حدیث نمبر: 4066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ناپسندیدہ امور اور فتنوں کا دور شروع ہو گا“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے؟ فرمایا: ”اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔“
حدیث نمبر: 4067
قَالَ مُؤَمَّلٌ : وَجَدْتُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ ، فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ ، فَتَبَادَرْنَاهَا ، فَسَبَقَتْنَا ، فَدَخَلَتْ الْجُحْرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا " . قَالَ : وَزَادَ الْأَعْمَشُ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ : كُنَّا نَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَهِيَ رَطْبَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غار میں تھے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔“
حدیث نمبر: 4069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ : وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ، قَالَ : فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً ، إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهَا " ، فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا ، فَسَبَقَتْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ ، كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہو گئی، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے اسے تمہارے شر سے بچا لیا جیسے تمہیں اس کے شر سے بچا لیا۔“
حدیث نمبر: 4070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُخَارِقٍ الْأَحْمَسِيِّ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : لَقَدْ شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ غَيْرُهُ : مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ أَنَا صَاحِبَهُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى : فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ سورة المائدة آية 24 ، وَلَكِنْ نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ ، وَمِنْ بَيْنِ يَدَيْكَ وَمِنْ خَلْفِكَ . فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ ، وَسَرَّهُ ذَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا - اور مجھے ان کا ہم نشین ہونا دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب تھا - وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرکین کو بددعائیں دے کر کہنے لگے: یا رسول اللہ! واللہ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے لڑیں گے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ انور خوشی سے تمتما رہا تھا۔
حدیث نمبر: 4071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُرَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ لِي شُعْبَةُ : وَرَفَعَهُ ، وَلَا أَرْفَعُهُ لَكَ ، يَقُولُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ سورة الحج آية 25 ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا هَمَّ فِيهِ بِإِلْحَادٍ وَهُوَ بِعَدَنِ أَبْيَنَ ، لَأَذَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَذَابًا أَلِيمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی: «﴿وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾» [الحج : 25] کی تفسیر میں منقول ہے کہ جو شخص حرم مکہ میں الحاد کا ارادہ کرے خواہ وہ «عدن أبين» میں رہتا ہو اللہ اسے درد ناک عذاب ضرور چکھائے گا۔
حدیث نمبر: 4072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ خَمْسًا ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، فَقَالَ : " هَذِهِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ زَادَ أَوْ نَقَصَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، پھر معلوم ہونے پر سہو کے دو سجدے کر لئے اور فرمایا کہ ”یہ دو سجدے اس شخص کے لئے ہیں جسے نماز میں کسی کمی بیشی کا اندیشہ ہو۔“
حدیث نمبر: 4073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ أُتِيَ فِي ابْنَةٍ ، وَابْنَةِ ابْنٍ ، وَأُخْتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ ، قَالَ : فَجَعَلَ لِلِابْنَةِ النِّصْفَ ، وَلِلْأُخْتِ مَا بَقِيَ ، وَلَمْ يَجْعَلْ لِابْنَةِ الِابْنِ شَيْئًا ، قَالَ : فَأَتَوْا ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَأَخْبَرُوهُ ، قَالَ : فَقَالَ : لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذَنْ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ إِنْ أَخَذْتُ بِقَوْلِهِ ، وَتَرَكْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : " لِلِابْنَةِ النِّصْفُ ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ ، وَمَا بَقِيَ لِلْأُخْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی شخص کے ورثاء میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن ہو تو تقسیم وراثت کس طرح ہوگی؟ انہوں نے جواب دیا کہ کل مال کا نصف بیٹی کو مل جائے گا اور دوسرا نصف بہن کو، اور پوتی کو کچھ نہیں دیا، پھر وہ لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے وہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کا جواب بھی نقل کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں نے بھی یہی فتوی دیا تو میں گمراہ ہو جاؤں گا اور ہدایت یافتگان میں سے نہ رہوں گا، میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، بیٹی کو کل مال کا نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو ثلث مکمل ہو جائیں اور جو باقی بچے گا وہ بہن کو مل جائے گا۔
