حدیث نمبر: 1997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : أَمْلَاهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ إِلَى شُعْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنِي طَلِيقُ بْنُ قَيْسٍ الْحَنَفِيُّ أَخُو أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو " رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ الْهُدَى إِلَيَّ ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا ، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ الْهُدَى إِلَيَّ وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي» ”پروردگار! میری مدد فرما، میرے خلاف دوسروں کی مدد نہ فرما، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور ہدایت کو میرے لئے آسان فرما، جو مجھ پر زیادتی کرے، اس پر میری مدد فرما، پروردگار! مجھے اپنا شکرگذار، اپنا ذاکر، اپنے سے ڈرنے والا، اپنا فرمانبردار، اپنے سامنے عاجز اور اپنے لئے آہ و زاری اور رجوع کرنے والا بنا، پروردگار! میری توبہ کو قبول فرما، میرے گناہوں کو دھو ڈال، میری دعائیں قبول فرما، میری حجت کو ثابت فرما، میرے دل کو رہنمائی عطاء فرما، میری زبان کو درستگی عطاء فرما اور میرے دل کی گندگیوں کو دور فرما۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يَصُومُ ، وَمَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے، اور جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے تھے، اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 1999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ الْخِنْصَرُ وَالْإِبْهَامُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 1999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6895.
حدیث نمبر: 2000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا اقْتَبَسَ رَجُلٌ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ إِلَّا اقْتَبَسَ بِهَا شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ مَا زَادَ زَادَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص علم نجوم کو سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک شعبہ سیکھتا ہے، جتنا وہ علم نجوم میں آگے بڑھتا جائے گا اس قدر جادو میں آگے نکلتا جائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا ، وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً ، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً ، وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے، اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، الحسن بن ذكوان ضعيف، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 2002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ لَحْمًا أَوْ عَرْقًا فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف گوشت یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2002
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أسانيده صحاح، م: 354، 359.
حدیث نمبر: 2003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ دَاجِنَةً لِمَيْمُونَةَ مَاتَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا أَلَّا دَبَغْتُمُوهُ ، فَإِنَّهُ ذَكَاتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ تم نے اسے دباغت کیوں نہیں دی؟ کیونکہ دباغت سے تو کھال پاک ہوجاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2003
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1492، م: 364.
حدیث نمبر: 2004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الْعِيدَ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَمَاتَتْ ، أَفَأَصُومُهُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ ، أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ ؟ " , قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1953 - تعليقاً، م: 1148.
حدیث نمبر: 2006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ ، وَالْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالَ ، وَقَالَ : أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ " , قَالَ : فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا ، وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں، اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو“، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نکالا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2006
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5886.
حدیث نمبر: 2007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ ، وَقَالَ : إِنَّ لَهُ دَسَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ ”اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 211، م: 358 .
حدیث نمبر: 2008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي الْأَعْمَشَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ ، وَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ ، فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ ، فَقَالُوا : إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا ، قَالَ : مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ ؟ قَالَ : " يَا عَمِّ ، أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي الْعَجَمُ إِلَيْهِمْ الْجِزْيَةَ " ، قَالَ : مَا هِيَ ؟ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، فَقَامُوا ، فَقَالُوا : أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا ، قَالَ : وَنَزَلَ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ سورة ص آية 1 - 5 , قَالَ عَبْدِ اللهِ : قَالَ أَبِي : وَحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وقَالَ أَبِي : قَالَ الْأَشْجَعِيُّ : يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوطالب بیمار ہوئے، قریش کے کچھ لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، ابوطالب کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی، وہاں ابوجہل آ کر بیٹھ گیا، قریش کے لوگ ابوطالب سے کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں میں کیڑے نکالتا ہے، ابوطالب نے کہا کہ آپ کی قوم کے یہ لوگ آپ سے کیا شکایت کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چچا جان! میں ان کو ایسے کلمے پر لانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کی اطاعت کرے گا اور سارا عجم انہیں ٹیکس ادا کرے گا“، انہوں نے پوچھا: وہ کون سا کلمہ ہے؟ فرمایا: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» “ یہ سن کر وہ لوگ یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے کہ کیا یہ سارے معبودوں کو ایک معبود بنانا چاہتا ہے؟ اس پر سورت صٓ نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ «﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾» پر پہنچے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، يحيي بن عمارة مجهول.
حدیث نمبر: 2009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ ، فَذَكَرَ مِنْ ضُرُوبِ الشَّرَابِ ، فَقَالَ : اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ زَبِيبٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ مَا سِوَى ذَلِكَ ، قَالَ : مَا تَقُولُ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا تعلق خراسان سے ہے، ہمارا علاقہ ٹھنڈا علاقہ ہے، اور اس نے شراب کے برتنوں کا ذکر کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو چیزیں نشہ آور ہیں مثلا کشمش یا کھجور وغیرہ، ان کی شراب سے مکمل طور پر اجتناب کرو، اس نے پوچھا کہ مٹکے کی نبیذ کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَنْقُضُهَا حَجَرًا حَجَرًا " يَعْنِي : الْكَعْبَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا وہ شخص میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں جو انتہائی کالا سیاہ اور کشادہ ٹانگوں والا ہوگا اور خانہ کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھیڑ ڈالے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1595.
