حدیث نمبر: 4026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ لَنَا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ ، ثُمَّ أَمْسَكَ عَنْهُ ، يَعْنِي شَرِيكٌ ، قَالَ : " الرِّبَا ، وَإِنْ كَثُرَ ، فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ إِلَى قُلٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سود جتنا مرضی بڑھتا جائے اس کا انجام ہمیشہ قلت کی طرف ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك النخعي- وإن كان سيئ الحفظ - متابع.
حدیث نمبر: 4027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَيَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً ، إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ ، أَلَا وَإِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ وَالذُّبَابِ " ، قَالَ يَزِيدُ : " الْفَرَاشِ أَوْ الذُّبَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ نے جس چیز کو بھی حرام قرار دیا ہے، وہ جانتا ہے کہ اسے تم میں سے جھانک کر دیکھنے والے دیکھیں گے، آگاہ رہو کہ میں تمہیں جہنم کی آگ میں گرنے سے بچانے کے لئے تمہاری کمر سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں ایسے گر رہے ہو جیسے پروانے گرتے ہیں یا مکھی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، أبو كامل ويزيد- و إن سمعا من المسعودي بعد الاختلاط - متابعان، و رجال الإسناد ثقات غير أن المسعودي صدوق اختلط بآخرة، ومن سمع منه ببغداد فبعد الاختلاط.
حدیث نمبر: 4028
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : الْفَرَاشِ وَالذُّبَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، المسعودي- وإن اختلط - سمع منه روح البصري قبل الاختلاط.
حدیث نمبر: 4029
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ زَمِيلَهُ يَوْمَ بَدْرٍ عَلِيٌّ ، وَأَبُو لُبَابَةَ ، فَإِذَا حَانَتْ عُقْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَا : ارْكَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ ، فَيَقُولُ : " مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي ، وَلَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 4030
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَة ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ عَلْقَمَةُ ، وَالْأَسْوَدُ عَلَى عبد الله قَالَ : إِنَّهُ سَيَلِيكُمْ أُمَرَاءُ يَشْتَغِلُونَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ، فَصَلُّوهَا لِوَقْتِهَا ، ثُمَّ قَامَ " فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ " ، ثُمّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عنقریب حکومت کی باگ دوڑ کچھ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے گی جو نماز کو اس کے وقت مقررہ سے ہٹا دیں گے، لیکن تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا، پھر کھڑے ہو کر وہ درمیان میں نماز پڑھنے لگے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 534.
حدیث نمبر: 4031
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ ، " هُوَ الشِّرْكَ ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ : لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: «﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ . . . . .﴾» [الأنعام : 82] ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا . . . . .“ تو لوگوں پر یہ بات بڑی شاق گزری اور وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم میں سے کون شخص ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا وہ مطلب نہیں ہے جو تم مراد لے رہے ہو، کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو عبد صالح (حضرت لقمان علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمائی تھی کہ ”پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک بہت بڑاظلم ہے“، اس آیت میں بھی شرک ہی مراد ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِمَّا زَادَ وَإِمَّا نَقَصَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَإِمَّا جَاءَ نِسْيَانُ ذَلِكَ مِنْ قِبَلِي ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " قُلْنَا : صَلَّيْتَ قَبْلُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " ، ثُمَّ تَحَوَّلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس میں کچھ کمی ہو گئی یا بیشی؟ بہرحال! جب سلام پھیرا تو کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا نماز کے بارے کوئی نیا حکم نازل ہو گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، کیا ہوا؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے تو اس اس طرح نماز پڑھائی ہے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہو کے دو سجدے کر لئے، پھر جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول سکتا ہوں، اور تم میں سے کسی کو جب کبھی اپنی نماز میں شک پیدا ہو جائے تو وہ خوب غور کر کے محتاط رائے کو اختیار کر لے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 572.
