حدیث نمبر: 3946
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے، وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3947
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا، اور وہ شخص جہنم میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:91 . 
حدیث نمبر: 3948
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيْسَ بِاللَّعَّانِ وَلَا الطَّعَّانِ ، وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مؤمن لعن طعن کرنے والا یا فحش گو اور بیہودہ گو نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3949
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلَيْنِ : رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ ، مِنْ بَيْنِ أَهْلِهِ وَحَيِّهِ إِلَى صَلَاتِهِ ، فَيَقُولُ رَبُّنَا : أَيَا مَلَائِكَتِي ، انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ، ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ ، وَمِنْ بَيْنِ حَيِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ ، رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي ، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي ، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَانْهَزَمُوا ، فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْفِرَارِ ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ ، فَرَجَعَ حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ ، رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي ، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ، رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي ، وَرَهْبَةً مِمَّا عِنْدِي ، حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہمارے رب کو دو قسم کے آدمی بڑے اچھے لگتے ہیں، ایک تو وہ آدمی جو اپنے بستر اور لحاف، اپنے اہل خانہ اور محلہ کو چھوڑ کر نماز کے لئے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اے میرے فرشتو! میرے اس بندے کو دیکھو جو اپنے بستر اور لحاف، اپنے محلے اور اہل خانہ کو چھوڑ کر نماز کے لئے آیا ہے میرے پاس موجود نعمتوں کے شوق میں، اور میرے یہاں موجود سزا کے خوف سے۔“ اور دوسرا وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلا، لوگ شکست کھا کر بھاگنے لگے، اسے معلوم تھا کہ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے کی کیا سزا ہے اور واپس لوٹ جانے میں کیا ثواب ہے، چنانچہ وہ واپس آ کر لڑتا رہا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، اور اس کا یہ عمل بھی صرف میری نعمتوں کے شوق اور میری سزا کے خوف سے تھا، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں: ”میرے اس بندے کو دیکھو جو میری نعمتوں کے شوق اور میری سزا کے خوف سے واپس آگیا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن إلا أن الدارقطني ص ح وقفه.
حدیث نمبر: 3950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى ، وَالتُّقَى ، وَالْعَفَافَ ، وَالْغِنَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غناء (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ عَفَّانُ : عَنْ أَبِيهِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَعَثَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِدْخَالِ رَجُلٍ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَدَخَلَ الْكَنِيسَةَ ، فَإِذَا هُوَ بِيَهُودَ ، وَإِذَا يَهُودِيٌّ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ التَّوْرَاةَ ، فَلَمَّا أَتَوْا عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمْسَكُوا ، وَفِي نَاحِيَتِهَا رَجُلٌ مَرِيضٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكُمْ أَمْسَكْتُمْ ؟ " قَالَ الْمَرِيضُ : إِنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى صِفَةِ نَبِيٍّ ، فَأَمْسَكُوا ، ثُمَّ جَاءَ الْمَرِيضُ يَحْبُو ، حَتَّى أَخَذَ التَّوْرَاةَ ، فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِهِ ، فَقَالَ : هَذِهِ صِفَتُكَ وَصِفَةُ أُمَّتِكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ : " لُوا أَخَاكُم " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے جنت میں داخل کروانے کے لئے بھیجا اور وہ اس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گرجے میں داخل ہوئے، وہاں کچھ یہودی بیٹھے ہوئے تھے اور ایک یہودی ان کے سامنے تورات کی تلاوت کر رہا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا بیان آیا تو وہ لوگ رک گئے، اس گرجے کے ایک کونے میں ایک بیمار آدمی بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”تم رک کیوں گئے؟“ وہ بیمار آدمی کہنے لگا کہ یہاں سے ایک نبی کی صفات کا بیان شروع ہو رہا ہے، اس لئے یہ رک گئے ہیں، پھر وہ مریض گھسٹتا ہوا آگے بڑھا اور اس نے تورات پکڑ لی اور اسے پڑھنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور آپ کی امت کی صفات کے بیان پر پہنچ گیا اور کہنے لگا کہ یہ آپ کی اور آپ کی امت کی علامات ہیں، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ کہتے ہی اس کی روح پرواز کر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”اپنے بھائی سے محبت کرو (اور اسے لے چلو)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه أبن مسعود.
