لحال وائل بن مهانة، المسعودي - وهو صدوق- اختلط قبل موته، لكن سماع وكيع منه قبل الاختلاط.
حدیث نمبر: 4123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا ، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا ، ذَلِكَ بِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دنیا میں جو بھی ناحق قتل ہوتا ہے، اس کا گناہ حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) کو بھی ہوتا ہے، کیونکہ قتل کا رواج اسی نے ڈالا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 6867.
حدیث نمبر: 4124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، المعنى ، وهذا لفظ وكيع ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، أَنْ أَبَاهُ مَعْقِلَ بْنَ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيّ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، میرے والد نے پوچھا: کیا آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ندامت بھی توبہ ہے“؟ فرمایا: ہاں!
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 4125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ، قَالَ : " بَيْعُ الْمُحَفَّلَاتِ خِلَابَةٌ ، وَلَا تَحِلُّ الْخِلَابَةُ لِمُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم - جو صادق و مصدوق ہیں - نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ ”جانور کے تھنوں کو باندھ کر انہیں بھرے ہوئے تھن والا ظاہر کر کے بیچنا دھوکہ ہے، اور کسی مسلمان کے لئے دھوکہ حلال نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، وروي مرفوعا، وموقوفه هو الصحيح كما قال الدارقطني، المسعودي- وهو صدوق- اختلط قبل موته، وسمع منه وكيع قبل الاختلاط.
حدیث نمبر: 4126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، يُحَدِّثُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 64.
حدیث نمبر: 4127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، وَفِتَنًا وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَاذَا تَأْمُرُ لِمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنَّا ؟ قَالَ : " تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب تم میرے بعد ترجیحات، فتنے اور ناپسندیدہ امور دیکھو گے“، ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے؟ فرمایا: ”اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو، اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1843.
حدیث نمبر: 4128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71 ، قَالَ : " يَدْخُلُونَهَا أَوْ يَلِجُونَهَا ، ثُمَّ يَصْدُرُونَ مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ " ، قُلْتُ لَهُ : إِسْرَائِيلُ حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، هُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ كَلَامًا هَذَا مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”تم میں سے ہر شخص جہنم میں وارد ہو گا“ کا معنی ہے داخل ہو گا، بعد میں اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکل آئے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے؟ استاذ صاحب نے بتایا: جی ہاں! یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے، یا اس کے مشابہہ کوئی جملہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَوَشِّمَاتِ ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ " ، قَالَ : فَبَلَغَ امْرَأَةً فِي الْبَيْتِ ، يُقَالُ لَهَا : أُمُّ يَعْقُوبَ ، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ ؟ فَقَالَ : مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ ! فَقَالَتْ : إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ ، فَمَا وَجَدْتُهُ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ ، فَقَدْ وَجَدْتِيهِ ، أَمَا قَرَأْتِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 ؟ قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ " ، قَالَتْ : إِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ . قَالَ : اذْهَبِي فَانْظُرِي ، فَنَظَرَتْ ، فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا ، فَجَاءَتْ ، فَقَالَتْ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا ، قَالَ : لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ ، لَمْ تُجَامِعْنَا . قَالَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ يُحَدِّثُهُ ، عَنْ أُمِّ يَعْقُوبَ سَمِعَهُ مِنْهَا ، فَاخْتَرْتُ حَدِيثَ مَنْصُورٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی اور نچوانے والی، جسم گودنے والی اور حسن کے لئے دانتوں کو باریک کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو، ام یعقوب نامی ایک عورت کو یہ بات پتہ چلی تو وہ ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اس طرح کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کی روشنی میں لعنت فرمائی ہے، میں ان پر لعنت کیوں نہ کروں؟ وہ عورت کہنے لگی: واللہ! میں تو دو گتوں کے درمیان جو مصحف ہے اسے خوب اچھی طرح کھنگال چکی ہوں، مجھے تو اس میں یہ حکم کہیں نہیں ملا؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس میں تمہیں یہ آیت ملی: «﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾» [الحشر : 7] ”اللہ کے پیغمبر تمہیں جو حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ“؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ وہ عورت کہنے لگے کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آکر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، انہوں نے فرمایا: اگر ایسا ہوتا تو میری بیوی میرے ساتھ نہیں رہ سکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده الأول صحيح، خ: 5948، م: 2125.
