حدیث نمبر: 3986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَسْتَخْصِي ؟ " فَنَهَانَا عَنْهُ ، ثُمَّ رُخِّصَ لَنَا بَعْدُ فِي أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ " ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ سورة المائدة آية 87 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مخصوص وقت کے لئے کپڑوں کے عوض بھی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی تھی، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾» [المائدة : 87] ”اے اہل ایمان! اللہ نے تمہارے لئے جو پاکیزہ چیزیں حلال کر رکھی ہیں تم انہیں حرام نہ کرو، اور حد سے تجاوز نہ کرو، کیونکہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔“
حدیث نمبر: 3987
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : تَحَدَّثْنَا لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ، غَدَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأُمَمِهَا ، وَأَتْبَاعُهَا مِنْ أُمَمِهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ النَّفَرُ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَالنَّبِيُّ مَا مَعَهُ أَحَدٌ ، حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبُونِي ، قُلْتُ : يَا رَبِّ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَقَالَ : هَذَا أَخُوكَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قُلْتُ : يَا رَبِّ ، فَأَيْنَ أُمَّتِي ؟ قَالَ : انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ ، فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ ، قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ ، قُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَبِّ ؟ قَالَ : أُمَّتُكَ ، قُلْتُ : رَضِيتُ رَبِّ ، قَالَ : أَرَضِيتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ ، قَالَ : فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ ، فَقَالَ : رَضِيتَ ؟ قُلْتُ : رَضِيتُ ، قِيلَ : فَإِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، لَا حِسَابَ عَلَيهُمْ " ، فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ ، أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ أَنْشَأُ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں دیر تک باتیں کرتے رہے، جب صبح کو حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میرے سامنے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کو ان کی امتوں کے ساتھ پیش کیا گیا، چنانچہ ایک نبی گزرے تو ان کے ساتھ صرف تین آدمی تھے، ایک نبی گزرے تو ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت تھی، ایک نبی گزرے تو ان کے ساتھ ایک گروہ تھا، اور کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا، حتی کہ میرے پاس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا گزر ہوا جن کے ساتھ بنی اسرائیل کی بہت بڑی تعداد تھی، جسے دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور میں نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے لوگ ہیں، میں نے پوچھا کہ ”پھر میری امت کہاں ہے؟“ مجھ سے کہا گیا کہ اپنی دائیں جانب دیکھئے، میں نے دائیں جانب دیکھا تو ایک ٹیلہ لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا کہ اپنی بائیں جانب دیکھئے، میں نے بائیں جانب دیکھا تو افق لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا: کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے کہا: ”پروردگار! میں راضی ہوں، میں خوش ہوں“، پھر مجھ سے کہا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار ایسے بھی ہوں گے جو بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل فرما“، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شال کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔“
حدیث نمبر: 3988
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : تَحَدَّثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ . وحَدَّثَنَا ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : تَحَدَّثْنَا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَاتَ لَيْلَةٍ . . . فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3989
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، والْعَلاَءِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : تَحَدَّثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ . . . فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان منیٰ میں ایک سانپ کو دیکھ کر اسے مار ڈالنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 3991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَجْتَنِي سِوَاكًا مِنَ الْأَرَاكِ وَكَانَ دَقِيقَ السَّاقَيْنِ ، فَجَعَلَتْ الرِّيحُ تَكْفَؤُهُ ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِمَّ تَضْحَكُونَ ؟ " قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ پیلو کی مسواک چن رہے تھے، ان کی پنڈلیاں پتلی تھیں، جب ہوا چلتی تو وہ لڑکھڑانے لگتے تھے، لوگ یہ دیکھ کر ہنسنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ”تم کیوں ہنس رہے ہو؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! ان کی پتلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، یہ دونوں پنڈلیاں میزان عمل میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہیں۔“
حدیث نمبر: 3992