حدیث نمبر: 3952
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ أَنْ تَقُولُوا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا ، أَوْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ ، وَيُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ ، فَإِنْ كُنْتُمْ شَاهِدِينَ لَا مَحَالَةَ ، فَاشْهَدُوا لِلرَّهْطِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَقُتِلُوا ، فَقَالُوا : اللَّهُمَّ بَلِّغْ نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَّا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ ، فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم کسی شخص کے متعلق یہ کہنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ فلاں شخص شہادت کی موت سے مرا یا مارا گیا، کیونکہ بعض لوگ مال غنیمت کے حصول کے لئے قتال کرتے ہیں، بعض اپنا تذکرہ کروانے کے لئے، اور بعض اس لئے جنگ میں شریک ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنا مقام دکھا سکیں، اگر تم ضرور ہی کسی کے متعلق یہ گواہی دینا چاہتے ہو تو ان لوگوں کے لئے یہ گواہی دے دو جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا اور وہ شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے دعا کی تھی کہ اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیغام پہنچا دیجئے کہ ہم آپ سے مل چکے، آپ ہم سے راضی ہو گئے اور ہمیں اپنے آپ سے راضی کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3953
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : أَوْ إِبْرَاهِيمَ ، شُعْبَةُ شَكَّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ " ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، اے کاش! مجھے چار رکعتوں کی بجائے دو مقبول رکعتوں کا ہی حصہ مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1084، م: 695.
حدیث نمبر: 3954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بِتُّ اللَّيْلَةَ أَقْرَأُ عَلَى الْجِنِّ ، رُفَقَاءَ بِالْحَجُونِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میں حجون نامی جگہ میں اپنے جنات ساتھیوں کو قرآن پڑھاتا رہا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، عبيد الله بن عبدالله بن عتبة بن مسعود لم يسمع من عم أبيه عبدالله بن مسعود.
حدیث نمبر: 3955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ عَجُوزٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ ، وَالْمُوشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ " . قَالَ يَحْيَى : وَالْمُوسِمَاتِ اللَّاتِي . . . .
مولانا ظفر اقبال
قبیصہ بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بنو اسد کی ایک بوڑھی عورت کو لے کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں میں خلا پیدا کروانے والی، اور جسم گودنے والی عورتوں پر لعنت ہے جو اللہ کی تخلیق کو بگاڑتی ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5948، م: 2125، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ عَجُوزٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَذَكَرَ قِصَّةً ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ ، وَالْمُوشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ ، عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
قبیصہ بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بنو اسد کی ایک بوڑھی عورت کو لے کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا . . . تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں میں خلا پیدا کروانے والی، اور جسم گودنے والی عورتوں پر لعنت ہے جو اللہ کی تخلیق کو بگاڑتی ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5948، م: 2125، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قِتَالُ مُسْلِمٍ أَخَاهُ كُفْرٌ ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق، اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 3958
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ نَهِيكِ بْنِ سِنَانٍ السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ فِي رَكْعَةٍ ، فَقَالَ : هَذًّا مِثْلَ هَذِّ الشِّعْرِ ، أَوْ نَثْرًا مِثْلَ نَثْرِ الدَّقَلِ ؟ إِنَّمَا فُصِّلَ لِتُفَصِّلُوا ، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرُنُ ، عِشْرِينَ سُورَةً : الرَّحْمَنُ وَالنَّجْمُ ، عَلَى تَأْلِيفِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، كُلُّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ ، وَذَكَرَ الدُّخَانَ ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ فِي رَكْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) - جس کا نام نہیک بن سنان تھا - سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گھٹیا اشعار کی طرح؟ یا ردی قسم کی نثر کی طرح؟ حالانکہ انہیں مفصلات اسی بناء پر قرار دیا گیا ہے تاکہ تم انہیں جدا جدا کر کے پڑھ سکو، میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔ اور اس سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصحف کے مطابق مفصلات کی ابتدائی بیس سورتیں مراد ہیں جن میں سورہ رحمٰن اور سورہ نجم شامل ہیں، ایک رکعت میں یہ دو سورتیں اور ایک رکعت میں سورہ دخان اور سورہ نباء۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 3959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ ، وَيُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر دھوکہ باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا، اور بتایا جائے گا کہ یہ فلاں آدمی کی دھوکے بازی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3186، م: 1736.
