حدیث نمبر: 2077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ وَأَنَّهَا سُنَّةٌ ، قَالَ : صَدَقَ قَوْمِي وَكَذَبُوا ، " قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ ، وَلَكِنَّهُ قَدِمَ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى جَبَلِ قُعَيْقِعَانَ ، فَتَحَدَّثُوا أَنَّ بِهِ وَبِأَصْحَابِهِ هَزْلًا وَجَهْدًا وَشِدَّةً ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ لِيُرِيَهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُصِبْهُمْ جَهْدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، فرمایا: اس میں آدھا سچ ہے اور آدھا جھوٹ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل تو فرمایا ہے لیکن یہ سنت نہیں ہے اور رمل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لائے تو مشرکین جبل قعیقعان نامی پہاڑ پر سے انہیں دیکھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ یہ لوگ آپس میں مسلمانوں کے کمزور ہونے کی باتیں کر رہے ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو دکھا سکیں کہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ذَرٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام " أَلَا تَزُورُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا ، فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا سورة مريم آية 64 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فترت وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد) حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ ”آپ ہمارے پاس ملاقات کے لئے اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے جتنا اب آتے ہیں؟“ اس پر آیت نازل ہوئی: «﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ . . . ﴾ [مريم : 64]» ”ہم تو اسی وقت زمین پر اترتے ہیں جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ فِضَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابوجہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 2080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجُبْنَةٍ ، قَالَ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَعُوا السِّكِّينَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے پنیر آیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے لاٹھی سے ہلانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھریاں رکھ دو اور بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔“
حدیث نمبر: 2081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وَعَطَاءٍ ، قَالَا : الْأُضْحِيَّةُ سُنَّةٌ ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بَالْضُحَى وَالْوَتْرِ وَلَمْ تُكْتَبْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے چاشت کی دو رکعتوں اور وتر کا حکم دیا گیا ہے لیکن انہیں امت پر فرض نہیں کیا گیا۔“
حدیث نمبر: 2082
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمِسْعَرٌ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا مِنْ جَمْعٍ ، قَالَ سُفْيَانُ : بِلَيْلٍ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا ، وَيَقُولُ : " أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " ، وَزَادَ سُفْيَانُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا إِخَالُ أَحَدًا يَعْقِلُ يَرْمِي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنو عبدالمطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا: ”پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔
حدیث نمبر: 2083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فِي اللَّيْلِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ جَاءَ فَنَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر چہرے اور ہاتھوں کو دھویا اور آکر سو گئے۔
حدیث نمبر: 2084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَامَ حَتَّى نَفَخَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے، پھر جب مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور دوبارہ وضو نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 2085
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي الْعُرَنِيَّ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَا نَدْرِ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَلَكِنَّا نَقْرَأُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت کرتے تھے یا نہیں؟ (کیونکہ ہم تو بچے تھے اور پہلی صفوں میں کھڑے نہیں ہو سکتے تھے) البتہ ہم خود قراءت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اہل جنت میں اکثریت فقراء کی دکھائی دی، اور جب میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں مجھے اکثریت خواتین کی دکھائی دی۔“
حدیث نمبر: 2087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ، قَالَ عَمْرٌو ذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ ، فَقَالَ طَاوُسٌ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ لَهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم بٹائی پر زمین دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، بعد میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ ”تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔“
حدیث نمبر: 2088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا ؟ فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہو گیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا ...﴾ [المائدة : 93]» ”ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھا لیا (یا پی لیا)۔“