حدیث نمبر: 4033
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ الشَّامَ ، فَقَالَ لَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ : اقْرَأْ عَلَيْنَا ، فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَاللَّهِ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ ! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَيْحَكَ ! ! وَاللَّهِ لَقَدْ " قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا " ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتَ " ، فَبَيْنَا هُوَ يُرَاجِعُهُ ، إِذْ وَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ ، فَقَالَ : أَتَشْرَبُ الرِّجْسَ ، وَتُكَذِّبُ بِالْقُرْآنِ ؟ وَاللَّهِ لَا تُزَاوِلُنِي حَتَّى أَجْلِدَكَ ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ شام کے وقت تشریف لائے اور اہل حمص کے کچھ لوگوں کی فرمائش پر ان کے سامنے سورہ یوسف کی تلاوت فرمائی، ایک آدمی کہنے لگا کہ واللہ! یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! اللہ کی قسم میں نے یہ سورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسی طرح پڑھی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تحسین فرمائی تھی، اسی دوران وہ اس کے قریب گئے تو اس کے منہ سے شراب کی بدبو آئی، انہوں نے فرمایا کہ تو حق کی تکذیب کرتا ہے اور شراب بھی پیتا ہے؟ واللہ! میں تجھ پر حد جاری کئے بغیر تجھے نہیں چھوڑوں گا، چنانچہ انہوں نے اس پر حد جاری کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5001، م 801.
حدیث نمبر: 4034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَمَّا رَأَى عُثْمَانَ صَلَّى بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ " ، وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ ، وخلف عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ ، لَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے میدان منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، کاش! ان چار رکعتوں کی بجائے مجھے دو مقبول رکعتوں کا ہی حصہ مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1657.
حدیث نمبر: 4035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، وَعِنْدَهُ عَلْقَمَةُ ، وَالْأَسْوَدُ ، فَحَدَّثَ حَدِيثًا لَا أُرَاهُ حَدَّثَهُ إِلَّا مِنْ أَجْلِي ، كُنْتُ أَحْدَثَ الْقَوْمِ سِنًّا ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابٌ لَا نَجِدُ شَيْئًا ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نوجوان ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا، ہم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ نوجواناں! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کر لینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5066، م: 1400.
حدیث نمبر: 4036
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنِ الْعَيْزَارِ ، مِنْ تِنْعَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا وُجِّهَتْ اللَّعْنَةُ ، تَوَجَّهَتْ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ إِلَيْهِ ، فَإِنْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا ، وَوَجَدَتْ سَبِيلًا ، أحَلَّتْ بِهِ ، وَإِلَّا جَاءَتْ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَبِّ ، إِنَّ فُلَانًا وَجَّهَنِي إِلَى فُلَانٍ ، وَإِنِّي لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا ، وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ فَقَالَ : ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”جس شخص پر لعنت بھیجی گئی ہو، لعنت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اگر وہاں تک پہنچنے کا راستہ مل جائے تو وہ اس پر واقع ہو جاتی ہے، ورنہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتی ہے کہ پروردگار! مجھے فلاں شخص کی طرف متوجہ کیا گیا لیکن میں نے اس تک پہنچنے کا راستہ نہ پایا، اب کیا کروں؟ اس سے کہا جاتا ہے کہ ”جہاں سے آئی ہے وہیں واپس چلی جا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، العيزار التنعي لم يدرك ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، تَصَدَّقْنَ ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَقَامَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ ، فَقَالَتْ : بِمَ نَحْنُ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو خواہ اپنے زیور ہی میں سے کیوں نہ دو، کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو۔“ ایک عورت - جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی - کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو، اور اپنے شوہر کی نا شکری و نا فرمانی بہت کرتی ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين لحال وائل بن مهانة.
حدیث نمبر: 4038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كلمةً ، وقُلتُ أُخرى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " . (حديث موقوف) (حديث موقوف) قَالَ : وَقُلْتُ : " مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ ”جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا“، اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1238، م: 92.
حدیث نمبر: 4039
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2184.
حدیث نمبر: 4040
مولانا ظفر اقبال
یہ حدیث کتاب میں موجود نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4040
حدیث نمبر: 4041
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ ، نَنْتَظِرُهُ يَأْذَنُ لَنَا ، قَالَ : فَجَاءَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا لَهُ : أَعْلِمْهُ بِمَكَانِنَا ، فَدَخَلَ فَأَعْلَمَهُ ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ مَكَانَكُمْ ، فَأَدَعُكُمْ عَلَى عَمْدٍ ، مَخَافَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ ، مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
شقیق کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ باب عبداللہ پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری کا انتظار کر رہے تھے، اتنی دیر میں یزید بن معاویہ نخعی آ گئے، وہ اندر جانے لگے تو ہم نے ان سے کہا کہ انہیں ہمارا بتا دیجئے گا، چنانچہ انہوں نے اندر جا کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بتا دیا، چنانچہ وہ فورا ہی تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2821.
