حدیث نمبر: 3906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : لَقَدْ " أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً " ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ غُلَامٌ لَهُ ذُؤَابَتَانِ ، يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کاتبان وحی میں سے تھے جن کی مینڈھیاں تھیں اور وہ بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5000، م: 2462.
حدیث نمبر: 3907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، حَتَّى ذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ ، لَا تَخْتَلِفُوا " أَكْبَرُ عِلْمِي وَإِلََّا فَمِسْعَرٌ حَدَّثَنِي بِهَا " فَإِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فِيهِ ، فَهَلَكُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2410.
حدیث نمبر: 3908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كِلَاكُمَا قَدْ أَحْسَنَ " ، قَالَ : وَغَضِبَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ شُعْبَةُ : أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَخْتَلِفُوا ، فَإِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فِيهِ ، فَهَلَكُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، یا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار محسوس ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ ”تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3476 .
حدیث نمبر: 3909
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يَقُولُ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 3910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : كَيْفَ تَعْرِفُ هَذَا الْحَرْفَ : مَاءٌ غَيْرُ يَاسِنٍ أَمْ آسِنٍ ؟ فَقَالَ : كُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ قَرَأْتَ ؟ قَالَ : إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ أَجْمَعَ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَقَالَ : أَهَذَّ الشِّعْرِ لَا أَبَا لَكَ ؟ ! قَدْ عَلِمْتُ قَرَائِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ " يَقْرُنُ قَرِينَتَيْنِ ، قَرِينَتَيْنِ ؛ مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ " . وَكَانَ أَوَّلُ مُفَصَّلِ ابْنِ مَسْعُودٍ الرَّحْمَنُ .
مولانا ظفر اقبال
زرّ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اس آیت کو کس طرح پڑھتے ہیں: «مِنْ مَاءٌ غَيْرُ يَاسِنٍ» یا «آسِنٍ» یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اس آیت کے علاوہ تم نے سارا قرآن یاد کر لیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ (آپ اس سے اندازہ لگا لیں) میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اشعار کی طرح؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں، جن کا تعلق مفصلات سے تھا، یاد رہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں مفصلات کا آغاز سورہ رحمٰن سے ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ أُذْنَانَ ، قَالَ : أَسْلَفْتُ عَلْقَمَةَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ ، فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ ، قُلْتُ لَهُ : اقْضِنِي ، قَالَ : أَخِّرْنِي إِلَى قَابِلٍ ، فَأَتَيْتُ عَلَيْهِ ، فَأَخَذْتُهَا ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ بَعْدُ ، قَالَ : بَرَّحْتَ بِي قَدْ مَنَعْتَنِي ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، هُوَ عَمَلُكَ ، قَالَ : وَمَا شَأْنِي ؟ قُلْتُ : إِنَّكَ حَدَّثْتَنِي عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ السَّلَفَ يَجْرِي مَجْرَى شَطْرِ الصَّدَقَةِ " . قَالَ : نَعَمْ ، فَهُوَ كَذَاكَ ، قَالَ : فَخُذْ الْآنَ .
مولانا ظفر اقبال
ابن اذنان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کو دو ہزار درہم قرض کے طور پر دیئے، جب مال غنیمت میں سے انہیں حصہ ملا تو میں نے ان سے کہا کہ اب میرا قرض ادا کیجئے، انہوں نے کہا کہ مجھے ایک سال تک مہلت دے دو، میں نے انکار کر دیا اور ان سے اپنے پیسے وصول کر لئے، کچھ عرصے بعد میں ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کہ تم نے انکار کر کے مجھے بڑی تکلیف پہنچائی تھی، میں نے کہا: اچھا، یہ تو آپ کا عمل تھا، انہوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ میں نے کہا کہ آپ ہی نے تو ہمیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرض آدھے صدقے کے قائم مقام ہوتا ہے“، انہوں نے کہا کہ ہاں، یہ تو ہے، میں نے کہا: اب دوبارہ لے لیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالْفَرْجُ يَزْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں، ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں، پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ بھی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ ، وَلاَ يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا، اور وہ شخص جہنم میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 91.