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْأَحْقَافِ ، وَأَقْرَأَهَا رَجُلًا آخَرَ فَخَالَفَنِي فِي آيَةٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَنْ أَقْرَأَكَهَا ؟ فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي نَفَرٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا ؟ فَقَالَ : " بَلَى " ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكَ أَقْرَأْتَهَا إِيَّاهُ كَذَا وَكَذَا ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ الَّذِي عِنْدَهُ : لِيَقْرَأْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا سَمِعَ ، " فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالِاخْتِلَافِ " ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ أَمْ هُوَ قَالَهُ ؟
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سورہ احقاف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ ایک مختلف طریقے سے قرأت کر رہا تھا، دوسرا آدمی دوسرے طریقے سے اسے پڑھ رہا تھا جو اس کے ساتھی سے مختلف تھا، اور میں اسے تیسرے طریقے سے پڑھ رہا تھا جس پر وہ دونوں پڑھ رہے تھے، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور انہیں اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا، چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا: ”اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔“ زر کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص قرآن کی تلاوت اسی طرح کیا کرے جیسے اسے پڑھایا گیا ہے، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو اختلاف ہی نے ہلاک کیا تھا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی سے بیان فرمائی تھی یا یہ ان کی اپنی رائے ہے۔
حدیث نمبر: 3993
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : فَغَضِبَ وَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الِاخْتِلَافُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ مَاتَ ، فَوَجَدُوا فِي بُرْدَتِهِ دِينَارَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيَّتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، لوگوں کو ان کی چادر میں دو دینار ملے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔“
حدیث نمبر: 3995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النِّسَاءَ ، فَقَالَ لَهُنَّ : " مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ ، إِلَّا أَدْخَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ " ، فَقَالَتْ أَجَلُّهُنَّ امْرَأَةً : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَصَاحِبَةُ الِاثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " وَصَاحِبَةُ الِاثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوئے ہیں، اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا“، ان میں سب سے بڑی عورت بولی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا دو بچے بھیجنے والی بھی جنت میں جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو والی بھی جنت میں جائے گی۔“
حدیث نمبر: 3996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْديِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ ، إِذْ مَرَّ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ ، فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ ، ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ حَتَّى قَتَلَهَا ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ قَتَلَ حَيَّةً ، فَكَأَنَّمَا قَتَلَ رَجُلًا مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالاحوص جشمی کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اچانک ان کی نظر ایک سانپ پر پڑی جو دیوار پر چل رہا تھا، انہوں نے اپنی تقریر روکی اور اسے اپنی چھڑی سے مار دیا یہاں تک کہ وہ مر گیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص کسی سانپ کو مارے، گویا اس نے کسی مباح الدم مشرک کو قتل کیا۔“
حدیث نمبر: 3997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ ، أَهِيَ مِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ ، قَالَ رَوْحٌ : فَمَسَخَهُمْ فَيَكُونَ لَهُمْ نَسْلٌ ، حَتَّى يُهْلِكَهُمْ ، وَلَكِنَّ هَذَا خَلْقٌ كَانَ ، فَلَمَّا غَضِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْيَهُودِ مَسَخَهُمْ ، فَجَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یہ بندر اور خنزیر کیا یہودیوں کی نسل میں سے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جس قوم کو بھی ملعون قرار دے کر ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ہلاک کرنے کے بعد ان کی نسل کو باقی نہیں رکھا، لیکن یہ مخلوق پہلے سے موجود تھی، جب یہودیوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور اس نے ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ان جیسا بنا دیا۔“
حدیث نمبر: 3998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِمَوَاقِيتِهَا " ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ ، لَزَادَنِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے وقت پر نماز پڑھنا“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں مجھ سے بیان فرمائیں، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔
حدیث نمبر: 3999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثَمَانِي عَشْرَةَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ ، وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں، جن میں مفصلات کی اٹھارہ سورتیں اور آل حمٓ کی دو سورتیں شامل ہیں۔
حدیث نمبر: 4000