حدیث نمبر: 4074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبيه عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَأَنَّمَا كَانَ " جُلُوسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ عَلَى الرَّضْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں۔
حدیث نمبر: 4075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كُنْتَ فِي الصَّلَاةِ ، فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٍ ، وَأَكْثَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ ، تَشَهَّدْتَ ، ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ ، وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا ، ثُمَّ سَلَّمْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہیں نماز پڑھتے ہوئے یہ شک ہو جائے کہ تم نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ لیکن تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ تم نے چار رکعتیں پڑھی ہیں تو تم تشہد پڑھ لو اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لو، پھر دوبارہ تشہد پڑھ کر سلام پھیرو۔“
حدیث نمبر: 4076
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " إِذَا شَكَكْتَ فِي صَلَاتِكَ ، وَأَنْتَ جَالِسٌ ، فَلَمْ تَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّيْتَ أَمْ أَرْبَعًا ، فَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّكَ أَنَّكَ صَلَّيْتَ ثَلَاثًا ، فَقُمْ فَارْكَعْ رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلِّمْ ، ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ تَشَهَّدْ ، ثُمَّ سَلِّمْ ، وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّكَ أَنَّكَ صَلَّيْتَ أَرْبَعًا ، فَسَلِّمْ ، ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ تَشَهَّدْ ، ثُمَّ سَلِّمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہیں نماز پڑھتے ہوئے یہ شک ہو جائے کہ تم نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ تو اگر تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ تم نے تین رکعتیں پڑھیں ہیں تو کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دو اور سہو کے دو سجدے کر لو اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دو، لیکن تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ تم نے چار رکعتیں پڑھی ہیں تو تم تشہد پڑھ لو اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لو، پھر دوبارہ تشہد پڑھ کر سلام پھیرو۔“
حدیث نمبر: 4077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ ، مَوْلًى لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ " ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ ؟ قَالَ : " وَاثْنَيْنِ " ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ : قَدَّمْتُ وَاحِدًا ، قَالَ : " وَوَاحِدٌ ، وَلَكِنْ ذَاكَ فِي أَوَّلِ صَدْمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں، وہ ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ بن جائیں گے۔“ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے تو دو بچے آگے بھیجے ہیں؟ فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے۔“ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ - جو سید القراء کے نام سے مشہور ہیں - عرض کرنے لگے کہ میرا صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا بھی یہ حکم ہے لیکن اس چیز کا تعلق تو صدمہ کے ابتدائی لمحات سے ہے (کہ اس وقت کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع؟ کیونکہ بعد میں تو سب ہی صبر کرلیتے ہیں)۔“
حدیث نمبر: 4078
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، عَنْ مُحَمَّد بِنِ أَبِي مُحَمَّدٍ ، مَوْلًى لعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا اثْنَيْنِ ، وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ يَزِيدُ أَيْضًا ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : مَضَى لِي اثْنَانِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4079
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ ، مَوْلَى لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، خَالَفَا هُشَيْمًا ، فَقَالَا : أَبُو مُحَمَّدٍ ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4080
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ " شَهِدَ جِنَازَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : فَأَظْهَرُوا الِاسْتِغْفَارَ ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَنَسٌ " ، قَالَ هُشَيْمٌ : قَالَ : خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ : وَأَدْخَلُوهُ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ ، وَقَالَ : هُشَيْمٌ مَرَّةً : إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَاتَ بِالْبَصْرَةِ ، فَشَهِدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، فَأَظْهَرُوا لَهُ الِاسْتِغْفَارَ .