حدیث نمبر: 4042
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَلَأُنَازَعَنَّ أَقْوَامًا ، ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! میرے ساتھی؟ ارشاد ہوگا کہ ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6575، م: 2297 .
حدیث نمبر: 4043
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً ، وَقُلْتُ أُخْرَى ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ النَّارَ " . (حديث موقوف) (حديث موقوف) وَقُلْتُ أَنَا : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، وَوَافَقَهُ أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، خِلَافَ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَاهُ أَسْوَدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ ”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا“، اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1238، م: 92.
حدیث نمبر: 4044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ ، وَمَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیرت مند نہیں ہو سکتا، اسی لئے اس نے ظاہری اور باطنی فحش کاموں سے منع فرمایا ہے، اور اللہ سے زیادہ تعریف کو پسند کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4634، م: 2760.
حدیث نمبر: 4045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : " إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ فَخِذَيْهِ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے بازوؤں کو اپنی رانوں پر بچھا لے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو جوڑ لے، گویا میں اب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منتشر انگلیاں دیکھ رہا ہوں، یہ کہہ کر انہوں نے دونوں ہتھیلیوں کو رکوع کی حالت میں جوڑ کر دکھایا (یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 534.
حدیث نمبر: 4046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وابن نمير ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ إِلَّا لِمِيقَاتِهَا ، إِلَّا صَلَاتَيْنِ : صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، وَصَلَاةَ الْعِشَاءِ بِجَمْعٍ ، وَصَلَّى الْفَجْرَ ، يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : الْعِشَاءَيْنِ ، فَإِنَّهُ صَلَّاهُمَا بِجَمْعٍ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بےوقت نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کو اور اسی دن کی فجر کو اپنے وقت سے آگے پیچھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1682، م: 1289 .
حدیث نمبر: 4047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ ، قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ ، قُرَشِيٌّ ، وَخَتَنَاهُ ثَقَفِيَّانِ ، أَوْ ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ ، فَتَكَلَّمُوا بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَتَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْمَعُ كَلَامَنَا هَذَا ؟ ! فَقَالَ الْآخَرَانِ : إِنَّا إِذَا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا سَمِعَهُ ، وَإِذَا لَمْ نَرْفَعْ أَصْوَاتَنَا لَمْ يَسْمَعْهُ ، قَالَ : وَقَالَ الْآخَرُ : إِنْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا ، سَمِعَهُ كُلَّهُ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ سورة فصلت آية 22 - 23 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں غلاف کعبہ سے چمٹا ہوا تھا کہ تین آدمی آئے، ان میں سے ایک قریشی تھا اور دو قبیلہ ثقیف کے جو اس کے داماد تھے، یا ایک ثقفی اور دو قریشی، ان کے پیٹ میں چربی زیادہ تھی لیکن دلوں میں سمجھ بوجھ بہت کم تھی، وہ چپکے چپکے باتیں کرنے لگے جنہیں میں نہ سن سکا، اتنی دیر میں ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، کیا اللہ ہماری ان باتوں کو سن رہا ہے؟ دوسرا کہنے لگا: میرا خیال ہے کہ جب ہم اونچی آواز سے باتیں کرتے ہیں تو وہ انہیں سنتا ہے، اور جب ہم اپنی آوازیں بلند نہیں کرتے تو وہ انہیں نہیں سن پاتا، تیسرا کہنے لگا: اگر وہ کچھ سن سکتا ہے تو سب کچھ بھی سن سکتا ہے۔ میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ . . . . . وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ » [فصلت : 22-23] ”اور تم جو چیزیں چھپاتے ہو کہ تمہارے کان، آنکھیں اور کھالیں تم پر گواہ نہ بن سکیں . . . . . یہ اپنے رب کے ساتھ تمہارا گھٹیا خیال ہے، اور تم نقصان اٹھانے والے ہو گئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4817، م: 2775.
حدیث نمبر: 4048
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ ، فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا " . قَالَ : ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ ! ! وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِ ! ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جائیداد نہ بنایا کرو، ورنہ تم دنیا ہی میں منہمک ہو جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، المغيرة بن سعد بن الأخرم لم يوثقه غير ابن حبان والعجلي، وأبوه سعد بن الأخرم مختلف فى صحبته.