حدیث نمبر: 3960
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَوْ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ ، اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ ، مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی آدمی کی یہ بات انتہائی بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ اسے یوں کہنا چاہئے کہ اسے فلاں آیت بھلا دی گئی۔ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5032، م: 790.
حدیث نمبر: 3961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ ، قَالَ : غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ ، فَكَانَ يُلَبِّي ، قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا آدَمَ ، لَهُ ضَفْرَانِ ، عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءُ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ ، قَالُوا : يَا أَعْرَابِيُّ ، إِنَّ هَذَا لَيْسَ يَوْمَ تَلْبِيَةٍ ، إِنَّمَا هُوَ يَوْمُ تَكْبِيرٍ ! ! قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : أَجَهِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا ! وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، إِلاَّ أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سخبرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ منیٰ سے عرفات کی طرف روانہ ہوا، وہ راستے بھر تلبیہ کہتے رہے، وہ گھنگھریالے بالوں والے گندم گوں رنگت کے مالک تھے، ان کی دو مینڈھیاں تھیں اور اہل دیہات کی طرح انہوں نے کمبل اپنے اوپر لے رکھا تھا، انہیں تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھ کر بہت سے لوگ ان کے گرد جمع ہو کر کہنے لگے: اے دیہاتی! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے، آج تو تکبیر کا دن ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: لوگ ناواقف ہیں یا بھول گئے ہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کو ترک نہیں فرمایا، البتہ درمیان درمیان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہلیل و تکبیر بھی کہہ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1283.
حدیث نمبر: 3962
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَى قُرَيْشٍ غَيْرَ يَوْمٍ وَاحِدٍ ، فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَرَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ جُلُوسٌ ، وَسَلَى جَزُورٍ قَرِيبٌ مِنْهُ ، فَقَالُوا : مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّلَى ، فَيُلْقِيَهُ عَلَى ظَهْرِهِ ، قَالَ : فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ : أَنَا ، فَأَخَذَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَلَمْ يَزَلْ سَاجِدًا ، حَتَّى جَاءَتْ فَاطِمَةُ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهَا ، فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ أَوْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ " ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ جَمِيعًا ، ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ غَيْرَ أُبَيٍّ ، أَوْ أُمَيَّةَ ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلًا ضَخْمًا ، فَتَقَطَّعَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک دن کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے خلاف بد دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دائیں بائیں قریش کے کچھ لوگ موجود تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ایک اونٹ کی اوجھڑی پڑی ہوئی تھی، قریش کے لوگ کہنے لگے کہ یہ اوجھڑی لے کر ان کی پشت پر کون ڈالے گا، عقبہ بن ابی معیط نے اپنے آپ کو پیش کر دیا، اور وہ اوجھڑی لے آیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر ڈال دیا، جس کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر نہ اٹھا سکے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا تو وہ جلدی سے آئیں اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اتار کر دور پھینکا اور یہ گندی حرکت کرنے والے کو بد دعائیں دینے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: ”اے اللہ! قریش کے ان سرداروں کی پکڑ فرما، اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوجہل، عقبہ بن ابی معیط، ابی بن خلف، یا امیہ بن خلف کی پکڑ فرما۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سب کو دیکھا کہ یہ غزوہ بدر کے موقع پر مارے گئے اور انہیں گھسیٹ کر ایک کنوئیں میں ڈال دیا گیا، سوائے امیہ یا ابی کے جس کے اعضا کٹ چکے تھے، اسے کنوئیں میں نہیں ڈالا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3854، م: 1794.
