حدیث نمبر: 2117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ ، قَالَ : " إِنَّ دِبَاغَهُ قَدْ أذَهَبَ بِخَبَثِهِ ، أَوْ رِجْسِهِ ، أَوْ نَجَسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار جانوروں کی کھالوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ”دباغت سے ان کی گندگی اور ناپاکی دور ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وفي سنده أخو سالم بن أبى الجعد، فيه جهالة.
حدیث نمبر: 2118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حجاج ، عَنْ الحكم ، عَنْ مقسم ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ " طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى نَاقَتِه ، يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " , وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، حجاج مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 2119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ ، فَيَرْجِعَ فِيهَا ، إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ، فَيَرْجِعُ فِيهَا ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ , ثُمَّ رَجَعَ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر و سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی شخص کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی ہدیہ پیش کرے اور اس کے بعد اسے واپس مانگ لے، البتہ باپ اپنے بیٹے کو کچھ دے کر اگر واپس لیتا ہے تو وہ مستثنی ہے، جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ دے اور پھر واپس مانگ لے، اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو کوئی چیز کھائے، جب اچھی طرح سیراب ہو جائے تو اسے قئی کر دے اور پھر اسی قئی کو چاٹنا شروع کر دے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 2120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ لنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 2121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ , أَنْ " يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ , أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفاً.
حدیث نمبر: 2122
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ , وَرَوَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ , مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو مكرر ماقبله
حدیث نمبر: 2123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاء ، وَقَال : " أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ " , فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فُلَانًا , وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو“، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نکالا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5886.
حدیث نمبر: 2124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ : عَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا ، وَعَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَعَلَى الْخَائِفِ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 687.
حدیث نمبر: 2125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ , حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنْ سَيَنْزِلُ عَلَيَّ فِيهِ قُرْآنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے (اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول وشريك ابن عبداللذه سيئ الحفظ، ولكنه توبع.
حدیث نمبر: 2126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ ، وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ ، فَقَامَ عِنْدَ كُلِّ سَارِيَةٍ وَلَمْ يُصَلِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، خانہ کعبہ میں اس وقت چھ ستون تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1331.
حدیث نمبر: 2127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، قَالَتْ امْرَأَةٌ : هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ , فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا نَظَرَ غَضْبَانَ ، فَقَالَ : " وَمَا يُدْرِيكِ ؟ " , قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " وَاللَّهِ , إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ , وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي " , فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ ، فَلَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ , ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ " , فَبَكَتْ النِّسَاءُ ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " مَهْلًا يَا عُمَرُ " , ثُمَّ قَالَ : " ابْكِينَ , وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ " , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ ، فَمِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمِنْ الرَّحْمَةِ ، وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَاللِّسَانِ ، فَمِنْ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ایک خاتون کہنے لگی کہ عثمان! تمہیں جنت مبارک ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی طرف غصے بھری نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا: ”تمہیں کیسے پتہ چلا؟“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کے شہسوار اور ساتھی تھے (اس لئے مرنے کے بعد جنت ہی میں جائیں گے)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واللہ! مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا“، یہ سن کر لوگ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے ڈر گئے لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے آگے جانے والے بہترین ساتھی عثمان بن مظعون سے جا ملو“ (جس سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوگیا)۔ اس پر عورتیں رونے لگیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں کوڑوں سے مارنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: ”عمر! رک جاؤ“، پھر خواتین سے فرمایا کہ ”تمہیں رونے کی اجازت ہے لیکن شیطان کی چیخ و پکار سے اپنے آپ کو بچاؤ“، پھر فرمایا کہ ”جب تک یہ آنکھ اور دل کا معاملہ رہے تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور باعث رحمت ہوتا ہے اور جب ہاتھ اور زبان تک نوبت پہنچ جائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، على بن زيد ضعيف، يوسف بن مهران، لين الحديث.
