حدیث نمبر: 2157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْر ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ لِبَيْضِهَا ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ کے لئے تعمیر مسجد میں حصہ لیتا ہے - خواہ وہ قطا پرندے کے انڈے دینے کے گھونسلے کے برابر ہی کیوں نہ ہو - اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر تعمیر فرما دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2158
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ، قَالَ : " تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَمَرَنِي بِهَا ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي ، فَقَالَ : عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ : فِي الْهَدْيِ جَزُورٌ ، أَوْ بَقَرَةٌ ، أَوْ شَاةٌ ، أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ " , قَالَ عَبْد اللَّهِ : مَا أَسْنَدَ شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي جَمْرَةَ إِلَّا وَاحِدًا ، وَأَبُو جَمْرَةَ أَوْثَقُ مِنْ أَبِي حَمْزَةَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوجمرہ الضبعی کہتے ہیں کہ میں نے حج تمتع کی نیت سے احرام باندھا، لوگوں نے مجھے منع کیا، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آ کر یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے مجھے فرمایا کہ تم یہ کر لو، پھر میں بیت اللہ کی طرف روانہ ہوا، وہاں پہنچ کر مجھے نیند آ گئی، خواب میں میرے پاس ایک شخص آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تیرا عمرہ بھی مقبول ہے اور تیرا حج بھی مبرور ہے، میں جب خواب سے بیدار ہوا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں اپنا خواب سنایا، اس پر انہوں نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اور فرمایا کہ ہدی میں اونٹ، گائے، بکری یا سات حصوں والے جانور میں شرکت بھی ہو سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 2159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے ان سے سفر میں نماز کے متعلق پوچھنا شروع کر دیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلنے کے بعد گھر واپس آنے تک دو رکعت نماز (قصر) ہی پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2160
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُجَثَّمَةِ وَالْجَلَّالَةِ , وَأَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو، اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے، اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 2162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ ، لَا يُسْنِدُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ فُتْيَاهُ ، حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ , فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : ادْنُهْ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَدَنَا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا ، يُكَلَّفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ " .
مولانا ظفر اقبال
نضر بن انس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کو فتوی دے رہے تھے لیکن اپنے کسی فتوی کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کر رہے تھے، اسی دوران ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں، اور میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، جب وہ قریب ہو گیا تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص دنیا میں تصویر سازی کرتا ہے اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا، ظاہر ہے کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔“
حدیث نمبر: 2163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 2164
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ خَالَتُهُ ، قَالَ : فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ , " وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ , أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ , أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ , اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ خَوَاتِيمَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا , فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقُمْتُ ، فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ اليمنى عَلَى رَأْسِي ، وَأَخَذَ أُذُنِي الْيُمْنَى فَفَتَلَهَا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَج ، فَصَلَّى الصُّبْح " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گذاری، وہ کہتے ہیں کہ میں تکیے کی چوڑائی پر سر رکھ کر لیٹ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ محترمہ اس کی لمبائی والے حصے پر سر رکھ کر لیٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس سے کچھ بعد کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر بیٹھ گئے اور اپنے چہرہ مبارک کو اپنے ہاتھوں سے مل کر نیند کے آثار دور کرنے لگے، پھر سورہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرمائی، پھر کھڑے ہو کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے، اس سے وضو کیا اور خوب اچھی طرح کیا اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر اسے مروڑنا شروع کر دیا (اور مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو رکعتیں پڑھیں، پھر اسی طرح دو دو رکعتیں کر کے کل بارہ رکعتیں پڑھیں، پھر وتر پڑھے اور پھر لیٹ گئے، یہاں تک کہ جب مؤذن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں اور باہر تشریف لا کر فجر کی نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 2165