حدیث نمبر: 3914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ مَاتَ ، فَوُجِدَ فِي بُرْدَتِهِ دِينَارَانِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيَّتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، ان کی چادر میں دو دینار ملے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، عَلَيْهِ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ، يُنْثَرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ : الدُّرُّ وَالْيَاقُوتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے « ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى﴾ » [النجم : 13] کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سدرۃ المنتہی کے پاس جبرئیل امین کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے جن سے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3916
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ، أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي ، تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلََّا بِرَحْمَتِكَ ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا ، تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ، إِلَّا قَالَ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : إِنَّ عَبْدِي قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا ، فَأَوْفُوهُ إِيَّاهُ ، فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . قَالَ سُهَيْلٌ : فَأَخْبَرْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَوْنًا أَخْبَرَ بِكَذَا وَكَذَا ، قَالَ : مَا فِي أَهْلِنَا جَارِيَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَقُولُ هَذَا فِي خِدْرِهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص یہ دعا پڑھ لیا کرے: «اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ”اے اللہ! اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے! پوشیدہ اور ظاہر سب کچھ جاننے والے! میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں یہ عہد کرتا ہوں کہ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، آپ اکیلے ہیں، آپ کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے بندے اور رسول ہیں، اگر آپ نے مجھے میرے ہی حوالے کر دیا تو گویا آپ نے مجھے شر کے قریب اور خیر سے دور کر دیا، مجھے آپ کی رحمت پر ہی اعتماد ہے، اس لئے میرے اس عہد کو اپنے پاس رکھ لیجئے اور قیامت کے دن اسے پورا کر دیجئے گا، بےشک آپ اپنے وعدے کے خلاف نہیں فرماتے“، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائیں گے کہ ”میرے بندے نے مجھ سے ایک عہد کر رکھا ہے، اسے پورا کرو“، چنانچہ اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔“ سہیل کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمن کو بتایا کہ عون نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے تو انہوں نے کہا: ہمارے گھر میں ہر بچی اپنے پردے میں یہ دعا پڑھتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، عون بن عبدالله لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا سَمَرَ إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ : لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز عشا کے بعد باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، سوائے دو آدمیوں کے، جو نماز پڑھ رہا ہو یا جو مسافر ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، خيثمة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ " يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 بِالدَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے: «﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾» [القمر : 40]۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4869، م: 823.
حدیث نمبر: 3919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ الرَّجُلُ مِنَّا فِي صَلَاتِهِ : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ ، يَخُصُّ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ السَّلَامُ ، فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاَتِهِ ، فَلْيَقُلْ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، فَإِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنَ الدُّعَاءِ مَا شَاءَ أَوْ مَا أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو اسے یوں کہنا چاہئے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو“، جب وہ یہ جملہ کہہ لے گا تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شامل ہو جائے گا، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6328، م: 402 .
حدیث نمبر: 3920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا قَعَدْنَا فِي الصَّلَاةِ ، قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا مِنْ رَبِّنَا ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ ، فَإِذَا قَعَدْتُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَقُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا ، وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ ، أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْكَلَامِ مَا شَاءَ " . قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنِيهِ أَيْضًا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . . . بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، جبرائیل کو سلام ہو، میکائیل کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو اسے یوں کہنا چاہئے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو“، جب وہ یہ جملہ کہہ لے گا تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شامل ہو جائے گا، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6328، م: 402.
حدیث نمبر: 3921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، وأَبي الأحوص ، وأَبي عُبَيْدَة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کے کلمات تشہد سکھائے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» جن کا ترجمہ یہ ہے کہ ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1202.
حدیث نمبر: 3922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ دَاءً ، إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً ، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، اس کی شفا بھی اتاری ہے، جو جان لیتا ہے سو جان لیتا ہے، اور جو ناواقف رہتا ہے سو ناواقف رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت تمہارے جوتوں کے تسموں سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اور یہی حال جہنم کا بھی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6488 .