حدیث نمبر: 3963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ أقَرانِي الَّذِينَ يَلُونِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ : وَلاَ أَدْرِي أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ ، ثُمَّ يَخْلُفُ بَعْدَهُمْ خَلْفٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہیں جو میرے زمانہ میں ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جس کی گواہی قسم سے آگے بڑھ جائے گی اور قسم گواہی سے آگے بڑھ جائے گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2533.
حدیث نمبر: 3964
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّ الْأُمَمَ عُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَعُرِضَتْ عَلَيْهِ أُمَّتُهُ ، فَأَعْجَبَتْهُ كَثْرَتُهُمْ ، فَقِيلَ : إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ساری امتوں کو پیش کیا گیا، پھر ان کی امت کو پیش کیا گیا جس کی کثرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اچھی لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے بھی ہیں جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3965
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ بَيْنَ كُلِّ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ بَعِيرٌ ، وَكَانَ زَمِيلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ ، وَأَبُو لُبَابَةَ ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا كَانَتْ عُقْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَا لَهُ : ارْكَبْ حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ ، فَيَقُولُ : " مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي ، وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ ، وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَائِطَ ، " وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ ، وَلَمْ أَجِدْ الثَّالِثَ ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً ، فَأَتَيْتُ بِهِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ ، وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ ، وَقَالَ : هَذِهِ رِكْسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضا حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ ”میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ“، میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لا سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا: ”یہ ناپاک ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 156، زهير - وإن سمع من أبى إسحاق بعد الاختلاط - روايته هذه مما انتقاه البخاري من مروياته.
حدیث نمبر: 3967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَذَكَرَ التَّشَهُّدَ ، تشهد عبد الله ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وَمَنْصُورٌ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سفیان نے ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نقل کردہ تشہد کا ذکر کیا اور پوری سند ذکر کی۔گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 122.
حدیث نمبر: 3968
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ ، فَقَالَ : قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ ، فَقَالَ : بَلْ هَذَذْتَ كَهَذِّ الشِّعْرِ ، أَوْ كَنَثْرِ الدَّقَلِ ، لَكِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفْعَلْ كَمَا فَعَلْتَ ، كَانَ " يَقْرَأُ النُّظُرَ الرَّحْمَنَ ، وَالنَّجْمَ ، فِي رَكْعَةٍ " ، قَالَ : فَذَكَرَ أَبُو إِسْحَاقَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ ، بِعِشْرِينَ سُورَةً عَلَى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ ، آخِرُهُنَّ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ، وَالدُّخَانُ .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) - جس کا نام نہیک بن سنان تھا - سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گھٹیا اشعار کی طرح؟ یا ردی قسم کی نثر کی طرح؟ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کرتے تھے بلکہ ایک جیسی سورتوں مثلا سورہ رحمان اور سورہ نجم کو ایک رکعت میں پڑھ لیتے تھے، پھر ابواسحاق نے دس رکعتوں کا بیس سورتوں کے ساتھ تذکرہ کیا، اور اس سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصحف کے مطابق مفصلات کی ابتدائی بیس سورتیں مراد ہیں، جن کا اختتام سورہ تکویر اور سورہ دخان پر ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، زهير بن معاوية - وإن سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط - متابع، وأبو إسحاق لم يسمع من علقمة النخعي، لكنه متابع بالأسود بن يزيد، وقد سمع منه.