حدیث نمبر: 4130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " ، قَالَ : وَكَانَ أَصْحَابُنَا يَضْرِبُونَا وَنَحْنُ صِبْيَانٌ عَلَى الشَّهَادَةِ وَالْعَهْدِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جس کی گواہی قسم سے آگے بڑھ جائے گی اور قسم گواہی سے آگے بڑھ جائے گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2652، م: 2533.
حدیث نمبر: 4131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَوَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ طَعَامِكَ " وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرَّةً : " أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ " ، قَالَ : ثُمَّ قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے“، سائل نے کہا: اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کر دینا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے لگے گا“، سائل نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
حدیث نمبر: 4132
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ . . . فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
حدیث نمبر: 4133
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
حدیث نمبر: 4134
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ . . . . فَذَكَرَهُ ، ثُمَّ قَرَأَ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى مُهَانًا سورة الفرقان آية 68 - 69 .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں آیت کا حوالہ بھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4761، م: 86.
حدیث نمبر: 4135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى ، وَالتُّقَى ، وَالْعِفَّةَ ، وَالْغِنَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالْغِنَى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غنا (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1721.
حدیث نمبر: 4136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 4137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا ، إِلَّا أَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ ، وَصَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَئِذٍ لِغَيْرِ مِيقَاتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بےوقت نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کو اور اسی دن کی فجر کو اپنے وقت سے آگے پیچھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289.
حدیث نمبر: 4138
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ . . . مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289.
حدیث نمبر: 4139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَهُ نَبِيًّا ، وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا " ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : كَانُوا يَرَوْنَ ، وَيَقُولُونَ إِنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ ، وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے نو مرتبہ اس بات پر قسم کھانا زیادہ پسند ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے، بہ نسبت اس کے کہ میں ایک مرتبہ قسم کھاؤں کہ وہ شہید نہیں ہوئے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا نبی بھی بنایا ہے اور انہیں شہید بھی قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا سورة النصر آية 3 قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ لَمَّا نَزَلَتْ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ نصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرنے لگے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ» ”اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه أبن مسعود.
حدیث نمبر: 4141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71 ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ كُلُّهُمْ ، ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”تم میں سے ہر شخص جہنم میں وارد ہو گا“ کی تفسیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر انسان جہنم میں داخل ہو گا، بعد میں اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکل آئے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، إسماعيل السدي، مختلف فيه، وحديثه لا يرقي إلى الصحة.
حدیث نمبر: 4142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ " ، ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذِهِ سُبُلٌ قَالَ يَزِيدُ : مُتَفَرِّقَةٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ سورة الأنعام آية 153 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا کہ ”یہ اللہ کا راستہ ہے“، پھر اس کے دائیں بائیں کچھ اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا کہ یہ ”مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہے اور ان راستوں پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے“، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾» [الأنعام : 153] ”یہ میرا سیدھا راستہ ہے سو اس کی پیروی کرو، دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ تم اللہ کے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ ، وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو اپنی زندگی میں قیامت کا زمانہ پائیں گے، یا وہ جو قبرستان کو سجدہ گاہ بنا لیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَقُومُ السَّاعَةُ ، أَوْ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”قیامت کا قیام بدترین لوگوں پر ہی ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2949.
حدیث نمبر: 4145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ ، وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ ، وَيُوصِي أَحَدُنَا بِالْحَاجَةِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ ، وَمَا حَدُثَ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ ، وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدا میں ہم لوگ نماز کے دوران بات چیت اور سلام کر لیتے تھے، اور ایک دوسرے کو ضرورت کے مطابق بتا دیتے تھے، ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے نئے پرانے خیالات نے گھیر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ جو نیا حکم دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ دوران نماز بات چیت نہ کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.