حدیث نمبر: 4049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . فَقَالَ الْأَشْعَثُ : فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَاكَ ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ ، فَجَحَدَنِي ، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ : " احْلِفْ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَنْ يَحْلِفَ فَيَذْهَبَ مَالِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے، وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہو گا“، یہ سن کر سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ یہ ارشاد واللہ میرے واقعے میں نازل ہوا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ زمین مشترک تھی، یہودی میرے حصے کا منکر ہو گیا، میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا کہ ”تم قسم کھاؤ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ تو قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، اس پر اللہ نے یہ آیت آخر تک نازل فرمائی کہ «﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا . . . . .﴾» [آل عمران : 77] ”جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسم کو معمولی سی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں . . . . . ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2416، م: 138.
حدیث نمبر: 4050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ووكيع ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرِينَ " ، وَقَالَ وَكِيعٌ : أَشَدِّ النَّاسِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر ساز لوگوں کو ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5950، م: 2109.
حدیث نمبر: 4051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " يَنَامُ مُسْتَلْقِيًا حَتَّى يَنْفُخَ ، ثُمَّ يَقُومُ ، فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چت لیٹ کر سویا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھا دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج، وله شاهد من حديث ابن عباس عند البخاري: 138، ومسلم: 763.
حدیث نمبر: 4052
حَدَّثَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج.
حدیث نمبر: 4053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ لَهُ ، فَقَالَ : " ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَسْتَنْجِي بِهِ ، وَلَا تُقْرِبْنِي حَائِلًا وَلَا رَجِيعًا " ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَحَنَا ، ثُمَّ طَبَّقَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ ، وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے باہر نکلے تو مجھ سے فرمایا: ”کوئی چیز لے کر آؤ جس سے میں استنجا کر سکوں، لیکن دیکھو بدلی ہوئی رنگ والا پانی یا گوبر نہ لانا“، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی بھی لایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، اس نماز میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے لئے اپنی کمر جھکائی تو دونوں ہاتھوں سے تطبیق کی اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے بیچ میں کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ليث.
حدیث نمبر: 4054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ نَسْتَأْذِنُهُ أَنْ نَكْوِيَهُ ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ سَأَلْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ سَأَلْنَاهُ الثَّالِثَةَ ؟ فَقَالَ : " ارْضِفُوهُ إِنْ شِئْتُمْ " كَأَنَّهُ غَضْبَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی کو کچھ بیماری ہے، کیا ہم داغ کر اس کا علاج کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب دینے سے سکوت فرمایا، ہم نے پھر پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا اور کچھ دیر بعد فرمایا: ”اسے پتھر گرم کر کے لگاؤ“، گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، زهير - وإن سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط - متابع.
حدیث نمبر: 4055
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ ، وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، حَتَّى يَبْدُوَ جَانِبُ خَدِّهِ " ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ ہر مرتبہ جھکتے اٹھتے، کھڑے اور بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے، اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی، اور میں نے سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، زهير متابع.
حدیث نمبر: 4056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ ، وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى الْخَلَاءَ ، وَقَالَ : " ائْتِنِي بِثَلَاثَةِ أَحْجَار " ٍفَالْتَمَسْتُ ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ ، وَلَمْ أَجِدْ الثَّالِثَ ، فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ ، وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ ، وَقَالَ : " إِنَّهَا رِكْسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ ”میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ“، میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لا سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا: ”یہ ناپاک ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، زهير - وإن سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط - روايته هذه مما انتقاه البخاري من حديثه فى صحيحه خ: 156.