حدیث نمبر: 2089
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا ، فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا ، وَيَقُولُ : " أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنو عبدالمطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا: ”پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“
حدیث نمبر: 2090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ ، فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ " , فَقَالَ رَجُلٌ : وَالطِّيبُ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا أَنَا , فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ ، أَفَطِيبٌ ذَاكَ أَمْ لَا ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم جمرہ عقبہ کی رمی کر چکو تو عورت کے علاوہ ہر چیز تمہارے لئے حلال ہو جائے گی“، ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہو جائے گا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر ”مسک“ نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 2091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ , وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گردن کے دونوں پہلوؤں کی پوشیدہ رگوں اور دونوں کندھوں کے درمیان سے فاسد خون نکلوایا۔
حدیث نمبر: 2092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑیوں پر گدھوں کو کودنے کے لئے چھوڑنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 2093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَتْ عِيرٌ الْمَدِينَةَ ، فَاشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ ، فَقَسَمَهَا فِي أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَقَالَ : " لَا أَشْتَرِي شَيْئًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چند اوقیہ چاندی کا منافع ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ ”میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 2094
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " مَهْرِ الْبَغِيِّ , وَثَمَنِ الْكَلْبِ , وَثَمَنِ الْخَمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 2095
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي , فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَتَّى أَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ , فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہٹا دیا (اور برابر نماز پڑھتے رہے)۔
حدیث نمبر: 2096
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى حُفَاةً ، عُرَاةً ، غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 فَأَوَّلُ الْخَلَائِقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : ثُمَّ يُؤْخَذُ بِقَوْمٍ مِنْكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ " ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي ، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَأَقُولُ : " يَا رَبِّ , أَصْحَابِي ، قَالَ : فَيُقَالُ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُذْ فَارَقْتَهُمْ ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ : وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ الْآيَةَ إِلَى إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 117 - 118 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ و نصیحت کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ”قیامت کے دن تم سب اللہ کی بارگاہ میں ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون ہونے کی حالت میں پیش کئے جاؤ گے، ارشاد ربانی ہے: « ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ [الأنبياء : 104]» ”ہم نے تمہیں جس طرح پہلے پیدا کیا تھا، دوبارہ بھی اسی طرح پیدا کریں گے، یہ ہمارے ذے وعدہ ہے اور ہم یہ کر کے رہیں گے“، پھر مخلوق میں سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا جو کہ اللہ کے خلیل ہیں۔ پھر تم میں سے ایک قوم کو بائیں جانب سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا کہ پروردگار! یہ میرے ساتھی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کر لی تھیں، یہ آپ کے وصال اور اور ان سے آپ کی جدائی کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور اسی پر مستقل طور پر قائم رہے“، یہ سن کر میں وہی کہوں گا جو عبد صالح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: «﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ . . . . . فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدة : 117-118]» ”میں جب تک ان کے درمیان رہا، اس وقت تک ان کے احوال کی نگہبانی کرتا رہا . . . . . بیشک آپ بڑے غالب حکمت والے ہیں۔“
حدیث نمبر: 2097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالشَّيْءِ لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ , قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ كَيَدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بعض اوقات ایسے خیالات آتے ہیں کہ میں انہیں زبان پر لانے سے بہتر یہ سمجھتا ہوں کہ آسمان سے گر پڑوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تین مرتبہ ”اللہ اکبر“ کہا اور فرمایا: ”اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنی تدبیر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا۔“
حدیث نمبر: 2098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ ، فَاجْعَلُوهُ سَبْعَ أَذْرُعٍ ، وَمَنْ بَنَى بِنَاءً ، فَلْيَدْعَمْهُ حَائِطَ جَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب راستے (کی پیمائش) میں تمہارا اختلاف رائے ہو جائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو، اور جو شخص کوئی عمارت بنائے اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)۔“