حدیث نمبر: 2128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا ، وَقَالَ : " هُنَّ وَقْتٌ لِأَهْلِهِنَّ وَلِمَنْ مَرَّ بِهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، فَمَنْ كَانَ مَنْزِلُهُ مِنْ وَرَاءِ الْمِيقَاتِ , فَإِهْلَالُهُ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُ , وَكَذَلِكَ فكذلك ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ إِهْلَالُهُمْ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذو الحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - اور جس کا گھر میقات سے پیچھے ہو تو وہ جہاں سے ابتدا کرے، وہیں سے احرام باندھ لے، حتی کہ اہل مکہ کا حرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1526، م: 1181 .
حدیث نمبر: 2129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، حِينَ أَتَاهُ ، فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا ، قال : " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ ؟ " , قَالَ : لَا , قَالَ : " فَنِكْتَهَا ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا؟ یا تم نے اسے صرف چھوا ہوگا؟“ انہوں نے کہا کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہیں سنگسار کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6824.
حدیث نمبر: 2130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ ، فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَجَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهِ ، فَقَالَ : " أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فجر کی نماز کے لئے اقامت ہوئی تو ایک آدمی دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کپڑے سے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا: ”کیا تم فجر کی چار رکعتیں پڑھو گے؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 2131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا سورة النور آية 4 , قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ : أَهَكَذَا نَزَلَتْ يَا رَسُولَ اللَّه ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ؟ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا تَلُمْهُ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ ، وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا ، وَمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ ، فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَى أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ , فَقَالَ سَعْدٌ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ ، وَأَنَّهَا مِنَ اللَّهِ تَعَالَى ، وَلَكِنِّي قَدْ تَعَجَّبْتُ أَنِّي لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا قد تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أَهِيجَهُ وَلَا أُحَرِّكَهُ ، حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ، فَوَاللَّهِ لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ , قَالَ : فَمَا لَبِثُوا إِلَّا يَسِيرًا ، حَتَّى جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ ، فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عِشَاءً ، فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلًا ، فَرَأَى بِعَيْنَيْهِ ، وَسَمِعَ بِأُذُنَيْهِ ، فَلَمْ يَهِجْهُ ، حَتَّى أَصْبَحَ ، فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً ، فَوَجَدْتُ عِنْدَهَا رَجُلًا ، فَرَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ ، وَسَمِعْتُ بِأُذُنَيَّ , فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ ، وَاشْتَدَّ عَلَيْه ، وَاجْتَمَعَتْ الْأَنْصَارُ ، فَقَالُوا : قَدْ ابْتُلِينَا بِمَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، الْآنَ يَضْرِبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ ، وَيُبْطِلُ شَهَادَتَهُ فِي الْمُسْلِمِينَ , فَقَالَ هِلَالٌ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِي مِنْهَا مَخْرَجًا ، فَقَالَ هِلَالٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ أَرَى مَا اشْتَدَّ عَلَيْكَ مِمَّا جِئْتُ بِهِ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ , فوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَأْمُرَ بِضَرْبِهِ إِذْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ عَرَفُوا ذَلِكَ فِي تَرَبُّدِ جِلْدِهِ ، يَعْنِي ، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْوَحْي ، فَنَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ سورة النور آية 6 , الْآيَةَ كلها ، فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَبْشِرْ يَا هِلَالُ ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا " , فَقَالَ هِلَالٌ : قَدْ كُنْتُ أَرْجُو ذَاكَ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْسِلُوا إِلَيْهَا " , فَأَرْسَلُوا إِلَيْهَا ، فَجَاءَتْ ، فتلاَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا ، وَذَكَّرَهُمَا ، وَأَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَذَابَ الْآخِرَةِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْيَا ، فَقَالَ هِلَالٌ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ : كَذَبَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَاعِنُوا بَيْنَهُمَا " , فَقِيلَ لِهِلَالٍ : اشْهَدْ , فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْخَامِسَةِ ، قِيلَ : يَا هِلَالُ , اتَّقِ اللَّهَ ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ , فَقَالَ : لا , وَاللَّهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا ، كَمَا لَمْ يَجْلِدْنِي عَلَيْهَا , فَشَهِدَ فِي الْخَامِسَةِ ، أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِين , ثُمَّ قِيلَ لَهَا : اشْهَدِي أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ، إِنَّهُ لَمِنْ الْكَاذِبِينَ , فَلَمَّا كَانَتْ الْخَامِسَةُ ، قِيلَ لَهَا : اتَّقِ اللَّهَ ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ , فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَتْ : وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي , فَشَهِدَتْ فِي الْخَامِسَةِ : أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، وَقَضَى أَنَّهُ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لِأَبٍ ، وَلَا تُرْمَى هِيَ بِهِ وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا ، وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا ، فَعَلَيْهِ الْحَدُّ ، وَقَضَى أَنْ لَا بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ ، وَلَا قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ ، وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا ، وَقَالَ : " إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُصَيْهِبَ ، أُرَيْسِحَ ، حَمْشَ السَّاقَيْنِ ، فَهُوَ لِهِلَالٍ ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا ، جُمَالِيًّا ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ ، سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ ، فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ " , فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ ، جَعْدًا ، جُمَالِيًّا ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ ، سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا الْأَيْمَانُ ، لَكَانَ لِي وَلَهَا شَانٌ " , قَالَ عِكْرِمَةُ : فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ ، وَكَانَ يُدْعَى لِأُمِّهِ ، وَمَا يُدْعَى لِأَب .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا﴾ [النور : 4]» ”جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں اور اس پر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو انہیں اسی کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو“، تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ - جو انصار کے سردار تھے - کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا یہ حکم آپ پر اسی طرح نازل ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ انصار! سنتے ہو کہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کی بات کا برا نہ منائیے کیونکہ یہ بہت باغیرت آدمی ہیں، واللہ انہوں نے ہمیشہ صرف کنواری عورت سے ہی شادی کی ہے، اور جب کبھی انہوں نے اپنی کسی بیوی کو طلاق دی ہے تو کسی دوسرے آدمی کو ان کی اس مطلقہ بیوی سے بھی - ان کی شدت غیرت کی وجہ سے - شادی کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! مجھے اس بات کا یقین ہے کہ یہ حکم برحق ہے اور اللہ ہی کی طرف سے آیا ہے، لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ اگر میں کسی کمینی عورت کو اس حال میں دیکھوں کہ اسے کسی آدمی نے اپنی رانوں کے درمیان دبوچ رکھا ہو اور میں اس پر غصہ میں بھی نہ آؤں اور اسے چھیڑوں بھی نہیں، پہلے جا کر چار گواہ لے کر آؤں، واللہ! میں تو جب تک گواہ لے کر آؤں گا اس وقت تک وہ اپنا کام پورا کر چکا ہوگا۔ ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ تھوڑی دیر بعد سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آگئے، یہ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ ان تین میں سے ایک ہیں جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور بعد میں ان کی توبہ قبول ہو گئی تھی، یہ عشاء کے وقت اپنی زمین سے واپس آئے، تو اپنی بیوی کے پاس ایک اجنبی آدمی کو دیکھا، انہوں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں لیکن تحمل کا مظاہر کیا، صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں رات کو اپنی بیوی کے پاس آیا تو اس کے پاس ایک اجنبی آدمی کو پایا، میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات بڑی شاق گزری اور اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناگواری کا اظہار فرمایا، انصار بھی اکٹھے ہو گئے اور کہنے لگے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے جو کہا تھا، ہم اسی میں مبتلا ہو گئے، اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سزا دیں گے اور مسلمانوں میں ان کی گواہی کو ناقابل اعتبار قرار دے دیں گے، لیکن سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ واللہ! مجھے امید ہے کہ اللہ میرے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ضرور بنائے گا، پھر سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں نے جو مسئلہ آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے، وہ آپ پر شاق گزرا ہے، اللہ جانتا ہے کہ میں اپنی بات میں سچا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان پر سزا جاری کرنے کا حکم دینے والے ہی تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوگیا، اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ متغیر ہونے سے اسے پہچان لیتے تھے، اور اپنے آپ کو روک لیتے تھے، تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سے فراغت ہو جاتی، چنانچہ اس موقع پر یہ آیت لعان نازل ہوئی: «﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ . . .﴾ [النور : 6]» ”جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگائیں اور ان کے پاس سوائے ان کی اپنی ذات کے کوئی اور گواہ نہ ہو تو . . . ۔“ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سے نزول وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو فرمایا: ”ہلال! تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ نے تمہارے لئے کشادگی اور نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیا“، انہوں نے عرض کیا کہ مجھے اپنے پروردگار سے یہی امید تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بیوی کو بلاؤ“، چنانچہ لوگ اسے بلا لائے، جب وہ آگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے سامنے مذکورہ آیات کی تلاوت فرمائی اور انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ”آخرت کا عذاب دنیا کی سزا سے زیادہ سخت ہے۔“ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! میں اس پر الزام لگانے میں سچا ہوں، جبکہ ان کی بیوی نے تکذیب کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان لعان کرا دو“ (جس کا طریقہ یہ ہے کہ) سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ گواہی دیجئے، انہوں نے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دی کہ وہ اپنے دعوی میں سچے ہیں، جب پانچویں مرتبہ کہنے کی باری آئی تو ان سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈرو، دنیا کی سزا آخرت کی سزا سے ہلکی ہے اور یہ پانچویں مرتبہ کی قسم تم پر سزا کو ثابت کر سکتی ہے، انہوں نے کہا: اللہ نے جس طرح مجھے کوڑے نہیں پڑنے دیئے، وہ مجھے سزا بھی نہیں دے گا، اور انہوں نے پانچویں مرتبہ یہ قسم کھا لی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر ان کی بیوی سے اسی طرح چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر اس بات پر گواہی دینے کے لئے کہا گیا کہ ان کا شوہر اپنے الزام میں جھوٹا ہے، جب پانچویں قسم کی باری آئی تو اس سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو، دنیا کی سزا آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے اور یہ پانچویں مرتبہ کی قسم تجھ پر سزا بھی ثابت کر سکتی ہے، یہ سن کر وہ ایک لمحے کے لئے ہچکچائی، پھر کہنے لگی: واللہ! میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی، اور پانچویں مرتبہ یہ قسم کھا لی کہ اگر اس کا شوہر سچا ہو تو بیوی پر اللہ کا غضب نازل ہو، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور یہ فیصلہ فرما دیا کہ ”اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، نہ اس عورت کو اس کے شوہر کی طرف منسوب کیا جائے، اور نہ اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائی جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزا دی جائے گی“، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ ”اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی“، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیر جدائی ہوئی تھی، اور فرمایا کہ ”اگر اس عورت کے یہاں پیدا ہونے والا بچہ سرخ و سفید رنگ کا ہو، ہلکے سرین والا اور پتلی پنڈلیوں والا ہو تو وہ ہلال کا ہوگا، اور اگر گندمی رنگ کا ہو، گھنگھریالے بالوں والا، بھری ہوئی پنڈلیوں اور بھرے ہوئے سیرین والا ہو تو یہ اس شخص کا ہوگا جس کی طرف اس عورت کو متہم کیا گیا ہے“، چنانچہ اس عورت کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا اس کا رنگ گندمی، بال گھنگھریالے، بھری ہوئی پنڈلیاں اور بھرے ہوئے سیرین تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو فرمایا کہ ”اگر قسم کا پاس لحاظ نہ ہوتا تو میرا اور اس عورت کا معاملہ ہی دوسرا ہوتا۔“ عکرمہ کہتے ہیں کہ بعد میں بڑا ہو کر وہ بچہ مصر کا گورنر بنا، لیکن اسے اس کی ماں کی طرف ہی منسوب کیا جاتا تھا، باپ کی طرف نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، عباد بن منصور - وإن كان فيه ضعف من جهة حفظه - قد توبع على بعضه .