حدیث نمبر: 3969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ ، فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ ، كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ، وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا ، وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ ، أَوْ قَالَ : حِينَ قَالَ قَائِلٌ : طَلَعَ الْفَجْرُ ، وَقَالَ قَائِلٌ : لَمْ يَطْلُعْ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ ، لاَ يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا ، وَصَلاَةُ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ کے میدان میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے دو نمازیں پڑھیں، ہر نماز تنہا ایک اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کھانا بھی کھایا، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھی جب طلوع فجر ہو گئی (یا راوی نے یہ کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ صبح صادق ہو گئی ہے اور بعض کہہ رہے تھے کہ ابھی نہیں ہوئی) پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ ”صرف اس جگہ پر ان دو نمازوں کا وقت بدل دیا گیا ہے، لوگ مزدلفہ میں رات کے وقت آتے ہیں اور فجر کی نماز اس وقت پڑھی جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1683.
حدیث نمبر: 3970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 0 إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ 0 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح پڑھائی تھی: «﴿إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾»
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3971
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11 ، قَالَ : " رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ ، قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس ارشاد باری تعالیٰ: « ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى﴾ » [النجم : 11] ”دل نے جھوٹ نہیں بولا جو دیکھا“ کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو باریک ریشمی حلے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کے درمیان تمام حصے کو پر کر رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ " يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ ، وَرَفْعٍ وَوَضْعٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا ، وَيُسَلِّمُونَ عَلَى أَيْمَانِهِمْ وَشَمَائِلِهِمْ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہر مرتبہ جھکتے اٹھتے، کھڑے اور بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے، اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وأَبي عُبَيْدَة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ : " الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا ، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، وَلَوْ اسْتَزَدْتُ لَزَادَنِي ، قَالَ حُسَيْنٌ : اسْتَزَدْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک، اللہ کے راستے میں جہاد“، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 527، م: 85، أبو عبيدة - وإن لم يسمع من أبيه ابن مسعود - متابع.
حدیث نمبر: 3974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَمْلَاهُ عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ، " فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ رَكَعَ وَطَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ ، فَبَلَغَ سَعْدًا ، فَقَالَ : صَدَقَ أَخِي ، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا ، وَأَخَذَ بِرُكْبَتَيْهِ " . حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ . . . هَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھاتے ہوئے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا، پھر رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو جوڑ کر گھٹنوں کے درمیان کر لیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ میرے بھائی نے سچ کہا ہے، ہم پہلے اسی طرح کرتے تھے لیکن بعد میں ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دے دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 534.
حدیث نمبر: 3975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَا أَدْرِي زَادَ ، أَوْ نَقَصَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس میں کچھ کمی ہو گئی یا بیشی؟ بہرحال! جب سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 572.
حدیث نمبر: 3976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ " لَبَّى لَيْلَةَ جَمْعٍ ، ثُمَّ قَالَ : هَاهُنَا رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " يُلَبِّي " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ مزدلفہ سے واپسی پر تلبیہ پڑھتے رہے اور فرمایا: جس ذات پر سورہ بقرہ کا نزول ہوا میں نے اسی ذات کو اس مقام پر تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1283.
حدیث نمبر: 3977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمَاجِدِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ ، وَأَنْشَأَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ رَجُلٍ قُطِعَ فِي الإِسْلَامِ أَوْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا سَرَقَ ، فَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَادًا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْ يَقُولُ : مَالَكَ ؟ ، فَقَالَ : " وَمَا يَمْنَعُنِي ؟ وَأَنْتُمْ أَعْوَانُ الشَّيْطَانِ عَلَى صَاحِبِكُمْ ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ ، وَلَا يَنْبَغِي لِوَالِي أَمْرٍ أَنْ يُؤْتَى بِحَدٍّ إِلَّا أَقَامَهُ ، ثُمَّ قَرَأَ : وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22 " ، قَالَ يَحْيَى : أَمْلَاهُ عَلَيْنَا سُفْيَانُ إِمْلَاءً .