حدیث نمبر: 2099
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ ، تَسَارَعَ قَوْمٌ ، فَقَالَ : أو فنودوا : " لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ " , قَالَ : فَمَا رَأَيْتُ رَافِعَةً يَدَهَا تَعْدُو ، حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو لوگوں کا ایک گروہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سکون سے چلو، گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے“، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔
حدیث نمبر: 2100
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
حدیث نمبر: 2101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ ، " فَاغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ تَوَضَّأَ مِنْ فَضْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا۔
حدیث نمبر: 2102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَضْلِهِ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
حدیث نمبر: 2103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا ، فَلَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : قَدْ بَرَّتْ يَمِينُكَ ، وَقَدْ تَمَّ الشَّهْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو ایک ماہ تک چھوڑے رکھا، جب 29 دن گزر گئے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ”آپ کی قسم پوری ہو گئی اور مہینہ بھی مکمل ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 2104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فِطْرٍ ، ومُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ : ثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ أَبِي سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أُخْتَانِ ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُمَا مَا صَحِبَتَاهُ ، دَخَلَ بِهِمَا الْجَنَّةَ " , وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ : " تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کی دو بہنیں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں، ان سے اچھا سلوک کرتا رہے تو وہ ان دونوں کی برکت سے جنت میں داخل ہو جائے گا“، بعض طرق میں دو بیٹیوں کا تذکرہ ہے۔
حدیث نمبر: 2105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا قَطُّ إِلَّا دَعَاهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قوم سے اس وقت تک قتال شروع نہیں کیا جب تک انہیں دعوت نہ دے لی۔
حدیث نمبر: 2106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَرَوْحٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَئِنْ عِشْت ، قَالَ رَوْحٌ : لَئِنْ سَلِمْتُ إِلَى قَابِلٍ , لَأَصُومَنَّ اليوم التَّاسِعَ " , يَعْنِي عَاشُورَاءَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔“
حدیث نمبر: 2107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، قَال : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللَّه ؟ قَالَ : " الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ دین کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے یکسو ہو کر ایک اللہ کے لئے ہو اور کشادہ وسیع ہو۔“
حدیث نمبر: 2108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ " , قَالَ يَزِيدُ : مِنْ أَذًى كَانَ بِه .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔
حدیث نمبر: 2109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِير ، أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض - جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے لئے لیے تھے - رہن رکھی ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 2110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ : ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ ، قَالَ : فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث بنا کر جب نزول وحی کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 40 برس تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد 13 برس مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور 63 برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
حدیث نمبر: 2111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُعْتِقُ مَنْ جَاءَهُ مِنَ الْعَبِيدِ قَبْلَ مَوَالِيهِمْ إِذَا أَسْلَمُوا , وَقَدْ أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ رَجُلَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیتے تھے جو مسلمان ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے، چنانچہ غزوہ طائف کے موقع پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو آزاد کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 2112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، ويعلي , حدثنا سفيان , عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ حَسَنًا , وَحُسَيْنًا ، يَقُولُ : " أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ " , وَكَانَ يَقُولُ : " كَانَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ , وَإِسْحَاقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ”میں تم دونوں کو اللہ کی صفات کاملہ کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور ہر غم سے اور ہر قسم کی نظر بد سے“، اور فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے والد یعنی سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے دونوں بیٹوں سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق علیہما السلام پر یہی کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے۔“
