حدیث نمبر: 3508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ : أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ ، وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " قَالَ : فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الْمَخْرَفَ صَدَقَةٌ عَنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہوا، وہ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے، بعد میں انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2756
حدیث نمبر: 3509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ ، فَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، فَصَلَّى بِنَا الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً ، فَلْيَجْعَلْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج کا احرام باندھا تو چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے اور فجر کی نماز ہمیں مقام بطحاء میں پڑھائی اور فرمایا: ”جو چاہے اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1085، م: 1240
حدیث نمبر: 3510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِى سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ ؟ فَقَالَ : " لَا ، بَلْ حَجَّةٌ ، فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَهُوَ تَطَوُّعٌ ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ . لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِيعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”لوگو! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے“، یہ سن کر) اقرع بن حابس کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3511
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا ، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ ، يَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہو گا، اور ایک زبان ہو گی جس سے یہ بولتا ہو گا، اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ ، فَاضْطَبَعُوا ، وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ ، وَوَضَعُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، ثُمَّ رَمَلُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے دوران اپنی چادروں کو اپنی بغلوں سے نکال کر اضطباع کیا اور انہیں اپنے بائیں کندھوں پر ڈال لیا، اور رمل بھی کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ يَا بَنِي أَخِي ، يَا بَنِي هَاشِمٍ ، تَعَجَّلُوا قَبْلَ زِحَامِ النَّاسِ ، وَلَا يَرْمِيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ الْعَقَبَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مزدلفہ ہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم کے ہم لوگوں سے فرمایا: ”بھتیجو! لوگوں کے ازدحام سے پہلے نکل جاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا كَامِلٌ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ : فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ ، قَالَ فِي رُكُوعِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ " ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَحَمِدَ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَحْمَدَهُ ، قَالَ : ثُمَّ سَجَدَ ، قَالَ : فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى " ، قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، قَالَ : فَكَانَ يَقُولُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ " : رَبِّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَاجْبُرْنِي ، وَارْفَعْنِي ، وَارْزُقْنِي ، وَاهْدِنِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گزاری، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کر کے فرمایا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اللہ کی تعریف کی جب تک مناسب سمجھا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں «سُبْحَانَ رَبَّيَ الْأَعْلَىٰ» کہتے رہے، پھر سر اٹھا کر دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي» ”پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میری تلافی فرما، مجھے رفعت عطا فرما، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے ہدایت عطا فرما۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 3515
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : تَرَاءَيْنَا هِلَالَ شَهْرِ رَمَضَانَ بِذَاتِ عِرْقٍ ، فَأَرْسَلْنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَسْأَلُهُ ، فَقَالَ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ مَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ”ذات عرق“ میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ ”اللہ نے چاند کی رؤیت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1088
حدیث نمبر: 3516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، اور ترسٹھ برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3903، م: 2351
حدیث نمبر: 3517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةً ، فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ ، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ ، فَهَاجَرَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے، تیرہ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، پھر ہجرت کا حکم ملا تو دس سال مدینہ منورہ میں گزارے اور ترسٹھ برس کی عمر میں آپ کا وصال ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3902
حدیث نمبر: 3518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو حَاضِرٍ ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ ؟ فَقَالَ : نَهَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ عَنْهُ . فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَ لَهُ مَا ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَدَقَ . قَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ ؟ ، قَالَ : " كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحاضر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مٹکے متعلق سوال کیا جس میں نبیذ بنائی جاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اس سے منع کیا ہے، وہ آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ گیا اور ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب بھی ذکر کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، اس آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قسم کے مٹکے کے استعمال سے منع فرمایا ہے؟ فرمایا: ہر وہ مٹکا جو پکی مٹی سے بنایا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3519