حدیث نمبر: 2132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ : " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قُلُوبِهِمْ ، وَلَيُكْتَبَنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر و سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے: ”لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح. وإن كانت رواية يحيى بن أبى كثير عن أبى سلام من كتاب ، وقد توبع.
حدیث نمبر: 2133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِوَلَدِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بِهِ لَمَمًا ، وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ طَعَامِنَا ، فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا طَعَامَنَا , قَالَ : " فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ ، وَدَعَا لَهُ " , فثَعَّ ثَعَّةً ، فَخَرَجَ مِنْ فِيهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ ، فَشُفِيَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھاناخراب کر دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فرقد السبخي ضعيف.
حدیث نمبر: 2134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ ، وَشَكَا إِلَيْهِ ضَعْفَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِك ، فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بےنیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عِنْدَ زَمْزَمَ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ , قَالَ : " عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ ؟ " , قُلْتُ : عَنْ صَوْمِهِ ، أَيّ يومٍ أصومُه ؟ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَةٍ ، فَأَصْبِحْ مِنْهَا صَائِمًا " , قُلْتُ : أَكَذَاكَ كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ لَيْثًا ، قال : سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " عَلِّمُوا ، وَيَسِّرُوا ، وَلَا تُعَسِّرُوا ، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو“، اور تین مرتبہ فرمایا کہ ”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کرلینا چاہئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ليث بن أبى سليم رمي بالاختلاط، وقوله: «علموا ويسروا ولا تعسروا» ، صحيح لغيره .
حدیث نمبر: 2137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعَيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ ، فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ : أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ , أَنْ يَشْفِيَكَ ، إِلَّا عُوفِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے: «أَسْأَلُ اللّٰهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ» ”میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے“، تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، يزيد أبو خالد وإن كان فيه كلام، قد توبع.
حدیث نمبر: 2138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِث ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : أُرَاهُ رَفَعَهُ , قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا , فَقَالَ : أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ , أَنْ يَشْفِيَكَ ، سَبْعَ مَرَّاتٍ ، شَفَاهُ اللَّهُ إِنْ كَانَ قَدْ أُخِّرَ " , يَعْنِي : فِي أَجَلِهِ , قال عبدُ الله ، قال أبي , وحَدَّثَنِاه يَزِيدُ , لَمْ يَشُكَّ فِي رَفْعِهِ ، وَوَافَقَهُ عَلَى الْإِسْنَادِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بندہ مسلم کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے اور یہ دعا کرتا ہے: «أَسْأَلُ اللّٰهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ» ”میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں، جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطاء فرمائے“، اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے بشرطیکہ اس کی موت کے وقت میں مہلت باقی ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، لكنه متابع.
حدیث نمبر: 2139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ ، قَالَ : " مُرْ أُخْتَكَ أَنْ تَرْكَبَ ، وَلْتُهْدِ بَدَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اپنی بہن سے کہو کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ ، فَمَاتَتْ ، فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ ، أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " فَاقْضُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، اس کا بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں؟“ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6699.
حدیث نمبر: 2141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ رَوْحٌ : سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْقُرِّيَّ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ ، وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ ، قَالَ رَوْحٌ : أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَحَلَّ ، وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ طَلْحَةُ ، وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَأَحَلَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حج کا احرام باندھ لیا، جس کے پاس ہدی کا جانور نہ تھا، وہ تو حلال ہوگیا، ان لوگوں میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب بھی تھے، انہوں نے بھی اپنا اپنا احرام کھول لیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1239.