حدیث نمبر: 2113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَى رَجُلٌ رُؤْيَا ، فَجَاءَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَال : إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ ظُلَّةً تَنْطِفُ عَسَلًا وَسَمْنًا ، فَكاَنَّ النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا ، فَبَيْنَ مُسْتَكْثِرٍ , وَبَيْنَ مُسْتَقِلٍّ , وَبَيْنَ ذَلِكَ ، وَكَأَنَّ سَبَبًا مُتَّصِلًا إِلَى السَّمَاءِ ، وقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : وَكَأَنَّ سَبَبًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ , فَجِئْتَ ، فَأَخَذْتَ بِهِ ، فَعَلَوْتَ فأَعَلَّاكَ اللَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ ، فَأَخَذَ بِهِ فَعَلَا ، فأَعَلَّاهُ اللَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكُمَا ، فَأَخَذَ بِهِ فَعَلَا ، فَأَعْلَاهُ اللَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكُم ، فَأَخَذَ بِهِ فَقُطِعَ بِهِ ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا ، فَأَعْلَاهُ اللَّهُ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ : ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّه ، فَأَعْبُرُهَا , فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَالَ : أَمَّا الظُّلَّةُ : فَالْإِسْلَامُ ، وَأَمَّا الْعَسَلُ وَالسَّمْنُ : فَحَلَاوَةُ الْقُرْآنِ , فَبَيْنَ مُسْتَكْثِرٍ ، وَبَيْنَ مُسْتَقِلٍّ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ ، وَأَمَّا السَّبَبُ : فَمَا أَنْتَ عَلَيْهِ ، تَعْلُو فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكَ رَجُلٌ عَلَى مِنْهَاجِكَ ، فَيَعْلُو وَيُعْلِيهِ اللَّهُ ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمَا رَجُلٌ ، فيَأْخُذُ بِأَخْذِكُمَا ، فَيَعْلُو فَيُعْلِيهِ اللَّهُ ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ رَجُلٌ يُقْطَعُ بِهِ ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ ، فَيَعْلُو فَيُعْلِيهِ اللَّهُ ، قَالَ : أَصَبْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَصَبْتَ , وَأَخْطَأْتَ " , قَالَ : أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي , فَقَالَ : " لَا تُقْسِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے خواب دیکھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں ایک سائبان دیکھا جس سے شہد اور گھی ٹپک رہے ہیں اور لوگ آکر ان چیزوں کو اٹھا رہے ہیں، کوئی کم، کوئی زیادہ اور کوئی درمیانہ، پھر مجھے محسوس ہوا کہ ایک رسی ہے جو آسمان تک چلی گئی ہے، آپ تشریف لائے اور اسے پکڑ کر اوپر چڑھ گئے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو بلندیوں پر پہنچا دیا، پھر ایک دوسرا آدمی آیا، اس نے بھی وہ رسی پکڑی اور اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے اسے بھی بلندی پر پہنچا دیا، پھر آپ دونوں کے بعد ایک اور آدمی آیا، اس نے بھی وہ رسی تھام کر اوپر چڑھنا شروع کیا اور اللہ نے اسے بھی اوپر تک پہنچا دیا، اس کے بعد جو آدمی آیا اور اس نے رسی پکڑ کر اوپر چڑھنا شروع کیا تو وہ رسی کٹ گئی، تھوڑی دیر بعد وہ رسی جڑ گئی اور اس آدمی نے بھی اس کے ذریعے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ اللہ نے اسے بھی اوپر پہنچا دیا۔ یہ خواب سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو اس خواب کی تعبیر میں بیان کروں؟ اور اجازت ملنے پر کہنے لگے کہ سائبان سے مراد تو اسلام ہے، شہد اور گھی سے مراد قرآن کی حلاوت ہے جو کسی کو کم، کسی کو زیادہ اور کسی کو درمیانی حاصل ہوتی ہے، باقی رہی رسی تو اس سے مراد وہ راستہ ہے جس پر آپ ہیں، جس کی بنا پر اللہ آپ کو اونچائی تک پہنچاتا ہے، آپ کے بعد ایک شخص آتا ہے وہ بھی آپ کے طریقے اور راستے پر چلتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے بھی اوپر پہنچا دیتا ہے، تیسرے آدمی کا بھی یہی حال ہوتا ہے اور چوتھا آدمی آتا ہے تو اس کا راستہ منقطع ہو جاتا ہے، بعد میں جوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ اسے بھی اوپر پہنچا دیتا ہے، یا رسول اللہ! کیا میں نے صحیح تعبیر بیان کی؟ فرمایا: ”کچھ صحیح بیان کی اور کچھ میں غلطی ہوئی“، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ مجھے ضرور مطلع فرمائیے (کہ میں نے کیا غلطی کی؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم نہ دو۔“
حدیث نمبر: 2114
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَمُحَمَّدٌ قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِد ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ ، فَقَدْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا، اس لئے تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہو جائے، اس لئے کہ اب عمرہ قیامت تک کے لئے حج میں داخل ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 2116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً " , قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَل ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ ؟ " , قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ , يُقِيمُ الصَّلَاة ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً ؟ " , قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ ”کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہو جائے یا شہید ہو جائے۔“ پھر فرمایا: ”اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔“
…