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ، مَسَحَ ظَهْرَهُ ، فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ ذَارِئٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَجَعَلَ يَعْرِضُهُمْ عَلَيْهِ ، فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، أَيُّ بَنِيَّ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ . قَالَ : أَيْ رَبِّ ، كَمْ عُمْرُهُ ؟ قَالَ : سِتُّونَ سَنَةً . قَالَ : أَيْ رَبِّ ، زِدْ فِي عُمْرِهِ . قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمْرِكَ . فَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ ، فَوَهَبَ لَهُ مِنْ عُمْرِهِ أَرْبَعِينَ عَامًا ، فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ كِتَابًا ، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ ، فَلَمَّا حُضِرَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، أَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَ رُوحَهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ لَمْ يَحْضُرْ أَجَلِي ، قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً . فَقَالُوا : إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ . قَالَ : مَا فَعَلْتُ ، وَلَا وَهَبْتُ لَهُ شَيْئًا . وَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ ، فَأَقَامَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب آیت دین نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیامت تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: پروردگار! یہ کون ہے؟ فرمایا: ”یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں“، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! ان کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: ”ساٹھ سال“، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ ”یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں“، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ تعالیٰ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کر دیا اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کر دی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، ويوسف بن مهران
حدیث نمبر: 3520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَيْكُمْ الْحَجَّ " فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَبَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بَلْ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ ، لَوَجَبَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہمیں خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: ”لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے“، یہ سن کر سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة بن صالح، وقد توبع
حدیث نمبر: 3521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَاتَتْ شَاةٌ لِمَيْمُونَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ " فَقَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ . فَقَالَ : " إِنَّ دِبَاغَ الْأَدِيمِ طُهُورُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ انہوں نے کہا کہ یہ مردار ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت سے تو کھال پاک ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يعقوب بن عطاء وقد توبع
حدیث نمبر: 3522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا أَدْرِي ، " أَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ بِسِتٍّ أَوْ سَبْعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابومجلز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: مجھے یاد نہیں رہا کہ میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات؟ فرمایا: مجھے بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرات کو چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات؟
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ ، مِنْ صُدَاعٍ وَجَدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5700
حدیث نمبر: 3524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى رَأْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر اپنے سر سے خون نکلوایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202
حدیث نمبر: 3525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَأَبُو دَاوُدَ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، ثُمَّ أَشْعَرَ الْهَدْيَ جَانِبَ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ ، ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ ، أَحْرَمَ " ، قَالَ : فَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ بِالْحَجِّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 3526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے اور وہ بھی اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، المطلب بن عبدالله مدلس، وروايته عن ابن عمر وابن عباس مرسلة
حدیث نمبر: 3527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَيْسٍ . قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَيْسٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى زَمْزَمَ ، فَنَزَعْنَا لَهُ دَلْوًا ، فَشَرِبَ ثُمَّ مَجَّ فِيهَا ، ثُمَّ أَفْرَغْنَاهَا فِي زَمْزَمَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا ، لَنَزَعْتُ بِيَدَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہ زمزم پر تشریف لائے، ہم نے ایک ڈول کھینچ کر پانی نکالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور اس ڈول میں کلی کر دی، پھر ہم نے وہ ڈول چاہ زمزم میں ڈال دیا (یوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پس خوردہ بھی اس میں شامل ہو گیا) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے مغلوب ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اپنے ہاتھ سے ڈول کھینچتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا ، قَالَ : لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا شَأْنُ آلِ مُعَاوِيَةَ يَسْقُونَ الْمَاءَ وَالْعَسَلَ ، وَآلُ فُلَانٍ يَسْقُونَ اللَّبَنَ ، وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ ؟ أَمِنْ بُخْلٍ بِكُمْ ، أَوْ حَاجَةٍ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا بِنَا بُخْلٌ ، وَلَا حَاجَةٌ ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا ، وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَاسْتَسْقَى ، فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَايَةِ فَشَرِبَ مِنْهُ ، وَقَالَ : " أَحْسَنْتُمْ ، هَكَذَا فَاصْنَعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک دیہاتی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آل معاویہ لوگوں کو پانی اور شہد پلاتی ہے، آل فلاں دودھ پلاتی ہے اور آپ لوگ نبیذ پلاتے ہیں؟ کسی بخل کی وجہ سے یا ضرورت مندی کی بناء پر؟ انہوں نے فرمایا: نہ ہم کنجوس ہیں اور نہ ہی ضرورت مند، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ان کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب کیا، ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پس خوردہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا اور خوب کیا، اسی طرح کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1316
حدیث نمبر: 3529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاءِ زَمْزَمَ فَسَقَيْنَاهُ ، فَشَرِبَ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کے کنوئیں پر تشریف لائے، ہم نے انہیں اس کا پانی پلایا تو انہوں نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
حدیث نمبر: 3530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں پھوپھی، بھتیجی اور خالہ، بھانجی کو جمع کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورہ اعلی، سورہ کافرون اور سورہ اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : كَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يَأْتِي عَلَى رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا اسْتَلَمَهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " إِنَّمَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ " . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ . قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ ، وَالْحَجَرَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گزرتے اس کا استلام کرتے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَهُمَا يَطُوفَانِ حَوْلَ الْبَيْتِ ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ ، وَكَانَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ وَالْأَسْوَدَ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ مَهْجُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گزرتے اس کا استلام کرتے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3534
عربی حدیث ابھی نہیں ملی
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے عمرہ کیا، اور خانہ کعبہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا، اور چار چکروں میں حسب معمول چلتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3534M
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ . قَالَ : صَدَقُوا وَكَذَبُوا . قُلْتُ : مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا ؟ قَالَ : صَدَقُوا ، قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ ، وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ : دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ . فَلَمَّا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثًا ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا " ، وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران طواف رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ سچ اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: سچ تو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے رمل کیا ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو چھوڑ دو، تاآنکہ یہ اسی طرح مر جائیں جیسے اونٹ کی ناک میں کیڑا نکلنے سے وہ مر جاتا ہے، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منجملہ دیگر شرائط کے اس شرط پر صلح کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ آئندہ سال مکہ مکرمہ میں آ کر تین دن ٹھہر سکتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال تشریف لائے، مشرکین جبل قعیقعان کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، انہیں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تین چکروں میں رمل کا حکم دیا، یہ سنت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3534M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3535
حَدَّثَنَا يونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا ، قَالَتْ : إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ . فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ " فَلَمَّا رَمَلُوا ، قَالَتْ قُرَيْشٌ : مَا وَهَنَتْهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر نہیں کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
حدیث نمبر: 3537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ ، حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: وكان أشد بياضا ....، وإسناده ضعيف لاختلاط عطاء بن السائب
حدیث نمبر: 3538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَضْمَضَ مِنْ لَبَنٍ ، وَقَالَ : " إِنَّ لَهُ دَسَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ ”اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 211، م: 358
حدیث نمبر: 3539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَجْوَدِ النَّاسِ ، وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ ، يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ يُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ ، أَجْوَدَ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے، اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ان کی ملاقات ہوتی، اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6، م: 2308
حدیث نمبر: 3540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا ، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900