حدیث نمبر: 2142
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْمُجَبِّرِ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا ؟ قَالَ : جَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا سورة النساء آية 93 , قَالَ : لَقَدْ أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ مَا نَزَلَ ، مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، وَمَا نَزَلَ وَحْيٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَ ، وَآمَنَ , وَعَمِلَ صَالِحًا ، ثُمَّ اهْتَدَى ؟ قَالَ : وَأَنَّى لَهُ بِالتَّوْبَةِ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، يَقُولُ : " ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ : رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آخِذًا قَاتِلَهُ بِيَمِينِهِ ، أَوْ بِيَسَارِهِ ، وَآخِذًا رَأْسَهُ بِيَمِينِهِ ، أَوْ بشِمَالِهِ ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا فِي قُبُلِ الْعَرْشِ ، يَقُولُ : يَا رَبِّ ، سَلْ عَبْدَكَ فِيمَ قَتَلَنِي ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی مسلمان کو عمداً قتل کیا ہو؟ انہوں نے کہا: اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت نازل ہوگی اور اللہ نے اس کے لئے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی اس سلسلے کی یہ آخری وحی ہے جسے کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر وحی آ نہیں سکتی، سائل نے پوچھا کہ اگر وہ توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کئے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا؟ فرمایا: تم پر افسوس ہے، اسے کہاں ہدایت ملے گی؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے ایک ہاتھ سے قاتل کو پکڑ رکھا ہوگا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے سر کو، اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا، اور وہ عرش کے سامنے آکر کہے گا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا؟ فائدہ: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے ہے، جمہور امت اس بات پر متفق ہے کہ قاتل اگر توبہ کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت سے وہ جہنم سے نجات پائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح. يحيي بن المجبر التيمي، مختلف فيه.
حدیث نمبر: 2143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى أَبِي عُمَرَ ، قَالَ : ذَكَرُوا النَّبِيذَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُنْبَذُ لَهُ فِي السِّقَاءِ " , قَالَ شُعْبَةُ : مِثْلَ لَيْلَةِ الِاثْنَيْنِ , فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَالثُّلَاثَاءِ إِلَى الْعَصْرِ ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخُدَّامَ , أَوْ صَبَّهُ , قَالَ شُعْبَةُ : وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا قَالَ : وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ إِلَى الْعَصْرِ ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخُدَّامَ , أَوْ صَبَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پیر کے دن اور منگل کو عصر تک (غالبا بدھ کی عصر تک) اسے نوش فرماتے، اس کے بعد کسی خادم کو پلا دیتے یا پھر بہانے کا حکم دے دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2004.
حدیث نمبر: 2144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ ، مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت فرعون غرق ہو رہا تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس اندیشے سے اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنا شروع کر دی کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه» نہ کہہ لے (اور اپنے سیاہ کارناموں کی سزا سے بچ جائے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفاً على ابن عباس.
حدیث نمبر: 2145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي السَّلَفِ فِي حَبَلِ الْحَبَلَةِ رِبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حاملہ جانور کے حمل میں ادھار کی بیع کرنا سود ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2146
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ : " أَتَذْكُرُ حِينَ اسْتَقْبَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ جَاءَ مِنْ سَفَرٍ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَحَمَلَنِي وَفُلَانًا غُلَامًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ، وَتَرَكَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک مرتبہ ہماری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اٹھا لیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ ، أَوْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ " , قَالَ : فَدَخَلَ رَجُلٌ أَزْرَقُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، عَلَامَ سَبَبْتَنِي أَوْ شَتَمْتَنِي ، أَوْ نَحْوَ هَذَا ؟ قَالَ : وَجَعَلَ يَحْلِفُ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُجَادَلَة : وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ سورة المجادلة آية 14 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے“، تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی: «﴿وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [المجادلة : 14]» ”یہ جھوٹ پر قسم کھا لیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف بهذه السياقة، وسيرد على الصحة برقم: 2407 و 3277 .