حدیث نمبر: 3924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى رَأَيْتُ الْجَبَلَ مِنْ بَيْنِ فُرْجَتَيْ الْقَمَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، حتی کہ میں نے اس کے دو ٹکڑوں کے درمیان چاند کو دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3636، م: 2800، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - متابع.
حدیث نمبر: 3925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ ، وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ ، لاَ يُعَجَّلُ مِنْهَا شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ ، وَلاَ يُؤَخَّرُ مِنْهَا شَيْءٌ بَعْدَ حِلِّهِ ، وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ، كَانَ خَيْرًا لَكِ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ ، هِيَ مِمَّا مُسِخَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَمْسَخْ اللَّهُ قَوْمًا أَوْ يُهْلِكْ قَوْمًا ، فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلاً وَلَا عَاقِبَةً ، وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ قَدْ كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا یہ دعا کر رہی تھیں کہ اے اللہ! مجھے اپنے شوہر نامدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اپنے والد ابوسفیان اور اپنے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ دعا سن لی اور فرمایا: ”تم نے اللہ سے طے شدہ مدت، گنتی کے چند دن اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے وقت سے پہلے تمہیں نہیں مل سکتی اور اپنے وقت مقررہ سے مؤخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے محفوظ فرما دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا خنزیر اور بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آرہے ہیں۔“راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آرہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2663.
حدیث نمبر: 3926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ : ذَكَرَ أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَّ عَلَيَّ الشَّيْطَانُ ، فَأَخَذْتُهُ ، فَخَنَقْتُهُ ، حَتَّى إِنِّي لأَجِدُ بَرْدَ لِسَانِهِ فِي يَدَيَّ ، فَقَالَ : أَوْجَعْتَنِي ، أَوْجَعْتَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ شیطان میرے پاس سے گزرا، میں نے اسے پکڑ لیا اور اس کا گلا دبانا شروع کر دیا، اس کی زبان باہر نکل آئی یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ پر محسوس کی، اور وہ کہنے لگا کہ آپ نے مجھے بڑی تکلیف دی، بڑی تکلیف دی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، أنهما كانا مع ابن مسعود ، فحضرت الصلاة ، فتأخر علقمة ، والأسود ، " فأخذ ابن مسعود بأيديهما ، فأقام أحدهما عَنْ يَمِينِهِ ، وَالْآخَرَ عَنْ يَسَارِهِ ، ثُمَّ رَكَعَا ، فَوَضَعَا أَيْدِيَهُمَا عَلَى رُكَبِهِمَا ، وَضَرَبَ أَيْدِيَهُمَا ، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَشَبَّكَ ، وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ " ، وَقَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ علقمہ اور اسود دونوں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے، نماز کا وقت آیا تو علقمہ اور اسود پیچھے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ پکڑے اور ایک کو اپنی دائیں جانب اور دوسرے کو اپنی بائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر جب ان دونوں نے رکوع کیا تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر ان کے ہاتھوں کو مارا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر ایک دوسرے میں انگلیاں داخل کر دیں اور دونوں ہاتھ اپنی رانوں کے بیچ میں رکھ لئے، اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ فائدہ: یہ عمل «تطبيق» کہلاتا ہے، ابتدا میں رکوع کا یہی طریقہ تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آخر دم تک اس کے نسخ کے قائل نہ ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 534.
حدیث نمبر: 3928
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ . . . فذكره .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 534.