حدیث نمبر: 2011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي قَارِظٌ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ تَوَضَّأَ ، قَالَ : قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وضو کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 2012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2012
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730.
حدیث نمبر: 2013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2013
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900 .
حدیث نمبر: 2014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَكَحَ وَهُوَ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2014
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410.
حدیث نمبر: 2015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا وَوَجَدَ سَرَاوِيلَ فَلْيَلْبَسْهَا ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ وَوَجَدَ خُفَّيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا " ، قُلْتُ : لَمْ يَقُلْ لِيَقْطَعْهُمَا ؟ قَالَ : لَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1841، م: 1178.
حدیث نمبر: 2016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَبَرَّزَ فَطَعِمَ ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 374.
حدیث نمبر: 2017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَمَكَثَ بِمَكَّةَ عَشْرًا ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا ، وَقُبِضَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کا سلسلہ تواتر کے ساتھ 43 برس کی عمر میں شروع ہوا، دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور 63 برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ومتنه شاذ، والصواب: أنزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن أربعين، فأقام بمكة ثلاث عشرة سنة، وأقام بالمدينة عشر سنين.
حدیث نمبر: 2018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ كَذَا وَكَذَا ، وَنِصْفَ صَاعٍ بُرًّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں چیز کا فطرانہ یہ مقرر فرمایا اور گندم کا نصف صاع مقرر فرمایا۔ فائدہ: اس حدیث کی مزید و ضاحت کے لئے حدیث نمبر 3291 دیکھئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وقد عنعن.
حدیث نمبر: 2019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو 13 رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764.
حدیث نمبر: 2020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مِمَّنْ الْوَفْدُ ، أَوْ قَالَ الْقَوْمُ ؟ " , قَالُوا : رَبِيعَةُ ، قَالَ : " مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ قَالَ : الْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَيْنَاكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ ، وَلَسْنَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا ، وَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ ، فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ، أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ ، قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ " , قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ " ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، قَالَ : وَرُبَّمَا قَالَ : وَالْمُقَيَّرِ ، قَالَ : " احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کا تعارف پوچھا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”آپ کو ہماری طرف سے خوش آمدید، یہاں آکر آپ رسوا ہوں گے اور نہ ہی شرمندہ“، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ دور دراز سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں ہی حاضر ہو سکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتا دیں؟ نیز انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے حوالے سے بھی سوال کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پغمبر ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا“، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گزر چکی ہے)، اور فرمایا کہ ”ان باتوں کو یاد رکھو اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتاؤ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 53، م: 17 .
حدیث نمبر: 2021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں سرخ رنگ کی ایک چادر بچھائی گئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 967.
حدیث نمبر: 2022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ ، عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ ، قَالَ : فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ ، قَالَ : " وَلِمَ " , قَالَ : لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ ، وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے - جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے - پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب، ومع ذلك فقد قال الترمذي: حديث حسن صحيح. وقال الحاكم: صحيح الإسناد، وجود إسناده ابن كثير. قلنا: لعل هذا الحديث من صحيح احاديث سماك عن عكرمة.
حدیث نمبر: 2023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ غَنَمًا لَهُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : مَا سَلَّمَ عَلَيْنَا إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنَّا ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَتَوْا بِغَنَمِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ الْآيَةُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا سورة النساء آية 94 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا، اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوا﴾ [النساء : 94]» ”اے ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب چھان بین کر لو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 4591، م: 3025. رواية سماك عن عكرمة مضطربة، لكن سماكة قد توبع.
حدیث نمبر: 2024
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَال : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُسًا ، يَقُولُ : " سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ , الْمَعْنَى عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23 ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ : قَرَابَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : عَجِلْتَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، إِلَّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ قَرَابَةٌ ، فَنَزَلَتْ : قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى سورة الشورى آية 23 إِلَّا أَنْ تَصِلُوا قَرَابَةَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کا مطلب پوچھا: «﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ [الشورى : 23]» تو ان کے جواب دینے سے پہلے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بول پڑے کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی، قریش کے ہر خاندان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری تھی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ ”میں اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر تم اتنا تو کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اسے جوڑے رکھو اور اسی کا خیال کر لو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 3497.
حدیث نمبر: 2025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَنَسِيتُ اسْمَهَا : " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا الْعَامَ ؟ " , قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّمَا كَانَ لَنَا نَاضِحَانِ فَرَكِبَ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا نَاضِحًا وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فِيهِ ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت سے - جس کا نام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا تھا لیکن راوی بھول گئے - فرمایا کہ ”اس سال ہمارے ساتھ حج پر جانے سے آپ کو کس چیز نے روکا؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارے پاس پانی لانے والے دو اونٹ تھے، ایک پر میرا شوہر اور بیٹا سوار ہو کر حج کے لئے چلے گئے تھے اور ایک اونٹ ہمارے لئے چھوڑ گئے تھے تاکہ ہم اس پر پانی بھر سکیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب رمضان کا مہینہ آئے گا تو آپ اس میں عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1782، م: 1256 .