مولانا ظفر اقبال
ابوماجد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص اپنا ایک بھتیجا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا، اور کہنے لگا کہ یہ میرا بھتیجا ہے اور اس نے شراب پی رکھی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسلام میں سب سے پہلے ایک آدمی ہاتھ کاٹا گیا تھا، جس نے چوری کی تھی، لوگ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے چوری کی ہے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ اڑ گیا، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہوا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کے متعلق شیطان کے مددگار ثابت ہوئے، جبکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند فرماتا ہے، اور کسی حاکم کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس کے پاس حد کا کوئی مقدمہ آئے اور وہ اسے نافذ نہ کرے“، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾» [النور : 22] ”انہیں معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے تھا، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن عبدالله الجابر ولجهالة أبى الماجد.
حدیث نمبر: 3978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى الْجَابِرِ ، عَنْ أَبِي الْمَاجِدِ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ ، فَقَالَ : " السَّيْرُ دُونَ الْخَبَبِ ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا تُعْجَلْ إِلَيْهِ ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ ، فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ ، الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رفتار جو دوڑنے کے زمرے میں نہ آتی ہو، اگر وہ نیکوکار رہا ہو گا تو اس کے اچھے انجام کی طرف اسے جلد لے جایا جا رہا ہو گا، اور اگر وہ ایسا نہ ہوا تو اہل جہنم کو دور ہی ہو جانا چاہئے، اور جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي، وضعف يحيى الجابر.
حدیث نمبر: 3979
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا ، وَمَا تُقَامُ الصَّلَاةُ حَتَّى تَكَامَلَ بِنَا الصُّفُوفُ ، " فَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا ، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے وہ وقت دیکھا ہے کہ جب تک ہماری صفیں مکمل نہیں ہوتی تھیں، نماز کھڑی نہیں ہوتی تھی اس لئے جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ کل قیامت کے دن اللہ سے اس کی ملاقات اسلام کی حالت میں ہو تو اسے ان فرض نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے جب بھی ان کی طرف پکارا جائے، کیونکہ یہ سنن ہدی میں سے ہیں اور اللہ نے تمہاے پیغمبر کے لئے سنن ہدی کو مشروع قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله النخعي، وهو متابع.
حدیث نمبر: 3980
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ : أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَقْرَأَ عَلَيْنَا طسم الْمِائَتَيْنِ ، فَقَالَ : مَا هِيَ مَعِي ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ مَنْ أَخَذَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ ، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معدی کرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے سورہ طسم - جو دو سو آیات پر مشتمل ہے - سنانے کی فرمائش کی، وہ کہنے لگے کہ یہ سورت مجھے یاد نہیں ہے، البتہ تم ان صاحب کے پاس چلے جاؤ جنہوں نے اسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد اور حاصل کیا ہے، یعنی سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ، چنانچہ ہم سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے ہمیں وہ سورت پڑھ کر سنائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ، معديكرب الهمداني العبدي لم يرو عنه إلا أبو إسحاق ، وذكره ابن حبان في الثقات : 458/5 ، ولم يوثر توثيقه عن غيره.