حدیث نمبر: 3929
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أُمِرَ بِالْمَصَاحِفِ أَنْ تُغَيَّرَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : " مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَغُلَّ مُصْحَفَهُ فَلْيَغُلَّهُ ، فَإِنَّ مَنْ غَلَّ شَيْئًا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " قَرَأْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً " ، أَفَأَتْرُكُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
خمیر بن مالک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سرکاری حکم جاری ہوا کہ مصاحف قرآنی کو بدل دیا جائے (سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصاحف کے علاوہ کسی اور ترتیب کو باقی نہ رکھا جائے)، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا: تم میں سے جو شخص اپنا نسخہ چھپا سکتا ہو، چھپا لے، کیونکہ جو شخص جو چیز چھپائے گا، قیامت کے دن اس کے ساتھ ہی آئے گا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں، کیا میں ان چیزوں کو چھوڑ دوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے حاصل کی ہیں؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5000، م: 2462، وهذا إسناد ضعيف، خمير بن مالك انفرد بالرواية عنه أبو إسحاق السبيعي، ولم يوثقه غير ابن حبان.
حدیث نمبر: 3930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ . ح قَالَ : وَأَخْبَرَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ الْعَاقِبُ ، وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ ، قَالَ : وَأَرَادَا أَنْ يُلَاعِنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : لاَ تُلَاعِنْهُ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَعَنَّا ، قَالَ خَلَفٌ : فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا أَبَدًا ، قَالَ : فَأَتَيَاهُ ، فَقَالَا : لَا نُلَاعِنُكَ ، وَلَكِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَ ، فَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لأَبْعَثَنَّ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ، حَقَّ أَمِينٍ " ، قَالَ : فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : فَقَالَ : " قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ " ، قَالَ : فَلَمَّا قَفَّا ، قَالَ : " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ عاقب اور سید نامی دو آدمی آئے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے ارادے سے آئے تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ ان سے مباہلہ (اور ملاعنہ) مت کرو، کیونکہ اگر یہ واقعی نبی ہوئے اور انہوں نے ہمارے ساتھ ملاعنہ کر کے ہم پر لعنت بھیج دی تو ہم اور ہماری نسل کبھی کامیاب نہ ہو سکے گی، چنانچہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرتے، ہم آپ کو وہ دینے کے لئے تیار ہیں جس کا آپ مطالبہ کرتے ہیں، بس آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہو گا“، یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوعبیدہ بن الجراح! کھڑے ہو جاؤ“، جب وہ دونوں واپس جانے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس امت کے امین ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده من طريق أسود صحيح.
حدیث نمبر: 3931
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کے لئے اپنے بستر پر آ کر لیٹتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا فرماتے: «اللّٰهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ» ”پروردگار! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3932
حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ . . . بِمَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُسَلِّمُ فِي صَلاَتِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 3934
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : " يُجْمَعُ خَلْقُ أَحَدِكُمْ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، فَيَقُولُ : اكْتُبْ عَمَلَهُ وَأَجَلَهُ وَرِزْقَهُ ، وَاكْتُبْهُ شَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا " . ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بِيَدِهِ ، " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ غَيْرُ ذِرَاعٍ ، ثُمَّ يُدْرِكُهُ الشَّقَاءُ ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَمُوتُ ، فَيَدْخُلُ النَّارَ ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ غَيْرُ ذِرَاعٍ ، ثُمَّ تُدْرِكُهُ السَّعَادَةُ ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَمُوتُ ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم - جو کہ صادق و مصدوق ہیں - نے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے کہ ”تمہاری خلقت کو شکم مادر میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ جما ہوا خون ہوتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونک دیتا ہے، پھر چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کے رزق کا، اس کی موت کا، اس کے اعمال کا اور یہ کہ یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب؟ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں عبداللہ کی جان ہے، تم میں سے ایک شخص اہل جنت کی طرح اعمال کرتا رہتا ہے، جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جہنم والے اعمال کر کے جہنم میں داخل ہوجاتا ہے، اور ایک شخص جہنمیوں والے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور اس کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہو جاتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3208، م: 2643.
حدیث نمبر: 3935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا ، فَلَمَّا قُبِضَ ، قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کلمات تشہد قرآن کریم کی سورت کی طرح اس حال میں سکھائے ہیں کہ میرا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں تھا: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان رہے ہم یہی کلمات کہتے رہے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو ہم «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ» کہنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6265، م: 402.
حدیث نمبر: 3936
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْأَقْمَرِ يَذْكُرُ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا ، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ سُنَنَ الْهُدَى ، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى ، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ ، وَلَوْ أَنَّكُمْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ، ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً ، وَيَرْفَعُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً ، وَلَوْ رَأَيْتُنَا ، وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ، حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ کل قیامت کے دن اللہ سے اس کی ملاقات اسلام کی حالت میں ہو تو اسے ان فرض نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے جب بھی ان کی طرف پکارا جائے، کیونکہ یہ سنن ہدی میں سے ہیں اور اللہ نے تمہارے پیغمبر کے لئے سنن ہدی کو مشروع قرار دیا ہے، تم اگر اپنے گھروں میں اس طرح نماز پڑھنے لگے جیسے یہ پیچھے رہ جانے والے اپنے گھروں میں پڑھ لیتے ہیں تو تم اپنے نبی کی سنت کے تارک ہو گے، اور جب تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر کسی بھی مسجد کی طرف روانہ ہو جائے، وہ جو قدم بھی اٹھائے گا، اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا، ایک گناہ معاف کیا جائے گا اور ایک نیکی لکھی جائے گی، اور میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کی نماز سے وہی شخص پیچھے رہتا تھا جو منافق ہوتا تھا اور اس کا نفاق سب کے علم میں ہوتا تھا، نیز یہ بھی کہ ایک شخص کو دو آدمیوں کے سہارے پر مسجد میں لایا جاتا اور صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 654.
حدیث نمبر: 3937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا " ، حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سُوءٍ ، قُلْنَا وَمَا هَمَمْتَ بِهِ ؟ ! قَالَ : هَمَمْتُ أَنْ أَقْعُدَ ، وَأَدَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ . . . مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا کہ میں اپنے دل میں برا ارادہ کرنے لگا۔ ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: آپ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ فرمایا کہ میں بیٹھ جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا چھوڑ دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1135.
حدیث نمبر: 3938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيَّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ الْأَوْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حُرِّمَ عَلَى النَّارِ كُلُّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ سَهْلٍ قَرِيبٍ مِنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہنم کی آگ پر ہر اس شخص کو حرام قرا دے دیا گیا ہے جو باوقار ہو، نرم خو ہو، سہولت پسند طبیعت کا ہو (جھگڑالو نہ ہو) اور لوگوں کے قریب ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن عمرو الأودي لم يرو عنه غير موسى بن عقبة، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان.
حدیث نمبر: 3939
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الْحَارِثِ يَحْيَى التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ ؟ فَقَالَ : " السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا ، يُعَجَّلْ أَوْ تُعَجَّلْ إِلَيْهِ ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ ، فَبُعْدًا لأَهْلِ النَّارِ ، الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلاَ تَتْبَعُ ، لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رفتار جو دوڑنے کے زمرے میں نہ آتی ہو، اگر وہ نیکوکار رہا ہو گا تو اس کے اچھے انجام کی طرف اسے جلد لے جایا جا رہا ہو گا، اور اگر وہ ایسا نہ ہوا تو اہل جہنم کو دور ہی ہو جانا چاہئے، اور جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي.
حدیث نمبر: 3940
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، " فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي هُوَ أَهْيَاهُ وَأَهْدَاهُ وَأَتْقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ گمان کرو جو درستگی، ہدایت اور تقوی پر مبنی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عون لم يسمع من عم أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3941
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ رَوْحٌ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، " فَرَمَى الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ ، وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَالَ : هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف رکھا اور منیٰ کو دائیں طرف اور فرمایا: یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1748، م: 1296.
حدیث نمبر: 3942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ " اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ ، وَاعْتَرَضَ الْجِمَارَ اعْتِرَاضًا ، وَجَعَلَ الْجَبَلَ فَوْقَ ظَهْرِهِ ، ثُمَّ رَمَى ، وَقَالَ : هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے پہاڑ کو اپنی پشت پر رکھا اور رمی کرنے کے بعد فرمایا: یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م:1296 .
حدیث نمبر: 3943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَسْوَدُ ، فَمَاتَ ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْظُرُوا هَلْ تَرَكَ شَيْئًا ؟ " قَالُوا : تَرَكَ دِينَارَيْنِ ، قَالَ : " كَيَّتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گیا، کچھ عرصے بعد اس کا انتقال ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ دیکھو کہ اس نے کچھ چھوڑا بھی ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ اس نے ترکہ میں دو دینار چھوڑے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3944
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، المعنى قَالَا : حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ أَبِي الرَّضْرَاضِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَيَرُدُّ عَلَيَّ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا ، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَيْكَ ، وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ ، فَتَرُدُّ عَلَيَّ ، وَإِنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْكَ ، فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز سلام کرتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دے دیتے تھے، لیکن ایک دن میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے اس کا بڑا رنج ہوا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پہلے تو میں دوران نماز آپ کو سلام کرتا تھا تو آپ جواب دے دیتے تھے؟ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں جس طرح چاہتا ہے، نیا حکم بھیج دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات.
حدیث نمبر: 3945
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَتْ : أُنْبِئْتُ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ الْوَاصِلَةِ ? قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَتْ : أَشَيْءٌ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، أَمْ سَمِعْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! فَقَالَ : أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَقَدْ تَصَفَّحْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيْ الْمُصْحَفِ ، فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ الَّذِي تَقُولُ ! قَالَ : فَهَلْ وَجَدْتِ فِيهِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ النَّامِصَةِ ، وَالْوَاشِرَةِ ، وَالْوَاصِلَةِ ، وَالْوَاشِمَةِ ، إِلَّا مِنْ دَاءٍ " ، قَالَتْ الْمَرْأَةُ : فَلَعَلَّهُ فِي بَعْضِ نِسَائِكَ ؟ قَالَ لَهَا : ادْخُلِي ، فَدَخَلَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ ، فَقَالَتْ : مَا رَأَيْتُ بَأْسًا ، قَالَ : مَا حَفِظْتُ إِذًا وَصِيَّةَ الْعَبْدِ الصَّالِحِ : وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ سورة هود آية 88 .
مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ ایک عورت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرتبہ آئی اور کہنے لگی کہ مجھے پتہ چلا ہے، آپ عورتوں کو بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملانے سے منع کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ایسا ہی ہے، اس عورت نے پوچھا کہ یہ حکم آپ کو قرآن میں ملتا ہے یا آپ نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان سنا ہے؟ فرمایا: مجھے یہ حکم قرآن میں بھی ملتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں بھی ملتا ہے، وہ عورت کہنے لگی: واللہ! میں تو دو گتوں کے درمیان جو مصحف ہے اسے خوب اچھی طرح کھنگال چکی ہوں، مجھے تو اس میں یہ حکم کہیں نہیں ملا؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس میں تمہیں یہ آیت ملی: «﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾» [الحشر : 7] ”اللہ کے پیغمبر تمہیں جو حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ؟“ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے: ”موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں کو باریک کرنے والی، دوسرے کے بالوں کو اپنے بالوں کے ساتھ ملانے والی اور جسم گودنے والی سے، ہاں! اگر کوئی بیماری ہو تو دوسری بات ہے۔“ وہ عورت کہنے لگی کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آ کر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، انہوں نے فرمایا: اگر ایسا ہو تو میں عبد صالح حضرت شعیب علیہ السلام کی یہ نصیحت یاد نہ رکھتا کہ ”میں تمہیں جس چیز سے روکتا ہوں، میں خود اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا (کہ میں تمہیں ایک کام سے روکوں اور خود وہی کام کرتا رہوں)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 5948، م: 2125. عبدالوهاب بن عطاء الخفاف: فيه كلام خفيف، وقد عرف بصحبته السعيد بن أبى عروبة، وسمع منه قبل الاختلاط، وكتب كتبه.