حدیث نمبر: 2026
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، أن أبا بكر " قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال کے بعد بوسہ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4455.
حدیث نمبر: 2027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُحْشَرُ النَّاسُ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا ، فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ، ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھائے جائیں گے، اور سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ﴾ [الأنبياء : 104]» ”ہم نے جس طرح مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا، اسی طرح ہم اسے دوبارہ بھی پیدا کریں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3349، م: 2860.
حدیث نمبر: 2028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، وَالدُّبَّاءِ ، وقَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالحکم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ اور کدو کی تونبی سے منع فرمایا ہے، اس لئے جو شخص اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نبیذ کو حرام سمجھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2029
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ فِطْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ ، وَأَنَّهَا سُنَّةٌ ، قَالَ : صَدَقُوا وَكَذَبُوا ، قُلْتُ : كَيْفَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا ، قَالَ : " قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ ، قدم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى جَبَلِ قُعَيْقِعَانَ ، فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ بِهِمْ هَزْلًا ، فَأَمَرَ بِهِمْ أَنْ يَرْمُلُوا لِيُرِيَهُمْ أَنَّ بِهِمْ قُوَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، فرمایا: اس میں آدھا سچ ہے اور آدھاجھوٹ، میں نے عرض کیا: وہ کیسے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل تو فرمایا ہے لیکن یہ سنت نہیں ہے، اور رمل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لائے تو مشرکین جبل قعیقعان نامی پہاڑ پر سے انہیں دیکھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ یہ لوگ آپس میں مسلمانوں کے کمزور ہونے کی باتیں کر رہے ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو اپنی طاقت دکھا سکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1649، م: 1266.
حدیث نمبر: 2030
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَوَكِيعٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ بَعْدَمَا كَبِرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " زَائِرَاتِ الْقُبُورِ ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف، أبو صالح بادام ضعيف عند الجمهور.
حدیث نمبر: 2031
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى أَبِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ، ثُمَّ عَتَقَا ، هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عمربن معتب کہتے ہیں کہ ابونوفل کے آزاد کردہ غلام ابوحسن نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی غلام کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے دو طلاقیں دے کر آزاد کر دے تو کیا وہ دوبارہ اس کے پاس پیغام نکاح بھیج سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمر بن معتب ضعيف.
حدیث نمبر: 2032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ ؟ " , قَالَ عَبْدِ اللهِ : قَالَ أَبِي : وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَلَا بَهْزٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفاً.
حدیث نمبر: 2033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ، وَالَّذِي يَقُولُ لَهُ : أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمُعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران بات چیت کرے تو اس کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس نے بہت سا بوجھ اٹھا رکھا ہو، اور جو اس بولنے والے سے کہے کہ خاموش ہو جاؤ، اس کا کوئی جمعہ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، مجالد ضعيف.
حدیث نمبر: 2034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الثُّلُثُ كَثِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کاش! لوگ وصیت کرنے میں تہائی سے کمی کر کے چوتھائی کو اختیار کر لیں، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2743، م: 1629.
حدیث نمبر: 2035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا بِمَكَّةَ ، وَعَشْرًا بِالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : مَنْ يَقُولُ ذَلِكَ ، " لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ عَشْرًا ، وَخَمْسًا وَسِتِّينَ وَأَكْثَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ مکرمہ میں دس سال تک وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ منورہ میں بھی دس سال تک، انہوں نے فرمایا: کون کہتا ہے؟ یقینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ مکرمہ وحی کا نزول دس سال ہوا ہے اور 65 یا اس سے زیادہ (سال انہوں نے عمر پائی ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: لعل هذا الحديث من منكرات العلاء بن صالح.
حدیث نمبر: 2036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " , قَالُوا : هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ ، قَالَ : أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ قَالُوا : بَلَدٌ حَرَامٌ ، قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " , قَالُوا : شَهْرٌ حَرَامٌ ، قَالَ : " إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، ثُمَّ أَعَادَهَا مِرَارًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ مِرَارًا " , قَالَ : يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللَّهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّةٌ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرما: ”لوگو! یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا کہ حرمت والا دن، پھر پوچھا کہ ”یہ کون سا شہر ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: حرمت والا شہر، پھر پوچھا کہ ”یہ مہینہ کون سا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: حرمت والا مہینہ، فرمایا: ”یاد رکھو! تمہارا مال و دولت، تمہاری جان اور تمہاری عزت ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس حرمت والے شہر اور اس حرمت والے مہینے میں“، اس بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ دہرایا، پھر اپنا سر مبارک آسمان کی طرف بلند کر کے کئی مرتبہ فرمایا کہ ”اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ واللہ! یہ ایک مضبوطی تھی پروردگار کی طرف، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو جو موجود ہے، وہ غائب تک یہ پیغام پہنچا دے، میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1739.