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ ، أَشْعَثَ أَغْبَر ، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ , أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا هَذَا ؟ قَالَ : " دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ ، لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ " , قَالَ عَمَّارٌ : فَحَفِظْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ ، فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نصف النہار کے وقت خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بکھرے ہوئے اور جسم پر گرد و غبار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بوتل تھی جس میں وہ کچھ تلاش کر رہے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ فرمایا: ”یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں صبح سے اس کی تلاش میں لگا ہوا ہوں۔“ راوی حدیث عمار کہتے ہیں کہ ہم نے وہ تاریخ اپنے ذہن میں محفوظ کر لی، بعد میں پتہ چلا کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اسی تاریخ اور اسی دن شہید ہوئے تھے (جس دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خواب دیکھا تھا)۔
حدیث نمبر: 2166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بن الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُ لَنَا رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا ، وَنُؤْمِنُ بِكَ , قَالَ : " وَتَفْعَلُونَ ؟ " , قَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : فَدَعَا ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ لك : إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا , فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُمْ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ , وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ , قَالَ : " بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی تم ایمان لے آؤگے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ ”اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں اسے ایسی سزا دوں گا کہ دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دی ہوگی، اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 2167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " , وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں اور اپنے باپ کی طرف نسبت کرے۔“
حدیث نمبر: 2168
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، يَقُولُ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ”یوں کہا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ ، فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفَّى مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 2170
(حديث مرفوع) حدثنا عبد الله ، حدثنا أبي من كتابه ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ : الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا , عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَائِلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا ، فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! آپ نے قریش کے پہلوں کو عذاب کا مزہ چکھا دیا، اب ان کے پچھلوں کو اپنے انعام کا مزہ بھی دکھا دے۔“
حدیث نمبر: 2171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَكُلُّهُمْ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ ثُمَّ خَطَبَ ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ خَطَبَ ، وَعُمَرُ ثُمَّ خَطَبَ ، وَعُثْمَانُ ثُمَّ خَطَبَ ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود رہے ہیں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ رَكْعَتَيْنِ لَا يَقْرَأُ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ ، لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز دو رکعتیں کر کے پڑھائیں، ان دونوں رکعتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی اور اس پر کسی سورت کا اضافہ نہیں کیا (غالبا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک دور ہونے کی وجہ سے آواز نہ پہنچ سکی ہوگی)۔
حدیث نمبر: 2175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ , يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " رُكِزَتْ الْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ ، فَصَلَّى إِلَيْهَا ، وَالْحِمَارُ يَمُرُّ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میدان عرفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک نیزہ گاڑ دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سامنے رکھ کر نماز پڑھائی، جبکہ اس نیزے کے ورے گدھے بھی گزر رہے تھے (کیونکہ وہ نیزہ بطور سترہ کے استعمال کیا جا رہا تھا).
حدیث نمبر: 2176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ ، فَأَعْتَقَهُمَا " , أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن جب اہل طائف کا محاصرہ کیا تو ان کے دو غلام نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا، جن میں سے ایک سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا کرتے تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 2177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا ، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔
حدیث نمبر: 2178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَقُولَ : بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي ، فَإِنْ اللَّهُ قَضَى بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ وَلَدًا ، لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ملاقات کے لئے آ کر یہ دعا پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطا فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے“، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
حدیث نمبر: 2179
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : يَا سَعِيدُ أَلَكَ امْرَأَةٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا , قَالَ : فَإِذَا رَجَعْتَ فَتَزَوَّجْ , قَالَ : فَعُدْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا سَعِيدُ : أَتَزَوَّجْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا , قَالَ : تَزَوَّجْ ، فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَكْثَرُهُمْ نِسَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (میری سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی) انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، فرمایا: شادی کر لو، اس بات کو کچھ عرصہ گزر گیا، دوبارہ ملاقات ہونے پر انہوں نے پھر یہی پوچھا کہ اب شادی ہو گئی؟ میں نے پھر نفی میں جواب دیا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ شادی کر لو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) ان کی بیویاں زیادہ تھیں (تو تم کم از کم ایک سے ہی شادی کر لو، چار سے نہ سہی)۔