مولانا ظفر اقبال
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کسی انصاری کے جنازے میں شریک ہوئے، لوگوں نے وہاں بلند آواز سے استغفار کرنا شروع کر دیا لیکن سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی، دوسرے راوی کے مطابق لوگوں نے اسے قبر کی پائنتی کی جانب سے داخل کیا اور انہوں نے اس پر کوئی نکیر نہ فرمائی۔
حدیث نمبر: 4081
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ فِي جِنَازَةٍ ، " فَأَمَرَ بِالْمَيِّتِ ، فَسُلَّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کسی انصاری کے جنازے میں شریک ہوئے، ان کے حکم پر میت کو لوگوں نے قبر کی پائنتی کی جانب سے داخل کیا۔
حدیث نمبر: 4082
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : كَانَ أَنَسٌ " أَحْسَنَ النَّاسِ صَلَاةً فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفر اور حضر میں سب سے بہترین نماز پڑھنے والے سیدنا انس رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 4083
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ " يَسْتَشْرِفُ لِشَيْءٍ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو دوران نماز کسی چیز کو جھانک کر دیکھتے ہوئے پایا ہے۔
حدیث نمبر: 4084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ عبد الله . ح وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ . ح وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، الْمَعْنَى ، قَالَ : لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ يَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی شخص شیطان کو اپنی ذات پر ایک حصہ کے برابر بھی قدرت نہ دے، اور یہ نہ سمجھے کہ اس کے ذمے دائیں طرف سے ہی واپس جانا ضروری ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 4085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”یہ بہت بری بات ہے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یوں کہے کہ وہ اسے بھلا دی گئی۔“
حدیث نمبر: 4086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وسليمان ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " إِنْ أَحْسَنْتَ ، لَمْ تُؤَاخَذْ ، وَإِنْ أَسَأْتَ فِي الْإِسْلَامِ ، أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لوں تو کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر میرا مؤاخذہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، وسليمان ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ يَهُودِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، وَقَالَ : وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91 " ، قَالَ يَحْيَى : وَقَالَ فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ : تَعَجُّبًا وَتَصْدِيقًا لَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر، تمام درختوں کو ایک انگلی پر اور ساری نمناک مٹی کو ایک انگلی پر اٹھالے گا اور فرمائے گا کہ میں ہی حقیقی بادشاہ ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی یہ بات سن کر اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ » ”انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔“
حدیث نمبر: 4088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةٌ مِنَ النَّبِيِّينَ ، وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا سورة آل عمران آية 68 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کا دوسرے انبیاء میں سے کوئی نہ کوئی ولی ہوا ہے، اور میرے ولی میرے والد (جد امجد) اور میرے رب کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت مکمل تلاوت فرمائی: «﴿إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا . . .﴾» [آل عمران : 68] ”بے شک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ قریب یقینا وہی لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے . . . “
حدیث نمبر: 4089
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، حَدَّثَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ " اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ ، فَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَنْ حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ ، وَاسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ دُبُرَ كُلِّ حَصَاةٍ ، ثُمّ قَالَ : هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے، اس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو دائیں جانب اور بیت اللہ کی طرف اپنا رخ کر رکھا تھا، پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 4090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ووكيع ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، الْمَعْنَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّه " آكِلُ الرِّبَا ، وَمُوكِلُهُ ، وَشَاهِدَاهُ ، وَكَاتِبُهُ ، إِذَا عَلِمُوا بِهِ ، وَالْوَاشِمَةُ ، وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا، اسے تحریر کرنے والا اور اس کے گواہ جب کہ وہ جانتے بھی ہوں، اور حسن کے لئے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں، زکوٰۃ چھپانے والے اور ہجرت کے بعد مرتد ہو جانے والے دیہاتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قیامت کے دن تک کے لئے ملعون قرار دئیے گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 4091
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، ووكيع ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ، قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ قَالَ : أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، قَالَ وَكِيعٌ : لَيْلَةً ، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ الْمَلَكَ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ : عَمَلُهُ ، وَأَجَلُهُ ، وَرِزْقُهُ ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَكُونُ مِنْ أَهْلِهَا ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَكُونُ مِنْ أَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم - جو کہ صادق و مصدوق ہیں - نے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے کہ ”تمہاری خلقت کو شکم مادر میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ جما ہوا خون ہوتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونک دیتا ہے، پھر چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کے رزق کا، اس کی موت کا، اس کے اعمال کا اور یہ کہ یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب؟ اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، تم میں سے ایک شخص اہل جنت کی طرح اعمال کرتا رہتا ہے، جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جہنم والے اعمال کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اور ایک شخص جہنمیوں والے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور اس کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہو جاتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا ، ذَاكَ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دنیا میں جو بھی ناحق قتل ہوتا ہے، اس کا گناہ حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) کو بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل کا رواج اسی نے ڈالا تھا۔“