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، والْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : تَحَدَّثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ . . . فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حدیث نمبر 3806 اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عَشِيَّةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : أَحَدُنَا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ ، قَتَلْتُمُوهُ ، وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ ، وَإِنْ سَكَتَ ، سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَصْبَحْتُ صَالِحًا ، لَأَسْأَلَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَحَدُنَا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ ، وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ، اللَّهُمَّ احْكُمْ . قَالَ : " فَأُنْزِلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ " ، قَالَ : فَكَانَ ذَاكَ الرَّجُلُ أَوَّلَ مَنْ ابْتُلِيَ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعہ کے دن شام کے وقت مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری کہنے لگا: اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے اور اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کر دیتے ہو، اگر وہ زبان ہلاتا ہے تو تم اسے کوڑے مارتے ہو، اور اگر وہ سکوت اختیار کرتا ہے تو غصے کی حالت میں سکوت کرتا ہے، واللہ! اگر میں صبح کے وقت صحیح ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھ کر رہوں گا، چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے تو بدلے میں آپ اسے قتل کر دیتے ہیں، اگر وہ بولتا ہے تو آپ اسے کوڑے لگاتے ہیں، اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو غصے کی حالت میں خاموش رہتا ہے؟ اے اللہ! تو فیصلہ فرما، چنانچہ آیت لعان نازل ہوئی اور اس میں سب سے پہلے وہی شخص مبتلا ہوا (اسی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آ گیا)۔
حدیث نمبر: 4002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ " رَمَى الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، ثُمَّ قَالَ : هَاهُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ كَانَ يَقُومُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بطن وادی سے جمرہ عقہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس کے بعد انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 4003
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ " وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ رَكْعَتَيْن .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حدیث نمبر: 4004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، فَنَزَلَتْ : وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ، قَالَ : فَإِنَّا نَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ ، فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ مِنْ جُحْرِهَا ، فَابْتَدَرْنَاهَا ، فَسَبَقَتْنَا ، فَدَخَلَتْ جُحْرَهَا ، فَقَالَ : " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ وَوُقِيتُمْ شَرَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہو گئی، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔“
حدیث نمبر: 4005
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . . . مِثْلَهُ ، قَالَ : وَإِنَّا لَنَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ، وَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ : " قُلْ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَفِظْتُ عَنْهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : فَإِذَا قَضَيْتَ هَذَا ، أَوْ قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا ، فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کلمات تشہد سکھائے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، جب تم اس طرح کر چکو تو تمہاری نماز مکمل ہو گئی، اب کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہو جاؤ اور بیٹھنا چاہو تو بیٹھے رہو۔“
حدیث نمبر: 4007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ بُيُوتَهُمْ ، يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ میں شریک نہ ہونے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔“
حدیث نمبر: 4008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَصَرَ عَبْدَهُ ، وَأَعَزَّ دِينَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اللہ کا شکر جس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت بخشی۔“
حدیث نمبر: 4009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ ، كُلُّ ثَلَاثَةٍ مِنَّا عَلَى بَعِيرٍ ، كَانَ عَلِيٌّ ، وَأَبُو لُبَابَةَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا كَانَ عُقْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَا : ارْكَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ ، فَيَقُولُ : " مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى عَلَى الْمَشْيِ مِنِّي ، وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح سیدنا ابولبابہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔“
حدیث نمبر: 4010