حدیث نمبر: 2180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَنَابَةٍ ، فَلَمَّا خَرَجَ رَأَى لُمْعَةً عَلَى مَنْكِبِهِ الْأَيْسَرِ ، لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ ، فَأَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ فَبَلَّهَا ، ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت فرمایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر کے باہر نکلے تو دیکھا کہ بائیں کندھے پر تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی ہے، وہاں پانی نہیں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں سے ٹپکتا ہوا پانی لے کر اس جگہ کو تر بتر کر لیا اور نماز کے لئے چلے گئے۔
حدیث نمبر: 2181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ أَبْطَأَ عَنْكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ : " وَلِمَ لَا يُبْطِئُ عَنِّي ، وَأَنْتُمْ حَوْلِي لَا تَسْتَنُّونَ ، وَلَا تُقَلِّمُونَ أَظْفَارَكُمْ ، وَلَا تَقُصُّونَ شَوَارِبَكُمْ ، وَلَا تُنَقُّونَ رَوَاجِبَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! جبرئیل امین علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے میں اس دفعہ بڑی تاخیر کر دی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ تاخیر کیوں نہ کریں جبکہ میرے ارد گرد تم لوگ مسواک نہیں کرتے، اپنے ناخن نہیں کاٹتے، اپنی مونچھیں نہیں تراشتے، اور اپنی انگلیوں کی جڑوں کو صاف نہیں کرتے۔“
حدیث نمبر: 2182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ يَزِيدَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَتَى مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ ، فَقَالَ سَبْعَ مَرَّاتٍ : أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعظيم ، أَنْ يَشْفِيَهُ ، إِلَّا عُوفِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے کہ «أَسْأَلُ اللّٰهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ أَنْ يَشْفِيَهُ» ”میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے“، تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ ، فَدَعَا بِمَاءٍ وَاسْتَسْقَى ، فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہ زمزم کے قریب میرے پاس سے گزرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پینے کے لئے پانی منگوایا، میں زمزم سے بھر کر ایک ڈول لایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔
حدیث نمبر: 2184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أخبرنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَابْنُ أَخِي ابْنِ شهاب ، كلاهما عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيَعْقُوبُ قَالَ , حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى ، فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ ، يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى , قَالَ يَعْقُوبُ : فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى ، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَحَسِبْتُ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ : فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری کے نام اپنا نامہ مبارک دے کر سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا، انہوں نے وہ خط کسری کے مقرر کردہ بحرین کے گورنر کو دیا تاکہ وہ اسے کسری کی خدمت میں (رواج کے مطابق) پیش کرے، چنانچہ گورنر بحرین نے کسری کی خدمت میں وہ خط پیش کر دیا، اس نے جب اس خط کو پڑھا تو اسے چاک کر دیا، امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق سعید بن المسیب نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بد دعا فرمائی کہ ”اسے بھی اسی طرح مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 2185
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَأَفْطَرَ ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر روزہ رکھا، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک گلاس پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور لوگوں کو بھی روزہ ختم کر لینے کا حکم دیا (اور بعد میں قضا کر لی)۔
حدیث نمبر: 2186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ بِالْقَاحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قاحہ نامی جگہ میں سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے بھی تھے۔
حدیث نمبر: 2187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَيُونُسُ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فِي مِحَفَّةٍ ، فَأَخَذَتْ بِضَبْعِهِ , فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ , وَلَكِ أَجْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ پالکی میں ایک بچہ بھی تھا، اس نے اس بچے کو اس کی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
حدیث نمبر: 2188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَعَرَّقَ كَتِفًا , ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضأّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔
حدیث نمبر: 2189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَمَعَنَا بَدَنَتَانِ , فَأَزْحَفَتَا عَلَيْنَا فِي الطَّرِيقِ ، فَقَالَ لِي سِنَان : هَلْ لَكَ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ ؟ فَأَتَيْنَاهُ ، فَسَأَلَهُ سِنَانٌ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُهَنِيُّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ ، لَمْ يَحُجَّج ؟ قَالَ : " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ ایک دفعہ اپنے گھر سے سفر پر نکلے، ہمارے پاس دو اونٹنیاں تھیں، راستے میں وہ تھک گئیں تو سنان نے مجھ سے کہا: کیا خیال ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں؟ ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرے والد صاحب بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، اور اب تک وہ حج بھی نہیں کر سکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔“