حدیث نمبر: 2148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ : " أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ ، كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ ، أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ ، فَإِمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ ، فَإِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ " , قَالَ شُعْبَةُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ قَتَادَةَ ، فَحَدَّثَنِي بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق فرمایا: ”وہ کانا ہوگا، سفید کھلتا ہوا رنگ ہوگا، اس کا سر سانپ کی طرح محسوس ہوگا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبدالعزی بن قطن کے مشابہہ ہوگا، اگر ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں گے تو تم یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔“ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے جب یہ حدیث قتادہ کے سامنے پڑھی تو انہوں نے بھی مجھے یہی حدیث سنائی (تصدیق کی)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، سماك وإن كانت روايته عن عكرمة فيها اضطراب، قد توبع.
حدیث نمبر: 2149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلِيلٌ ، يَشُقُّ عَلَيَّ الْقِيَامُ ، فَأْمُرْنِي بِلَيْلَةٍ لَعَلَّ اللَّهَ يُوَفِّقُنِي فِيهَا لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ , قَالَ : " عَلَيْكَ بِالسَّابِعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں، بیمار بھی رہتا ہوں اور مجھ پر قیام میں بھی بڑی مشقت ہوتی ہے، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئے جس میں اللہ کی طرف سے شب قدر ملنے کا امکان ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشرہ اخیرہ کی ساتویں رات (27 ویں شب) کو لازم پکڑو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ ، فَدَعَانِي ، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً ، ثُمَّ بَعَثَ بِي إِلَى مُعَاوِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 2604.
حدیث نمبر: 2151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِر ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا غَيْرَ رَمَضَانَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَة " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے، اور جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ رونق افروز ہوئے تھے، اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1157.
حدیث نمبر: 2152
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ ، فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ ، وَلَمْ يُقَصِّرْ , وَلَمْ يُحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ ، وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ ، أَوْ يَحْلِقَ ، ثُمَّ يُحِلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی نیت سے احرام باندھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، لیکن ہدی کی وجہ سے بال کٹوا کر حلال نہیں ہوئے، اور ہدی اپنے ساتھ نہ لانے والوں کو حکم دیا کہ وہ ”طواف اور سعی کر کے قصر یا حلق کرنے کے بعد حلال ہو جائیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1239، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد.
حدیث نمبر: 2153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " مَرَّ بِقِدْرٍ ، فَأَخَذَ مِنْهَا عَرْقًا ، وَكَتِفًا ، فَأَكَلَهُ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کا یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ وضو کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 2154
(حديث مرفوع) حدثنا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ ، صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا ، أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عاشورہ کا روزہ رکھا کرو، لیکن اس میں بھی یہودیوں کی مخالفت کیا کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی ملا لیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف ، ابن أبى ليلى، سيء الحفظ ، داود بن على ، يخطئ .
حدیث نمبر: 2155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا احْتَجَمَ , احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ " , قَالَ : فَدَعَا غُلَامًا لِبَنِي بَيَاضَةَ فَحَجَمَهُ ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ مُدًّا وَنِصْفًا ، قَالَ : وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ ، فَحَطُّوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ ، وَكَانَ عَلَيْهِ مُدَّانِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو بیاضہ کے ایک غلام کو بلایا، اس نے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے عطاء فرمائی، اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چنانچہ انہوں نے اس سے نصف مد کم کر دیا، ورنہ پہلے اس پر پورے دو مد تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله: «أحتجم فى الأخدعين» حسن لغيره، وبقيته صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر.
حدیث نمبر: 2156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَا : " سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَهِيَ تَمَامٌ ، وَالْوَتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو رکعت پڑھنے کا طریقہ متعین فرما دیا ہے اس لئے یہ دو رکعتیں ہی مکمل ہیں، نامکمل نہیں، اور سفر میں وتر پڑھنا بھی سنت سے ثابت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف جابر الجعفي.