حدیث نمبر: 4093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4094
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا ، " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114 ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلِي هَذِهِ ؟ قَالَ : " لِمَنْ عَمِلَ مِنْ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے کسی اجنبی عورت کو بوسہ دے دیا، پھر نادم ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کفارہ دریافت کرنے کے لئے آیا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: «﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾» [هود : 114] ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بےشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں ہیں۔“ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا یہ حکم میرے ساتھ خاص ہے؟ فرمایا: ”نہیں، بلکہ میری امت کے ہر اس شخص کے لئے یہی حکم ہے جس سے ایسا عمل سرزد ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 4095
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا : " أَنَّ الرَّجُلَ يَكْذِبُ ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا ، وَأَنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے «كذاب» لکھ دیا جاتا ہے، اور انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے «صديق» لکھ دیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4096
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ " مَنْ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً وَرُبَّمَا قَالَ : شَاةً مُحَفَّلَةً فَلْيَرُدَّهَا ، وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) " وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " تَلَقِّي الْبُيُوعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص بندھے ہوئے تھنوں والا کوئی جانور خریدے اسے چاہیے کہ وہ اسے واپس کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع گندم بھی دے (تاکہ استعمال شدہ دودھ کے برابر ہو جائے)، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر سے باہر نکل کر تاجروں سے پہلے ہی مل لینے سے منع فرمایا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر سے باہر نکل کر تاجروں سے پہلے ہی مل لینے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 4097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ حَكَمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ ، إِلَّا حُبِسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ ، حَتَّى يَقِفَهُ عَلَى جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يَرْفَعَ رَأْسَهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنْ قَالَ : الْخَطَّاء ، أَلْقَاهُ فِي جَهَنَّمَ ، يَهْوِي أَرْبَعِينَ خَرِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی ثالث - جو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہو - ایسا نہیں ہے جسے قیامت کے دن روکا نہ جائے، ایک فرشتہ اسے گدی سے پکڑے ہوئے ہو گا اور جہنم پر اسے لے جا کر کھڑا کر دے گا، پھر اپنا سر اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھے گا، اگر وہاں سے ارشاد ہوا کہ یہ خطا کار ہے تو وہ فرشتہ اسے جہنم میں پھینک دے گا جہاں وہ چالیس سال تک لڑھکتا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا أَوْ لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا، یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آ جائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4099
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ، وَلَمْ يَكُنْ سَمَّى لَهَا صَدَاقًا ، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، فَلَمْ يَقُلْ فِيهَا شَيْئًا ، فَرَجَعُوا ، ثُمَّ أَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ ؟ فَقَالَ : سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي ، فَإِنْ أَصَبْتُ ، فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُوَفِّقُنِي لِذَلِكَ ، وَإِنْ أَخْطَأْتُ ، فَهُوَ مِنِّي لَهَا صَدَاقُ نِسَائِهَا ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ " ، فَقَام رَجُلٌ من أَشْجَعَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى بِذَلِكَ ، قَالَ : هَلُمَّ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ بِذَلِكَ ؟ فَشَهِدَ أَبُو الْجَرَّاحِ بِذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کسی نے آ کر یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوقت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فوری طور پر اس کا کوئی جواب نہ دیا، سائلین واپس چلے گئے، کچھ عرصے کے بعد انہوں نے دوبارہ آ کر ان سے یہی مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کر کے جس نتیجے تک پہنچا ہوں، وہ آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں، اگر میرا جواب صحیح ہوا تو اللہ کی توفیق سے ہو گا، اور اگر غلط ہوا تو وہ میری جانب سے ہو گا، فیصلہ یہ ہے کہ اس عورت کو اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہو سکتا ہے، وہ دیا جائے گا، اسے میراث بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی واجب ہوگی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ سن کر قبیلہ اشجع کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں یہی فیصلہ فرمایا ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر کوئی گواہ ہو تو پیش کرو؟ چنانچہ سیدنا ابوالجراح رضی اللہ عنہ نے اس کی شہادت دی۔
حدیث نمبر: 4100
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، الْمَعْنَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ ، فَقَالَ : هَلُمَّ شَاهِدَاكَ عَلَى هَذَا ، فَشَهِدَ أَبُو سِنَان ، وَالْجَرَّاحُ ، رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق کے معاملے میں یہی فیصلہ دیا تھا اور اس پر گواہی سیدنا ابوسنان اور سیدنا جراح رضی اللہ عنہما نے دی جو قبیلہ اشجع کے آدمی تھے۔