حدیث نمبر: 3541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَخَذَ سِوَاكَهُ ، فَاسْتَاكَ بِهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة البقرة آية 164 ، حَتَّى قَرَأَ هَذِهِ الْآيَاتِ ، وَانْتَهَى عِنْدَ آخِرِ السُّورَةِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، حَتَّى سَمِعْتُ نَفْخَ النَّوْمِ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ ، وَهُوَ يَقُولُ ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا ، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا ، وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا ، وَخَلْفِي نُورًا ، وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا ، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا ، وَفَوْقِي نُورًا ، وَتَحْتِي نُورًا ، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں رات گزاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے تو مسواک فرمائی، وضو کیا اور سورہ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں طویل قیام اور رکوع و سجود کیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، پھر بیدار ہو کر وہی عمل دہرایا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ نماز پڑھانے کے لئے چلے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا اَللّٰهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطا فرما۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 763
حدیث نمبر: 3542
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ عَلِيٌّ " . وَقَالَ مَرَّةً : أَسْلَمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد بچوں میں سب سے پہلے نماز پڑھنے والے یا اسلام قبول کرنے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، انظر برقم: 3061
حدیث نمبر: 3543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5035
حدیث نمبر: 3544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ وَأَبُو بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 3545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ . وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : الْمُتَتَابِعَةَ ، طَاوِيًا ، وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً ، وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گزار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا، اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو کی روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ حَسَنٌ أَبُو زَيْدٍ ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ ، فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ ، وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَبِعِيرِهِمْ ، فَقَالَ نَاسٌ ، قَالَ حَسَنٌ : نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ ؟ ! فَارْتَدُّوا كُفَّارًا ، فَضَرَبَ اللَّهُ أَعْنَاقَهُمْ مَعَ أَبِي جَهْلٍ ، وَقَال أَبُو جَهْلٍ : يُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ بِشَجَرَةِ الزَّقُّومِ ! هَاتُوا تَمْرًا وَزُبْدًا ، فَتَزَقَّمُوا . وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ ، لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ ، وَعِيسَى ، وَمُوسَى ، وَإِبْرَاهِيمَ ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ ؟ فَقَالَ : " أَقْمَرُ هِجَانًا ، قَالَ حَسَنٌ : قَالَ : رَأَيْتُهُ فَيْلَمَانِيًّا أَقْمَرَ هِجَانًا ، إِحْدَى عَيْنَيْهِ قَائِمَةٌ ، كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، كَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِهِ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى شَابًّا أَبْيَضَ ، جَعْدَ الرَّأْسِ ، حَدِيدَ الْبَصَرِ ، مُبَطَّنَ الْخَلْقِ ، وَرَأَيْتُ مُوسَى أَسْحَمَ آدَمَ ، كَثِيرَ الشَّعْرِ ، قَالَ حَسَنٌ الشَّعَرَةِ ، شَدِيدَ الْخَلْقِ ، وَنَظَرْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ ، فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ ، إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ مِنِّي ، كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام سَلِّمْ عَلَى مَالِكٍ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج بیت المقدس کی سیر کرائی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی رات واپس بھی آگئے اور قریش کو اپنے جانے کے متعلق اور بیت المقدس کی علامات اور ان کے ایک قافلے کے متعلق بتایا، کچھ لوگ یہ کہنے لگے کہ کیا محمد کی اس بات کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں، یہ کہہ کر وہ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کے ساتھ ان کی گردنیں بھی مار دیں۔ ایک مرتبہ ابوجہل نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تھوہڑ کے درخت سے ڈراتے ہیں، تم میرے پاس کھجور اور جھاگ لے کر آؤ، میں تمہیں تھوہڑ بنا کر دکھاتا ہوں۔ اسی شب معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا - جو خواب میں دیکھنا نہ تھا - نیز حضرت عیسی، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کی بھی زیارت فرمائی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دجال کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں نے اسے بڑے ڈیل ڈول کا اور سبزی مائل سفید رنگ والا پایا، اس کی ایک آنکھ قائم تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کوئی چمکتا ہوا موتی ہو اور اس کے سر کے بال کسی درخت کی ٹہنیوں کی طرح تھے۔ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ سفید رنگ کے جوان تھے، ان کے سر کے بال گھنگھریالے تھے، نگاہیں تیز تھیں، جسمانی اعتبار سے پتلے پیٹ والے تھے، میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ انتہائی گندمی رنگ اور گھنے بالوں والے تھے اور جسمانی اعتبار سے بڑے مضبوط تھے، نیز میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، ان کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہ تھا جو میں نے ان میں دیکھا ہو اور اپنے آپ میں وہ عضو اسی طرح نہ دیکھا ہو، گویا وہ ہو بہو تمہارے پیغمبر کی طرح ہیں، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: مالک کو - جو داروغہ جہنم ہے - سلام کیجئے، چنانچہ میں نے انہیں سلام کیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح