حدیث نمبر: 3548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس کے بعد انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 1747، م: 1296، وهذا إسناد فيه مغيرة الضبي، مدلس وقد عنعن، وروايته عن إبراهيم وحده ضعيفة، وقد توبع
حدیث نمبر: 3549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ ، فَقِيلَ : أَعْرَابِيٌّ هَذَا ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا ؟ ! سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ مزدلفہ سے واپسی پر تلبیہ پڑھتے رہے، لوگ کہنے لگے کہ کیا یہ کوئی دیہاتی ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: لوگ بھول گئے یا بہک گئے؟ جس ذات پر سورہ بقرہ کا نزول ہوا میں نے اسی ذات کو اس مقام پر تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1283
حدیث نمبر: 3550
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِيَ : اقْرَأْ عَلَيَّ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : أَلَيْسَ مِنْكَ تَعَلَّمْتُهُ ، وَأَنْتَ تُقْرِئُنَا ؟ فَقَالَ : إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " اقْرَأْ عَلَيَّ مِنَ الْقُرْآنِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ عَلَيْكَ أُنْزِلَ ، وَمِنْكَ تَعَلَّمْنَاهُ ؟ ، قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوحیان اشجعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ، میں نے عرض کیا کہ میں نے تو آپ ہی سے قرآن سیکھا ہے اور آپ ہی ہمیں قرآن پڑھاتے ہیں (تو میں آپ کو کیا سناؤں؟) انہوں نے فرمایا کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پڑھ کر سناؤ“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے اور آپ ہی سے ہم نے اسے سیکھا ہے؟ فرمایا: ”ایسا ہی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 4582، م: 800، وهذا إسناد ضعيف، أبو حيان الأشجعي مجهول
حدیث نمبر: 3551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ ، فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذِهِ الْآيَةَ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 ، قَالَ : فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورہ نساء میں سے تلاوت شروع کی، جب میں اس آیت پر پہنچا: «﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء : 41]» ”وہ کیسا وقت ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنائیں گے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4582، م: 800
حدیث نمبر: 3552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ وَمُغِيرَةُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : خَصْلَتَانِ يَعْنِي إِحْدَاهُمَا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْأُخْرَى مِنْ نَفْسِي : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا ، دَخَلَ النَّارَ " . وَأَنَا أَقُولُ : مَنْ مَاتَ ، وَهُوَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا ، وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ ”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا“، اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3553
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ النُّطْفَةَ تَكُونُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا عَلَى حَالِهَا لَا تَغَيَّرُ ، فَإِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعُونَ ، صَارَتْ عَلَقَةً ، ثُمَّ مُضْغَةً كَذَلِكَ ، ثُمَّ عِظَامًا كَذَلِكَ ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُسَوِّيَ خَلْقَهُ ، بَعَثَ إِلَيْهَا مَلَكًا ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ الَّذِي يَلِيهِ : أَيْ رَبِّ ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ؟ أَقَصِيرٌ أَمْ طَوِيلٌ ؟ أَنَاقِصٌ أَمْ زَائِدٌ ؟ قُوتُهُ وَأَجَلُهُ ؟ أَصَحِيحٌ أَمْ سَقِيمٌ ؟ قَالَ : فَيَكْتُبُ ذَلِكَ كُلَّهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذَنْ وَقَدْ فُرِغَ مِنْ هَذَا كُلِّهِ ؟ ، قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ سَيُوَجَّهُ لِمَا خُلِقَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ماں کے رحم میں چالیس دن تک تو نطفہ اپنی حالت پر رہتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، جب چالیس دن گزر جاتے ہیں تو وہ جما ہوا خون بن جاتا ہے، چالیس دن بعد وہ لوتھڑا بن جاتا ہے، اسی طرح چالیس دن بعد اس پر ہڈیاں چڑھائی جاتی ہیں، پھر جب اللہ کا ارادہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی شکل و صورت برابر کر دے تو اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے، چنانچہ اس خدمت پر مقرر فرشتہ اللہ سے پوچھتا ہے کہ پروردگار! یہ مذکر ہوگا یا مؤ نث؟ بدبخت ہوگا یا خوش بخت؟ ٹھنگنا ہوگا یا لمبےقد کا؟ ناقص الخلقت ہوگا یا زائد؟ اس کی روزی کیا ہوگی اور اس کی مدت عمر کتنی ہوگی؟ اور یہ تندرست ہوگا یا بیمار؟ یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔“ یہ سن کر لوگوں میں سے کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب یہ ساری چیزیں لکھی جا چکی ہیں تو پھر عمل کا کیا فائدہ؟ فرمایا: ”تم عمل کرتے رہو، کیونکہ ہر شخص کو اسی کام کی طرف متوجہ کیا جائے گا جس کے لئے اس کی پیدائش ہوئی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ومنقطع ، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، وعلي بن زيد ضعيف
حدیث نمبر: 3554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلًى لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، إِلَّا كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَ اثْنَيْنِ ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ " ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا اثْنَيْنِ ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ " ، قَالَ : فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ : لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا وَاحِدًا ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا ؟ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا ذَاكَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں، وہ ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا ایک مضطوط قلعہ بن جائیں گے“، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں نے تو دو بچے آگے بھیجے ہیں؟ فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ - جو سید القراء کے نام سے مشہور ہیں - عرض کرنے لگے کہ میرا صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر کسی کا ایک بچہ فوت ہوا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کا تعلق تو صدمہ کے ابتدائی لمحات سے ہے“ (کہ اس وقت کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع؟ کیونکہ بعد میں تو سب ہی صبر کر لیتے ہیں)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: في إسناده بهذه السياقة ضعف وانقطاع، محمد بن أبى محمد مجهول، وأبو عبيدة لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 3555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ ، حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : قَالَ : " فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں کے ان کے وقت کے پر ادا کرنے سے مشغول کر دیا، یہاں تک کہ رات کا بھی کچھ حصہ گزر گیا، فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، اقامت کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہہ کر عصر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کے بعد مغرب کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہلوا کر عشا کی نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 3556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِبْرَاهِيمَ ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى " ، قَالَ : " فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ ، فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : لَا عِلْمَ لِي بِهَا ، فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : لَا عِلْمَ لِي بِهَا ، فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى عِيسَى ، فَقَالَ : أَمَّا وَجْبَتُهَا ، فَلَا يَعْلَمُهَا أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ ، ذَلِكَ وَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ ، قَالَ : وَمَعِي قَضِيبَانِ ، فَإِذَا رَآنِي ، ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ ، قَالَ : فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ ، حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ لَيَقُولُ : يَا مُسْلِمُ ، إِنَّ تَحْتِي كَافِرًا ، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ ، قَالَ : فَيُهْلِكُهُمْ اللَّهُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ ، قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ ، وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ، فَيَطَئُونَ بِلَادَهُمْ ، لَا يَأْتُونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَهْلَكُوهُ ، وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَيَّ فَيَشْكُونَهُمْ ، فَأَدْعُو اللَّهَ عَلَيْهِمْ ، فَيُهْلِكُهُمْ اللَّهُ وَيُمِيتُهُمْ ، حَتَّى تَجْوَى الْأَرْضُ مِنْ نَتْنِ رِيحِهِمْ ، قَالَ : فَيُنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ ، فَتَجْرُفُ أَجْسَادَهُمْ حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي الْبَحْرِ " ، قَالَ أَبِي : ذَهَبَ عَلَيَّ هَاهُنَا شَيْءٌ لَمْ أَفْهَمْهُ ، كَأَدِيمٍ ، وَقَالَ يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ : " ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ ، وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ " ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ ، قَالَ : " فَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ ذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ ، فَإِنَّ السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ ، الَّتِي لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَؤُهُمْ بِوِلَادِهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شب معراج میری ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی، انہوں نے قیامت کا تذکرہ چھیڑ دیا اور یہ معاملہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا، انہوں نے فرمایا کہ مجھے تو اس کا کچھ علم نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ معاملہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پیش کیا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ مجھے بھی اس کا کچھ علم نہیں ہے، پھر یہ معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا حقیقی علم تو اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے، البتہ میرے پروردگار نے مجھے یہ بتا رکھا ہے کہ قیامت کے قریب دجال کا خروج ہوگا، میرے پاس دو شاخیں ہوں گی، دجال مجھے دیکھتے ہی اس طرح پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے قلعی پگھل جاتی ہے، اس کے بعد اللہ اسے ختم کروا دے گا، یہاں تک کہ شجر و حجر پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مسلم! یہ میرے نیچے کافر چھپا ہوا ہے، آ کر اسے قتل کر، یوں اللہ ان سب کو بھی ختم کروا دے گا۔ پھر لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کو لوٹ جائیں گے، اس وقت یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جو ہر بلندی سے پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے، وہ تمام شہروں کو روند ڈالیں گے، میں اللہ سے ان کے خلاف بد دعا کروں گا، تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کر دے گا یہاں تک کہ ساری زمین ان کی بدبو سے بھر جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائیں گے جو ان کے جسموں کو بہا کر لے جائے گی اور سمندر میں پھینک دے گی، (میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ یہاں کچھ رہ گیا ہے جو میں سمجھ نہیں سکا، بہرحال دوسرے راوی کہتے ہیں) اس کے بعد پہاڑوں کو گرا دیا جائے گا اور زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ دیا جائے گا، میرے رب نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ جب یہ واقعات پیش آ جائیں تو قیامت کی مثال اس امید والی اونٹنی کی ہوگی جس کی مدت حمل پوری ہو چکی ہو اور اس کے مالک کو معلوم نہ ہو کہ کب اچانک ہی اس کے یہاں دن یا رات میں بچہ پیدا ہو جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، مؤثر بن غفارة، لم يوثقه غير ابن حبان والعجلي
حدیث نمبر: 3557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ عَنِ الصَّلَاةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَلِكَ الشَّيْطَانُ بَالَ فِي أُذُنِهِ " أَوْ " فِي أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ فلاں شخص رات کو نماز سے غافل ہو کر سوتا رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1144، م: 774
حدیث نمبر: 3558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ فِي بَيْتٍ فِيهِ تِمْثَالُ مَرْيَمَ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : هَذَا تِمْثَالُ كِسْرَى ؟ فَقُلْتُ : لَا ، وَلَكِنْ تِمْثَالُ مَرْيَمَ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
مسلم بن صبیح کہتے ہیں کہ میں مسروق کے ساتھ ایک ایسے گرجے میں گیا جہاں حضرت مریم علیہا السلام کی مورتی رکھی ہوئی تھی، مسروق نے پوچھا: کیا یہ کسری کی مورتی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ حضرت مریم علیہا السلام کی مورتی ہے، فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے کہ ”قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر ساز لوگوں کو ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5950، م: 2109
حدیث نمبر: 3559
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ ، فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِمَثَلِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہو جائے، اسے یقین کر لینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3560
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2184
حدیث نمبر: 3561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ، فَقَامُوا صَفَّيْنِ ، فَقَامَ صَفٌّ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ قَامُوا فَذَهَبُوا ، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمُوا ، ثُمَّ ذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ ، وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ ، فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو صفوں میں کھڑے ہوئے، ایک صف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے سامنے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ کھڑے ہو کر چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے اور دوسری صف والے آ گئے اور پہلی صف والوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور خود سلام پھیر دیا، پھر ان لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر کر پہلی صف والوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے اور پہلی صف والوں نے اپنی جگہ واپس آ کر ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من عبدالله وهو أبوه
حدیث نمبر: 3562
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُعَلِّمَ النَّاسَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کلمات تشہد سکھائے اور لوگوں کو بھی سکھانے کا حکم دیا: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» جن کا ترجمہ یہ ہے کہ ”تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 831، م: 402، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 3563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ ، فَتَرُدُّ عَلَيْنَا ؟ فَقَالَ : " إِنَّ فِيَّ أَوْ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدا میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز سلام کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دے دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس آئے اور انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پہلے تو ہم دوران نماز آپ کو سلام کرتے تھے اور آپ جواب دے دیتے تھے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1199، م: 538
حدیث نمبر: 3564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضْلُ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ ، بِضْعٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت بیس سے کچھ اوپر درجے زیادہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عطاء بن السائب مختلط - قد توبع
حدیث نمبر: 3565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : " مَنْ يَذْكُرُ مِنْكُمْ لَيْلَةَ الصَّهْبَاوَاتِ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَا ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، وَإِنَّ فِي يَدِي لَتَمَرَاتٍ أَسْتَحِرُ بِهِنَّ ، مُسْتَتِرًا بِمُؤْخِرَةِ رَحْلِي مِنَ الْفَجْرِ ، وَذَلِكَ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے آ کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ شب قدر کب ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے وہ رات کسے یاد ہے جو سرخ و سفید ہو رہی تھی؟“ میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے یاد ہے، میرے ہاتھ میں اس وقت کچھ کھجوریں تھیں اور میں چھپ کر اپنے کجاوے کے پچھلے حصے میں ان سے سحری کر رہا تھا اور اس وقت چاند نکلا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من عبدالله
حدیث نمبر: 3566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَقِيلَ : زِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قِيلَ : صَلَّيْتَ خَمْسًا ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھولے سے ظہر کی نماز میں چار کی بجائے پانچ رکعتیں پڑھا دیں، کسی نے پوچھا: کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1226 ، م : 572
حدیث نمبر: 3567
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الْجَمِيعِ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ ، خَمْسَةً وَعِشْرِينَ ضِعْفًا ، كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے اور ہر درجہ اس کی نماز کے برابر ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا سند ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمع من أبى الأحوص، ومحمد بن أبى عدي سمع من سعيد بعد اختلاطه
حدیث نمبر: 3568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَقَالَ مَرَّةً ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " النَّدَمُ تَوْبَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، میرے والد نے پوچھا: کیا آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ندامت بھی توبہ ہے“؟ فرمایا: ہاں!