حَدَّثَنَاه عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ . . . فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُصْعَدُ بِهِ مِنَ الْأَرْضِ ، وَقَالَ مَرَّةً وَمَا يُعْرَجُ بِهِ مِنَ الْأَرْضِ ، فَيُقْبَضُ مِنْهَا ، وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا ، فَيُقْبَضُ مِنْهَا ، إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى سورة النجم آية 16 ، قَالَ : فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ خِلَالٍ : الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَخَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَغُفِرَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أُمَّتِهِ الْمُقْحِمَاتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہی بھی لے جایا گیا جو کہ چھٹے آسمان میں ہے اور زمین سے اوپر چڑھنے والی چیزوں کی آخری حد یہی ہے، یہاں سے ان چیزوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور آسمان سے اترنے والی چیزیں بھی یہیں آ کر رکتی ہیں اور یہاں سے انہیں اٹھا لیا جاتا ہے، اور فرمایا کہ ”جب سدرہ المنتہی کو ڈھانپ رہی تھی وہ چیز جو ڈھانپ رہی تھی“، اس سے مراد سونے کے پروانے ہیں، بہرحال! اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں عطا ہوئیں: پانچ نمازیں، سورہ بقرہ کی اختتامی آیات اور یہ خوشخبری کہ ان کی امت کے ہر اس شخص کی بخشش کر دی جائے گی جو اللہ کے ساتھ کسی اور چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
حدیث نمبر: 4012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا فُرَاتٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : كَانَ أَبِي عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَسَمِعَهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں میرے والد حاضر تھے، انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ندامت بھی توبہ ہے۔“
حدیث نمبر: 4013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحُبِسْنَا عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ ، ثُمَّ قُلْتُ : نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا " فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ ، فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ ، ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں کے ان کے وقت پر ادا کرنے سے مشغول کر دیا، میری طبیعت پر اس کا بہت بوجھ تھا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، اللہ کے راستے میں ہیں (پھر ہماری نمازیں قضا ہو گئیں)، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں اذان دی، اقامت کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہہ کر عصر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کے بعد مغرب کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہلوا کر عشا کی نماز پڑھائی، اور ہمارے پاس تشریف لا کر فرمایا: ”تمہارے علاوہ اس وقت روئے زمین پر کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو۔“
حدیث نمبر: 4014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، قال : حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : كَانَ أَبِي عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں میرے والد حاضر تھے، انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ندامت بھی توبہ ہے۔“
حدیث نمبر: 4015
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَوْمًا ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَرُعِدَ حَتَّى رُعِدَتْ ثِيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ نَحْوَ ذَا أَوْ شَبِيهًا بِذَا " .
مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اتنا کہتے ہی وہ کانپنے لگے اور ان کے کپڑے ہلنے لگے اور کہنے لگے اسی طرح فرمایا یا اس کے قریب قریب فرمایا۔ (احتیاط کی دلیل)
حدیث نمبر: 4016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، قال : حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : كَانَ أَبِي عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں میرے والد حاضر تھے، انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ندامت بھی توبہ ہے۔“
حدیث نمبر: 4017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو هَاشِمٍ ، وحماد ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ، نَقُولُ : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ ، قَالَ : فَعَلَّمَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي رَكْعَتَيْنِ ، فَقُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ " ، قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قُلْتَهَا ، أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَفِي الْأَرْضِ " ، وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قُلْتَهَا ، أَصَابَتْ كُلَّ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ ، أَوْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ ، أَوْ عَبْدٍ صَالِحٍ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، جبرئیل کو سلام ہو، میکائیل کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو یوں کہنا چاہئے: «”التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ“ - إِذَا قُلْتَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَفِي الْأَرْضِ - ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو“، - جب وہ یہ جملہ کہہ لے گا تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شامل ہو جائے گا - ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔“
حدیث نمبر: 4018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَرْنَا بِقَرْيَةِ نَمْلٍ فَأُحْرِقَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہمارا گزر ایک ایسی جگہ پر ہوا جہاں چیونٹیاں بہت زیادہ تھیں، ایک شخص نے چیونٹیوں کے ایک بل کو آگ لگا دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی انسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے عذاب جیسا عذاب دے۔“