حدیث نمبر: 4057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعِرَّانَةِ ، قَالَ : فَازْدَحَمُوا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى قَوْمِهِ ، فَكَذَّبُوهُ وَشَجُّوهُ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ ، وَيَقُولُ : رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ " . قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبْهَتَهُ ، يَحْكِي الرَّجُلَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کے متعلق بیان فرما رہے تھے جنہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ پروردگار! میری قوم کو معاف فرما دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنی پیشانی کو صاف فرما رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : كُنْتُ لَا أُحْبَسُ عَنْ ثَلَاثٍ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَنَسِيَ عَمْرٌو وَاحِدَةً ، وَنَسِيتُ أَنَا أُخْرَى ، وَبَقِيَتْ هَذِهِ : عَنِ النَّجْوَى ، عَنْ كَذَا ، وَعَنْ كَذَا ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، وَعِنْدَهُ مَالِكُ بْنُ مُرَارَةَ الرَّهَاوِيُّ ، قَالَ : فَأَدْرَكْتُ مِنْ آخِرِ حَدِيثِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ قَدْ قُسِمَ لِي مِنَ الْجَمَالِ مَا تَرَى ، فَمَا أُحِبُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ فَضَلَنِي بِشِرَاكَيْنِ فَمَا فَوْقَهُمَا ، أَفَلَيْسَ ذَلِكَ هُوَ الْبَغْيَ ؟ قَالَ : " لَيْسَ ذَلِكَ بِالْبَغْيِ ، وَلَكِنَّ الْبَغْيَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ أَوْ بَطِرَ الْحَقَّ ، وَغَمَطَ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سرگوشی سے کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، راوی کہتے ہیں کہ ایک چیز میرے استاذ بھول گئے اور ایک میں بھول گیا، میں ایک مرتبہ استاذ صاحب کے پاس آیا تو وہاں مالک بن مرارہ رہاوی بھی موجود تھے، میں نے انہیں حدیث کے آخر میں یہ بیان کرتے ہوئے پایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ملاحظہ فرما ہی رہے ہیں کہ میرے حصے میں کتنے اونٹ آئے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اس تعداد میں مجھ سے دو چار تسمے بھی آگے بڑھے، کیا یہ تکبر تو نہیں ہے؟ فرمایا: ”نہیں، یہ تکبر نہیں ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات قبول کرنے سے انکار کر دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن ثبت سماع حميد بن عبدالرحمن الحميري من ابن مسعود، وتقدم الكلام فى ذلك برقم: 3644.
حدیث نمبر: 4059
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ ، قَالَ : " ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ أَوْ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ فلاں شخص رات کو نماز سے غافل ہو کر سوتا رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3270، م: 774.
حدیث نمبر: 4060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ مِمَّا يُذَكِّرُ كُلَّ يَوْمِ الْخَمِيسِ ، فَقِيلَ لَهُ : لَوَدِدْنَا أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ ، كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو وعظ فرمایا کرتے تھے، ان سے کسی نے کہا: ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ فرمایا کریں، انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 70، م: 2821.
حدیث نمبر: 4061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَقَالَ : " فَنَاوَلْتُهُ سَبْعَةَ أَحْجَارٍ ، فَقَالَ لِي : خُذْ بِزِمَامِ النَّاقَةِ ، قَالَ : ثُمَّ عَادَ إِلَيْهَا ، فَرَمَى بِهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَهُوَ رَاكِبٌ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا ، وَذَنْبًا مَغْفُورًا ، ثُمَّ قَالَ : هَاهُنَا كَانَ يَقُومُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب وہ جمرہ عقبہ کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ مجھے کچھ کنکریاں دو، میں نے انہیں سات کنکریاں دیں، پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اونٹنی کی لگام پکڑ لو، پھر پیچھے ہٹ کر انہوں نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے اور یہ دعا کرتے رہے کہ اے اللہ! اسے حج مبرور بنا اور گناہوں کو معاف فرما، پھر فرمایا کہ وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: اللهم اجعله حجا مبرورا، وذنبا مغفورا وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث.
حدیث نمبر: 4062
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إِنِّي قَرَأْتُ الْبَارِحَةَ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ ، وَهَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ ؟ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) - جس کا نام نہیک بن سنان تھا - سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں نے آج رات ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گھٹیا اشعار کی طرح؟ یا ردی قسم کی نثر کی طرح؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4996، م: 822.
حدیث نمبر: 4063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ، فَجَعَلْنَا نَتَلَقَّاهَا مِنْهُ ، فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ مِنْ جَانِبِ الْغَارِ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهَا " ، فَتَبَادَرْنَاهَا ، فَسَبَقَتْنَا ، فَقَالَ : " إِنَّهَا وُقِيَتْ شَرَّكُمْ ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہو گئی، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1830، م: 2234.
حدیث نمبر: 4064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ، قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ ، قَالَ : فَسَمِعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَلْيَقُلْ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِذَا قَالَهَا ، أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنَ الدُّعَاءِ مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، جبرئیل علیہ السلام کو سلام ہو، میکائیل علیہ السلام کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو اسے یوں کہنا چاہئے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو“، - جب وہ یہ جملہ کہہ لے گا تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شامل ہو جائے گا، - ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 831، م: 402.
حدیث نمبر: 4065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : الثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ ، الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو مسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، سوائے تین میں سے کسی ایک صورت کے، یا تو شادی شدہ ہو کر بدکاری کرے، یا قصاصا قتل کرنا پڑے، یا وہ شخص جو اپنے دین کو ہی ترک کر دے اور جماعت سے جدا ہو جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6878، م: 1676.