حدیث نمبر: 2190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُس ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّا بِأَرْضٍ لَنَا بِهَا الْكُرُومُ ، وَإِنَّ أَكْثَرَ غَلَّاتِهَا الْخَمْرُ , فَقَالَ : قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ دَوْسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَاوِيَةِ خَمْرٍ أَهْدَاهَا لَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا بَعْدَكَ ؟ " , فَأَقْبَلَ صَاحِبُ الرَّاوِيَةِ عَلَى إِنْسَانٍ مَعَهُ فَأَمَرَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَاذَا أَمَرْتَهُ ؟ " , قَالَ : بِبَيْعِهَا , قَالَ : " هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا ، حَرَّمَ بَيْعَهَا ، وَأَكْلَ ثَمَنِهَا " , قَال : فَأَمَرَ بِالْمَزَادَةِ فَأُهْرِيقَتْ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں انگوروں کی بڑی کثرت ہے اور وہاں کی سب سے اہم تجارتی چیز شراب ہے، انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ دوس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوست رہتا تھا، وہ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اے ابوفلاں! کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے تمہارے پیچھے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے؟“ یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ”تم نے اسے کیا کہا ہے؟“ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے“، چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو بہا دیا گیا۔
حدیث نمبر: 2191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْمَعْنَى , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ , قَالَ : " كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَعْجَبَهُ الْمَنْزِلُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَإِذَا سَارَ ، وَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الْمَنْزِلُ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَنْزِلَ ، فَيَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ " , قَالَ حَسَنٌ : كَانَ إِذَا سَافَرَ فِنَزَلَ مَنْزِلًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ جب وہ کہیں پڑاؤ کرتے اور انہیں وہ جگہ اچھی لگتی تو وہ ظہر کو مؤخر کر دیتے تاکہ ظہر اور عصر میں جمع صوری کر دیں، اور اگر وہ روانہ ہوتے اور انہیں کہیں پڑاؤ کرنے کا موقع نہ ملتا تب بھی وہ ظہر کو موخر کر دیتے تاکہ کسی منزل پر پہنچ جائیں اور وہاں ظہر اور عصر کے درمیان جمع صوری کر لیں۔
حدیث نمبر: 2192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يونسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 2193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَيْ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ , وَالْجِعَابَ , وَالْقِعَابَ ، فَإِذَا نَفَرُوا ، تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ ، فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ ، قَالَ : وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ ذِفْرَى نَاقَتِهِ لَيَمَسُّ حَارِكَهَا ، وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سواریوں کو تیز کرنے کا آغاز دیہاتی لوگوں کی طرف سے ہوا تھا، یہ لوگ کناروں پر ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ اپنی لاٹھیاں، ترکش اور پیالے لٹکا سکیں، جب انہوں نے کوچ کیا تو ان چیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، انہوں نے کوچ تو لوگوں کے ساتھ کیا تھا (لیکن مذکورہ طریقے سے) اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے دونوں کانوں کا پچھلا حصہ فیل بان کو چھو رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ”لوگو! سکون اختیار کرو، لوگو! سکون اور وقار اختیار کرو۔“
حدیث نمبر: 2194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَأَيُّوبَ , عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ ، فَقَامَ فَصَلَّى ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " , فَقَالَ عِكْرِمَةُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھا دی اور وضو نہیں فرمایا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند کی حالت میں بھی وضو ٹوٹنے سے محفوظ تھے۔
حدیث نمبر: 2195
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، وَقَيْسٌ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَّرَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا ، ثُمَّ نَامُوا ، ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا ، قَالَ قَيْسٌ : فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عشا کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سو کر بیدار ہوئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! نماز، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور انہیں نماز پڑھائی، راوی نے ان کے وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ كُرَيْبِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ صَلَّى ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ، ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " ، قَالَ حَسَنٌ : يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَامَ حَتَّى نَفَخَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گزاری، رات کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور پھر لیٹ کر سو گئے حتی کہ خر اٹے لینے لگے، یہاں تک کہ جب مؤذن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں، اور باہر تشریف لا کر فجر کی نماز پڑھائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
…