حدیث نمبر: 3981
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةً مِنَ الثَّلَاثِينَ ، مِنْ آلِ حم ، قال : يَعْنِي الأَحْقَافَ ، قَالَ : وَكَانَتْ السُّورَةُ إِذَا كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ آيَةً سُمِّيَتْ الثَّلَاثِينَ ، قَالَ : فَرُحْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَؤُهَا عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِي ، فَقُلْتُ : مَنْ أَقْرَأَكَ ؟ فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لآخَرَ : اقْرَأْهَا ، فَقَرَأَهَا عَلَى غَيْرِ قِرَاءَتِي وَقِرَاءَةِ صَاحِبِي ، فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَيْنِ يُخَالِفَانِي فِي الْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ ، وَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الِاخْتِلاَفُ " ، قَالَ : قَالَ زِرٌّ : وَعِنْدَهُ رَجُلٌ ، قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا أُقْرِئَ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الِاخْتِلاَفُ ، قال : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلاَ أَدْرِي أَشَيْئًا أَسَرَّهُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ عَلِمَ مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : وَالرَّجُلُ هُوَ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سورہ احقاف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ ایک مختلف طریقے سے قرأت کر رہا تھا، دوسرا آدمی دوسرے طریقے سے اسے پڑھ رہا تھا جو اس کے ساتھی سے مختلف تھا، اور میں اسے تیسرے طریقے سے پڑھ رہا تھا جس پر وہ دونوں پڑھ رہے تھے، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور انہیں اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا، چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، اور فرمایا: ”اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔“ زر کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص قرآن کی تلاوت اسی طرح کیا کرے جیسے اسے پڑھایا گیا ہے، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو اختلاف ہی نے ہلاک کیا تھا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی سے بیان فرمائی تھی یا انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی بات معلوم ہو گئی؟ اور راوی نے بتایا کہ وہ آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَخْبَرَنَا بَشِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، تَسْلِيمُ الرَّجُلِ عَلَيْكَ ، فَقُلْتَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تَسْلِيمُ الْخَاصَّةِ ، وَتَفْشُو التِّجَارَةُ ، حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ ، وَتُقْطَعُ الْأَرْحَامُ " .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب نے ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن! ایک آدمی نے آپ کو سلام کیا اور آپ نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے قریب سلام مخصوص ہو جائے گا، تجارت اتنی پھیل جائے گی کہ بیوی شوہر کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹائے گی، اور رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وقوله: سيار أبو الحكم. خطأ، صوابه: سيار أبو حمزة، والإمام أحمد نفسه نبه على هذا الخطأ في: العدل برقم: 588 .
حدیث نمبر: 3983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّهْشَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا ، الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالُوا : فَإِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا ؟ قَالَ : " فَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ ، وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا نماز کی رکعتوں میں اضافہ ہو گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، لوگوں نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کر لئے اور فرمایا کہ ”میں بھی انسان ہوں، جیسے تم بات یاد رکھتے ہو میں بھی یاد رکھتا ہوں، اور جیسے تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 572.
حدیث نمبر: 3984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ حَيَّةً ، فَلَهُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغًا ، فَلَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ تَرَكَ حَيَّةً مَخَافَةَ عَاقِبَتِهَا فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی سانپ کو مارے اسے سات نیکیاں ملیں گی، جو کسی مینڈک کو مارے اسے ایک نیکی ملے گی، اور جو سانپ کو ڈر کی وجہ سے نہ مارے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، المسيب بن رافع لم يلق ابن مسعود قوله: من قتل وزغا.... له شاهد من حديث أبى هريرة عند مسلم: 2240، وقوله: من ترك حية ...... له شاهد من حديث ابن عباس تقدم برقم: 3254 بإسناد صحيح.
حدیث نمبر: 3985
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ كُرْدُوسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : مَرَّ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَهُ خَبَّابٌ ، وَصُهَيْبٌ ، وَبِلاَلٌ ، وَعَمَّارٌ ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، أَرَضِيتَ بِهَؤُلَاءِ ؟ " فَنَزَلَ فِيهِمْ الْقُرْآنُ : وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَى قَوْلِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ سورة الأنعام آية 51 - 58 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرداران قریش کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا خباب، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے تھے، سرداران قریش انہیں دیکھ کر کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ ان لوگوں پر ہی خوش ہو؟ اس پر قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئی: « ﴿وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ . . . . . وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ﴾ » [الأنعام : 51-58] ”اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈراؤ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف (لے جا کر) اکٹھے کیے جائیں گے، . . . . . اور اللہ ظالموں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضف أشعث الكندي.