حدیث نمبر: 4019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، والأعمش ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَقَامَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ نَحْنُ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ ؟ قَالَ : " لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو۔“ ایک عورت - جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی - کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی کرتی ہو۔“
حدیث نمبر: 4020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا ، بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا، اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”یہ بہت بری بات ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یوں کہے کہ وہ اسے بھلا دی گئی۔“
حدیث نمبر: 4021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ نَفَرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ صَاحِبًا لَنَا اشْتَكَى ، أَفَنَكْوِيهِ ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " إِنْ شِئْتُمْ فَاكْوُوهُ ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَارْضِفُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی کو کچھ بیماری ہے، کیا ہم داغ کر اس کا علاج کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب دینے سے تھوڑی دیر سکوت فرمایا، اور کچھ دیر بعد فرمایا: ”چاہو تو اسے داغ دو اور چاہو تو پتھر گرم کر کے لگاؤ۔“
حدیث نمبر: 4022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عند الله كَذَّابًا ، أَوْ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عند الله صِدِّيقًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے ”صدیق“ لکھ دیا جاتا ہے، اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں اسے ”کذاب“ لکھ دیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَيْسَ لَنَا شَيْءٌ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نوجوان ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا، ہم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اے گروہ نوجواناں! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کر لینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4024
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وابن أبي زائدة ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَهُوَ يَتَغَدَّى ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، ادْنُ لِلْغَدَاءِ ، قَالَ : أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَ : وَتَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ؟ إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ ، فَلَمَّا أُنْزِلَ رَمَضَانُ تُرِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دس محرم کے دن اشعث بن قیس سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، کہنے لگے اے ابومحمد! کھانے کے لئے آگے بڑھو، اشعث کہنے لگے کہ آج یوم عاشورہ نہیں ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں معلوم بھی ہے کہ یوم عاشورہ کیا چیز ہے؟ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا روزہ رکھتے تھے، جب رمضان میں روزوں کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ متروک ہو گیا۔
حدیث نمبر: 4025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمَعَنَا زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا خَبَّابٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَكُلُّ هَؤُلَاءِ يَقْرَأُ كَمَا تَقْرَأُ ؟ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ أَمَرْتَ بَعْضَهُمْ فَقَرَأَ عَلَيْكَ ، قَالَ : أَجَلْ ، فَقَالَ لِي : اقْرَأْ ، فَقَالَ ابْنُ حُدَيْرٍ : تَأْمُرُهُ يَقْرَأُ ، وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا ! فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شِئْتَ " لَأُخْبِرَنَّكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْمِكَ وَقَوْمِهِ ، قَالَ : فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ مَرْيَمَ ، فَقَالَ خَبَّابٌ : أَحْسَنْتَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا هُوَ قَرَأَهُ ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِخَبَّابٍ : أَمَا آنَ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى ، قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَا تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ ، وَالْخَاتَمُ ذَهَبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ زید بن حدیر بھی تھے، تھوڑی دیر بعد سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور کہنے لگے: اے ابوعبدالرحمن! کیا یہ سب لوگ اسی طرح قرآن پڑھتے ہیں جیسے آپ پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اگر آپ چاہیں تو ان میں سے کسی کو پڑھنے کا حکم دیں، وہ آپ کو پڑھ کر سنا دے گا، انہوں نے کہا: اچھا، پھر مجھ سے فرمایا کہ تم پڑھ کر سناؤ، زید بن حدیر کہنے لگے کہ آپ ان سے پڑھنے کو کہہ رہے ہیں حالانکہ یہ ہم میں کوئی بڑے قاری نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا: خبردار! اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم اور اس کی قوم کے متعلق کیا فرمایا ہے؟ بہرحال! میں نے سورہ مریم کی پچاس آیات انہیں پڑھ کر سنائیں، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے میری تحسین فرمائی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں جو کچھ پڑھ سکتا ہوں، وہی یہ بھی پڑھ سکتا ہے، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا اب بھی اس انگوٹھی کو اتار پھینکنے کا وقت نہیں آیا؟ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آج کے بعد آپ اسے میرے ہاتھ میں نہیں دیکھیں گے، وہ انگوٹھی سونے کی تھی۔
…