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 3569
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ ، فَقَالَتْ : لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو خواہ اپنے زیور ہی میں سے کیوں نہ دو، کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو“، ایک عورت - جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی - کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: ”اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی بہت کرتی ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا سند محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 3570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ ، وَقَالَ مَرَّةً : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ السَّجْدَتَيْنِ فِي السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد کئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1226،م: 572
حدیث نمبر: 3571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلِيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي " ، قَالَ عبد الله : قال أَبِي : حَدَّثَنَا بِهِ فِي بَيْتِهِ ، فِي غُرْفَتِهِ ، أُرَاهُ سَأَلَهُ بَعْضُ وَلَدِ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى ، أَوْ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ يَحْيَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آ جائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔“ عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہم سے ہمارے والد نے اپنے گھر میں اپنے کمرے میں بیان فرمائی تھی، شاید جعفر بن یحییٰ، یا یحییٰ بن خالد کی اولاد میں سے کسی نے ان سے اس کے متعلق سوال کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنْقَضِي الْأَيَّامُ ، وَلَا يَذْهَبُ الدَّهْرُ ، حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، اسْمُهُ يُوَاطِئُ اسْمِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آ جائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ : لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، وَيُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آ جائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا ، فَلَا أَدْرِي بِأَيِّهَا خَتَمَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة الأعراف آية 185 أَوْ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لا يَرْكَعُونَ سورة المرسلات آية 48 ؟ سَبَقَتْنَا حَيَّةٌ ، فَدَخَلَتْ فِي جُحْرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ وُقِيتُمْ شَرَّهَا ، وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غار میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہوئی جسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلتے ہی یاد کر لیا، ابھی وہ سورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک پر تازہ ہی تھی، مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی آیت ختم کی « ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ » یا « ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ﴾ » کہ اچانک ایک سانپ نکل آیا اور جلدی سے ایک سوراخ میں گھس گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے شر سے تمہاری اور تمہارے شر سے اس کی بچت ہو گئی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1830، م: 2234
حدیث نمبر: 3575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، أَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ ، حَتَّى قَضَوْا الصَّلَاةَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ ، وَإِنَّهُ قَدْ أُحْدِثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا نَتَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سر زمین حبشہ جانے سے پہلے ابتدا میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز سلام کرتے (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دے دیتے تھے)، لیکن جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، اس پر مجھے دور اور نزدیک کے اندیشے ہونے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”اللہ تعالیٰ جو فیصلہ چاہتا ہے کر لیتا ہے، اس معاملے میں اللہ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم دوران نماز باتیں نہ کیا کریں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1199، م: 538
حدیث نمبر: 3576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَامِعٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ مُسْلِمٍ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، وَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خَلاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ سورة آل عمران آية 77 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی معاملے میں قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال حاصل کر لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہو گا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تائید کے لئے قرآن کریم کی یہ آیت ہمارے سامنے تلاوت فرمائی: « ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ﴾ [آل عمران : 77]» ”جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسموں کے بدلے معمولی سی قیمت لے لیتے ہیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا اور اللہ ان سے کلام تک نہیں کرے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7445، م: 138
حدیث نمبر: 3577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَامِعٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعُ عَبْدٌ زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ ، يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ ، فَيَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ " ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ مِصْدَاقَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180 ، قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : يُطَوَّقُهُ فِي عُنُقِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ روک کر رکھتا ہے اس کے مال کو گنجا سانپ بنا دیا جائے گا، وہ اس سے بچ کر بھاگے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے پیچھے ہو گا اور کہے گا کہ میں ہی تیرا خزانہ ہوں“، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی تائید میں قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی: «﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [آل عمران : 180]» ”عنقریب ان کی گردن میں قیامت کے دن وہ مال و دولت طوق بنا کر ڈالاجائے گا جس میں وہ بخل کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً ، إِلَّا قَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً ، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، اس کی شفا بھی اتاری ہے، جو جان لیتا ہے سو جان لیتا ہے، اور جو ناواقف رہتا ہے سو ناواقف رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 3579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ ، فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جائیداد نہ بنایا کرو، ورنہ تم دنیا ہی میں منہمک ہو جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، المغيرة لم يوثقه غير ابن حبان والعجلي
حدیث نمبر: 3580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ہر دوست کی دوستی سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2383
حدیث نمبر: 3581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : سَمِعْتُ شَقِيقًا ، يَقُولُ : كُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ يَخْرُجُ عَلَيْنَا ، فَجَاءَنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي النَّخَعِيَّ ، قَالَ : فَقَالَ : أَلَا أَذْهَبُ فَأَنْظُرَ ؟ فَإِنْ كَانَ فِي الدَّارِ ، لَعَلِّي أَنْ أُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ ، فَجَاءَنَا ، فَقَامَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : إِنَّهُ لَيُذْكَرُ لِي مَكَانُكُمْ ، فَمَا آتِيكُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ ، كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
شقیق کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ مسجد میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری کا انتظار کر رہے تھے، اتنی دیر میں یزید بن معاویہ نخعی آ گئے، وہ کہنے لگے: میں جا کر دیکھوں؟ اگر وہ گھر میں ہوئے شاید میں انہیں آپ کے پاس لا سکوں؟ چنانچہ تھوڑی دیر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6411، م: 2821
حدیث نمبر: 3582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْكَنُودِ : أَصَبْتُ خَاتَمًا يَوْمًا ، فذكره ، فرآه ابنُ مسعود في يده ، فقال : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَلَقَةِ الذَّهَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالکنود کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے اپنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس پر نگاہ پڑ گئی، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے چھلے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف منقطع، يزيد ضعيف ، ولم يسمع من أبى الكنود
حدیث نمبر: 3583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّتَيْنِ ، حَتَّى نَظَرُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْهَدُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور سب لوگوں نے اسے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ رہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3636، م: 2800
حدیث نمبر: 3584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ نُصُبٍ ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ ، وَيَقُولُ : جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ سورة سبأ آية 49 ، جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا سورة الإسراء آية 81 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے، اس وقت خانہ کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی انہیں چبھوتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے: «﴿جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ﴾ [سبأ : 49]» ”حق آ گیا اور باطل کسی چیز کو نہ پیدا کر سکتا ہے اور نہ لوٹا کر لا سکتا ہے“، نیز یہ کہ «﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [الإسراء : 81]» ”حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا، بےشک باطل تو بھاگنے والا ہے ہی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2478، م : 1781
حدیث نمبر: 3585
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : وَلَيْسَ مِنْهَا مَنْ يَقْدُمُهَا ، وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانُ : سَمِعْتُ يَحْيَى الْجَابِرَ ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ ، فَقَالَ : " مَتْبُوعَةٌ ، وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی نے صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع“ (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي وضع يحيى الجابر
حدیث نمبر: 3586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى ، قَالَ : فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهَا " ، فَابْتَدَرْنَاهَا ، فَسَبَقَتْنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے میدان میں تھے کہ اچانک ایک سانپ نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، ہم جلدی سے اس کی طرف بڑھے لیکن وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1830، م : 2234
حدیث نمبر: 3587
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِي عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَخْرُجُ إِلَيْنَا ، فَيَقُولُ : إِنَِّي لَأُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ ، وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ ، كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
شقیق کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6411، م: 2821