حدیث نمبر: 4101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ، قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ ، وَفُلَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُولُوا : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ ، وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَقُلْ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ ، أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ ، فَلْيَدْعُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، جبرئیل کو سلام ہو، میکائیل کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو اسے یوں کہنا چاہئے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو - جب وہ یہ جملہ کہہ لے گا تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شامل ہو جائے گا - میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔“
حدیث نمبر: 4102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا ، وَهُوَ خَلَقَكَ " ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ " ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ " ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے“، سائل نے کہا: اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کر دینا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے لگے گا“، سائل نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید میں یہ آیت نازل فرما دی: « ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللّٰهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا﴾ » [الفرقان : 68] ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، اور کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جسے قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہو، سوائے حق کے، اور بدکاری نہیں کرتے، جو شخص یہ کام کرے گا وہ سزا سے دو چار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وابن نمير ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ ، أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وابن نمير ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : " بَيْنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ ، قَالَ : إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نَزَلَ دُخَانٌ مِنَ السَّمَاءِ ، فَأَخَذَ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ وَأَبْصَارِهِمْ ، وَأَخَذَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ . قَالَ مَسْرُوقٌ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، وَكَانَ مُتَّكِئًا ، فَاسْتَوَى جَالِسًا ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ سُئِلَ مِنْكُمْ عَنْ عِلْمٍ هُوَ عِنْدَهُ ، فَلْيَقُلْ بِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86 ، إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا غَلَبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِنِّي بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ " ، قَالَ : فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ ، أَكَلُوا فِيهَا الْعِظَامَ وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجَهْدِ ، حَتَّى جَعَلَ أَحَدُهُمْ يَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجُوعِ ، فَقَالُوا : رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ سورة الدخان آية 12 ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : إِنَّا إِنْ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَادُوا ، فَدَعَا رَبَّهُ ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ ، فَعَادُوا ، فَانْتَقَمَ اللَّهُ مِنْهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَى قَوْلِهِ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 10 - 16 " ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَوْ كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، مَا كَشَفَ عَنْهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جامع مسجد میں ایک شخص کہہ رہا تھا کہ قیامت کے دن آسمان سے ایک دھواں اترے گا، منافقین کی آنکھوں اور کانوں کو چھین لے گا اور مسلمانوں کے سانسوں میں داخل ہو کر زکام کی کیفیت پیدا کر دے گا، میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بات بتائی، وہ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، یہ بات سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: لوگو! جو شخص کسی بات کو اچھی طرح جانتا ہو، وہ اسے بیان کر سکتا ہے، اور جسے اچھی طرح کسی بات کا علم نہ ہو، وہ کہہ دے کہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے، کیونکہ یہ بھی انسان کی دانائی کی دلیل ہے کہ وہ جس چیز کے متعلق نہیں جانتا، کہہ دے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ مذکورہ آیت کا نزول اس پس منطر میں ہوا تھا کہ جب قریش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں حد سے آگے بڑھ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے دور جیسا قحط نازل ہونے کی بددعا فرمائی، چنانچہ قریش کو قحط سالی اور مشکلات نے آ گھیرا، یہاں تک کہ وہ ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور یہ کیفیت ہو گئی کہ جب کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا ہو تو بھوک کی وجہ سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں دکھائی دیتا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ o يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ » [الدخان : 10-11] ”اس دن کا انتظار کیجئے جب آسمان پر ایک واضح دھواں آئے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا یہ دردناک عذاب ہے۔“ اس کے بعد کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بنو مضر کے لئے نزول باران کی دعا کیجئے، وہ تو ہلاک ہو رہے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا فرمائی اور یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا﴾ » [الدخان : 15] ”ہم ان سے عذاب دور کر رہے ہیں۔“ لیکن وہ خوش حالی ملنے کے بعد جب دوبارہ اپنی انہی حرکات میں لوٹ گئے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ « ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ﴾ » [الدخان : 16] ”جس دن ہم انہیں بڑی مضبوطی سے پکڑ لیں گے، ہم انتقام لینے والے ہیں۔“ اور اس سے مراد غزوہ بدر ہے، اگر وہ قیامت کا دن ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان سے اس عذاب کو دور نہ فرماتا۔
حدیث نمبر: 4105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مِنْ مُذَّكِرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے « ﴿فَهَلْ مِنْ مُذَّكِرٍ﴾ » ذال کے ساتھ پڑھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لفظ «﴿فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾» [القمر : 40] دال کے ساتھ ہے۔“
…